اردو زبان کی شیرینی اور شائستگی کو برقرار رکھنے کے لیے اس کے قواعد، املا، اور ادبی روایات کا خیال رکھنا نہایت ضروری ہے۔ اردو کو محض الفاظ کا ذخیرہ نہ سمجھیں ۔ یہ ہماری تہذیب کا آئینہ ہے۔ المیہ اصل میں یہ ہے کہ جدید ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر افسانہ نگاری یا دیگر ادبی اصناف میں جہاں تخلیقی صلاحیتوں کا اظہار ہو رہا ہے، وہیں زبان کی بے قاعدگی اور غلطیاں اس کے حسن کو دھندلا رہی ہیں۔
بہت سے نئے لکھنے والوں کو اردو کے رسم الخط، گرامر، یا ادبی اصولوں کی مکمل سمجھ نہیں ہوتی۔ کبھی انگریزی (Qwerty) کی بورڈ کی عادت، تو کبھی اردو کی تعلیم سے دوری، یا پھر “جس طرح لکھنا آتا ہے وہ لکھتا / لکھتی ہے۔” کا رویہ اس کا سبب بنتا ہے۔اس غلط سلط اردو لکھنےکی ایک اور وجہ موبائل ٹائپنگ ہےجس میں آٹو کریکٹ کی وجہ سے غلطیوں کے علاوہ املا کے سہو نے اردو تحریروں کو متاثر کیا ہے۔ ۔آج کل زیادہ تر لوگ گوگل سافٹ وئر کے ذریعے (بول کر یا ٹائپ کر کے۔) موبائل پہ لکھتے ہیں۔جسے بعد میں درست بھی کرنا پڑتا ہے۔
اس کے علاوہ موبائل پرلکھنے میں ایک بیماری “آٹو کریکٹ” کی بھی ہے۔جب موبائل پر کوئی چیز لکھی جاتی ہے تو “آٹو کریکٹ” اسے کچھ کا کچھ بنا دیتا ہے۔جسے صحیح کرنا مصنف کی ذمہ داری ہوتا ہے مگر مصنفین حضرات اس طرف پوری توجہ نہیں کرتے۔اس کے علاوہ چند موبائل پر مکمل’تختہ کلید’ (کی بورڈ ) نہیں ہوتے تو وہ آدھے الفاظ لکھتے ہیں، جیسے آئ، کھائ وغیرہ لیکن بجائے اس کے کہ مصنفین ” درست کی بورڈ” انسٹال کریں ۔ وہ اپنی سہولت کو سافٹ ویئر کی غلطی بتا کر اپنی جان بچانے لگتے ہیں جبکہ یہ بنیادی طور پر غلط اردو لکھی گئی ہوتی ہے،جو اردو کے ساتھ زیادتی ہے۔ چلیں اگر یہ ایک آدھ دفعہ ہو تو اسے ٹائپو کہہ کر نظر انداز کیا جا سکتا ہے مگر مسلسل ایک ہی انذار کی غلط املا کا مطلب ہے کہ یہ جان بوجھ کر لکھی گئی ہے۔ان مصنفین سے گرازش ہے کہ اس سلسلے میں مکمل حروف اور علامات لیے معیاری کی بورڈ جیسے( “Urdu Keyboard” یا “Phonetic Urdu Keyboard”) کا استعمال کریں جو تمام حروف، علامات (۔ ، ؟ !) اور مرکب الفاظ (جیسے آئ، کھائ) کو مکمل طور پر سپورٹ کرتے ہوں۔ نیز، آٹو کریکٹ کو ڈی ایکٹیویٹ کرکے یا اسے احتیاط سے استعمال کرکے غلطیوں سے بچا جا سکتا ہے۔
اس کے علاوہ چند ایک مصنفین ”ھ” کا غلط استعمال کرتے ہوئے بہت سے الفاظ ”ہ” کے بجائے “ھ”سے لکھ رہے ہیں۔ اس کا جواز وہ یہ بتاتے ہیں کہ ڈیجیٹل ‘ہ’ کا پتہ نہیں چلتا۔ میں ان تمام افراد سے یہ کہنا چاہتا ہوں کہ جب باقی دنیا اسی طرح اردو لکھ رہی ہے تو آپ کو ڈیجیٹل “ہ” نظر نہ آنے پر اعتراض نہیں ہونا چاہیے ۔ کیونکہ اس طرح لکھ کر وہ ایک غلط اردو کی بنیاد ڈال رہے ہیں جو نئے سیکھنے والوں کے لیے خاص طور پر نوجوان نسل کے لیے ایک غلط نظیر ہےجس سے وہ غلط اردو سیکھ سکتے ہیں۔
موبائل پر لکھنے کا ایک مزید المیہ یہ ہے کہ لوگ پیراگرافنگ اور رموز اوقاف جیسے ربط، وقفہ ،ختمہ وغیرہ صحیح طور پر لگانا بھی بھول گئے ہیں۔ عام طور پر ہر جملہ نئی لائن سے شروع کر دیتے ہیں۔ جس سے بات کا مفہوم کچھ کا کچھ ہو جاتا ہے۔مصنف لکھنا کچھ چاہتا اور قاری کچھ سمجھتا ہے۔ایسا لگتا ہے نئے لکھنے والے اسے شاید غلط نہیں سمجھتے ، پھر جب ان سے اس بارے میں بات کی جاتی ہے تویا تو وہ خاموش ہو جاتے ہیں اورالّایہ کہ اپنی غلطیوں کو درست فرمائیں شاید اسے وہ اپنی ہتک سمجھتے ہوئے کمنٹ کو لائک تک کرنا پسند نہیں فرماتےیا پھر ان کا کوئی حمایتی آکر ان کی وکالت کرتا ہے لیکن اصلاح کے بعد وہ بھی غائب ہو جاتا ہے، یوں کمنٹ کرنے والا خوامخواہ برا بن جاتا ہے۔
یاد رکھیں!، “ٹیکنالوجی ہمارا آلہ ہے، ہم اس کے غلام نہیں”۔ اگر موبائل پر اردو لکھنا مشکل لگے تو پی سی پر لکھ کر کاپی پیسٹ کیا جا سکتا ہے۔ نیز، اچھی تحریر کے لیے مشق اور تحقیق ضروری ہے۔ مثال کے طور پر، مشہور ادیبہ قرۃ العین حیدر اپنے ناولز کی پانچ سے چھ بار خود ہی پروف ریڈنگ کرتی تھیں۔ سو تحریر کو ۲-۳ بار پڑھ کر غلطیاں نکالنا، جملوں کے درمیان ربط اور رموزِ اوقاف کو چیک کرنا، اور پیراگرافنگ کو منطقی تسلسل دینا ناگزیر ہے۔ یہ عمل نہ صرف غلطیوں کو کم کرتا ہے بلکہ تحریر کو پختہ بھی بناتا ہے۔
غلط املا اور گرامر ،قاری اور متن کے درمیان حائل ہو جاتی ہے۔ اس میں سبجیکٹ تو موجود ہوتا ہے ، مگر زبان کی کمزوری کہانی کے پیغام کو مبہم کر دیتی ہے۔ مزید یہ کہ آنے والی نسلیں اگر انہی غلطیوں کو معیار سمجھ بیٹھیں تو اردو کا ادبی ورثہ خطرے میں پڑ سکتا ہے۔مجھے اب یہ شدید احساس ہو رہا ہے کہ اس طرح کی اغلاط سے بھر پور افسانے پوسٹ کر کے اردو یا ادب کی خدمت ہونے کے بجائے الٹا نقصان ہو رہا ہے ۔اس لئے کسی بھی ادبی فورم کے منتظمین کو چاہیے کہ؛
املا، پیراگرافنگ اور اردو کے بنیادی اصولوں سےمتعلق ایک مختصر گائیڈ لائن پوسٹ کریں تاکہ نئے لکھنے والے خود کو بہتر بنا سکیں۔
اکثر لوگ عوامی تبصروں میں تنقید کو “شرمندگی” سمجھتے ہیں ان کے لیے نجی طور پر تحریر کی اصلاح کی پیشکش کی جا سکتی ہے۔
فورمز کے منتظمین ، اچھے اردو دانوں کو شامل کر کے “ایجوکیشنل موڈریٹرز” مقرر کریں جو نئے لکھاریوں کی رہنمائی کریں۔
آن لائن اردو گرامر کی ویب سائٹس، یوٹیوب چینلز، یا مختصر ویڈیوز کے ذریعے عام لوگوں تک بنیادی اصول پہنچائے جا سکتے ہیں ۔
ادبی جرائد یا آن لائن پلیٹ فارمز کو چاہیے کہ “بہترین املا” یا “ادبی درستگی” کے اعزازات دے کر اس طرف توجہ دلائی جا سکتی ہے۔
یہ خوش آئند ہے کہ نئی نسل اردو میں لکھ رہی ہے۔ تخلیقی صلاحیتوں کو سپورٹ کرتے ہوئے انہیں زبان کی باریکیوں سے روشناس کرانا ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے۔ جیسے کسی نے کہا تھا: “زبان محبت سے سیکھائی جاتی ہے، ڈانٹ سے نہیں۔”
آئیے، اردو زبان کی اس محبت کے لیے اپنا حصہ ڈالیں۔ جو لکھیں، احتساب کے ساتھ لکھیں؛ جو پڑھیں، توجہ دے کر پڑھیں۔ زبان کی عزت، قوم کی عزت ہے۔خیال رہے کہ ادب کی حقیقی خدمت صرف ” لکھنے” سے نہیں، بلکہ “صحیح لکھنے” سے ہوتی ہے۔ اگر تحریر میں اغلاط ہوں تو قاری کا نہ صرف اعتماد ٹوٹتا ہے بلکہ زبان کا تقدس مجروح ہوتا ہےاور ادبی معیار گرتا ہے ۔
یاد رکھیں،” مصنف کی ذمہ داری صرف اظہار نہیں، احترامِ زبان بھی ہے۔
Facebook Comments


بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں