آئے ہائے بیچارا مرد/عارف خٹک

مرد ایک بڑی عجیب مخلوق ہے۔ جیسے جیسے عمر گزرتی ہے، یہ بچپنے کی طرف لوٹنے لگتا ہے۔ اٹھارہ سال سے چالیس سال تک وہ کولہو کے بیل کی طرح اپنے بچوں کے لیے دن رات محنت کرتا رہتا ہے، بغیر کسی ستائش اور صلے کے۔ دفتر سے تھکا ہارا گھر لوٹے تو دو گھڑی آرام کی خواہش کرتا ہے، مگر معلوم ہوتا ہے کہ بیگم نے اپنے میکے کی بارات بلالی ہے۔ کبھی بہنیں، کبھی بھابھیاں اور کبھی دور پرائے رشتہ دار ڈیرے ڈالے بیٹھے ہوتے ہیں۔

اکثر لوگ حیران ہوتے ہیں کہ مرد کو سسرالی کیوں زہر لگتے ہیں۔ دراصل مرد اپنے گھر کی عزت دیکھ رہا ہوتا ہے۔ اسے دکھ ہوتا ہے کہ اس کی بیوی ماں کی کتنی عزت کرتی ہے یا نہیں کرتی، بھائی بہنوں کے لیے بیگم کے ماتھے پر ہزار شکنیں ابھر آتی ہیں۔ نتیجتاً مرد بھی انتقاما سسرالیوں سے دور ہونے لگتا ہے۔

ایک وقت آتا ہے کہ مرد سوچتا ہے یہ سب کچھ صرف اس کے ساتھ ہی کیوں ہورہا ہے۔ گھر میں بیوی نہ اس کو وقت دیتی ہے نہ وقعت۔ ہر وقت بچوں اور اپنے میکے میں مصروف رہتی ہے۔ یوں وہ آہستہ آہستہ بیوی سے دور ہونے لگتا ہے۔

پھر ایک دن قاری حنیف ڈار صاحب کا کالم پڑھ لیتا ہے کہ ایسی بیویوں کے لیے اللہ نے سوتنیں بھیجی ہیں۔ یہاں سے مرد اس بیوہ یا مطلقہ خاتون کی طرف کھنچنے لگتا ہے جو اسے جتلاتی ہے کہ وہ کتنا قیمتی ہے۔ کہتی ہے: “آپ پر ظلم ہورہا ہے، آپ کی بیوی جاہل ہے، آپ اتنا کچھ کرتے ہیں اور بدلے میں سکون تک نہیں ملتا۔”

یوں مرد خود کو مظلوم سمجھنے لگتا ہے، ایسی وجوہات گھڑتا ہے جن کا کوئی وجود بھی نہیں ہوتا۔ ہر بات پر دوسروں سے موازنہ کرنے لگتا ہے۔ بالآخر وہ فیصلہ کرتا ہے کہ اب اپنی بیوی کو “سبق” سکھانے کا وقت آگیا ہے، اور جھٹ سے دوسری شادی کرلیتا ہے۔ لیکن اکثر جس مطلقہ سے وہ شادی کرتا ہے اس کی طلاق کے پیچھے بھی یہی عوامل کارفرما ہوتے ہیں۔ مرد بچوں اور پہلی بیوی کو چھوڑ کر نئی بیوی کے پاس آجاتا ہے، اور پرانی بیوی اچانک اسے ظالم اور چڑیل دکھائی دینے لگتی ہے۔

چھ ماہ بعد جب نئی بیوی پرانی بننے لگتی ہے تو کسی صبح ننگی تلوار کی طرح سامنے کھڑی ہو جاتی ہے اور مطالبہ کرتی ہے
“تیری پہلی بیوی ذاتی گھر میں رہتی ہے، میں کیوں ذلیل ہورہی ہوں تیرے ساتھ کرائے کے مکان میں؟ مجھے بھی نیا مکان چاہیئے۔”

مرد ہکا بکا رہ جاتا ہے۔ یہ وہی عورت تھی جو کہتی تھی “جان! بس تیرا ساتھ چاہیئے، چاہے فٹ پاتھ پر بھی رہنا پڑے۔” لیکن اب کھانے کی میز پر بیٹھتے ہی پہلی بیوی کا طعنہ شروع کر دیتی ہے
“اس منحوس کو تو لاکھوں مل رہے ہیں اور میں یہاں دو ہزار میں گزارہ کر رہی ہوں۔”

کبھی کہتی ہے
“اس کو نوکر رکھ کر دیے ہیں، بستر پر بیٹھ کر اپنی تشریف موٹی کر رہی ہے اور میں یہاں تیرے لیے پراٹھے بناؤں؟ کیوں؟”

اٹھتے بیٹھتے پہلی والی کا اتنا ذکر اور ساتھ طعنے کہ شوہر واقعی سوچنے لگتا ہے کہ پہلی بیوی سے شادی کرنا شاید سب سے بڑی غلطی تھی۔

بالآخر ایک دن شوہر پر یہ راز کھلتا ہے کہ دوسری کو طلاق کیوں ہوئی تھی۔ دفتر سے تھکا ہارا ابھی دہلیز پر قدم رکھتا ہے کہ سامنے سے آواز آتی ہے
“آگئے بے غیرتوں کے سردار۔۔۔”

اب مرد کا سفر ایک بار پھر واپسی کی طرف شروع ہوجاتا ہے۔ سوچتا ہے کہ پہلی بیوی بری تھی، ماں باپ کی خدمت نہیں کرتی تھی، میرا خیال بھی نہیں رکھتی تھی مگر اتنی گالی گلوچ تو نہیں کرتی تھی۔ نہ اس طرح تنگ کرتی تھی جیسے یہ۔

کسی دن اچانک اسے احساس ہوتا ہے کہ دوسری شادی کرکے اس نے پہلی بیوی اور خاص طور پر بچوں کے ساتھ زیادتی کی۔ پھر پہلی بیوی سے کہتا ہے “جان من! غلطی میری تھی، مگر کس وجہ سے شادی کی یہ بھی تو تمہیں معلوم ہے۔”

چھ ماہ بعد پہلی بیوی بچوں کے واسطے دیتی ہے اور کہتی ہے “اس عورت کو ہمارے درمیان سے دور کر دو۔ بچے ہیں، میں ہوں، آپ جیسا کہیں گے ویسا کروں گی۔ بس اسے نکال دو۔”

یوں مرد دوسری بیوی سے جان چھڑا کر واپس اپنے خاندان میں آجاتا ہے اور زندگی وہیں سے شروع کرتا ہے جہاں رکی تھی۔ لیکن ایک دن جب وہ تھکا ہارا دفتر سے گھر آتا ہے تو دیکھتا ہے کہ چاروں سالیاں بچوں سمیت تین کمروں کے گھر میں دندناتی پھر رہی ہیں۔۔۔ اور وہ پھر اسٹور روم میں کسی خارش زدہ کتے کی طرح پڑ جاتا ہے۔

julia rana solicitors london

قارئین! یہ بتائیے، غلطی کہاں ہورہی ہے؟

Facebook Comments

عارف خٹک
بے باک مگر باحیا لکھاری، لالہ عارف خٹک

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply