یومِ آزادی پر ، کچھ ایسی باتیں ہوئی ہیں ، جو کسی بھی بھلے انسان کو تشویش میں مبتلا کر سکتی ہیں ۔ ایک تھرڈ ریٹ ٹی وی نیوز اینکر ، انجنا اوم کشیپ کا اس روز کا پروگرام ، مسلمانوں کے خلاف نفرت اور گھن سے بھرا ہوا تھا ، اس نے بڑی ہی ڈھٹائی سے کہا کہ ملک کے بٹوارے کا مقصد ابھی پورا نہیں ہوا ہے، چونکہ بٹوارہ مذہب کی بنیاد پر ہوا ہے لہذا مسلمانوں کو یہاں سے چلا جانا چاہیے ۔ اور اسی روز بی جے پی کے میڈیا سیل ، جسے اگر فیک نیوز سیل یعنی جھوٹ پروسنے والا سیل کہا جائے تو زیادہ صحیح ہوگا ، کے مکھیا امیت مالویہ نے انجنا کی ہاں میں ہاں ملا کر نفرت اور تعصب کو مزید ہوا دی ۔ اور اسی روز اس ملک کے وزیراعظم نریندر مودی نے لال قلعہ کی فصیل سے ، یومِ آزادی کے اپنے ١٢ ویں اور غالباً اپنے آخری خطاب میں ، راشٹریہ سویم سیوک سنگھ ( آر ایس ایس) کی تعریف میں زمین اور آسمان کے قلابے ملا دیے ۔ یہ پہلا موقع ہے کہ لال قلعہ کی فصیل سے خطاب کرتے ہوئے کسی وزیر اعظم نے سنگھ کی تعریف کی ہے ۔ اپوزیشن ہی نہیں ، مودی کے ذریعے سنگھ کی ستائش پر ، ہندوستانیوں کی اکثریت نے ناراضی اور غم و غصے کا اظہار کیا ہے ، بلکہ سنگھ کی ستائش کو ، مودی کے ذریعے مجاہدینِ آزادی کی توہین قرار دیا ہے ۔ مودی کا دعویٰ ہے کہ آر ایس ایس کی تاریخ قابلِ فخر ہے ، اور یہ دنیا کا سب سے بڑا این جی او ہے جس نے راشٹر کی سیوا ( خدمت) کی اور کر رہا ہے ۔ مودی کا دعویٰ ہے کہ سنگھ نے راشٹر نرمان کا یعنی راشٹر کی تعمیر کا کام کیا ہے ۔ اب مودی سے سوال کیا جا رہا ہے کہ کون سا راشٹر نرمان؟ کیسی سیوا؟ اور کون سی قابلِ فخر تاریخ؟ اور وہ جواب نہیں دے پا رہے ہیں ۔ جواب ہے ہی نہیں ۔ سنگھ کے لوگوں کا آزادی کی لڑائی میں کوئی حصہ تھا ہی نہیں ، سنگھ تو انگریزوں کے لیے مخبری کرتا تھا ! اس نے سبھاش چندر بوس کی آزاد ہند فوج کی مخالفت کی تھی اور ٥٢ سال تک اس نے اپنے دفتر پر ترنگا نہیں لہرایا تھا ۔ سنگھ نے ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان نفرت کی کھائی کھودی اور ملک بھر میں فسادات کروائے ۔ ملک کے بٹوارے کے وقت اس کا کردار انتہائی ہولناک تھا ۔ سچ یہ ہے کہ اس کی تاریخ سیاہ ہے ۔ مودی اس سیاہ تاریخ والے سنگھ کی تعریف کرکے اسے مجاہدین آزادی کی صف میں کھڑا کر رہے ہیں ، افسوس ! مگر افسوس کیسا یہی تو مودی کا خمیر اور ضمیر ہے ، سیاہ ۔ مودی نے ایک بات اور کہی کہ وہ گھس پیٹھیوں کو ملک پر قبضہ نہیں کرنے دیں گے ۔ کون ہیں جنہیں وہ گھس ہیٹھیے کہہ رہے ہیں؟ یقیناً مسلمان ۔ بنگلہ دیشی کے بہانے اور روہنگیا کے بہانے وہ ملک کے مسلمانوں کو کھدیڑنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں ، گویا کہ بٹوارے کا جو مقصد انجنا اور امیت مالویہ کے بقول پورا نہیں ہوا ہے وہ مقصد پورا کرنے کی تیاری ہے ! ظاہر ہے کہ جو مسلمان پاکستان نہیں گیے وہ سارے سنگھیوں کی نظر میں گھس ہیٹھیے ہی ہیں ۔ مگر سارے سنگھی یاد رکھیں ؛ مسلمان ہندوستانی ہیں اور ہندوستانی رہیں گے ، چاہے جو کرلیں وہ اپنا ملک نہیں چھوڑیں گے ۔ اس ملک کی آزادی کے لیے ان کے پرکھوں نے اپنا خون بہایا ہے ۔
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں