دو قوانین ، دو رویے ، ایک نتیجہ

“پہلا قانون”:

مسلم فیملی لاز آرڈی نینس 1961ء کی دفعہ 7 میں قرار دیا گیا ہے کہ جب کوئی شخص اپنی بیوی کو طلاق دے تو اس پر لازم ہے کہ اس کے بعد جتنی جلدی ہو وہ یونین کونسل کے چیئرمین کو اس بات کی اطلاع ایک نوٹس کے ذریعے دے اور اس نوٹس کی ایک کاپی بیوی کو بھی بھیج دے ۔ نوٹس موصول ہونے کے بعد چیئرمین کی ذمہ داری ہوگی کہ 30 دن کے اندر ثالثی کونسل تشکیل دے جس کی سربراہی وہ خود کرے گا اور اس میں میاں بیوی کی جانب سے ایک ایک نمائندہ ہوگا۔ یہ کونسل فریقین کے درمیان تصفیے اور صلح کی کوشش کرے گی لیکن اگر نوٹس موصول ہونے کے بعد 90 دن گزر جائیں اور فریقین میں صلح نہ ہوسکے تو ایک طلاق مؤثر ہوجائے گی ۔
دوسری اور تیسری طلاق کے مؤثر ہونے کے لیے بھی اس قانون کی رو سے یہی طریقہ اپنانا ہوگا ۔

tripako tours pakistan

سپریم کورٹ نے 1963 ء کے ایک مشہور فیصلے (گردیزی کیس ) میں قرار دیا کہ اگر کسی شخص نے طلاق دینے کے بعد یونین کونسل کے چیئرمین کو نوٹس نہیں بھیجا تو قانون یہ سمجھے گا کہ اس نے طلاق سے رجوع کرلیا ہے اور قانون کی نظر میں یہ دونوں بدستور میاں بیوی رہیں گے ۔

تیس سال بعد 1993ء میں سپریم کورٹ نے ایک اور مشہور فیصلے (کنیز فاطمہ کیس ) میں گردیزی کیس کی جزوی تصحیح کرتے ہوئے قرار دیا کہ نوٹس نہ بھیجنے سے قانوناً رجوع مراد نہیں لیاجائے گا لیکن طلاق غیرمؤثر رہے گی جب تک نوٹس نہ دیا جائے اور اس کے بعد مذکورہ مدت پوری نہ ہوجائے۔

1999ء میں ایک اور اہم فیصلے (اللہ رکھا کیس جو پی ایل ڈی 2000 میں رپورٹ ہوا ہے ) میں وفاقی شرعی عدالت کے فل بنچ نے اس قانون کو شریعت سے متصادم قرار دیا لیکن حکومت اس فیصلے کے خلاف اپیل میں گئی اور اس اپیل پر آج تک سپریم کورٹ کی شریعت اپیلیٹ بنچ نے فیصلہ نہیں سنایا ۔ چنانچہ قانون بدستور وہی ہے جو 1961ء میں دیا گیا ۔

“پہلا رویہ”:

ہمارے روایتی دینی طبقے نے بالعموم اس قانون کے شریعت سے متصادم قرار دے کر یہ موقف اختیار کیا ہے کہ اس نوٹس کے نہ دینے کے باوجود اور اس قانون کی خلاف ورزی کے علی الرغم طلاق اسی وقت سے مؤثر ہوجاتی ہے جس وقت شوہر طلاق دیتا ہے ۔

“دوسرا قانون”:

1979ء میں حدود سزاؤں کے نفاذ کے نام پر چار قوانین نافذ کیے گئے جن میں ایک کا تعلق شراب نوشی کے جرم سے ہے ۔ اس جرم پر حد کی سزا اور بعض صورتوں میں تعزیری سزا بھی مقرر کی گئی ہے ۔ غیرمسلموں کے لیے اس قانون میں استثنا ہے لیکن حکومتی اداروں کی ذمہ داری متعین کی گئی ہے کہ کن حدود کے اندر وہ غیر مسلموں کو اجازت دے سکتے ہیں ۔

“دوسرا رویہ”:

ہمارا لبرل طبقہ بالعموم اس قانون کا مذاق اڑاتا اور اسے تنقید کا نشانہ بناتا ہے ۔ ایک مشہور لبرل صحافی /سیاست دان اپنے کالم میں کبھی شراب نوشی کا ذکر کرتے ہیں تو کبھی اسے مشروب خاص کا نام دیتے ہیں اور کبھی نثر میں شاعری کی کوشش کرتے ہیں ۔ پچھلے دنوں سندھ ہائی کورٹ نے اس قانون میں مذکور قیود پولیس کو یاد دلائیں تو سوشل میڈیا پر اچھے خاصے سنجیدہ حضرات نے بھی تضحیک کا رویہ اختیار کیا ۔ دو دن قبل پی ٹی آئی کے صوبائی وزیر کی کار سے بوتل کی برآمدگی کا غلغلہ اٹھا۔ کارٹون بنائے گئے ۔ لطیفے لکھے گئے ۔ طنز کیا گیا ۔ سب کچھ ہوا ۔ لیکن کسی نے یہ سوال نہیں اٹھایا کہ قانون کے تحت کیا کارروائی ہونی چاہیے تھی !

“دو ظاہر متضاد رویوں میں قدر ِمشترک”:

یہ بظاہر دو الگ قوانین پر دو مختلف طبقات کے دو متضاد رویے ہیں لیکن ذرا گہرائی میں جائیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ان بظاہر دو متضاد رویوں میں ایک اہم قدر مشترک پائی جاتی ہے ۔ وہ قدر مشترک یہ ہے کہ دونوں رویے اس مفروضے پر مبنی ہیں کہ جو ریاستی قانون ہمارے تصورات سے ہم آہنگ نہ ہو اسے ہم قانون نہیں مانتے ، نہ ہی اس کی پابندی ضروری سمجھتے ہیں ۔ ریاستی قانون کی قانونی حیثیت متعین کرنے کے لیے ایک طبقے کا معیار “شریعت کا روایتی تصور ” ہے اور دوسرے طبقے کے لیے “حقوقِ انسانی کا سیکولر تصور” ۔ دونوں طبقوں کے نزدیک قانون کو قانون کی حیثیت ریاست اور اس کے اداروں سے نہیں بلکہ ریاست ، پارلیمنٹ ، عدلیہ اور سب اداروں سے بالاتر ایک الگ تصور سے ملتا ہے ۔ اس تصور کی سند نہ ہو تو چاہے دستور کچھ بھی کہے ، قانون کے متن میں کچھ بھی لکھا ہو ، عدلیہ کا کچھ بھی فیصلہ ہو ، قانون وجود میں نہیں آتا ، نہ ہی اس کی پابندی کی جاتی ہے۔

“ایک نتیجہ”:

Advertisements
merkit.pk

دو الگ قوانین کے متعلق دو الگ طبقات کے دو بظاہر متضاد رویوں نے معاشرے میں اس امر پر ایک عمومی اتفاقِ رائے پیدا کیا ہے کہ ریاست کے قانون کی کوئی حیثیت نہیں ہے ۔ اس اتفاقِ رائے کے مظاہر معاشرے کی ہر سطح پر نظر آتے ہیں ۔ ٹریفک اشارہ توڑنے سے لے کر دستور معطل کرکے مارشل نافذ کرنے تک ۔

  • merkit.pk
  • merkit.pk

محمد مشتاق
قانون کے پروفیسر ہیں اور قانون اسلامی میں دسترس رکھتے ہیں۔ آپ اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد سے بطور پروفیسر وابستہ ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply