جذباتی اشتعال سادہ سی بات کو اس انتہا پر لا کھڑا کرتا ہے جہاں منظر ویسا نہیں رہتا جیسا وہ ہوتا تھا۔ علما کا طبقہ شور مچا رہا ہے کہ
“اسلامی جمہوریہ پاکستان میں مساجد غیر محفوظ ہیں۔”
میں علما کی اس بات پر یقین کر لیتا اگر میرے محلے میں موجود تین مساجد اب تک ریاست مسمار کر چکی ہوتی، یا ہر شہر میں موجود کئی درجن مساجد گرا دی جاتیں۔
علما کی تقریری رنگ بازی بات کو ایک اور رخ دے رہی ہے
وگرنہ سمجھنے والوں کے لیے بات بہت سادہ ہے کہ
جو ریاست کو اوقاف کے تحت سینکڑوں مساجد کو سنبھال رہی ہے۔
وہ مساجد دشمن نہیں ہے بلکہ اس ٹکراؤ قبضہ مافیا سے ہے، اور یہ کیسا عجیب اتفاق ہے کہ قبضہ مافیا وہ لوگ ہیں جو تمام انسانیت کے لیے رزق حلال کھائے جانے کی دعا کرتے ہیں۔
شور مچانے والوں کے پاس ان زمینوں کے نہ تو کاغذات ہیں اور نہ ہی کوئی ایسا پروانہ جو ان زمینوں پر ان کے دعوی ملکیت کو ثابت کرے۔
مسجد ایک مذہبی ادارہ ہے جس کے وجود اور قیام کے اپنے اصول و ضوابط ہیں۔ یہ کہاں کی خدا پرستی ہے کہ ناجائز زمینوں پر قبضہ کر لیا جائے اور پھر اس پر مساجد تعمیر کر کے اپنی قبضہ کو مذہبی پناہ دے دی جائے۔
ریاست مذہب دشمن ہے یا مذہب دوست، مجھے اس بحث سے کوئی واسطہ نہیں ہے، لیکن یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ مولوی طبقہ کی ناجائز مساجد خدا فروشی اور خدا ترسی کے جذبہ کے تحت بالکل بھی نہ تھیں۔
مسجد نبوی کی تعمیر کا واقعہ ہمارے سامنے ہے۔
رسول اللہ نے پہلے زمین خریدی، پھر اس پر مسجد کا سنگ بنیاد رکھا، اور یہاں صورتحال یہ ہے کہ پہلے زمینوں پر قبضہ کیا جاتا ہے، پھر نہ صرف خدا کے نام پر بلکہ خدا کے لیے بھیک کا دھندا شروع کیا جاتا ہے۔
اسی دھندے سے مسجد کی اینٹیں بھی آتی ہیں اور مولوی کے کچن کا چولہا بھی بنتا ہے، اور مشاہدہ یہی ہے کہ بہت بار انہی پیسوں سے اسلحہ بھی خریدا جاتا ہے۔
اس سارے ڈھونگ سے ایک بات واضح ہو کر سامنے آ جاتی ہے کہ ایک تو پروردگار عالم کے تمام کام بھیک سے ہوتے ہیں اور اب مہنگائی کے اس دور میں بات صرف بھیک سے بن نہیں پاتی، اس لیے اب خدا کے نام پر قبضے بھی کیے جائیں گے۔
خلاصہ یہ ہے کہ خدا کے نام پر لوٹ بازی کا بازار مچا رکھا ہے، اور اب احتساب کرنے پر چور کوتوال کو ہی ڈانٹ رہا ہے۔
ٹریفک سگنلز پہ کھڑے اپاہچ جو جب گھروں میں واپس پلٹتے ہیں تو اپاہچ نہیں رہتے۔
لوکل بس میں بھیک مانگتا نابینا جیسے ہی بس سے نیچے اترتا ہے اس کی آنکھوں میں بصارت اتر آتی ہے۔
بھیک مانگنا بھی دھندا ہے، اور یہ اس دھندے کے بنیادی گُر ہیں کہ خود کو اتنا مظلوم، بے بس اور لاچار ثابت کرو کہ جو آنکھ دیکھے اس میں رحم اتر آئے، اور ضرورت پڑنے پر یہی لاچاری ان کے لیے ہتھیار کا بھی کام دیتی ہے۔
مولوی کے دھندے میں سب سے بڑا ہتھیار اور گُر مذہب ہے
جب بھی کوئی اس دھندے پر سوال اٹھائے تو اسے مذہب دشمن، یہودی ایجنٹ اور کافر کہنے سے بھی گریز نہیں کیا جاتا۔
عوامی جذبات کو بھڑکایا جاتا ہے، اور مشتعل ہجوم اپنے خدا کے تحفظ کے لیے عام شہریوں کا تحفظ خطرے میں ڈال دیتا ہے۔
اگر منظر سے خدا فروشوں کی اندھی جذباتیت کو ہٹا کر دیکھا جائے تو یہ اندازہ ہوتا ہے کہ نہ تو کائناتوں کے خالق خدا کو کوئی خطرہ ہے اور نہ ہی کوئی مذہب کے خلاف ہتھیار لے کر آن کھڑا ہوا ہے۔
مشتعل ہجوم کے جذباتی نعروں کے نیچے دبی ہوئی حقیقت یہ ہے کہ مذہبی مافیا یہ شور تب مچاتا ہے جب اسے معلوم پڑے کہ اس کی ناپاکیوں کا پول کھلنے والا ہے۔
یا اسے اپنی سیاست چمکانے کی ضرورت درپیش ہے
نہ جانے ان کے دلوں میں عوامی اور ریاستی کٹہرے میں کھڑا ہونے کا کیسا خوف بیٹھا ہوا ہے کہ اس سے بچنے کے لیے خدا کی عدالت کو گھسیٹ کر اپنے اڈے میں لگا دیتے ہیں، اور خود خدا کی مسند پہ بیٹھ کر یزداں کے لہجے میں سب پر حکم سناتے ہیں۔
پھر وہاں سے طے ہوتا ہے کہ کون جہنمی ہے اور کون کافر۔

ریاست کی لسٹ میں موجود پچاس مساجد، جس کے نوٹس دو ماہ پہلے ریاست نے ان تمام مدارس اور مساجد کو بھیج دئیے تھے، تمام کی تمام وہ ہیں جو غیر قانونی جگہوں پر قابض ہو کر بنائی گئیں۔
علما جو قبضہ جیسی قبیح حرکت کا اعتراف کرنے کا حوصلہ نہیں رکھتے، بجائے معاملہ سلجھانے کے اشتعال کو ہوا دے رہے ہیں۔
یہ ویسی ہی حرکت ہے جو وہ لوگ کرتے تھے جن کے سامنے قرآن پڑھا جاتا، تو وہ شور مچاتے تھے۔
شور کی یہی خاصیت ہے کہ اس کے نیچے سب سے پہلے حقیقت دب جاتی ہے۔
مولوی مافیا یہی سمجھتا ہے کہ وہ اشتعال انگیز نعروں، فتنہ پرور تقریروں کے شور میں حقیقت کو ملیا میٹ کر دے گا، لیکن یہ سچ پچھلی امتوں کے گناہوں کی طرح ان کے ماتھے پر لکھا جا چکا ہے کہ وہ “مقدس قبضہ گروپ اور خدا فروش طبقہ ہے۔”
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں