ہمارے لیے یہ ایک المیہ ہے کہ ہم قرآن مجید کو تدبر اور تفکر کی کتاب سمجھنے کے بجائے صرف تلاوت کرنے کو نیکیوں کے حصول کا ذریعہ بنا بیٹھے ہیں۔ عام طور پر قرآن کو ایصالِ ثواب، کسی فوت شدہ شخص کی روح کے لیے یا مصیبت کے وقت پڑھا جاتا ہے۔ بعض اوقات تو لوگ یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ جب کسی کی روح نکلنے میں مشکل ہو تو قرآن خوانی سے اس کی مدد ہو گی۔ یہ رویہ قرآن کے اصل مقصد کے بالکل برعکس ہے۔ قرآن بار بار انسان کو دعوت دیتا ہے کہ وہ اس کی آیات میں غور کرے، ان سے سبق لے، اور اپنی زندگی کے فیصلے ان رہنما اصولوں کی روشنی میں کرے۔
سورۃ الکہف میں سیدنا موسیٰ اور خضر کا واقعہ ایک انتہائی بصیرت افروز مثال ہے۔ ہمارے اکتر مفسرین جب بھی یہ واقعہ بیان کرتے ہیں تو بحث کا محور اس بات پر مرکوز کر دیتے ہیں کہ خضر کون تھے — انسان تھے، نبی، ولی یا فرشتہ تھے؟ کیا وہ موسیٰ سے زیادہ عالم تھے؟ یہ مباحث اپنی جگہ دلچسپ ہیں، مگر افسوس کہ ان میں الجھ کر ہم اصل پیغام کو پسِ پشت ڈال دیتے ہیں۔
سوال یہ ہے کہ آج کم و بیش 3500 سال پرانے واقعہ کو جب میں قرآن مجید میں پڑھتا ہوں تو اس سے مجھے کیا سبق ملتا ہے ۔
قرآن مجید کے بیان سے یہ واضح ہوتا ہے کہ سیدنا موسیٰ، جو ایک صاحبِ شریعت نبی تھے، جب خضر کے ساتھ سفر میں شامل ہوئے تو خضر نے تین ایسے کام کیے جو بظاہر موسوی شریعت کے خلاف تھے: کشتی میں نقص ڈالنا، ایک لڑکے کو قتل کرنا، اور ایک دیوار کو مفت میں سیدھا کر دینا۔ موسیٰ نے فطری طور پر اور اپنے شریعتی اصولوں کے مطابق احتجاج کیا — اور یہ احتجاج درست تھا، کیونکہ ان کا منصب شریعت کی پاسداری کا تھا لیکن اس واقعے میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ دکھایا کہ بعض اوقات پردۂ غیب میں ایسے اسباب اور حکمتیں کارفرما ہوتی ہیں جو فوری طور پر ہماری سمجھ میں نہیں آتیں۔
لہٰذا، اس واقعے کا اصل مقصد یہ ہے کہ ہم صرف ظاہری واقعات یا فوری نتائج پر فیصلہ نہ کریں، بلکہ حکمت اور انجام کو بھی مدنظر رکھیں۔ اور یہ بات بھی سمجھیں کہ شریعت کے نفاذ اور اللہ کی حکمت کے درمیان گہرا ربط ہے، مگر اللہ کی حکمت کائنات کے ہر پہلو کا احاطہ کرتی ہے
یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کائنات کا خالق و مالک ہے۔ وہ اپنی حکمت کے تحت کسی بھی وقت اپنے قائم کردہ اصولوں اور کائناتی نظام میں تبدیلی کرتا ہے اور کرتا رہے گا۔ اس حقیقت میں ہمارے لیے ایک گہرا سبق پوشیدہ ہے، اور وہ یہ کہ ہم نے بھی اپنی ریاست کے نظام کو چلانے کے لیے جو آئین و قانون وضع کیے ہیں، یا معاشرتی و سماجی زندگی کے جو اصول مرتب کیے ہیں، اگر کسی موقع پر مصلحت اور حکمت کا تقاضا ہو تو ہم ان اصولوں میں تبدیلی کر سکتے ہیں یا بوقتِ ضرورت انہیں نظر انداز بھی کر سکتے ہیں
عزیزانِ من ۔
دنیا کی جمہوری سیاست میں ایک بیانیہ بہت زور پکڑ چکا ہے کہ عوام کا فیصلہ ہمیشہ درست ہوتا ہے، اور آئین کی پاسداری ہر حال میں فرضِ اولین ہے۔ مگر تاریخ کبھی کبھی یہ بیانیہ جھٹلا دیتی ہے۔ کئی بار ایسا ہوا کہ عوام نے آئینی طریقے سے کسی لیڈر کو اقتدار دیا، مگر وہی لیڈر بعد میں ملک، آئین اور عوام کی بربادی کا ذریعہ بن گیا۔
ایڈولف ہٹلر اس کی سب سے واضح مثال ہے۔ 1933 میں وہ جرمنی کا چانسلر آئینی طریقے سے بنا، مگر چند ہی برسوں میں اس نے آئینی ڈھانچے کو تباہ کر کے ڈکٹیٹر شپ قائم کی۔ نتیجہ؟ دوسری جنگِ عظیم، کروڑوں انسانوں کی ہلاکت، اور جرمنی کی مکمل تباہی۔
اسی طرح زمبابوے کے رابرٹ موگابے بھی عوامی ووٹ سے آئے۔ ابتدا میں آزادی کے ہیرو سمجھے جاتے تھے، مگر دہائیوں کی حکومت میں کرپشن، ادارہ جاتی بگاڑ اور معاشی تباہی اس حد تک پہنچ گئی کہ ایک وقت میں مہنگائی کی شرح دنیا میں سب سے زیادہ ہو گئی۔
تیسری مثال وینیزویلا کی ہے۔ ہیوگو شاویز اور بعد میں نیکولس مادورو عوامی انتخاب سے اقتدار میں آئے۔ ابتدا میں عوامی فلاحی منصوبے اور تیل کی آمدنی سے مقبول ہوئے، مگر آہستہ آہستہ اداروں پر گرفت مضبوط کر کے مخالفین کو کچلا، معیشت کو غلط پالیسیوں سے تباہ کیا، اور ملک کو دنیا کے بدترین معاشی بحران میں دھکیل دیا۔ آج لاکھوں وینیزویلائی اپنے ہی ملک سے ہجرت کر چکے ہیں۔
یہ تینوں مثالیں بتاتی ہیں کہ عوام کا فیصلہ ہمیشہ درست نہیں ہوتا۔ عوام کے جذبات، پروپیگنڈا، یا وقتی مقبولیت اکثر ایک ایسا حکمران لے آتی ہے جو بعد میں ناقابلِ تلافی نقصان کر دیتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر کسی ریاست کے طاقتور ادارے — جسے آج کل ہم “اسٹیبلشمنٹ” کہتے ہیں — کو پہلے ہی اندازہ ہو جائے کہ یہ لیڈر مستقبل میں تباہی لائے گا، تو کیا ان پر یہ لازم نہیں کہ وہ اس خطرے کو روکیں؟
تاریخ کہتی ہے کہ بعض اوقات ایسا ہوا، اور وہ قدم وقت پر درست ثابت بھی ہوا۔
فرانس کی مثال لیجیے۔ دوسری جنگِ عظیم کے بعد کمیونسٹ پارٹی وہاں بے حد مقبول ہو گئی تھی، اور خطرہ تھا کہ وہ اقتدار میں آ کر فرانس کو سوویت بلاک میں لے جائے گی۔ فرانسیسی خفیہ اداروں اور مغربی اتحادیوں نے خفیہ مداخلت اور سیاسی انجینئرنگ سے انہیں اقتدار میں آنے سے روکا۔ آج زیادہ تر مؤرخ مانتے ہیں کہ اگر یہ نہ ہوتا تو سرد جنگ میں فرانس کا جغرافیہ اور سیاست یکسر بدل سکتی تھی۔
الجزائر میں 1991 کے انتخابات میں اسلامک سالویشن فرنٹ واضح اکثریت لینے جا رہی تھی۔ فوج نے انتخابات منسوخ کر دیے، یہ کہہ کر کہ یہ جماعت اقتدار میں آ کر جمہوریت ختم کر دے گی اور سخت مذہبی آمریت نافذ کرے گی۔ اس فیصلے نے خانہ جنگی تو پیدا کی، مگر اس کے حامی آج بھی کہتے ہیں کہ الجزائر طالبان طرز کی ریاست بننے سے بچ گیا۔
یونان میں 1967 میں فوج نے انتخابات سے پہلے مداخلت کر کے بائیں بازو کے رہنماؤں کو اقتدار سے روکا، یہ دلیل دے کر کہ وہ ملک کو کمیونسٹ بلاک میں لے جائیں گے۔ فوجی حکومت سخت تھی، مگر ملک سرد جنگ کے خطرات سے بچا رہا۔
یہ واقعات بتاتے ہیں کہ کبھی کبھی غیر جمہوری اور غیر آئینی اقدامات بڑی تباہیوں کو روک دیتے ہیں۔
میری رائے میں موجودہ حکومت اور پاکستان کے ادارے اس وقت جو اقدامات کر رہے ہیں، وہ بالکل درست ہیں اور واقعۂ موسیٰ و خضرؑ کے بتائے ہوئے رہنما اصولوں کی روشنی میں کیے جا رہے ہیں۔ تقریباً چار سال تک ہمارے ملک پر ایک ایسا شخص حکمران رہا جس نے سیاست کو انتقام کی نذر کیا، معاشرے کو تقسیم کیا، اخلاقیات کو پست سطح پر پہنچایا، سفارتکاری کو تنہائی کا شکار بنایا اور معیشت کو تباہ کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔
میں یہ بھی تسلیم کرتا ہوں کہ پچھلے انتخابات میں عوام نے بھرپور انداز میں اس نااہل شخص کو دوبارہ منتخب کرنے کے لیے ووٹ دیا، صرف اس کی محبت میں اسے اپنا حکمران بنانے کے لیے۔ لیکن ہمارے اداروں نے بروقت یہ فیصلہ کیا کہ یہ شخص، جو جیل میں بیٹھا ہوا ہے اور جسے نادان عوام اپنا مسیحا سمجھتے ہیں، دوبارہ اقتدار میں آ کر پہلے سے زیادہ تباہی مچائے گا، جس کا نتیجہ ریاست کی بقا کے لیے خطرناک ہو سکتا تھا۔
اسی لیے اداروں نے اس ممکنہ تباہی کو روکنے کے لیے، آئین و قانون کو نظرانداز کرتے ہوئے، ایسے اقدامات کیے جو تاریخ میں درست ثابت ہوں گے۔
عزیزانِ من ۔ وطن عزیز میں
اس وقت میڈیا، صحافی، اور بعض سیاسی عناصر ہر وقت “آئین، آئین” کا راگ الاپتے ہیں، جیسے آئین کوئی الہامی کتاب ہو۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ آئین انسان کے ہاتھ کا لکھا ہوا ہے، خدا کا نازل کردہ نہیں۔ جب ریاست کے وجود، عوام کی سلامتی، اور آنے والی نسلوں کا مستقبل خطرے میں ہو، تو آئین کو وقتی طور پر معطل کرنا یا اس سے ہٹ کر قدم اٹھانا نہ جرم ہے، نہ گناہ، نہ ہی اس سے قیامت آ جاتی ہے۔
سوال یہ نہیں کہ آئین توڑا گیا یا نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا ریاست بچی یا نہیں۔ تاریخ بار بار یہ سبق دیتی ہے کہ کبھی کبھی بڑے نقصان سے بچنے کے لیے کڑوا گھونٹ پینا پڑتا ہے، اور کبھی کبھار وہ کڑوا گھونٹ غیر آئینی قدم ہی ہوتا ہے۔
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں