مارکسزم اور ڈارونزم

SHOPPING
SHOPPING

’جس قسم کی اقدارکی پاسداری مارکسٹ نظریہ کرتاہے وہ ان سے تقریباً  بالکل الٹ ہیں جو ہمارے موجودہ سائنسی طرزفکر سے سامنے آتی ہیں۔‘‘
(1981ء میں میڈیسن کا نوبل انعام پانے والا روجر سپیری Roger Sperry)
’’کلیسا جب بیسویں صدی کے دیوتاؤں، ترقی کائنات کے مادہ پرستانہ نقطہ نظر اور انتشار کے حملے کے خلاف آواز اٹھاتا ہے تو کتاب تخلیق ہمیشہ کی طرح سچائی کی نقیب لگتی ہے چاہے کوئی حیاتیاتی شروعات کی ارتقائی توضیح کو مانتا ہے یا نہیں۔‘‘
(Blackmore and page, Evolution: The Great Debate)
جدلیاتی مادیت کا طریقہ کار اختیارکرتے ہوئے مارکس اور اینگلز وہ قوانین دریافت کرنے میں کامیاب ہوئے جو عمومی لحاظ سے تاریخ پر اور معاشرے کی نشوونما پر لاگو ہوتے ہیں۔ لاشعوری طو رپر ایسا ہی طریقہ کار استعمال کرتے ہوئے ڈارون پودوں اور جانوروں کے ارتقاء کے قوانین پر سے پردہ اٹھانے میں کامیاب ہو گیا۔ ماہر رکازیات گولڈ کہتاہے۔ ’’ڈارون نے فطرت کی توضیح کے لیے مستقل مزاجی سے مادہ پرستانہ فلسفے کو لاگو کیا۔ مادہ تمام موجودات کی بنیاد ہے۔ ذہن، روح، خدا ایسے الفاظ ہیں جو خلیاتی پیچیدگی Neural complexity کے شاندار نتائج کا اظہار کرتے ہیں۔‘‘

ڈارون کے نظریہ ارتقاء نے فطرت کی دنیا کے بارے میں ہمارے نقطہ نظر میں انقلاب بپا کر دیا۔ اس سے قبل سائنس دانوں پر یہ طرزفکر حاوی تھا کہ انواع ناقابل تغیر ہیں جنہیں خدا نے مخصوص افعال کی انجام دہی کے لیے تخلیق کیا تھا۔ان میں سے کچھ ارتقاء کے تصور کو تسلیم بھی کرتے تھے مگر ایک روحانی شکل میں جس کے اندر ایک اعلیٰ ترین ہستی کی فیصلہ کن دخل اندازی کی گنجائش موجود رہتی تھی۔ ڈارون اس خیال پرستانہ طرزفکر سے فیصلہ کن انداز میں قطع تعلق کی نمائندگی کرتا ہے۔ ارتقاء نے پہلی بار خصوصی طور پر تو نہیں مگر بنیادی طو رپر فطری انتخاب کے عمل کے ذریعے یہ وضاحت پیش کی کہ اربوں سال کے عرصہ میں ایک خلیے پر مشتمل سادہ ترین عضو یے سے حیات کی اعلیٰ اور پیچیدہ ترین اشکال بشمول انسان تک تبدیلی کس طرح واقع ہوئی۔ ڈارون کی انقلابی خدمت اس میکانزم کی دریافت تھی جو اس تبدیلی کا موجب تھا اوراس طرح ارتقاء کو ایک ٹھوس سائنسی بنیاد فراہم کر دی گئی۔

یہاں ہمیں مارکس او راینگلز کے اس کردار سے کچھ کچھ مشابہت دکھائی دیتی ہے جو انہوں نے سماجی سائنسوں کے شعبے میں ادا کیا تھا۔ان سے بہت پہلے دوسروں نے طبقاتی کشمکش کے وجود کا ادراک کر لیا گھا لیکن اس مظہر کی سائنسی توضیح اس وقت تک ممکن نہ ہو سکی جب تک مارکس نے قدرِ محنت کے نظریے (Labour Theory of Value) کا تجزیہ پیش نہیں کیا اور تاریخی مادیت کو فروغ نہیں دیا۔ مارکس اور اینگلز نے ڈارون کے نظریے  کی حمایت کی جو ان کے فطرت پر لاگو ہونے والے تصورات کی تصدیق کرتا تھا۔ 16 جنوری 1861ء میں مارکس نے لاسیلے Lassalle کو لکھا: ’’ڈارون کی کتاب بہت اہم ہے اور میرے لیے تاریخ میں طبقاتی جدوجہد کے سلسلے میں ایک فطری سائنسی بنیاد فراہم کرتی ہے۔ بے شک اس سلسلے میں انگریزوں کے ناپختہ طریقہ ترویج کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔ تمام تر خامیوں کے باوجود صرف یہی نہیں کہ پہلی دفعہ فطری سائنسوں میں مقصدیت Teleology پر ضرب کاری لگی ہے بلکہ اس کے عقلی معانی تجرباتی طو رپر واضح کر دیے گئے ہیں۔‘‘

ڈارون کی کتاب 1859 Origin of Species ء میں منظرعام پر آئی اور اسی سال مارکس نے Preface to the Critique of Political Economy شائع کیا جس میں تاریخ کے مادی تصور کا مکمل طور پر احاطہ کیا گیا تھا۔ ڈارون نے فطری انتخاب کے نظریہ پر کام بیس سال پہلے ہی مکمل کر لیا تھا مگر اپنے مادی نقطہ نظر کے خلاف ردعمل کے خوف سے اسے شائع کرانے سے گریز کیا تب بھی اس نے انسان کے ظہور کے بارے میں صرف انہی لفظوں میں حوالہ دیا ’’انسان کے ظہور اور اس کی تاریخ پر روشنی پڑے گی۔‘‘ 1871ء میں جب انہیں مزید چھپانا ممکن نہ رہا تو اسے The Descent of Man شائع کرنا پڑی۔ اس میں پیش کردہ تصورات اس قدر بے چین کر دینے والے تھے کہ ڈارون کو اسے شائع کرنے کے سلسلے میں برابھلا کہا گیا کہ اس کی اشاعت ’’ایسے وقت میں ہوئی جب پیرس کا آسمان کمیون (Commune) کے شعلوں سے سرخ ہو رہا تھا۔‘‘ وہ بہت مستعدی کے ساتھ مذہب کے سوال سے پہلوتہی کرتا تھا حالانکہ وہ بہت واضح طور پر تخلیق پرستی کو رد کر چکا تھا۔

1880ء میں اس نے لکھا: ’’مجھے یوں لگتا ہے(صحیح یا غلط) کہ عیسائیت اور Theism کے خلاف براہ راست دلائل کا لوگوں پر  بمشکل ہی کوئی اثر ہوتاہے اور فکری آزادی کی بہترین خدمت اسی صورت میں ہو سکتی ہے کہ سائنسی ترقی کے ساتھ آنے والی سوچ کو بتدریج واضح کیا جائے۔ اسی لیے میں نے ہمیشہ مذہب کے بارے میں لکھنے سے گریز کیا ہے اور خود کو سائنس تک محدود رکھا ہے۔‘‘ڈارون کا فطرت کے بارے میں مادہ پرستانہ تصور ایک ایسی انقلابی پیش رفت تھی جس نے ارتقاء کا سائنسی تصور مہیا کیا تاہم مارکس کا رویہ ڈارون کے بارے میں غیرناقدانہ نہیں تھا۔ بطور خاص اس نے ڈارون کے ’’ناپختہ انگریزی طریقہ کار‘‘ کو تنقید کا نشانہ بنایا اور دکھایا کہ کس طرح ڈارون کی خامیوں کی بنیاد وہ اثرات تھے جو آدم سمتھ او رمالتھس کی تعلیمات نے مرتب کیے تھے۔ کوئی مخصوص فلسفیانہ نقطہ نظر نہ رکھنے کے باعث ڈارون کا رائج الوقت نظریات سے متاثر ہونا لازمی امر تھا۔

وکٹورین عہد کے درمیانے طبقے سے تعلق رکھنے والے انگریز خواتین و حضرات اس پر فخر کرتے تھے کہ وہ عملی لوگ ہیں او رپیسہ بنانے اور اچھی زندگی گزارنے کے فن سے واقف ہیں۔ Survival of the Fittest (طاقت ور ترین کی بقا) کی اصطلاح کو فطری انتخاب کی وضاحت کے لیے بنیادی طور پر ڈارون نے نہیں بلکہ ہربرٹ سپنسر Herbert Spencer نے 1864ء میں استعمال کیا۔ ڈارون کے نزدیک ترقی کا وہ مفہوم نہیں تھا جو سپنسر کے ہاں تھا۔۔۔ انسانی ترقی جس کی بنیاد ’’کمزور‘‘ کے خاتمے پر تھی۔۔۔ اور ڈارون کا اس اصطلاح کو اپنانا کم عقلی پر محمول کیا جا سکتا ہے۔ اسی طرح Struggle for existence (بقا کی جنگ) کو ڈارون نے بطور استعارہ کے استعمال کیا تھا مگر قدامت پسندوں نے اسے مسخ کر دیا جو کہ ڈارون کے نظریات کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرتے تھے۔ سوشل ڈارونسٹون کے نزدیک مقبول ترین نعروں Survival of the Fittest اور Struggle for existence کا اطلاق معاشرے پر کرنے سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ فطرت اس امر کو یقینی بنانے کی کہ مسابقت کے حالات میں مقابلے کی بہترین صلاحیت رکھنے والے کو کامیابی حاصل ہو اور یہ عمل مسلسل بہترین پیدا کرنے کا باعث ہو گا۔

اس سے یہ نتیجہ نکلتا تھا کہ سماجی عوامل کی اصلاح کی تمام کوششیں ناقابل علاج مرض کا علاج کرنے کی کوشش کے مترادف تھیں کیونکہ وہ فطرت کی دانائی میں دخل اندازی کرتی تھیں اس لیے وہ محض خرابی کا موجب ہی بن سکتی تھی۔ جیسا کہ ڈوبزہنسکی Dobzhansky کہتا ہے:
’’کیونکہ فطرت کے دانت اور پنجے خون سے سرخ ہیں، اس لیے یہ ایک بہت بڑی غلطی ہو گی کہ ہم اپنے جذبات کو فطرت کے ارادوں میں دخل اندازی کی اجازت دیتے ہوئے غریبوں، کمزوروں اور عمومی طور سے نااہل لوگوں کی اس قدر امداد کریں کہ وہ بھی امیروں، طاقتور اور اہل لوگوں کی طرح آرام دہ زندگی گزارنے لگیں۔ آخرکار فطرت کی حکمرانی کے تحت عظیم ترین فوائد حاصل ہوں گے۔ ہربرٹ سپنسر نے کہا تھا۔ ’’ہم تمام فطرت میں ایک ایسے سخت نظم و ضبط کا نفوذ دیکھتے ہیں جو بہت زیادہ رحمدل ہونے کی خاطر تھوڑا سا ظالم ہے۔‘‘ 74؂
ڈارون اور مالتھس Darwin and Malthus
’’آبادی میں اضافے کی مزاحمت نہ کی جائے تو وہ جیومیٹری کی شرح سے بڑھتی ہے۔ روزی روٹی میں اضافہ محض حسابی شرح سے ہوتا ہے۔‘‘
(Thomas Robert Malthus, The Principle of Population.)

ہو سکتا ہے آدم سمتھ کی آزا دتجارت کی معاشیات نے ڈارون کو فطری انتخاب کے سلسلے میں بصیرت عطا کی ہو مگر جیسا کہ اینگلز تبصرہ کرتا ہے: ’’ڈارون نہیں جانتا تھا کہ اس نے بنی نوع انسان پر کتنا کڑوا طنز Satire تحریر کیا ہے خصوصاً اپنے ہم وطنوں پر جب اس نے یہ ثابت کیا کہ آزادانہ مقابلہ یعنی Struggle for existence جسے معاشیات دان اعلیٰ ترین تاریخی کامیابی سمجھتے ہیں جانوروں کی دنیا (Animal Kigndom) کی عمومی کیفیت ہے۔‘‘ 75؂ ڈارون کو مالتھس کے آبادی پر مضمون Essay on Population سے فکری تحریک ملی جو 1798ء میں لکھا گیا تھا۔ اس نظریئے کا مقصد یہ ثابت کرنا ہے کہ آبادی جیومیٹری کی شرح سے بڑھتی ہے اور غذا کی فراہمی محض حسابی شرح سے، اگر اسے قحط، جنگ، بیماری یا بندش کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اسے غلط ثابت کر دیا گیا۔
سپنسرکے برعکس ڈارون “Fitness” کو محض ایک دیئے گئے ماحول کے حوالے سے جانتا ہے نہ کہ کاملیت کے ایک حتمی پیمانے کے حوالے سے۔

حقیقت یہ ہے کہ دونوں اصطلاحات جن کے ساتھ ڈارون کا نام زیادہ تر جوڑا جاتا ہے یعنی ارتقاء اور طاقت اور ترین کی بقا “Survival of the Fittest” اس کی کتاب of Species The Origins کے ابتدائی ایڈیشنوں میں نہیں پائی جاتیں جہاں اس کے بنیادی تصورات کا اظہار قابل توارث تبدیلی کی صلاحیت Mutability اور فطری انتخاب کے الفاظ کے ذریعے کیا گیا ہے۔ 18جون 1862 ء کو مارکس نے اینگلز کو لکھا: میں نے ڈارون کو دوبارہ پڑھا ہے اور مجھے یہ دیکھ کر حیرانی ہوئی ہے جب وہ کہتا ہے کہ وہ مالتھس کا نظریہ پودوں اور جانوروں پر بھی لاگو کر رہا ہے حالانکہ مالتھس کا سارا زور ہی اس نقطے پر ہے کہ وہ اس نظریے کو پودوں اور جانوروں پر نہیں بلکہ صرف انسانوں پر لاگو کرتا ہے۔۔۔ اور جیومیٹری کی شرح کے ساتھ۔۔۔ پودوں او رجانوروں کے برعکس۔‘‘ اینگلز بھی ڈارون کی ناپختہ وضاحت یا زبان کو رد کرتے ہوئے کہتا ہے: ’’ڈارون کی غلطی یہ ہے کہ اس نے فطری انتخاب یا طاقتورترین کی بقاء میں دو بالکل الگ الگ چیزوں کو یکجا کر دیا ہے:
’’آبادی میں اضافے سے پید اہونے والے دباؤ کے تحت سب سے زیادہ طاقتور ہی اپنی بقاء کو قائم رکھ سکتے ہیں مگر کئی حوالوں سے کمزورترین بھی ایسا کرسکتے ہیں۔‘‘

-2 ’’تبدیل شدہ ماحول سے مطابقت پیدا کرنے کی بہتر صلاحیت کے باعث اس صورت میں بچ جانے والے ان ’’حالات‘‘ کے لیے زیادہ مناسب نہیں مگر مطابقت کا مطلب بحیثیت مجموعی ترقی بھی ہو سکتا ہے اور ارتقائے معکوس بھی (کیونکہ طفیلی زندگی سے مطابقت ہمیشہ ارتقائے معکوس ہوتی ہے)۔‘‘
’’بنیادی بات: نامیاتی ارتقاء میں آگے کی سمت بڑھتا ہوا ہر قدم بیک وقت ایک معکوس ارتقاء بھی ہے جو ارتقاء کوایک خاص سمت دیتا ہے اور باقی کئی سمتوں سے ارتقاء کو خارج کر دیتا ہے تاہم یہ ایک ’’بنیادی اصول‘‘ ہے۔‘‘ 76؂بقاء کی جدوجہد کا وجود بالکل ظاہر ہے۔۔۔ اگرچہ اس مفہوم میں نہیں جو سپنسر کے ہاں ہے۔۔۔ بلکہ جہاں فطرت میں خوراک وغیرہ کی کمی ہے یا کسی نسل کے ارکان کو شکاری جانوروں سے خطرہ درپیش ہے۔ اینگلز کہتا ہے: ’’ڈارون نے مالتھس کے نظریہ کو اتنی سادہ لوحی سے اور بلاتنقید قبول کرنے میں کتنی ہی بڑی غلطی کیوں نہ کی ہو تاہم کوئی بھی شخص پہلی نظر میں ہی بھانپ سکتا ہے کہ فطرت میں بقا کی جدوجہد کو سمجھنے کے لیے مالتھس سے چشمہ مستعار لینے کی کوئی حاجت نہیں۔۔۔ جراثیموں کی اس ان گنت تعداد جنہیں فطر ات نے بے دریغ طریقے سے پیدا کرتی ہے اور جراثیموں کی اس معمولی تعداد کے درمیان تضاد جو بلوغت کوپہنچتے ہیں، یہ تضاد حقیقت میں زیادہ تر بقا کی جدوجہد کے ذریعے ہی حل ہوتا ہے۔۔۔ جو اکثر اوقات انتہائی بے رحمانہ ہوتا ہے۔‘‘ 77؂

بہت سی نسلیں اپنی بقا کی شرح کو زیادہ سے زیادہ کرنے کے لیے بہت سے بیج یا انڈے پیدا کرتی ہیں، بالخصوص اپنی زندگی کی ابتدائی سالوں میں۔ دوسری طرف نسل انسانی نے اپنی بقاء کے لیے اور راستے اختیار کیے ہیں کیونکہ اس کی نشوونما بہت سست رفتاری سے ہوتی ہے اور چند ایک بچوں کی پرورش اور نگہداشت پر بہت سی توانائی اور کوشش صرف کرنا پڑتی ہے جو بڑے ہونے میں کافی وقت لیتے ہیں۔ ہماری برتری کی وجہ ہمارا مغز اور اس کے سیکھنے اور عمومی اصول وضع کرنے کی صلاحیت ہے۔ ہماری آبادی کا پھیلاؤ ہمارے بچوں کی بڑی تعداد میں ہلاکت سے کنٹرول نہیں ہوتا اور اس وجہ سے اس کا مقابلہ بھونڈے انداز میں دوسری انواع سے نہیں کیا جا سکتا۔
مالتھس کے لیے حتمی جواب تاریخ خود فراہم کرتی ہے۔ اے این وائٹ ہیڈ A. N. Whithead نے اس طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ دسویں صدی عیسوی سے لے کر بیسویں صدی عیسوی تک کے عرصے میں یورپ میں بڑھتی ہوئی آبادی کے ساتھ ساتھ لوگوں کے عمومی معیار زندگی میں بھی بہتری آئی ہے۔ اسے کسی بھی طور مالتھس کے نظریے سے ہم آہنگ نہیں کہا جا سکتا خواہ ہم ’’رکاوٹوں‘‘ (Checks) کے سوال کو ’’یقینی نتیجے میں تاخیر‘‘ کے ذریعے کے طور پر متعارف کروا بھی دیں۔ کسی تھیوری کے صحیح یا غلط ثابت ہونے کے لیے ایک ہزار سال کا عرصہ کافی ہونا چاہیے۔ جیسا کہ وائٹ ہیڈ کہتا ہے: ’’سیدھی سادی سچائی یہ ہے کہ اس عرصے کے دوران اور اس علاقے (یورپ) میں نام نہاد رکاوٹیں ایسے تھی کہ مالتھس کا اصول ایک امکان کی نمائندگی کرتا تھا جو’’نہ تو حقیقت کا روپ دھار سکا اور نہ ہی اس کی کوئی اہمیت تھی۔‘‘ 78؂

وائٹ ہیڈکہتا ہے کہ مبینہ رکاوٹیں آبادی کے گنجان ہونے سے بھی متناسب نہیں تھیں۔ مثال کے طو رپروبائیں زیادہ تر آبادی کے حجم کے نتیجے میں نہیں بلکہ گندگی (Bad sanitation) کی وجہ سے پھیلتی تھیں۔ اس کا علاج birth control نہیں بلکہ صابن، پانی اور نکاسی آب کا مناسب بندوبست ہوتا۔ تیس سالہ جنگ کے باعث جرمنی کی آبادی آدھی رہ گئی۔۔۔ آبادی میں اضافے پر بڑا شدید رکاوٹ پیدا ہو گئی۔ جنگ کی بہت سی وجوہات ہوتی ہیں مگر ضرورت سے بڑھی ہوئی آبادی کا ذکر ان میں کبھی نہیں پایا جاتا نہ ہی ہمارے علم کے مطابق ان دوسری جنگوں میں اس عنصر نے کوئی قابل ذکر کردار ادا کیا ہے جن سے یورپ کی تاریخ بھری پڑی ہے۔ مثال کے طور پر قرون وسطیٰ کے آخر میں جرمنی، فرانس اور انگلینڈ میں بپا ہونے والی کسانوں کی بغاوتیں زیادہ آبادی کے باعث نہیں تھیں۔ سچ تو یہ ہے کہ یہ بغاوتیں عین اس وقت بپا ہوئیں جب آبادی کا ایک بڑا حصہ ’’کالی موت‘‘ (Black Death) کا شکار ہو چکا تھا۔

سولہویں صدی کے شروع میں فلانڈرز Flanders میں آبادی گنجان تھی پھر بھی یہاں کا معیار زندگی جرمنی کے مقابلے میں بہت اونچا تھا جہاں کسان کی غربت نے ’’کسانوں کی جنگ‘‘ میں اہم کردار اد اکیا۔
مالتھس کے نظریات کی سائنسی نقطہ نظر سے قطعاً کوئی وقعت نہیں لیکن نام نہاد منڈی کی پالیسیوں کے انتہائی غیرانسانی نفاذ کے لیے انہیں لگاتار ایک بہانے کے طور پر استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ 1840ء کی دہائی میں آئرلینڈ میں پڑنے والے آلوؤں کے قحط کے دوران جس میں آئرلینڈ کی آبادی ساٹھ ملین سے کم ہو کر ساڑھے چار ملین رہ گئی تھی آئرلینڈ کے انگریز زمیندار مسلسل گندم برآمد کرتے رہے۔ آزاد منڈی کے سنہری اصولوں پر سختی سے کاربند رہتے ہوئے لندن کی ’’لبرل‘‘ حکومت نے کوئی بھی ایسا قدم اٹھانے سے انکار کر دیا جو آزاد تجارت یا قیمتوں پر اثرانداز ہو سکتا اور آئرلینڈ کے لیے سستی مکئی کی فراہمی منقطع کر کے لاکھوں انسانوں کوفاقہ کشی سے مرنے کے لیے چھوڑدیا۔ انگریز حکومت کے Malthusian Principles کا دفاع Privy Council کے سیکرٹری چارلس گرینولے Charles Grenville نے کچھ ان الفاظ میں کیا:
’’ آئرلینڈ کی حالت انتہا درجے افسوسناک ہے او رمایوسی پیدا کرنے کے لیے کافی ہے: ایسی عام بدنظمی اور دل شکستگی، ایک ایسی قوم جس میں ماسوائے چند استثناعات کے، ضد اور کاہلی کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے، ناعاقبت اندیش اور وحشی۔

اوپر سے لے کر نیچے تک سب کی خواہش ہے کہ کم سے کم کام کر کے جس قدر زیادہ ہو سکے حاصل کر لیں، ان میں اٹھ کھڑے ہو کر اپنے لیے کچھ کرنے کا جذبہ ہی نہیں، دستگیری کے لیے ہمارے ملک کی طرف دیکھتے ہیں اور جو امداد انہیں حاصل ہوتی ہے اس پر ناک بھوں چڑھاتے ہیں، عوام الناس اجڈ، گنوار، وحشی، دھوکے باز اور کاہل الوجود ہیں۔تمام صورت احوال متضاد اور نامعقول ہے۔ اگلے سال تک قحط کے جاری رہنے کے خطرے کے باوجود وہ زمینوں پر کاشت نہیں کر رہے او روہ ہل اوربیج کے بغیر بنجر پڑی ہیں۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ لوگ اتنے خوشحال کبھی نہیں رہے جتنے وہ قحط کے اس سال کے دوران رہے ہیں۔ کوئی بھی کرایہ ادا نہیں کر رہا اور بینک بچتوں سے بھرے پڑے ہیں۔ ہماری امدادی رقوم سے وہ غلے کی بجائے اسلحہ خریدتے ہیں اور پھر ہمارے ان افسران کو گولی مار دیتے ہیں جو وہاں امداد کی تقسیم کی نگرانی کی غرض سے بھیجے جاتے ہیں۔ زمینداروں کو کام کاج کے لیے مزدور نہیں ملتے جبکہ لوگ اوور سیروں Over seers کو ملازمت کے حصول کے لیے گھیرے رہتے ہیں اورہٹے کٹے فقیر جو خود کو محتاج بتاتے ہیں مگر ان کی جیبوں سے پکڑے جانے پر بڑی بڑی رقوم نکلتی ہیں۔ 28 مئی 1846ء ‘‘

حالات کی تقسیم تصویر   کشی ڈاکٹر بیورٹ Doctor Burrit نے کی ہے جو یہ دیکھ کر دہشت زدہ ہو گیا تھا کہ سڑکوں پر ایسے لوگ کام کر رہے ہیں جن کے اعضاء سوج کر اپنے عام حجم سے دوگنا ہو چکے تھے۔ ایک بارہ سالہ بچے کا جسم ’’سوج کر اپنے عام سائز سے تقریباً تین گنا ہو چکا تھا اور ا س سے وہ کپڑے پھٹ گئے تھے جن سے اس نے تن پوشی کی ہوئی تھی۔‘‘ سکل Skull نامی ایک جگہ کے قریب ’’ہم پانچ سو لوگوں کے مجمع کے پا س سے گزرے جو آدھے ننگے تھے اور فاقہ کشی کا شکار تھے۔ وہ شوربے کی تقسیم کے انتظار میں تھے۔ ہمیں ان کی طرف متوجہ کیا گیا اور جب میں رحم اور حیرت سے اس افسوسناک منظر کو دیکھ رہا تھا تو میرا رہنما جو کہ East skull کا رہنے والا ڈاکٹری کے شعبے سے متعلق معززتھا مجھ سے کہنے لگا: ’’جن لوگوں کو تم اس وقت دیکھ رہے ہو ان میں سے کوئی بھی تین ہفتے سے زیادہ زندہ نہیں رہے گا: یہ ناممکن ہے ‘‘ ۔۔۔ یہاں روزانہ اموت کی شرح چالیس سے پچاس تک ہے۔ ان میں سے بمشکل بیس خوش قسمتوں کو دفن ہونا نصیب ہوتا ہے۔ لوگ خود کو اپنے ڈربوں (Cabins) کے اندر بند کر لیتے ہیں تاکہ وہ اپنے بچوں کے ہمراہ موت کو گلے لگا سکیں اور راہ گیر یہ منظر نہ دیکھ پائیں۔‘‘ 79؂

کوئی وجہ نہیں تھی کہ یہ لوگ موت کا شکار ہوجاتے اور آج بھی کوئی وجہ نہیں کہ لاکھوں افراد فاقہ کشی کا شکار ہوں جبکہ یورپ اور امریکہ میں کسانوں کو اس غرض سے پیسے دیئے جاتے ہیں کہ وہ غلہ نہ اگائیں۔ یہ لوگ فطرت کے قوانین کا نہیں بلکہ منڈی کے قوانین کا شکار ہیں۔
شروع ہی سے مارکس اور اینگلز نے مالتھس کے غلط نظریات کی مذمت کی تھی۔ 29 مارچ 1865ء کو لانگے کے نام خط میں “Parson Malthus” کے دلائل کا جواب دیتے ہوئے اینگلز نے لکھا: ’’آبادی کا دباؤ روزی کے ذرائع پر نہیں بلکہ روزگار کے ذرائع پر ہے: انسان اس سے کہیں زیادہ تیزرفتاری سے افزائش نسل کر سکتا ہے جس قدر جدید بورژوازی کو درکار ہو سکتی ہے۔ ہمارے لیے بورژوا معاشرے کو ترقی کی راہ میں حائل رکاوٹ خیال کرنے کی یہ ایک اور وجہ ہے اور اس رکاوٹ کوضرور ختم ہونا چاہیے۔‘‘
مشینری، نئے سائنسی طریقہ ہائے کار اور کھادوں کے متعارف ہونے کی وجہ سے دنیا کی غذائی پیداوار با آسانی آبادی میں اضافے کا ساتھ دے سکتی ہے۔ زرعی اجناس کی پیداوار میں زبردست اضافہ ہو رہا ہے جبکہ اس شعبے میں کام کرنے والی آبادی کا تناسب مسلسل کم ہوتا جاتا رہاہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں جو زرعی کارکردگی حاصل کی جا چکی ہے اگر اس کا دائرہ ساری دنیا کی زراعت تک پھیلا دیا جائے تو پیداوار میں زبردست اضافہ ہو سکتا ہے۔ اس وقت سمندروں سے ان کی پیداواری گنجائش کے ایک معمولی حصے سے استفادہ کیا جا رہا ہے۔ بھوک اور فاقہ کشی کا وجود بنیادی طور پر اس لیے باقی ہے کہ زرعی اجارہ داریاں غذا کی قیمتوں کو اونچا رکھنے اور منافع کی شرح برقرار رکھنے کی ضرورت کے تحت اضافی غذائی پیداوار (Food Supplies) کو تباہ کر دیتی ہیں۔

نام نہاد تیسری دنیا میں پھیلی ہوئی بھوک ’’فطری انتخاب‘‘ کی پیداوار نہیں بلکہ یقینی طور پر انسان کا بنایا ہوا مسئلہ ہے۔ یہ طاقتور ترین کی بقاء نہیں بلکہ مٹھی بھر بڑے بینکوں اور اجارہ داریوں کی منافع کے لیے حرص ہے جو کروڑوں انسانوں کو انتہا درجے غربت اور حقیقی فاقہ کشی کے منہ میں دھکیل دیتی ہے۔ محض جمع شدہ قرضہ جات پر سود کی رقم واپس کرنے کے لیے غریب ترین ممالک برآمد کے لیے نقد آور فصلیں اگانے کے لیے مجبور ہیں جن میں چاول، Cocoa اور دوسری غذائی اجناس شامل ہیں جو ان کے اپنے عوام کی خوراک کے طور پر استعمال ہو سکتی ہیں۔
نام نہاد تیسری دنیا میں پھیلی ہوئی بھوک ’’فطری انتخاب‘‘ کی پیداوار نہیں بلکہ یقینی طور پر انسان کا بنایا ہوا مسئلہ ہے۔ یہ طاقتور ترین کی بقاء نہیں بلکہ مٹھی بھر بڑے بینکوں اور اجارہ داریوں کی منافع کے لیے حرص ہے جو کروڑوں انسانوں کو انتہا درجے غربت اور حقیقی فاقہ کشی کے منہ میں دھکیل دیتی ہے۔ محض جمع شدہ قرضہ جات پر سود کی رقم واپس کرنے کے لیے غریب ترین ممالک برآمد کے لیے نقد آور فصلیں اگانے کے لیے مجبور ہیں جن میں چاول، Cocoa اور دوسری غذائی اجناس شامل ہیں جو ان کے اپنے عوام کی خوراک کے طور پر استعمال ہو سکتی ہیں۔

سوشل ڈارونزم Social Darwinism
اگرچہ مارکس اور اینگلز ، ڈارون کے بہت مداح تھے مگر ایسا نہیں تھا کہ وہ اس کے نظریات پر تنقید نہ کرتے ہوں۔ اینگلز سمجھتا تھا کہ بعد میں ڈارون کے خیالات کو زیادہ خالص بنایا جائے گا اور ترقی دی جائے گی۔۔۔ جینیات کے فروغ سے اس حقیقت کی تصدیق ہو گئی ہے۔ نومبر 1875ء میں اس نے لیورو Lavrov کو لکھا: ’’ڈارون کے نظریے میں سے میں نظریہ ارتقاء کو تسلیم کرتا ہوں لیکن ڈارون کا ثابت کرنے کا طریقہ (زندگی کے لیے جدوجہد، فطری انتخاب) میرے خیال میں محض ایک نو دریافت شدہ حقیقت کے بارے میں عبوری اور نامکمل اظہار ہے۔‘‘ اور پھر اینٹی ڈیوہرنگ میں لکھتا ہے: ’’نظریہ ارتقاء بذات خود ابھی بڑے ابتدائی مراحل میں ہے اس لیے اس میں کوئی شبہ نہیں ہو سکتا کہ مزید تحقیق سے موجودہ تصورات میں رد وبدل ہو گا، بشمول ڈارون کے تصورات کے جو نسلوں کے ارتقائی عمل سے متعلق ہیں۔
اینگلز نے ڈارون کے یکطرفہ پن اور بعد میں سامنے آنے والے سوشل ڈارونزم کو بھی کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔ اینگلز بیان کرتا ہے: ’’ابھی ڈارون کی بمشکل پہچان ہی ہوئی تھی کہ انہی لوگوں کو چہار سو جدوجہد کے علاوہ کچھ سجھائی نہ دیتا تھا۔ دونوں نظروں کا بہت محدود سطح پر جواز بنتا ہے مگر دونوں یکساں طور پر یک طرفہ اور متعصب ہیں۔

اس لیے فطرت کے حوالے سے بھی ا س کی اجازت نہیں دی جا سکتی یکطرفہ طور پر اپنے پرچموں پر محض ’’جدوجہد‘‘ لکھ لیا جائے لیکن یہ خواہش قطعاً بچگانہ ہے کہ تاریخی ارتقاء اور پیچیدگی کی تمام تر دولت کو زندگی کی جدوجہد کی حقیر اور یکطرفہ اصطلاح میں بند کر دیا جائے۔ یہ جو کچھ بیان کرتی ہے وہ کچھ نہ کہنے سے بھی کم ہے۔‘‘ پھر آگے چل کر وہ اس غلطی کی بنیادوں کی وضاحت کرتا ہے۔ ’’ڈارون کی زندگی کی جدوجہد کا سارا نظریہ ہونز کے نظریے کی(ہر ایک کی سب کے خلاف جنگ) (Bellism Omnium Contraomnes) مسابقت کی بورژوا معاشی نظریے اور مالتھس کے آبادی کے نظریے پر قائم ہے جسے معاشرے کی بجائے نامیاتی فطرت پر نافذ کر دیا گیا ہے جب ایک بار یہ کرتب کر لیا جائے (جس کا غیرمشروط طو رپر درست ثابت ہونا، خاص طور سے۔ مالتھس کے نظریے کے حوالے سے ابھی بہت مشکوک ہے) تو ان نظریات کو فطرت کی تاریخ سے دوبارہ معاشرے کی تاریخ پر نافذ کر دینا بہت ہی آسان ہے اور پھر یہ کہنا بہت بڑی سادہ لوحی ہے کہ اس طرح یہ مفروضات معاشرے کے ابدی فطری قوانین کے طور پر ثابت ہو چکے ہیں۔‘‘

سوشل ڈارونسٹ جانوروں کی دنیا کے ساتھ جو مماثلت دکھاتے تھے وہ اس وقت کے غالب نسل پرستانہ دلائل سے ہم آہنگ تھے جن کی رو سے انسانی کردار کی بنیاد اس کے کاسہ سر کی پیمائش پر تھی۔ ڈی جی برنٹن D. G. Brinton کے نزدیک ’’یورپی یا سفیدفام نسل سرفہرست تھی اور افریقی یا نیگرو سب سے نیچے‘‘ Sesare Lombroso -(1890) نامی ایک اطالوی ڈاکٹر نے 1876ء میں یہ دلیل پیش کی کہ پیدائشی مجرم یقیناًبن مانس ہیں، ایک ارتقائی مراجعت۔ یہ انسانی رویے کوپیدائشی حیاتیات کی اصطلاح میں واضح کرنے کی خواہش کا حصہ تھا۔۔۔ ایک ایسا رحجان جس کا مشاہدہ آج بھی کیا جا سکتا ہے۔ بقاء کی جدوجہد کو تمام جانوروں کی جبلت خیال کیا جاتا تھا جن میں انسان بھی شامل ہیں اور اس کو جنگ، قبضے، منافع خوری، سامراجیت، نسل پرستی اور سرمایہ دارنہ نظام کی طبقاتی ساخت کے دفاع میں جواز کے طور پر پیش کیا جاتا تھا۔ یہ سماجی حیاتیات کی غیرشائستہ اقسام اور (Naked Ape) ننگے بن مانس کے نظریے کی اولین شکل ہے۔ کیا یہ ڈبلیو ایس گلبرٹ W.S.Gilbert ہی نہیں تھا جس کا طنزیہ دعویٰ تھا:
’’ڈارون کا انسان اگرچہ شائستہ ہے مگر زیادہ سے زیادہ ایک داڑھی منڈا بندر ہے!‘‘

ڈارون اس بات پر زور دیتا تھا کہ ’’فطری انتخاب تبدیلیوں کا سب سے بڑا ذریعہ تھا مگر یہ واحد ذریعہ نہیں تھا۔‘‘ اس نے وضاحت کی کہ ایک جزو میں مطابقتی تبدیلی کے باعث بعض ایسے خواص میں تبدیلیاں واقع ہوسکتی ہیں جن کا بقا سے کوئی تعلق نہ ہو تاہم زندگی کے خیال پرستانہ تصور کے برخلاف جس کا سب سے اعلیٰ نمونہ تخلیق پرست ہیں، ڈارون کے پیروکاروں نے سائنسی انداز میں واضح کیا کہ کرہ ارض پر حیات کا ارتقاء کس طرح ہوا۔ یہ ایک فطری عمل تھا جس کی وضاحت حیاتیات کے اصولوں اور عضویوں کے اپنے گردوپیش کے ماحول سے باہمی ردعمل کے ذریعے ہو سکتی ہے۔ ڈارون سے علیحدہ ایک دوسرے فطرت پرست الفریڈ رسل والس Alfred Russel Wallace نے بھی فطری انتخاب کی تھیوری کو ترتیب دیا تھا۔ اسی وجہ سے ڈارون نے بیس سال کی تاخیر کے بعد اپنی کتاب کی اشاعت کا فیصلہ کیا تھا تاہم ڈارون اور والس میں لازمی فرق یہ تھا کہ والس اس بات پر یقین رکھتا تھا کہ تمام ارتقائی تغیر و تبدل کا تعین محض فطری انتخاب کے ذریعے ہوتا ہے مگر اس کٹر انتخاب پرست والس نے بالآخر فطری انتخاب کو اس وقت مسترد کردیا جب بات مغز اور فکری صلاحیتوں تک پہنچی، ا س کے بقول خدا نے اس لاثانی مخلوق کی تعمیر کے سلسلے میں دخل اندازی کی تھی!

ڈارون نے واضح خیال کہ حیات کا ارتقاء اپنی خوبصورتی اور تمام تر تنوع کے ساتھ بذات خود حیات کی تجدید نو کا لازمی نتیجہ تھا۔ اول یہ کہ ہر جاندار اپنے جیسے جاندار کو ہی پیدا کرتا ہے۔ دوئم یہ کہ تمام جانداروں میں یہ رحجان پایا جاتا ہے کہ وہ اس سے زیادہ تعداد میں بچے پیدا کرتے ہیں جتنے زندہ بچتے اور نسل کو مزید آگے بڑھاتے ہیں۔ ایسے بچوں کی بقا کے امکانات سب سے زیادہ ہوتے ہیں جن میں گردوپیش سے مطابقت پیدا کرنے کی بہتر صلاحیت موجود ہوتی ہے اور پھر ان کی اگلی نسل میں بھی ان جیسی خوبیاں ہوں گی۔ یہ گروہ ایک عرصے میں رفتہ رفتہ اپنے ماحول سے مطابقت پیدا کرلیں گے۔ دوسرے الفاظ میں (Fittest) یعنی اہل ترین باقی بچتے ہیں او راپنے بہتر خصائص کوگروہوں میں پھیلاتے ہیں۔ فطرت کے اندر ڈارون کا ارتقاء بدلتے ہوئے ماحول کا ایک جواب ہے۔ فطرت ان جانداروں کا چناؤ کرتی ہے جن میں ایسی خوبیاں سب سے زیادہ ہوتی ہیں جو بدلتے ہوئے گردوپیش سے مطابقت پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ گولڈ کہتا ہے: ’’فطری انتخاب کے ذریعے ارتقاء اس سے زیادہ کچھ نہیں کہ یہ ان بدلتے ہوئے حالات کا تسلسل ہے جن میں ایسے جاندار باقی بچے جن کی ساخت ان حالات میں زندہ رہنے کے لیے موزوں تھی۔‘‘ لہٰذا فطری انتخاب ارتقائی تبدیلی کاتعین کرتا ہے۔ ڈارون کی اس دریافت کو لیون ٹراٹسکی نے یوں بیان کیا تھا ’’نامیاتی مادے کے سارے شعبے میں یہ جدلیات کی سب سے بڑی فتح ہے۔‘‘

SHOPPING

مارکسی فلسفہ اور جدید سائنس سے اقتباس!

SHOPPING

مہمان تحریر
مہمان تحریر
وہ تحاریر جو ہمیں نا بھیجی جائیں مگر اچھی ہوں، مہمان تحریر کے طور پہ لگائی جاتی ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *