اسلام پر منشی پریم چند کے خیالات/ ابھے کمار

ان دنوں اردو اور ہندی کے عظیم ادیب منشی پریم چند کا یومِ ولادت منایا جا رہا ہے۔ انہوں نے اپنے ادبی سفر کا آغاز اردو زبان سے کیا تھا اور ابتدائی طور پر “نواب رائے” کے نام سے جانے جاتے تھے۔ سن ۱۹۱۰ میں ان کی اردو کہانیوں کا مجموعہ “سوزِ وطن” کے عنوان سے شائع ہوا، جسے برطانوی حکومت نے ضبط کر لیا۔ اس کے بعد وہ بتدریج ہندی کی طرف مائل ہوئے، اور ہندی ادب نے انہیں “پریم چند” کے طور پر عالمی سطح پر متعارف کروایا۔ آج پریم چند کی معنویت اس لیے بھی نمایاں ہے کہ انہوں نے ادب اور صحافت کے ذریعے ان سماجی مسائل پر قلم اٹھایا جنہیں ان سے قبل کے بیشتر ادباء نے نظرانداز کیا تھا۔ ان سے پہلے ہندی ادب میں طلسم، جادوگری اور غیر حقیقی، خالص تخیلاتی موضوعات کو ترجیح دی جاتی تھی، اور مصنفین عہدِ وسطیٰ کے راجاؤں اور بادشاہوں کے سیاسی جھگڑوں کو فرقہ وارانہ عینک سے دیکھ کر مخصوص فریق کی مدح سرائی کرتے تھے۔ لیکن جب پریم چند ادبی منظرنامے پر ابھرے، تو انہوں نے انسان کے دُکھ، درد، غربت، ناانصافی اور سماجی حقیقتوں کو ادب کا موضوع بنایا اور فرقہ واریت و تنگ نظری پر مبنی قوم پرستی کے بجائے سیکولر اور سماجی سوالات کو اجاگر کیا۔ ان کی ایک نمایاں خصوصیت یہ تھی کہ ان کی زبان نہایت سادہ، عام فہم اور دل میں اترنے والی ہوتی تھی۔ انہوں نے فارسی، عربی، سنسکرت، انگریزی اور دیگر زبانوں کے مستعمل اور مقبول الفاظ کو اپنے اسلوب کا حصہ بنایا، لیکن کبھی بھی اپنی تحریر کو کسی مخصوص زبان، مذہب یا ثقافت تک محدود کرنے کی کوشش نہیں کی۔

اس زمانے کے فرقہ پرست سیاست دان فائدے کے لیے اسلام کو تشدد سے جوڑ کر پیش کرتے تھے، مگر پریم چند کی سمجھداری ان سے بالکل جدا تھی۔ انہوں نے اسلام کے وسیع پھیلاؤ کے بارے میں پھیلی تمام افواہوں کو خارج کرتے ہوئے کہا کہ تلوار کے زور پر نہ تو اسلام کو لوگوں نے قبول کیا اور نہ کوئی مذہب زور زبردستی عوام کے دلوں میں اتر سکتا ہے۔ نومبر ۱۹۳۱ کے ایک مضمون میں پریم چند نے کہا کہ “تلوار کے زور پر کوئی مذہب نہیں پھیلتا، اور اگر کچھ وقت کے لیے پھیل بھی جائے، تو وہ دیرپا نہیں ہو سکتا”۔ تلوار کے نظریے کو رد کرتے ہوئے پریم چند نے ہندوستان میں اسلام کے پھیلاؤ کو ذات پر مبنی سماجی نظام سے جوڑا، جہاں نچلی ذاتوں کے افراد ظلم و استحصال کا شکار تھے، اور انہوں نے سماجی نجات کے لیے اسلام کا خیرمقدم کیا اور اسے قبول کیا۔ پریم چند نے مزید کہا کہ “ہندوستان میں اسلام کے پھیلنے کی ایک وجہ اعلیٰ ذات کے ہندوؤں کا نچلی ذاتوں پر ظلم و ستم تھا”۔ پریم چند نے اسلام کے مساوات کے پیغام کی خوب تعریف کی اور کہا کہ اسلام کے اندر اونچ اور نیچ کا فرق مٹ جاتا ہے۔ ایک ہی صف میں تمام مسلمان کھڑے ہو کر نماز پڑھ سکتے ہیں اور ایک ہی صف پر بیٹھ کر سب روٹیاں توڑ سکتے ہیں۔ انہوں نے اسلام کے مساوی نظام کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ “اسلام قبول کرتے ہی انسان کی تمام ناپاکیاں، تمام نالائقیوں جیسے دھل جاتی تھیں۔ وہ مسجد کے امام کے پیچھے کھڑے ہو کر نماز ادا کر سکتا تھا، اور بڑے سے بڑے سیّد زادے کے ساتھ ایک ہی دسترخوان پر بیٹھ کر کھانا کھا سکتا تھا”۔

پریم چند کی نظر میں اسلام اس ملک کا “دشمن” نہیں تھا، بلکہ انہوں نے اسے یہاں کے دلتوں اور محکوم طبقات کے لیے ایک مسیحا کا کردار ادا کرنے والا مذہب قرار دیا۔ انہوں نے صاف طور پر کہا کہ اسلام اپنے اصولوں کی وجہ سے بھارت میں اپنایا گیا، جہاں تمام انسانوں کو مساوی حقوق حاصل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ “اسلام تلوار کے زور سے نہیں، بلکہ اپنے مذہبی اصولوں کی وسعت و سچائی کی بنیاد پر پھیلا۔ وہ اس لیے پھیلا کیونکہ یہاں ہر انسان کے حقوق برابر ہیں”۔ جس دور میں ہندو اور مسلمان کو دو جدا جدا قوموں کے طور پر دیکھنے کا فرقہ وارانہ کھیل شروع ہو گیا تھا، اسی دور میں پریم چند نے ہندو اور مسلمان کی مشترکہ ثقافت پر زور دیا اور کہا کہ “ہمیں تو ہندو اور مسلم تہذیب میں کوئی بنیادی فرق نظر نہیں آتا۔ اگر مسلمان پاجامہ پہنتا ہے تو پنجاب اور سرحدی علاقوں کے تمام ہندو مرد و عورت بھی پاجامہ پہنتے ہیں”۔ اپنے دلائل کو تقویت دینے کے لیے پریم چند نے تاریخی تحقیق کے نتائج سے استفادہ کیا۔ معروف مورخ محمد حبیب کے کام کا حوالہ دیتے ہوئے، پریم چند یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ عہدِ وسطیٰ کی لڑائیاں ہندوؤں اور مسلمانوں کی اجتماعی برادریوں کے درمیان نہیں تھیں۔ وہ کہتے ہیں کہ تاریخی شواہد موجود ہیں جو ثابت کرتے ہیں کہ افغانوں نے رائے پتھورا کے حق میں جنگ لڑی، جبکہ مراٹھوں نے پانی پت کی جنگ میں مسلمانوں کی مدد کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ بات فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ ۱۸۵۷ کی جنگ میں ہندوؤں اور مسلمانوں نے بہادر شاہ ظفر کو اپنا لیڈر بنایا تھا۔ اپنی تحریروں کے ذریعے وہ اس خیال کو بھی رد کرتے ہیں کہ اردو ایک خاص مذہب کی زبان ہے۔ انہوں نے اردو کی ترقی میں ہندو اور مسلمان دونوں ادیبوں کی خدمات پر زور دیا۔اسی طرح انہوں نے گؤ کشی کے نام پر جاری مسلم مخالف سیاست کی بھی مذمت کی اور کہا کہ “ہمیں اختیار ہے کہ ہم گئو پوجا کریں، لیکن ہمیں یہ اختیار نہیں کہ ہم دوسروں کو بھی گئو پوجا پر مجبور کریں”۔ پریم چند نے مذہبی رواداری کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں دیگر مذاہب کی مقدس شخصیات کا احترام کرنا چاہیے۔

julia rana solicitors london

پریم چند نے اسلام کے بارے میں جو باتیں کہیں، وہ اس لیے بھی اہم ہیں کیونکہ ان کے زمانے میں ہندو بمقابلہ مسلم کی فرقہ وارانہ آگ سلگ چکی تھی۔ انگریزی حکومت کے اسکولوں اور کالجوں میں پڑھائی جانے والی تاریخ نے ہندو اور مسلم معاشرے کے بہت سے اعلیٰ ذات کے رہنماؤں کے دلوں میں مذہبی تعصب اور نفرت کا زہر بھر دیا تھا۔ ہندو سماج کے فرقہ پرست لیڈر ہندوستان کے قدیم دور کو “دورِ زرّیں” کہہ کر اس کی تعریف کرتے تھے اور اسے ہندو دھرم سے جوڑ کر دیکھتے تھے، جبکہ ان کی نظر میں بھارت میں مسلم بادشاہوں کا دور ایک “تاریک عہد” تھا، اور وہ انگریزی حکومت کے وفادار اس لیے تھے کہ ان کے مطابق انگریزوں نے انہیں مسلمانوں کے مظالم سے “نجات” دلائی۔ دوسری جانب، مسلم سماج کے فرقہ پرست عناصر خود کو مسلم سلطنت سے جوڑ کر “حکمران قوم” سمجھتے تھے۔ حالانکہ زمینی حقیقت ان دونوں بیانیوں سے مختلف تھی۔ بھارت نہ صرف ہندو اور مسلمانوں کا ملک ہے، بلکہ یہاں ہزاروں سال سے جین، بدھ، عیسائی، پارسی اور دیگر مذاہب کے ماننے والے بھی رہتے آئے ہیں۔ بھارت کی تاریخ جتنی آریائی یا اسلامی ہے، اتنی ہی یہ تمل، دراوڑی اور قبائلی تاریخ بھی ہے۔ اس ملک کے آدی واسی، جن کی اپنی منفرد تہذیب، تاریخ اور شناخت ہے، انہیں اکثر بڑے مذاہب کے پیروکار نظرانداز کرتے ہیں اور ان کی انفرادیت کو تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہیں۔ فرقہ پرست مصنفین اور رہنما عموماً سیاسی تاریخ کو غیر ضروری طور پر فوقیت دیتے ہیں اور اس کے برعکس سماجی و اقتصادی تاریخ کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔ یہی وہ نکتہ ہے جہاں پریم چند اپنے دور کے دیگر مصنفین سے بہت آگے دکھائی دیتے ہیں، کیونکہ انہوں نے معاشرے کو سیاسی یا مذہبی عینک سے نہیں، بلکہ تاریخی، سماجی اور اقتصادی نقطہ نظر سے دیکھا اور یوں ہندی ادب میں ترقی پسند فکر کی بنیاد رکھی۔

Facebook Comments

ابھے کمار
ابھے کمار جواہر لال نہرو یونیورسٹی، نئی دہلی میں شعبہ تاریخ کے ریسرچ اسکالر ہیں۔ ان کی دلچسپی ہندوستانی مسلمان اور سماجی انصاف میں ہے۔ آپ کی دیگر تحریرabhaykumar.org پر پڑھ سکتے ہیں۔ ان کو آپ اپنے خط اور اپنی رائے debatingissues@gmail.com پر بھیج سکتے ہیں.

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply