• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • فیس بکی بچوں کے لیے فکشنی مثالیہ (خاوند مظلوم تنولی) لکھتے ہیں۔۔۔سلیم مرزا

فیس بکی بچوں کے لیے فکشنی مثالیہ (خاوند مظلوم تنولی) لکھتے ہیں۔۔۔سلیم مرزا

پیارے بچو !

آج ہم آپ کو مثالوں سے سمجھائیں گے کہ افسانہ بنتا کیسے ہے اور یہ آخر ہے کیا چیز۔
یاد رکھو کہ افسانہ ‛ کہانی کا ظاہری لباس ہوتا ہے جو کہانی کے بے ڈھنگے جسم کو بڑی صفائی سے چھپائے رکھتا ہے یا ایک اور مثال ۔۔۔یہ ایسا میک اپ ہےجو عام سے بوتھے کو خاص بناتا ہے۔
اب آگے چلو۔ افسانے کے تین حصے ہوتے ہیں۔ جیسے چہرہ ‛ ناف اور پاؤں۔ یعنی ابتدائیہ ‛ وسطانیہ اور خاتمہ۔ ان کو ہم ایک مختصر ترین مثال سے یوں سمجھاتے ہیں :
دو شکاری اور ایک شیر (ابتدائیہ)
ایک شکاری اور ایک شیر (وسطانیہ)
ایک شیر (اختتام)
یقین نہ آئے تو پریشان ہر گز نہ ہوں۔ دروغ بر گردن راوی ‛ کہہ کر شانت ہو جائیں۔
اب آخر میں آپ کو ایک مشق دی جاتی ہے جس کے محض دو اشاروں سے آپ افسانہ تیار کیجیے
1: ایک شوہر
2 : چار بیویاں
(اس سے آگے اب اس فارمولے سے بقلم خورد سلیم مرزا بالمعروف وکی رقم طراز ہے کہ )

ایک شوہر چار بیویاں

مجھے ہرگز اندازہ نہیں تھا کہ میری شادی خانہ آبادی آسمانوں پہ بالکل ایسے طے ہے، جیسے پاکستانی قوم کے لئے اسٹیبلشمنٹ،
چنانچہ اس سانحے سے سال بھر میں  میری آنکھیں کھل گئیں ۔
کان ضرورت سے کچھ  زیادہ بڑ ے ہو گئے،
کمربتیس انچ سے بیالیس کی طرف یوں دوڑی جیسے ہر نئی حکومت آئی ایم ایف کی طرف دوڑتی ہے ۔
بیگم خطے میں ہونے والی جغرافیائی اور ماحولیاتی تبدیلیوں کا سراسر ذمہ دار سمجھتے ہوئے یوں بدگماں ہوئیں جیسے نیب اپنے بنانے والے کو آج کل “مدول “رہا ہے ۔
حالانکہ اس کھلی کرپشن میں اداروں کا بھی اتنا ہی کردار تھا جتنا سیاستدانوں کا ہے ۔
بلکہ سیاستدانوں کو تو “ترلے منت “سے کام چلانا پڑتا ہے ۔
اب گھر میں ان باتوں کی کوئی گنجائش نہیں تھی جن سے این آر او ممکن ہوتا۔
بیگم لاڈلے کو برسر اقتدار دیکھنا چاہتی تھی ۔
بیڈروم سیاست سے بے دخل ہوتے ہی میں نے “محلاتی سازشوں “کی طرف دھیان دیا،
نام مبین تھا ۔وہ مجھے وہاں ملی جہاں سے بس ملتی ہے، وہ برقعے میں تھی، مگر برقع وہاں نہیں تھا جہاں اسے ہونا چاہیے  تھا،
میں نے گاڑی تھوڑی آگے جاکے روکی،
“کشمیر کالونی کدھر ہے “؟
اس نے مجھے اتنی ناراضی سے دیکھا جیسے سشما سوراج کشمیر کے سوال پہ صحافیوں کو دیکھتی ہے۔

قریب کھڑا ایک فواد چوھدری آگے بڑھا، اور مجھ سے بولا
“میں بھی اسی طرف جارہا ہوں ”
“مگر مجھے اس طرف جانا نہیں ہے ” میں نے اسے دیکھے بغیر جواب دیا تو وہ کھلکھلا دی ۔
سچ ہے، شادی شدہ بندہ اور گنجا دونوں ہی ڈھیٹ ہوتے ہیں ۔
میں اسکے موتیوں سے چمکتے دانتوں کو  دیکھتا گاڑی تک لوٹ آیا،
ایک سگرٹ سلگایا، ابھی انجن جگانے ہی لگا تھا کہ قسمت جاگ گئی وہ پسنجر سائیڈ کھٹکھٹا رہی تھی ۔

(جاری ہے جب تک آپ اکتا نہیں جاتے )

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *