فطرت سے دشمنی/آغر ندیم سحر

مون سون کی بارشوں نے پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے، سیلاب سے متاثر ہونے والے خطے اور لوگ، شدید مشکلات سے دوچار ہیں، دو ہفتوں میں سینکڑوں لوگ لقمہ اجل بن گئے، ہزاروں ایکڑ اراضی تباہ ہوگئی، گائوں، قصبے اور شہر صفحہ ہستی سے مٹ رہے ہیں، یہ سب کیسے اور کیوں ہوا، ہم اسے تسلیم کرنے کو تیار نہیں، ہماری بربادی کی سب سے بڑی وجہ بھی یہ ہے کہ ہم اپنا محاسبہ نہیں کرتے، ہم اپنی غلطیوں سے سیکھتے نہیں ہیں، ہم ایک غلطی کا دفاع مزید غلطیوں سے کرتے ہیں اور یہی رویہ اور مزاج ہمیں ماحولیات جیسے بڑے خطرے سے دوچار کر رہا ہے۔

آپ تین سے چار دہائیوں کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں، آپ کو یہاں قدرتی آفات اور قدرتی وبائوں کی کثرت ملے گی، سیلاب اور زلزلے تو یہاں ایک روٹین میٹر بن چکا ہے جسے ہم نے اب سنجیدہ لینا چھوڑ دیا ہے۔ یہ آفات ہر سال کسی نہ کسی علاقے، شہر اور قصبے کو ملیامیٹ کر دیتی ہیں، ہم ہر سال دو تین ماہ میڈیا پر چیخ و پکار کرتے ہیں، غیر ملکی فنڈنگ حاصل کرتے ہیں، متاثرین کی بحالی کے لیے سرتوڑ کوششیں کرتے ہیں مگر صد حیف چند ماہ بعد ہم سب بھول جاتے ہیں۔ ہم نے آج تک نہ کوئی لانگ ٹرم پلاننگ کی اور نہ ہی کسی سنجیدہ فورم پر اس مسئلے کو ڈسکس کیا، ہم اپنی انائوں اور مفادات کی جنگ میں ماحولیات جیسے اہم ترین ایشو کو نظر انداز کر رہے ہیں، ہم قوم کے بھی مجرم ہے اور اپنے ضمیر کے بھی۔

ہر سال سیلاب سے لاکھوں ایکڑ اراضی متاثر ہوتی ہے، ہر سال ہزاروں لوگ بھی متاثر ہوتے ہیں، ہم نے آج تک کوئی مستقل حل نکالا یاہم نے آسمانی آفات سے بچائو کے لیے ہم نے کوئی اسٹریٹجی بنائی؟ ہم یہ تو جانتے ہیں کہ ماحولیاتی تباہی کی سب سے بنیادی وجہ درختوں کی کٹائی ہے مگر کیا اس کا کوئی حل موجود ہے، کیا ہم نے درختوں کی کٹائی سے ماحول کو آلودہ کرنے والوں سے کبھی کوئی سوال کیا، کبھی کسی فرد کو اس بنیاد پر سزا ہوئی کہ آپ نے درخت کاٹ کر ہائوسنگ سوسائٹی کیوں بنائی، آپ نے زرخیز زمینوں کو بنجر کرکے وہاں فیکٹری، انڈسٹری یا مل کیوں لگائی؟

جب ہمارے نزدیک درختوں کا قتل کوئی بڑا مسئلہ ہی نہیں تو پھر ہمیں سیلاب اور زلزلے سمیت ہر طرح کی آسمانی وبا کے لیے خود کو تیار کرنا چاہیے، صد حیف ہم نے وہ بھی نہیں کیا۔ ہندوستان میں درختوں کی کٹائی اس وقت شروع ہوئی جب انگریزی سامراج نے یہاں ٹرین کی پٹڑی بچھانے کا اعلان کیا تھا، اس نے ہندوستان سے لاکھوں درخت کاٹے تاکہ ٹرین کی پٹڑی بچھائی جائے، یہ ٹرین کی پٹڑی تو بچھ گئی، ہم جدید دنیا سے منسلک بھی ہو گئے مگر اس کے پیچھے کتنے درختوں کا خون ہوا، ہم نے ایک بار بھی سوچا، شاید اسی لیے منیر نیازی نے کہا تھا:

صبح کاذب کی ہوا میں درد تھا کتنا منیرؔ
ریل کی سیٹی بجی تو دل لہو سے بھر گیا

ہمیں اس وقت دو بڑے چیلنجز درپیش ہے، ایک مصنوعی ذہانت اور دوسرا ماحولیاتی تبدیلی، آپ خیبر پختونخواہ میں آنے والے سیلاب کو ہی دیکھ لیں، بونیر اور شانگلہ میں سیلاب کے دوران پہاڑوں سے صرف پانی ہی نہیں آیا، پتھر اور درخت بھی گرے۔ ماہرین کے مطابق پہاڑوں پر درختوں اور پہاڑوں کی بے تحاشا کٹائو کی وجہ سے سیلاب کی شدت میں اضافہ ہوا۔ درختوں کے کٹائو کے ساتھ وہاں پہاڑ بھی کاٹے گئے، پہاڑوں کا پتھر ماربل فیکٹریوں میں گیا، جہاں بجری بھی بنی اور عمارتوں کے لیے ٹائلیں بھی، درختوں اور پہاڑوں کے کٹائو نے خیبرپختونخواہ کو اس مقام پر لا کھڑا کیا کہ آج ان کے پاس نہ کھانے کو روٹی، نہ پینے کو پانی اور نہ ہی رہنے کو گھر ہے، بستیاں اور گائوں ایسے ختم ہوئے جیسے پہلے زمانوں میں خدا کا عذاب آتا تھا اور شہر کے شہر ملیا میٹ ہو جاتے تھے۔ ماحولیاتی تبدیلی بھی ایک عذاب ہے، ہم اگر اس عذاب کو نہیں سمجھیں گے تو ہمارا جینا دوبھر ہو جائے گا۔

آپ لاہور کی مثال لے لیں، یہاں اب پانچواں موسم “سموگ”کا بھی متعارف ہو چکا، اکتوبر اور نومبر کے مہینے میں بالعموم پاکستان اور بالخصوص لاہور اس موسم کی زد میں ہوتا ہے، کیا ہماری اشرافیہ یا مقتدر حلقوں نے ایک مرتبہ بھی سوچنے کی زحمت کی کہ یہ موسم کب، کیسے اور کیوں آیا؟ لاہور کے چاروں طرف ہائوسنگ سوسائٹیز بن گئیں، شہر اتنا پھیل گیا کہ انڈسٹریز شہر کے بیچ آ چکی، اب شہر کی صورت حال یہ ہے کہ نہ ہمارا پانی محفوظ ہے نہ ہی ہوا اور فضا، آبی آلودگی، فضائی آلودگی اور صوتی آلودگی نے اس شہر کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق ہر سال دنیا بھر میں تیس لاکھ افراد فضائی آلودگی سے موت کا شکار ہوتے ہیں جب کہ سولہ لاکھ افراد ٹھوس ایندھن کے استعمال کی بنیاد پر موت کے گھاٹ اتر جاتے ہیں۔ ترقی پذیر ممالک میں ہر آٹھویں سیکنڈ ایک بچہ آلودہ پانی کے استعمال سے مر جاتا ہے، ان ممالک میں اسی فیصد بیماریاں اور اموات آلودہ پانی کی وجہ سے ہو رہی ہیں۔ ترقی پذیر ممالک میں کیڑے مار ادویات زمین کو آلودہ کر رہی ہیں، نائٹریٹ کھادوں کا استعمال اور مویشیوں کا فضلہ ماحول کو آلودہ کر رہا ہے، یہ فضلہ جب دریائوں اور ندی نالوں میں جاتا ہے تو آبی جاندار موت کا شکار ہوتے ہیں۔

julia rana solicitors

ایک تحقیق کے مطابق سات سے بیس فیصدکینسر کے مریض آلودہ ہوا، آلودہ پانی اور گھروں یا دفاتر میں موجود آلودگی کی بنیاد پر اس موذی مرض کا شکار ہیں۔ ہم آج سیلاب اور بارشوں سے پریشان ہیں تو یہ سب پہلی مرتبہ نہیں ہوا، ہم نے انتہائی تیزی سے تبدیل ہوتے ماحول کو نظر انداز کیا، ہم نے ماحول کے خطرے کو وقت پر نہیں سمجھا اورہم اب بھی نہیں سمجھیں گے۔

Facebook Comments

آغر ندیم سحر
تعارف آغر ندیم سحر کا تعلق منڈی بہاءالدین سے ہے۔گزشتہ پندرہ سال سے شعبہ صحافت کے ساتھ وابستہ ہیں۔آپ مختلف قومی اخبارات و جرائد میں مختلف عہدوں پر فائز رہے۔گزشتہ تین سال سے روزنامہ نئی بات کے ساتھ بطور کالم نگار وابستہ ہیں۔گورنمنٹ کینٹ کالج فار بوائز،لاہور کینٹ میں بطور استاد شعبہ اردو اپنی خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔اس سے قبل بھی کئی اہم ترین تعلیمی اداروں میں بطور استاد اہنی خدمات سرانجام دیتے رہے۔معروف علمی دانش گاہ اورینٹل کالج پنجاب یونیورسٹی لاہور سے اردو ادبیات میں ایم اے جبکہ گورنمنٹ کالج و یونیورسٹی لاہور سے اردو ادبیات میں ایم فل ادبیات کی ڈگری حاصل کی۔۔2012 میں آپ کا پہلا شعری مجموعہ لوح_ادراک شائع ہوا جبکہ 2013 میں ایک کہانیوں کا انتخاب چھپا۔2017 میں آپ کی مزاحمتی شاعری پر آسیہ جبیں نامی طالبہ نے یونیورسٹی آف لاہور نے ایم فل اردو کا تحقیقی مقالہ لکھا۔۔پندرہ قومی و بین الاقوامی اردو کانفرنسوں میں بطور مندوب شرکت کی اور اپنے تحقیق مقالہ جات پیش کیے۔ملک بھر کی ادبی تنظیموں کی طرف سے پچاس سے زائد علمی و ادبی ایوارڈز حاصل کیے۔2017 میں آپ کو"برین آف منڈی بہاؤالدین"کا ایوارڈ بھی دیا گیا جبکہ اس سے قبل 2012 میں آپ کو مضمون نگاری میں وزارتی ایوارڈ بھی دیا جا چکا ہے۔۔۔آپ مکالمہ کے ساتھ بطور کالم نگار وابستہ ہو گئے ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply