بادشاہی نظام میں مشترکہ مصنف کا تصور/قاسم یعقوب

مشترکہ مصنف ہونا یا Combined Authorship کے بارے میں کوئی خاص نہیں لکھا گیا۔ کچھ دن پہلے میں دوستوں میں کمبائنڈ آتھرشپ پر گفتگو کر رہا تھا کہ ایسے تمام شاہکار جن کا کوئی مصنف یا موجد نہیں، تاریخ کی کیسی سفاک مثالیں ہیں۔ جیسے ہمیں یہ علم نہیں کہ پہیہ کس دماغ کی ایجاد ہے یا نلکا کس تصور کا شاہکار ہے؟ ہو سکتا ہے کہ یہ کسی ایک دماغ کی تصور نہ ہو۔ کوئی بھی ایجاد ، کتاب یا نظریہ کسی ایک دماغ کی ملکیت ہوتا بھی نہیں۔ اس میں بہت سے اذہان مل کر حصہ ڈالتے ہیں۔ البتہ بڑے تخلیقی کارناموں کے پیچھے اشیا کو جوڑنے اور انھیں Turning شکل دینے میں ایک آدھ دماغ ہی ہوتا ہے جو نئے تصورات کو سماج میں نئی جگہ فراہم کر نے میں مدد دیتاہے۔
مشترکہ مصنف کے تصور سے مراد ہے کہ کسی تحریر، ایجاد یا کسی بھی طرح کی تخلیقی کارگزاری میں ایک سے زیادہ مصنفین ہوں۔ یعنی بہت سوں نے مل کر ایک مواد تیار کیا ہو۔کسی کتاب، تصور یا ایجاد میں ایک سے زیادہ مصنفین نے شرکت کی ہوں۔ مگر اس میں بھی دو طرح کے شریک مصنفین ہو سکتے ہیں۔ایک وہ جو کمبائنڈ آرتھر شپ میں شریک تو تھے مگر کسی کا بھی نام سامنے نہیں آیا جب کہ دوسری طرح کے وہ مصنفین یا موجد جو شریک یا کمبائنڈ ہونے کے باوجود اپنے نام کے ساتھ اُس ایجاد یا تحریر سے منسلک رہے۔
ہم یہاں مشترکہ اور گم نام مصنفین کی بات کر رہے ہیں جو کسی تخلیق میں شریک تو ہوئے مگر تخلیق کا کوئی موجد یا مصنف تاریخ میں محفوظ نہ رہ سکا۔ازمنہ قدیم سے ایسی ہزاروں مثالیں دی جا سکتی ہیں ، کیوں کہ وہ زمانہ ہی مشترکہ مصنف کا تھا۔ کوئی بھی چیز کوئی ایک دماغ نہیں بناتاتھا اس میں بہت سے لوگ شریک ہوتے مگر ایک دور وہ بھی آیا جب طاقت کے بل بوتے پر تخلیقات سے مصنفین یا کسی موجد کا نام ہٹا دیا جاتا۔ یہ کام بادشاہوں کے ادوار میں ہوتا۔بادشاہت کبھی قبول نہ کرتی کہ کوئی واحدشخص کسی ایجاد کا موجد یا مصنف شہرت حاصل کرے۔کیا آپ جانتے ہیں کہ الف لیلہ کا مصنف کون ہے حالاں کہ وہ ہارون الریشد کے دربار کا لازمی جزو سمجھا جاتا تھا۔ آخر کوئی تو کہانی سوچتا ہوگا اور اس میں درباری رنگ بھرتا ہوگا۔(شاید وہ ایک سے زیادہ ہوں) ہارون الرشید یاد رہ گیا اور لکھاری ختم ہو گئے۔کہتے ہیں کہ عباسی خلافت میں یونانی فلسفہ اور ہندی ریاضی کے عربی تراجم اکثر ’’کتب الدیار العباسیہ‘‘یا’’تالیف فی ظل امیرالمؤمنین‘‘ کے نام سے جاری ہوتے۔یہ بادشاہوں کی طاقت تھی یا مجبوری، یہ الگ سے موضوع ہے مگر اسے جبراً نہیں بلکہ ثقافتی طور پر رائج کیا گیا۔ یعنی ’’گم ناک آرتھرشپ‘‘ کا تصور پیدا کیا گیا۔
اکبر اور جہانگیر کے دربار میں بڑی بڑی سلطنتی تواریخ جیسے اکبرنامہ یا جہانگیرنامہ کی تالیف میں کئی لکھاری شامل تھے، مگر اصل کتاب بادشاہ کے نام سے منسوب رہی۔تاج محل کے معمار کون تھے؟ چلیں مزدوری کی سطح پر نہ سہی کم از کم اس کا ڈیزائن یا تخلیقی خاکہ بنانے والے نام تو روشن رہتا مگر ہم جانتے ہیں کہ وجہ صرف یہ تھی کہ شاہی تعمیرات کو فرد کی تخلیقی شناخت سے زیادہ بادشاہ کی شان و عظمت سے منسوب کیا جائے اور یہ پیغام دیا جائے کہ یہ سب کچھ سلطانی ذہانت اور وسائل کا نتیجہ ہے۔

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply