خان نے معافی مانگ لی / گل بخشالوی

سوشل میڈیا پربحث گرم ہے ، معافی مانگیں اور فرشتہ بن جائیں ، لیکن سوال پیدا ہوتا ہے کیوں ؟ معافی کس جرم کی؟ جب خان نے کوئی جرم، کیا ہی نہیں تو معافی کس بات کی؟ دنیا جانتی ہے ، دو سال قید میں رکھ کر ظلم و جبر کے انتہا کے باوجود ، پاکستان کے جس عظیم لیڈر کو جھکایا نہیں جا سکا اس سے معافی منگوا کر، کیا فیلڈ مارشل اعتراف چاہتے ہیں ؟معافی مانگنے کا مطلب ! تو اعتراف جرم ہے ، سوال اٹھیں گے کیاو اقعی خان مجرم تھا ؟
امریکہ میں 9 /11 امریکی ڈرامہ تھا اور پاکستان میں 9،مئی پاکستانی ڈرامہ تھا امریکہ نے اپنے ڈرامے میں دنیائے اسلام پر الزام لگایا اور پاکستانی ڈرامے میں پاکستان کے وفا داروں پر زندگی تنگ کر دی گئی لیکن اس ڈرامے میں ڈرامہ نگاروں کو سوائے ذلت اور رسوائی کے اور کچھ حاصل نہیں ہو گا ! اس لئے کہ معافی تو اس کو مانگنی چاہئے جس نے 26،نومبر کو دارالحکومت میں ان نہتے پا کستانیوں پر گولی چلانے کا حکم دیا تھا جو آزاد اور خومختار پاکستان کے لئے جدوجہدکے جرم میں قید کیا گیا ہے!
کیا عمران خان معافی مانگیں گے لیکن کس جرم کی ؟ اس جرم کی جو سرزرد ہی نہیں ہوا ، کیا ذوالفقار علی بھٹو کی مزاحمتی شہادت جنرل ضیائ کے خلاف بے کار تھی ؟ کیا عمران خان کا ووٹ کی حرمت پر اصرار غلط ہے؟ کیا آمریت کی سیاہ تاریخ پاکستان کی بدقسمتی نہیں ؟ کیا موقع پرست سیاست دانوں کی ضمیر فروشی قابل مذمت نہیں ؟
پاکستان کی درباری میڈیا قلم فروش مردہ ضمیر سب کچھ جانتے ہوئے بھی کچھ نہیں جانتے ، جب کہ پاکستان کے بدترین دشمن ملک بھارت کی میڈیا نے خان کو رول ماڈل قرار دیتے ہوکہا ، دنیا بھر کی لیڈرشپ کو عمران خان سے لائیو لیسن لینا ہو گا ، عمران خان سے سیاست سیکھنا ہو گی ، عمران خان جیل سے کہہ رہا ہے میں لڑوں گا ، ظاہر ہے کہ عمران خان فائٹر ہے ،
دنیا جان گئی ہے ، عمران خان جیل کے اندر سے مدافعانہ مزاحمت جاری رکھے ہوئے ہیں اس کی زبان پر حرف شکایت نہیں ، اپنی بیماریوں کا علاج چاہتا ہے لیکن کسی ہسپتا ل میں داخل ہو کر نہیں ، عدالت میں ویل چیئر پر آنے کا ڈرامہ نہیں کرتا ، اس کی پلیٹیں نہیں گرتیں ، دل کے دورے نہیں پڑتے، علاج کے بہانے اپنے دیس سے بھاگ جانے کے ڈرامے نہیں کھیلتا ، وہ محکوم حکومت کی خواہشات اور مرضی کی ڈیل کرنے سے انکاری ہے ، وہ کر کٹر تھا تب بھی ضدی تھا آج بھی ضدی ہے ضمیر فروش اور خود فروش نہیں ، وہ اپنے منافق دشمن سے جیت نہیں سکا لیکن شکست تسلیم کرنے سے آج بھی انکاری ہے
تجزیہ نگار لکھتے ہیں، معافی کا مطالبہ دراصل طویل دور حکمرانی کا منصوبہ ہے ، بے اختیار حکمرانی میں جاری نظام حکمرانی کی سیاسی پالیسی کا اظہار ہے ، فیلڈ مارشل کے بیان سے ظاہر ہے ، مسلم لیگ ن پاکستان پیپلز پارٹی اور تختِ اسلام آباد کی درباری سیاسی پارٹیوں کا مستقبل تاریک ہے، قومی سیاست میں ان کی سیاست کے دفن ہونے سے پہلے ہی دعائیں ہورہی ہیں ، فیلڈ مارشل کے معافی مانگنے
کے بیان سے ثابت ہو گیا ہے، فارم 47، سے وجود میں آنے والی حکومت، تو پہلے ہی بے اختیار تھی سیاسی اختیار بھی دفن ہوتا نظر آرہا ہے حکمران ٹولہ صرف وردی کا درباری ہے ، یہ لوگ نہ تو فریق ہیں نہ حریف، قومی سیاست میں اب ان کی حیثیت صرف ایک تماشا ئی کی سی ہے عمران خان آج بھی جیل سے قو م کے نام اپنے پیغام میں کہہ رہا ہے ظلم و جبر کی تاریک شب کتنی ہی طویل کیوں نہ ہو ، روشن صبح ضرور طلوع ہوتی ہے ، عدل اور انصاف کا سورج ضرور طلوع ہو گا
ایک مغرور جنرل نے مشرقی پاکستان میں پہلے بھی کہا تھا ! بنگالی صدق دل سے معافی مانگ لیں تو ان کی جان بخشی ہو جائی گی لیکن جب ایک طاقت ور دشمن کے مقابل آیا تو اس کے غرور کا سر جھک گیا ، اپنے ہاتھوں معافی نامہ لکھا اور جان بچا کر مغربی پاکستان آگیا ، ایک جنرل ضیائ تھا اپنے غرور و تکبر کے ساتھ فضا میں دھواں بن کر اڑ گیا ، فیصل مسجد کے صحن میں ان کا مزار ہے ، رات کو درندے اس کی مزار کا طواف کرتے ہیں ،مومن جانتا ہے خدا کے گھر میں دیر ہے اندھیر نہیں ، پاکستان میں پتھروں کی برسات ہونے لگی ہے پتھروں کا سیلاب دنیا دیکھ رہی ہے ، اس لئے کہ پاکستان میں زمین کے خدا ، آسمان کے خدا اور اس کی وحدانیت کو بھول گئے ہیں ،
عمران خان کے بدترین قلمی مخالف لکھتے ہیں ، خان صاحب آپ تو بار بار کہا کرتے تھے یو ٹرن اچھے ہوتے ہیں ، ایک یو ٹرن ملکی استحکام کے لئے بھی لے لیں ، اگلے انتخابات تک چپ کا روزہ رکھ لیں اور اپنا سارا زور اگلے الیکشن کی شفافیت کو یقینی بنانے پر لگائیں ، آپ کی یہ ڈیل سب کے لئے قابل قبول ہو گی حکومت کو فری ہینڈ ملے گا ، مطلب ہے موجودہ سسٹم عمران خان سے NRO مانگ رہا ہے لیکن عمران خانNROدینے کو تیار نہیں
ابصار عالم لکھتے ہیں! فیلڈ مارشل کے پاس خان سے معافی منگوانے کا صرف ایک ہی طریقہ ہے کہ وہ جیل میں اپنے کسی درباری کو بھیجیں وہ جیل میں عمران خان سے سوال کرے کہ I am sorry کا کیا مطلب ہے تو خان کہے گا ،، میں معافی چاہتا ہوں،، فون میں خان کا یہ جملہ ریکارڈ ہو جائے گا اور اس جملے کو اپنے درباری میڈیا میں نشر کر دیں ، کہ خان نے معافی مانگ لی !!

Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply