بچے سیکھ کیوں نہیں رہے؟(3)-شاہد محمود

جان ہولٹ کی کتاب How Children Fail کے تناظر میں

خوف اور ناکامی (Fear and Failure)
‎ہولٹ کے مطابق ایک خوف زدہ بچہ اپنی اصل سیکھنے کی صلاحیت کھو بیٹھتا ہے۔ جب ایک طالب علم کے گرد ہر سمت خوف کے سایے منڈلا رہے ہوں تو وہ اپنے ذہن کو آزادانہ استعمال نہیں کر پاتا۔

‎استاد کی ناراضگی کا خوف

‎غلط جواب دینے کا خوف

‎ہم جماعتوں کے سامنے شرمندہ ہونے کا خوف

‎ناکام سمجھے جانے کا خوف


‎یہ سب عوامل مل کر بچے کو سیکھنے کی بجائے بچ نکلنے اور چھپنے پر مجبور کرتے ہیں۔ اس کا دماغ اس بات میں الجھا رہتا ہے کہ کیسے اپنی عزت بچانی ہے، نہ کہ یہ کہ کیا اور کیسے سیکھنا ہے۔

‎ہولٹ کہتے ہیں کہ جہاں خوف کا راج ہو، وہاں علم کا دروازہ بند ہو جاتا ہے۔ آپ ذرا تصور کریں کہ اگر آپ ایک ایسی جگہ موجود ہوں جہاں ذرا سی لغزش پر عزت خاک میں ملنے کا خدشہ ہو، تو وہاں آپ کے اعتماد اور جستجو کی کیفیت کیسی ہوگی؟

‎یوں بچہ سیکھنے کے عمل کو خوشی یا تجسس کی بجائے بوجھ اور خطرہ سمجھنے لگتا ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہ سوال کرنے سے کتراتا ہے، جواب دینے سے بچتا ہے، اور علم کے بجائے محض “غلطی نہ کرنے” کی کوشش کرتا ہے۔
‎کلاس روم میں بیٹھے بچوں کے لیے سب سے مشکل لمحہ وہ ہوتا ہے جب ان سے ایسا سوال پوچھا جائے جس کا درست جواب انہیں معلوم نہ ہو۔ اگر وہ ہمت کر کے کوئی جواب دیں اور استاد فوراً اس کو رد کر دے یا دوستوں کی ہنسی کا نشانہ بنے تو یہ لمحہ بچے کے لیے شدید اذیت ناک بن جاتا ہے۔ ایسے وقت میں بچہ خود کو دنیا کا ناکام انسان سمجھنے لگتا ہے۔

‎یہ احساس صرف ایک لمحے کی شرمندگی پر ختم نہیں ہوتا بلکہ اکثر اس کے اندر ایک مستقل خوف پیدا کر دیتا ہے۔ یہ خوف آہستہ آہستہ بچے کو اپنی اصل دنیا سے کاٹ کر ایک محدود دائرے میں قید کر دیتا ہے۔ وہ سوال کرنے سے ڈرتا ہے، اپنی رائے ظاہر کرنے سے کتراتا ہے، اور اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو چھپانے لگتا ہے۔

‎جب ایک ہی دن میں بچہ بار بار اس کیفیت سے گزرے تو یہ کیفیت محض عارضی نہیں رہتی، بلکہ اس کی شخصیت کا حصہ بن جاتی ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ بچہ “سیکھنے والے” کے بجائے “ناکامی سے بچنے والے” میں بدل جاتا ہے۔

‎ہولٹ اپنی کلاس میں ایک بچی کا ذکر کرتے ہیں جو ذہین بھی تھی اور سیکھنے میں اچھی بھی۔ لیکن جب بھی اس سے سوال پوچھا جاتا تو وہ فوراً اپنی نظریں جھکا لیتی، آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات نہیں کرتی تھی۔ جواب دیتے وقت اس کی آواز اتنی مدھم ہو جاتی کہ سنائی ہی نہ دیتا۔

‎ہولٹ کے مطابق اس بچی کا یہ رویہ اس کے اندرونی خوف کی علامت تھا۔ اسے گمان تھا کہ اگر اس کا جواب غلط ہوا تو استاد ناراض ہوں گے، یا ساتھی ہنسیں گے۔ اس لیے وہ کوشش کرتی تھی کہ اس کی آواز کسی کو سنائی نہ دے، تاکہ اگر جواب غلط ہو بھی گیا تو کم از کم سب کے سامنے شرمندگی سے بچ سکے۔

‎یہ منظر ہولٹ کے لیے ایک تلخ حقیقت کو ظاہر کرتا ہے کہ ہمارا تعلیمی نظام بچے کو سیکھنے پر آمادہ کرنے کے بجائے، اسے “غلطی نہ کرنے” کی پناہ گاہ تلاش کرنے پر مجبور کر دیتا ہے۔

‎اسی طرح ہولٹ ایک لڑکے کا ذکر کرتے ہیں جو کلاس میں ہمیشہ خاموش رہتا تھا۔ اگر کبھی وہ بولتا بھی تو دوسروں کے دیے گئے جوابات دہرا دیتا۔ ایک دن ہولٹ نے اسے براہِ راست کہا کہ “آپ اپنا جواب بتائیں۔” اس پر لڑکے نے ہچکچاتے ہوئے کہا:
‎”اگر میں نے جواب دیا تو سب ہنسیں گے۔”

‎یہ جملہ ہولٹ کے لیے ایک چونکا دینے والا لمحہ تھا۔ انہوں نے محسوس کیا کہ بچہ اپنی فہم اور عقل کو استعمال کرنے کے لیے بالکل تیار نہیں تھا، صرف اس لیے کہ وہ مذاق یا شرمندگی کا نشانہ نہ بن جائے۔

‎یہ صورتحال اس حقیقت کو بے نقاب کرتی ہے کہ ہمارے تعلیمی ماحول میں بچے سوال کرنے یا جواب دینے کے بجائے “خاموشی” کو زیادہ محفوظ سمجھتے ہیں۔ یوں ان کی جستجو اور تخلیقی صلاحیت دب جاتی ہے، اور وہ علم کے سفر پر قدم رکھنے سے پہلے ہی پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔

‎اکثر استاد یہ خیال کرتے ہیں کہ مقابلے کا دباؤ اور سختی بچوں میں سیکھنے کی تحریک پیدا کرتی لیکن حقیقت میں کسی بھی طرح جا دباؤ سیکھنے کے عمل میں رکاوٹ ہے۔
‎ہمیں سکول اور کلاس روم میں کسی بھی طرح کا خوف اور دباؤ کو ختم کرنا ہوگا اس کے علاؤہ کوئی تدریسی حکمت عملی کارگر نہیں ہوسکتی

‎استاد کے لیے اہم نکات:

‎1. غلطی کو سیکھنے کا موقع سمجھیں – بچے کو بتائیں کہ ہر غلط جواب اصل جواب تک پہنچنے کا ایک قدم ہے۔


‎2. موازنہ اور مذاق سے بچیں – کلاس روم میں ایسا ماحول بنائیں جہاں کوئی بھی کسی کا مذاق نہ اڑائے، اور بچوں کو ایک دوسرے سے مقابلہ کرنے کے بجائے اپنے سیکھنے پر توجہ دینے کی ترغیب دی جائے۔


‎3. حوصلہ افزائی کریں – جب بچہ کوشش کرے تو اس کی تعریف کریں، چاہے نتیجہ سو فیصد درست نہ ہو۔


‎4. سوال کرنے کا حق دیں – بچوں کو اجازت دیں کہ وہ کسی بھی وقت سوال پوچھ سکیں، اور ان کے سوالات کو بوجھ یا فضول نہ سمجھا جائے۔



‎ہولٹ کہتے ہیں کہ خوف کے بغیر سیکھنا ایک قدرتی اور خوشگوار عمل ہے۔ بچے فطرتاً متجسس اور سیکھنے کے شوقین ہوتے ہیں، لیکن اگر ہم نے ان کے اندر خوف پیدا کر دیا تو ہم نے ان کی سب سے قیمتی صلاحیت کو دبا دیا۔

‎آخر میں وہ لکھتے ہیں:
‎”ہم بچوں کو اس وقت ہی حقیقی علم دے سکتے ہیں جب وہ یہ جان لیں کہ ان کی عزت، محبت اور مقام ایک غلطی سے ختم نہیں ہوتا۔”

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply