ایک اجڑی بستی کا افسانہ/ اعظم معراج

کہتے ہیں، ہزاروں برس پہلے بحیرۂ عرب کے کنارے ایک ننھی سی ساحلی بستی آباد تھی۔ وہ بستی دراصل قدرت کی عطا کردہ بندرگاہ تھی، اور یہی اس کے باسیوں کا رزق و روزگار تھی۔ ان کی زندگی کا دارومدار سمندر کی لہروں، کشتیوں کے بادبانوں اور مچھلیوں کے جھنڈوں پر تھا۔ یہی وجہ تھی کہ آس پاس کے حکمران اس چھوٹی سی بندرگاہ کے مالک بننے کے لیے تلواریں سونتے اور جنگ و جدل کرتے رہتے۔

پھر وقت کی گھڑی پلٹی۔ عالمی طاقتوں کی نظر اس بستی کی تزویراتی اہمیت پر پڑی۔ ان کی گرفت میں آ کر یہ ننھا شہر اچانک دنیا کے نقشے پر نمایاں ہوا۔ اس کے ساتھ کی سرزمین، جس کا یہ صدیوں سے حصہ تھا، آزاد ریاست کا روپ دھار گئی اور قدرت نے اس چھوٹے شہر کو اس ریاست کا دل اور دارالحکومت بنا دیا۔

اگرچہ یہ مقام زیادہ عرصے قائم نہ رہ سکا، لیکن شہر اپنی بندرگاہ، صنعت اور تجارت کی بدولت خطے کا مرکز بن گیا۔ اس کی کاسموپولیٹین روح نے روزگار کے طلبگاروں کو اپنی جانب کھینچا۔ ملک کے کونے کونے سے، بلکہ پورے خطے سے لوگ یہاں اُمڈ آئے۔ ہجرت کا یہ ریلا آبادی کو پہاڑوں جیسا بھاری کر گیا، اور شہر کی برساتی گزرگاہیں تنگی کے بوجھ سے دم توڑنے لگیں۔

ادھر اشرافیہ، جو کسی معاشرے کا دماغ اور دل ہوتی ہے، زر کی چمک دمک میں اندھی ہوگئی۔ زمین کی تنگ دستی اور دولت کی لامحدود بھوک نے انہیں پیداوار کے دیگر ذرائع سے کاٹ کر محض جائیداد اور زمین کے سوداگر بنا دیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ کچی پکی بستیاں، نالوں اور برساتی راستوں پر اگنے لگیں۔ سرکاری افسر ہوں یا سرمایہ دار، سب اس سونے کی دوڑ میں شریک ہوگئے۔

یوں شہر دولت کا قبرستان اور کنکریٹ کا جنگل بنتا چلا گیا۔ لوگ اپنی اجتماعی ذمہ داریاں بھول کر دولت کے پیچھے اندھے ہو گئے۔ روایت ہے کہ جب ہزاروں سال پہلے گرین ہاؤس ایفیکٹ نے خطے کی بارشوں کو بڑھا دیا تو اس شہر میں معمولی بارش بھی سیلاب کا پیش خیمہ بننے لگی۔ نالوں پر قبضے نے پانی کو راستہ نہ دیا۔ نتیجہ یہ کہ اشرافیہ کی بستیوں تک بھی پانی گھس آیا۔

اس کے باوجود دولت کے دیوانوں نے سبق نہ سیکھا۔ انہوں نے اپنا سرمایہ پہلے غیر ممالک میں منتقل کیا۔ جب یہ راستہ مسدود ہوا تو انہوں نے اپنی قبروں کو سونے چاندی سے سجانا شروع کردیا، تاکہ مرنے کے بعد بھی اپنی دولت کے جلو میں رہ سکیں۔

وقت کے تھپیڑوں نے شہر کو چھوٹے چھوٹے جزیروں تک محدود کر دیا۔ دریاؤں کے دہانے اور سمندر کے کنارے دلدلی زمین پر باقی شہر دھنس گیا۔ پھر ایک دن آیا کہ سیلاب نے اشرافیہ کی بستیاں بھی بہا دیں۔ وبائیں، قحط اور تہذیبوں کے ٹکراؤ نے عالمی دروازے بند کر دیے۔ شمال کی سمت سے آنے والے لوگ، جو پہلے ہی مسائل کا شکار تھے، اپنے شہروں کو لوٹ گئے۔ لیکن وہ جن کی نسلیں اشرافیائی کلب کا حصہ بن چکی تھیں، انہی جزیروں کے قریب رہنے پر مجبور ہوگئیں۔

رفتہ رفتہ، وہی شہر جو کبھی تہذیب و تمدن کا گہوارہ تھا، صرف چند قبیلوں کا مسکن رہ گیا۔ یہ قبیلے مچھلیاں پکڑنے اور بحری قزاقوں جیسی زندگی گزارنے پر مجبور تھے۔ ان کی سب سے بڑی دولت اپنے اجداد کی قبروں میں دفن قیمتی دھاتیں تھیں۔ وہ کبھی اپنی قبروں کو لوٹتے، کبھی دوسروں کے اجداد کی قبریں کھود کر چاندی سونا چرا لیتے۔ ان چوریوں پر جنگ چھڑ جاتی، لیکن جب کسی قبیلے کو کوئی خزانہ مل جاتا تو رات بھر جشن مناتے۔

julia rana solicitors london

ان کے نغمے اپنے اجداد کی دولت پرستی کے قصے سناتے۔ وہ اپنی نئی نسلوں کو فخر سے بتاتے کہ ان کے بزرگوں نے کس طرح زمین کو نوچ نوچ کر دولت اکٹھی کی تھی۔ اور یوں، وہی داستان جو کبھی تمدن کی علامت تھی، ایک عبرت ناک قصے میں ڈھل گئی۔

Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply