پاکستان کی حکمران اشرافیہ—جس میں فوجی قیادت اور سول بیوروکریسی یکساں طور پر شامل رہی—نے سندھ کے شہری مراکز، بالخصوص کراچی، میں آباد مہاجر برادری کے اُس تعلیم یافتہ متوسط طبقے کو خصوصی ہدف بنایا جو جمہوری اقدار اور ترقی پسند رجحانات کا حامل تھا۔ اس طبقے کی فکری و سیاسی قوت کو زائل کرنے کے لیے مہاجر کمیونٹی میں نسلی و ثقافتی برتری کے رجحان کو منظم طور پر پروان چڑھایا گیا، اور انہیں سندھی زبان و ثقافت سے شعوری طور پر دور رکھا گیا۔
مزید برآں، اس برادری کی ابھرتی ہوئی بورژوازی اور پیٹی بورژوازی کی اکثریت—جو انھی حکمران طبقات یا ان کے حلیف بیوروکریٹک ڈھانچے سے منسلک تھی—کو رجعت پسند بنانے کے لیے مذہب کی قدامت پسند، بنیاد پرست، مسلکی اور فرقہ وارانہ تعبیرات کے اثر میں جکڑ دیا گیا۔ اس عمل کا مقصد انہیں جمہوری شعور سے محروم رکھنا اور نسلی و ثقافتی نوآبادیاتی ذہنیت کے دائرے میں محدود کرنا تھا۔
اسی حکمتِ عملی کے تسلسل میں، مہاجر کمیونٹی کے تاجر طبقے اور نچلے متوسط طبقے کی مختلف پرتوں میں جماعتِ اسلامی اور مسلکی بنیادوں پر قائم سیاسی جماعتوں کی افزائش کے لیے سازگار فضا پیدا کی گئی۔ اردو زبان کو ایک استعماری لسانیاتی آلے کے طور پر اور مذہب کو رجعت پرستی کے فروغ کے ہتھیار کے طور پر برتا گیا۔ اس لسانی و مذہبی حکمتِ عملی کے ذریعے سندھ، مشرقی بنگال، بلوچستان اور شمال مغربی سرحدی صوبے میں ابھرنے والی جمہوری و سیاسی تحریکوں کو کمزور کرنے اور ان کا راستہ روکنے کے لیے مہاجر کمیونٹی کی پیٹی بورژوازی پرتوں کو ایک موثر آلہ کار بنایا گیا۔
پاکستان کے سیاسی و بیوروکریٹک ڈھانچے نے مہاجر کمیونٹی کے اندر سے جنم لینے والی ترقی پسند، جمہوریت پسند اور بائیں بازو سے وابستہ شخصیات—جن میں نمایاں رہنما، سیاسی کارکن، ٹریڈ یونین ورکرز، عوامی دانشور، شاعر اور ادیب شامل تھے—کو نشانہ بنایا۔ ان کے خلاف ریاستی جبر و استبداد کے ہر ممکن ہتھکنڈے استعمال کیے گئے اور انہیں مہاجر کمیونٹی کی پیٹی بورژوازی پرتوں میں سرگرم ہونے سے روکنے کے لیے بھرپور قوت صرف کی گئی۔ اس مقصد کے لیے نہ صرف جبر کی ریاستی مشینری بلکہ ریاست کے نظریاتی اداروں کی تمام تر طاقت کو اس کمیونٹی کی پیٹی بورژوازی پرتوں کو رجعت پرست بنانے پر مرکوز کر دیا گیا، جبکہ اس کمیونٹی کے محنت کش طبقے میں نسلی و ثقافتی تعصب کے بیج بونے کے لیے کوئی کسر باقی نہ چھوڑی گئی۔
پاکستان کے قیام کے فوراً بعد، مہاجر کمیونٹی کی پیٹی بورژوازی پرتوں میں فرقہ وارانہ کشیدگی پیدا کرنے کے لیے 1950ء اور 1960ء کی دہائی میں شیعہ-سنّی تنازع اور خود سنّی مسلمانوں کے درمیان دیوبندی-بریلوی تقسیم کو منظم طور پر تشدد اور فساد بھڑکانے کے لیے استعمال کیا گیا۔ ان دو عشروں میں، آل انڈیا مسلم لیگ کی وہ اشرافیہ—جو جاگیردارانہ پس منظر رکھتی تھی—نے اپنے ہم خیال اور حلیف مولویوں کے ذریعے شیعہ-سنّی اختلافات کو مزید گہرا کیا۔ اس منصوبے میں مولانا شبیر احمد عثمانی (دیوبندی)، مولانا عبدالحامد بدایونی (بریلوی)، مولانا عبدالعلیم صدیقی (بریلوی، والد مولانا شاہ احمد نورانی)، مفتی محمد شفیع (دیوبندی، بانی دارالعلوم کراچی)، مولانا عبدالشکور فاروقی لکھنوی (دیوبندی، لکھنؤ کے شیعہ-سنّی فسادات کے اہم کردار)، مولانا رشید ترابی اور حسن چارچوی (شیعہ علما) لیڈنگ ہیومن ایجنٹس کے طور پر سامنے آئے۔
راجا آف محمود آباد، نوابزادہ لیاقت علی خان، نواب یامین کے علاوہ یو پی اور سی پی کے کئی نواب، جاگیردار، اور خوجہ، بوہری، میمن، چینوٹی پس منظر رکھنے والے سرمایہ داروں کی ایک بڑی تعداد نے فرقہ وارانہ تعصبات اور کشیدگی کو ہوا دینے کے لیے مہاجر کمیونٹی کی پیٹی بورژوازی دانشورانہ پرت کو آلہ کار بنایا۔ یہ تمام عناصر یکجا ہو کر اپنی رجعت پسند نظریاتی توپوں کا رخ مہاجر کمیونٹی کے اندر ابھرتے ہوئے ترقی پسند، جمہوریت پسند اور بائیں بازو کے رجحان کو بدنام کرنے اور اسے کچلنے پر مرکوز کیے ہوئے تھے۔
پاکستان کے قیام کے بعد ابتدائی دو عشروں میں مہاجر کمیونٹی کی بورژوازی کی اکثریت کا تعلق شیعہ فرقے سے تھا۔ پیٹی بورژوازی کی پڑھی لکھی پرت میں بھی شیعہ برادری سے تعلق رکھنے والے افراد تعلیمی اعتبار سے کہیں زیادہ قابلیت اور اہلیت کے حامل تھے، اور ان کا سول بیوروکریسی، ریاستی اداروں اور مقامی سول ایڈمنسٹریشن میں بھی نمایاں حصہ تھا۔ اس علمی و انتظامی غلبے سے پیدا ہونے والے عدم توازن نے رفتہ رفتہ “شیعہ-سنّی” منافرت کی شکل اختیار کر لی۔
اسی تناظر میں، مہاجر مڈل کلاس کے لیے قائم کی جانے والی دو بڑی رہائشی اسکیموں—پی آئی بی کالونی اور ناظم آباد کالونی—کے حوالے سے سنّی (دیوبندی اور بریلوی) پیٹی بورژوازی پرتوں میں یہ تاثر موجود رہا کہ مرکزی حکومت کی بیوروکریسی اور کراچی کی سول ایڈمنسٹریشن میں کلیدی عہدوں پر فائز شیعہ مہاجر افسران، شیعہ برادری کو آبادکاری اور سرکاری ملازمتوں میں غیر منصفانہ ترجیح دے رہے ہیں۔ راجا آف محمود آباد کو کلیم کے تحت کراچی میں جو زمین ملی، اس کے ایک بڑے حصے پر “محمود آباد کالونی” کے نام سے رہائشی منصوبہ قائم کیا گیا۔ یوں، پاکستان کے قیام کے بعد
ابتدائی تین عشروں میں مہاجر کمیونٹی کے اندر فرقہ وارانہ تضادات تیزی سے پروان چڑھتے گئے، جنہیں مہاجر اشرافیہ اور سول بیوروکریسی میں غالب گروہ کی باہمی کشمکش نے مزید شدید کر دیا۔
ایوب خان کے دورِ حکومت میں کراچی میں پشتون اور ہزارہ ڈویژن کے ہندکو بولنے والے علاقوں سے نقل مکانی کا سلسلہ تیزی سے بڑھا۔ ایوب حکومت نے سعودی عرب کی مالی معاونت سے کراچی میں پشتون آبادی کی رہائش اور آبادکاری کے لیے قصبہ کالونی کے نام سے ایک بڑا منصوبہ بنایا، جو 1965ء تک گنجان آباد ہو چکا تھا۔ کراچی میں ہزارہ ڈویژن (ایبٹ آباد، مانسہرہ، ہری پور، بٹگرام وغیرہ) سے پشتو اور ہندکو بولنے والی آبادی کی آمد کی تاریخ پاکستان کے قیام سے پہلے کی ہے۔ یہ لوگ روزگار کی تلاش میں، خصوصاً بندرگاہ، پولیس اور فوج میں بھرتی کے لیے، برصغیر کی تقسیم سے پہلے ہی کراچی آتے رہے تھے۔
ت
قسیمِ ہند کے بعد 1947ء سے 1950ء کے دوران ہزارہ ڈویژن کے لوگوں کی مستقل آبادکاری میں نمایاں اضافہ ہوا، جو 1960ء اور 1970ء کی دہائی میں صنعتی و تعمیراتی شعبوں میں بڑھتے ہوئے روزگار کے مواقع کے باعث مزید تیز ہو گیا۔ کراچی میں ہزارہ ڈویژن سے تعلق رکھنے والی آبادی کی بڑی تعداد مولوی تمیزالدین روڈ اور اس کے گردونواح میں مقیم ہوئی۔ یہ علاقہ ضلع جنوبی کے صدر ٹاؤن کے قریب، بندر روڈ (موجودہ ایم اے جناح روڈ) سے متصل تھا اور صدر، سولجر بازار اور قریبی محلوں کو بندرگاہی و صنعتی علاقوں سے ملاتا تھا۔ ان محلوں میں سولجر بازار، رامسوامی، نشتر روڈ، میکلین روڈ شامل تھے، جبکہ کچھ خاندان لیاری کے نزدیک لی مارکیٹ ایریا اور گڈاپ/ملیر کی اطراف بھی جا بسے۔
لانڈھی میں پشتونوں کی آمد کا آغاز 1950ء کے عشرے میں ہوا، تاہم ان کی باقاعدہ اور منظم آبادکاری 1950ء کے اواخر اور 1960ء کے اوائل میں لانڈھی کورنگی انڈسٹریل ایریا کے قیام کے بعد عمل میں آئی۔
صنعتی یونٹوں میں روزگار کے متلاشی خیبر پختونخوا (اس وقت صوبہ سرحد) کے مرد—خصوصاً مردان، چارسدہ، صوابی، بونیر اور سوات سے تعلق رکھنے والے—1950ء اور 1960ء کی دہائی میں بڑی تعداد میں کراچی پہنچے۔ ابتدائی طور پر یہ مزدور لانڈھی کے صنعتی علاقے کے قریب کرایے کے مکانوں اور جھگی بستیوں میں رہائش پذیر ہوئے، مگر وقت گزرنے کے ساتھ لانڈھی نمبر 1 تا 6، زمان ٹاؤن اور مانسہرہ کالونی جیسے محلوں میں منظم طور پر آباد ہو گئے۔ افغان جنگ (1979ء) کے بعد افغان پشتون مہاجرین کی آمد نے لانڈھی میں پشتون آبادی کو مزید بڑھا دیا۔ شیرپاؤ کالونی میں ابتدائی طور پر مردان، صوابی اور بونیر کے لوگ مقیم ہوئے، بعد ازاں افغان مہاجرین اور دیگر پشتون گروہ بھی یہاں شامل ہو گئے۔
1950ء اور 1960ء کی دہائی کراچی کی صنعتی ترقی کا زمانہ تھا، اور اس دور میں شہر کے محنت کش طبقے کی اکثریت نسلی و ثقافتی لحاظ سے پشتو، ہندکو، پنجابی اور آج کی سرائیکی بیلٹ سے تعلق رکھتی تھی، جن میں مہاجر کمیونٹی کے مزدور بھی شامل تھے۔
کراچی کی پیٹی بورژوازی میں موجود ترقی پسند حلقوں میں، کمیونسٹ پارٹی آف پاکستان سے وابستہ کیڈر نے صنعتی مزدور بستیوں اور محنت کش علاقوں میں تنظیمی سرگرمیوں کا آغاز کیا۔ تاہم ان علاقوں میں جمعیت علمائے اسلام (مفتی محمود، غلام غوث ہزاروی) کا اثر و رسوخ بھی موجود تھا۔ 1950ء کے اواخر اور 1960ء کے اوائل میں، جب پاکستان بھر کے ترقی پسند، بائیں بازو اور قوم پرست گروہوں نے مل کر نیشنل عوامی پارٹی (نیپ) کی بنیاد رکھی، تو کراچی کی مہاجر کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے بائیں بازو کے ترقی پسند رہنما، کارکن، دانشور، ٹریڈ یونین قائدین اور طلبہ بھی اس میں شامل ہوئے۔
اس وقت کراچی کے محنت کش طبقے کی تشکیل میں مہاجر، پشتون، بلوچ، ہندکو بولنے والے، سرائیکی بولنے والے اور پنجابی بولنے والے بنیادی نسلی و ثقافتی گروہ شامل تھے، جبکہ سندھی آبادی کا تناسب نسبتاً کم تھا۔ اس کثیر النسلی اور کثیر الثقافتی شناخت نے طبقاتی اتحاد میں کوئی رکاوٹ پیدا نہیں کی تھی۔ نیپ کی تشکیل نے اس محنت کش طبقے میں ترقی پسند رجحانات کو مزید تقویت دی۔ تاہم، مہاجر کمیونٹی کی بورژوازی اور پیٹی بورژوازی کی اکثریت کا سیاسی میلان دائیں بازو کی طرف تھا، اور 1960ء اور 1970ء کے درمیانی عرصے میں یہ رجحان مزید تیزی سے بڑھتا چلا گیا۔
ایوب خان خود کو ہزارہ ڈویژن کے ہندکو اور پشتون آبادی کا نمائندہ ظاہر کرتا تھا، اور اس کے دور میں ریاستی بیوروکریٹک ڈھانچے، خصوصاً فوج اور سول بیوروکریسی میں ہندکو اور پشتو بولنے والے افسران کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوا۔ تاہم، اس نسلی و ثقافتی صف بندی میں آنے والی تبدیلیوں کے باوجود، ریاستی ڈھانچے نے “اردو” کی لسانی استعماریت اور اسلام کی مذہبی استعماریت کو برقرار رکھا۔ اگرچہ ایوب رجیم مذہب کی تعبیر میں اسلام کا ایک نسبتاً لبرل اور روشن خیال چہرہ پیش کرتا تھا، لیکن اس کا معاشی ترقی اور اربن و صنعتی انفراسٹرکچر کا ماڈل، ایوب سے پہلے کے سیاسی-بیوروکریٹک ڈھانچے پر قابض سیاسی اشرافیہ اور فوجی و سول افسر شاہی کے ماڈل سے بنیادی طور پر مختلف نہ تھا۔
فرق صرف یہ تھا کہ پرانی جاگیردار سیاسی اشرافیہ کا کنٹرول کمزور ہو چکا تھا اور وہ ایوب کے قائم کردہ سیاسی ڈھانچے سے باہر ہو گئی تھی۔ اسی طرح مشرقی بنگال کی وہ مڈل کلاس سیاسی پرت، جو وہاں کی عوامی سیاست پر غلبہ رکھتی تھی، اس نئے ڈھانچے سے خارج کر دی گئی۔ ایوب خان نے مرکز کے اختیارات اور وسائل پر کنٹرول کو پہلے سے زیادہ ادارہ جاتی شکل دے دی، جس کے نتیجے میں بنگالی، بلوچ، سندھی اور پشتون قوموں پر قومی جبر اور استبداد پہلے کے مقابلے میں زیادہ سخت اور ظالمانہ ہو گیا۔
ایوب خان کے دور میں فوجی اور سول بیوروکریسی کے ڈھانچے نے ایک جانب پاکستان کی بورژوازی میں نسلی و ثقافتی وسعت پیدا کی اور اسے کراچی کے چند روایتی کاروباری نیٹ ورکس کی محدود سرحدوں سے نکال کر اس کا دائرہ وسیع کیا۔ اب یہ صرف خوجہ، بوہری، میمن، چینوٹی اور چند پنجابی خاندانوں تک محدود نہ رہا، بلکہ اس میں پشتون اور ہندکو نسلی و ثقافتی گروہوں کی شراکت بھی بڑھ گئی۔ اسی کے ساتھ، فوجی اور سول بیوروکریسی سے تعلق رکھنے والے روایتی گھرانے بھی سرمایہ دار اشرافیہ میں شامل ہو گئے، جبکہ چند جاگیردار سیاسی اشرافیہ کے گھرانے بھی اس نئی بورژوازی کا حصہ بنے۔
ایوب خان کے دور میں نیشنل عوامی پارٹی اور عوامی لیگ کو سب سے زیادہ ریاستی جبر کا سامنا کرنا پڑا، اور ان جماعتوں سے وابستہ سیاسی قیادت اور کارکنوں نے سخت ترین پابندیاں اور دباؤ برداشت کیا۔ کراچی میں ایوب حکومت نے مہاجر-پشتون نسلی و ثقافتی تضاد کو دانستہ استعمال کیا اور صدارتی انتخاب کے دوران اسے باقاعدہ مہاجر-پشتون تصادم میں ڈھالنے کی کوشش کی۔ ایوب رجیم کو مہاجر پیٹی بورژوازی اپنے مفادات کے لیے ایک ممکنہ خطرہ محسوس ہونے لگا، اور اسی پس منظر میں 1964ء کے صدارتی انتخابات کے بعد کراچی میں مہاجر نسلیاتی سیاست کے ابتدائی جراثیم ظاہر ہونا شروع ہوئے۔
1970ء کی دہائی میں پہلی مرتبہ سندھ اور وفاق میں اردو کی لسانی استعماریت کو اقتدار کے منتخب اور غیر منتخب حلقوں کی جانب سے سنجیدہ چیلنج کا سامنا کرنا پڑا۔ اس دور میں سندھ میں کوٹہ سسٹم کا نفاذ اور 1972ء میں سندھ اسمبلی سے سندھی لینگویج بل کی منظوری نے مہاجر کمیونٹی کی پیٹی بورژوازی میں شدید بے چینی پیدا کر دی۔ اسی تناظر میں پہلی بار کراچی، لاڑکانہ، نواب شاہ، حیدرآباد، خصوصاً دادو میں سندھی-مہاجر فسادات پھوٹ پڑے۔ ان فسادات کے نتیجے میں لاڑکانہ اور نواب شاہ سے تعلق رکھنے والی مہاجر پیٹی بورژوازی کی بالائی اور زیریں پرتوں کے ایک بڑے حصے کو داخلی ہجرت کرتے ہوئے کراچی منتقل ہونا پڑا۔
اگرچہ کراچی میں مہاجر پیٹی بورژوازی نے مقامی سندھی آبادی کے خلاف ہنگامے کیے، لیکن شہر کی ایڈمنسٹریشن نے اس کا ساتھ نہ دیا۔ پیپلز پارٹی میں شامل مہاجر پیٹی بورژوازی کے اہم نمائندے—جیسے معراج محمد خان اور جے اے رحیم—بھی اس صورت حال میں کوئی مؤثر کردار ادا نہ کر سکے، اور مہاجر پیٹی بورژوازی کو کراچی میں اپنی نمائندگی کرنے والی مذہبی سیاسی قیادت سے بھی مایوسی کا سامنا کرنا پڑا۔
1978ء تک یہ صورتِ حال واضح ہو چکی تھی کہ مہاجر کمیونٹی کی اکثریت باقاعدہ طور پر نسلی و ثقافتی سیاست کی طرف گامزن ہے۔ مہاجر رابطہ کمیٹی اور آل پاکستان مہاجر اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کی تشکیل اس بات کا مظہر تھی کہ مہاجر کمیونٹی کی بورژوازی اور پیٹی بورژوازی کی بھاری اکثریت اب پاکستانی نیشنلزم سے بتدریج فاصلے پر جا رہی ہے۔ یہ وہی پاکستانی نیشنلزم تھا جو ابتدا سے ہی پاکستان کو ایک کثیر النسلی و کثیرالثقافتی ریاست تسلیم کرنے سے انکاری رہا اور اردو و اسلام کو لسانی و مذہبی استعماریت کے ہتھیار کے طور پر استعمال کرتا آیا تھا۔
اب اس قومی بیانیے کی جگہ مہاجر نیشنلزم نے لینا شروع کر دی، جس میں اردو کو پاکستانی قوم کی زبان کے بجائے مہاجر قوم کی شناخت کے طور پر پیش کیا جانے لگا۔ اسی رجحان کے تحت لیاقت علی خان سمیت آل انڈیا مسلم لیگ کی مہاجر سیاسی اشرافیہ بھی پاکستانی شناخت کے بجائے مہاجر شناخت کے ساتھ زیادہ مضبوطی سے منسلک دکھائی دینے لگی۔
1980ء کی دہائی میں کراچی کی مہاجر کمیونٹی میں بائیں بازو کی ترقی پسند اور جمہوری شناخت رکھنے والے سیاسی رہنما—جیسے معراج محمد خان، ڈاکٹر امیر حیدر کاظمی، پروفیسر این ڈی خان، ڈاکٹر رشید حسن اور طفیل عباس—بتدریج سیاست کے مرکزی دھارے سے غائب ہونا شروع ہوئے۔ اسی دوران، کراچی میں سرگرم بلوچ، پشتون اور سندھی نسلی و ثقافتی گروہوں سے تعلق رکھنے والے ترقی پسند بائیں بازو کے نمایاں رہنما بھی آہستہ آہستہ سیاسی منظرنامے سے غیر متعلق ہوتے گئے۔ نتیجتاً، شہر کا محنت کش طبقہ تیزی سے اس تقسیم کا شکار ہوتا چلا گیا جو نسلی و ثقافتی تعصبات اور نفرت کی سیاست کے گرد تشکیل پا رہی تھی۔
کراچی کی سیاست کا سب سے بڑا المیہ یہ تھا کہ 1980ء اور 1990ء کی دہائیوں میں مزدوروں، طلبہ اور پیٹی بورژوازی کی صفوں سے ترقی پسند سیاست مکمل طور پر غائب ہو گئی۔ اگر اس تنزلی کا جائزہ کراچی میں نسلی و ثقافتی تقسیم کے تناظر میں لیا جائے تو سب سے شدید زوال اور سب سے نمایاں نظریاتی کھوکھلا پن مہاجر پیٹی بورژوازی کے اندر نظر آتا ہے۔
1980ء کی دہائی کے آغاز ہی سے مہاجر پیٹی بورژوازی کی سیاسی قیادت اور نظریاتی رہنماؤں نے نہ تو اپنی کمیونٹی کی حکمران اشرافیہ کی سیاست کا احتسابی جائزہ پیش کیا، اور نہ ہی ان کی لسانی، ثقافتی، معاشی اور سیاسی استعماریت کے بارے میں کوئی منصفانہ مؤقف اختیار کیا۔ اس کے برعکس، انہوں نے ماضی کے تمام بوجھ کو اپنے کندھوں پر اٹھا لیا اور لسانی، ثقافتی، سیاسی و معاشی استعماریت کے معماروں کو اپنے اکابرین قرار دیا۔ نسلی و ثقافتی برتری کے دعوے کے ساتھ نفرت، تعصب اور تحقیر کے رویوں کو جاری رکھا۔ جو مہاجر سیاست دان یا دانشور اس روش پر تنقید کرتے یا اصلاح کی کوشش کرتے، ان کے ساتھ جو سلوک کیا گیا، وہ اپنی جگہ ایک المناک داستان ہے۔
سب سے بڑھ کر، وہ مہاجر پیٹی بورژوازی جس کی پڑھی لکھی پرت پاکستان کی دیگر نسلی و ثقافتی گروہوں کی پیٹی بورژوازی کے مقابلے میں اپنی ذہانت، علمی صلاحیت اور ادبی پہلوؤں کے اعتبار سے سب سے آگے سمجھی جاتی تھی، 1980ء اور 1990ء کی دہائی میں شدید زوال کے دہانے پر پہنچ گئی۔ اس کے اندر موجود انتہائی قابل اور باصلاحیت افراد بڑی تعداد میں یورپ اور امریکہ جا کر مستقل طور پر آباد ہو گئے۔ مہاجر پیٹی بورژوازی کی جو قوم پرست سیاسی نمائندہ پرت باقی بچی، اس کا کام اب محض اس حد تک محدود ہو گیا ہے کہ وہ کراچی کے انتہائی پیچیدہ سیاسی مسائل، سماجی و سیاسی منظرنامے پر مسلط اشرافیت اور شہر کے عسکریانے جیسے سنگین چیلنجز سے توجہ ہٹا کر کاروں اور موٹر سائیکلوں کی نمبر پلیٹوں کو اجرک کے نشان سے بچانے جیسے معاملات پر اپنی توانائیاں صرف کرے۔
1950ء کی دہائی سے اب تک مہاجر کمیونٹی کی نفسیات پر سندھی زبان کا خوف مسلط رہا ہے۔ یہ کراچی کے تعلیمی اداروں میں اردو کے ساتھ سندھی کو ذریعۂ تعلیم بنانے کے معاملے کو زندگی اور موت کا مسئلہ سمجھتی رہی ہے۔ سب سے بڑھ کر، یہ کمیونٹی کراچی کی کثیرالنسلی و کثیرالثقافتی شناخت کو تسلیم کرنے سے انکاری رہتے ہوئے اس شہر پر صرف اور صرف اپنا حقِ ملکیت جتاتی ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ مہاجر پیٹی بورژوازی کی بالائی پرت سکڑتی جا رہی ہے، جبکہ زیریں متوسط طبقہ بڑھ رہا ہے، جس میں اعلیٰ تعلیم اور لیبر مارکیٹ کی ہائی اسکلڈ کوالیفائیڈ لیبر کی طلب کے مطابق تعلیمی معیار مسلسل زوال پذیر ہے۔ اس خلا کو دیگر نسلی و ثقافتی گروہ پُر کر رہے ہیں۔
مزید یہ کہ مہاجر پیٹی بورژوازی میں چھوٹے دکاندار، ریٹیلرز اور پرچون فروش بھی تیزی سے کم ہوتے جا رہے ہیں۔ اگر یہ رجحان اسی طرح جاری رہا تو مہاجر کمیونٹی کی زیریں پیٹی بورژوازی دیگر نسلی و ثقافتی گروہوں کے مقابلے میں سب سے زیادہ پسماندہ پرت میں بدل جائے گی، اور یہ خطرہ اس کے سروں پر مسلسل منڈلا رہا ہے۔
کراچی میں مہاجر کمیونٹی کے اندر بالخصوص، اور اس شہر میں بسنے والی دیگر نسلی و ثقافتی برادریوں میں بالعموم، ایک نئی ترقی پسند، جمہوری اور بائیں بازو کی سیاست کا احیاء اس وقت تک ممکن نہیں جب تک نسلی و ثقافتی تعصبات کی جڑوں کو کاٹنے اور طبقاتی یکجہتی کو مضبوط کرنے کی سنجیدہ کوشش نہ کی جائے۔ محنت کش طبقہ—چاہے وہ مزدور ہوں، طالب علم ہوں یا پیٹی بورژوازی کی پیشہ ورانہ پرتیں—اسی وقت ترقی پسند جمہوری سیاست کی طرف راغب ہو سکتے ہیں جب ان کے مسائل کو نسلی شناخت کے تنگ دائروں سے نکال کر معاشی انصاف، مساوی مواقع، معیاری تعلیم، روزگار اور شہری حقوق کے ایجنڈے سے جوڑا جائے۔
ایسی سیاست کراچی کو اس قابل بنا سکتی ہے کہ وہ پاکستان کی اشرافیہ اور فوجی و سول بیوروکریسی کی لسانی، ثقافتی اور معاشی استعماری سرمایہ دارانہ طرزِ حکمرانی کے خلاف ایک طاقتور مزاحمتی محاذ میں ڈھل جائے۔ آج یہ خیال بظاہر ایک دیوانے کا خواب محسوس ہوتا ہے، مگر جیسے جیسے وقت گزرے گا، اس خواب کو دیکھنے اور اس کی تعبیر کے لیے جدوجہد کرنے والے دیوانوں کی تعداد بڑھتی چلی جائے گی۔
Facebook Comments


بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں