” لَو جہاد“۔ مسلمانوں کے قتل عام کا نیا ہتھیار۔غازی سہیل خان

انگریزی کی ایک مشہور کہاوت ہے”Give dog a bad name and kill him“ یعنی” کتے کو ایک بُرا نام دو اور پھر اسے مارر ڈالو“۔یہ کہاوت استعماری طاقتوں کے ہاں مقبول اور مستعمل ہے لیکن آج کل اِس کا اطلاق برصغیر خصوصاً سرزمین ہندوستان کے معاشرے میں خوب ہوتا ہے۔اِ سی کہاوت کے پیشِ نظر شعوری طور پرہندوستان میں Love Jihad کے نام سے موسوم ایک فرضی اور بے بنیاد اصطلاح وضع کی گئی ۔ Love Jihad کی اس اصطلاح کو وضع کرنے میں دراصل بہت سے محرکات کار فرما ہیں ۔ لیکن جو سب سے بڑا محرک ہے وہ اسلام کے ساتھ بے جا بغض و حسد ہے ۔

ہندوستان میں فرقہ پرست طاقتوں کے اقتدار میں آنے کے بعد سے ہی مسلمانوں کے خلاف سازشوں اور تخریب کاریوں کا نہ تھمنے والا سلسلہ شروع ہو چُکا ہے۔ گاؤ رکھشا کے نام پراب تک ایسے سینکڑوں واقعات رونما ہو چُکے ہیں کہ جن میں مسلمانوں کو براہِ راست نشانہ بنایا جا تا ہے ۔ گاؤ  رکھشا کی آڑ میں مسلمانوں کے قتل عام سے ان فرقہ پرست جنونیوں کا دل نہیں بھرا کہ اُنہوں نے Love Jihad کاایک اور نعرہ متعارف کیا ۔ جس کے تحت یہ مفروضہ پھیلایا جارہا ہے کہ مسلمان لڑکے ہندو لڑکیوں کو اپنے عشق کے جال میں پھنسا کر اُنہیں اپنا مذہب ترک کرنے پر مجبور کررہے ہیں۔

گذشتہ دنوں ہندوستان کی ریاست کیرالہ میں ہادیہ نامی ایک نو مسلم لڑکی کو بھی Love Jihad سے متاثرہ قرار دیاگیا جس کے بارے میں بعد میں معلوم ہواکہ وہ مذہبِ اسلام سے متاثر ہو کر اسلام کی  آغوش میں آچکی ہیں۔ اصل میں کیرالہ کی رہنے والی اکھیلا نامی اس ہندو لڑکی نے چند برس قبل سے اسلام کا مطالعہ شروع کیا اور اس کو دین حق جان کر قبول کیا ۔ اسلام قبول کرنے کے بعد انہوں نے اپنا نام ہادیہ رکھا۔بعد ازاں ہادیہ کو اسلام قبول کرنے کی پاداش میں طرح طرح کی سختیوں کو جھیلنا پڑا اور بالآخر اُس نے اپنے والدین کی مرضی کے خلاف شفیق نامی ایک مسلم لڑکے سے شادی کی ۔معمول کی یہ شادی فرقہ پرست طاقتوں کے ہاتھ بہانہ لگ گیا۔ انہوں نے ہادیہ اور شفیق کی اِس شادی کو Love Jihad کا نام دیا گیا ۔

حد تو یہ ہے کہ اِس معاملے کو کیرالہ کی ہائی کورٹ تک  لے جایا   گیا جہاں پر عدالت نے این آئی اے کے ذریعے اس پورے معاملے کی چھان بین کرنے کا حکم دیااور جان بوجھ کر معمولی بات کو اچھالنے کے لیے یہ جاننے کی کوشش کی جارہی ہے کہ کہیں یہ دہشت گردی کے ساتھ جُڑا ہوا معاملہ تو نہیں ہے۔ عدالت نے ہندوستانی آئین کے برخلاف بالغ جوڑے کی شادی کو یہ کہہ غیر قانونی قرار دیا کہ لڑکی کے والدین اِس شادی کے خلاف تھے اور اس طرح ہادیہ کواپنے والدین کے حوالے کرکے اُسے گھر کی چار دیواری  میں مقید کر دیا گیا۔ ہم سلام کرتے ہیں ہادیہ بہن کے جذبے  کو، کہ جس نے حوصلہ اور ہمت سے کام لے کر عدالت کو بغیرکسی خوف و ڈر کے اسلام میں داخل ہونے کی اپنی کہانی سے آشنا کیا۔

ہادیہ نے کہا اُنھیں اسلام قبول کرنے کے لیے کسی نے نہیں اُکسایا بلکہ خود اسلام کا مطالعہ کرکے اسلامی تعلیمات سے متاثر ہوکروہ دائرہ اسلام میں داخل ہوئیں ۔ مگر افسوس ہادیہ کی اس دلیل کو کورٹ نے بغیر کسی جواز کے رد کیا ، حالانکہ ہندوستانی آئین اس ایک بالغ اور باہوش لڑکی کو اپنی زندگی کا فیصلہ خود کرنے کا حق فراہم کرتا ہے۔ Love Jihadکا فسانہ کیرالہ تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ حال ہی میں راجستھان سے روح کو تڑپانے والی ایک ایسی ویڈو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی جس میں شمبھو بھوانی لال نامی ایک ہندو جنونی شخص نے مغربی بنگال کے افروز نامی ایک مسلمان مزدور کو کلہاڑی کے پے در پے وارسے نہ صرف قتل کیا بلکہ قتل کرنے کے بعد اُن کی لاش پر پٹرول چھڑک کر اُسے آگ لگا دی۔ ساتھ ہی ساتھ اس بہیمانہ قتل کی ویڈیو بھی بنائی۔ ۲۲سالہ افروز احمد کا تعلق مغربی بنگال کے مالدہ ضلع سے تھا اور وہ مزدوری کے سلسلے میں راجستھان میں تھا۔شمبھو بھوانی نامی یہ ہندو شخص ایک تو بدترین جرم کا ارتکاب کرتا ہے، اپنے جرم کی ویڈیو بنالیتا ہے اور پھر بڑی ہی ڈھٹائی کے ساتھ ہندوستانی مسلمانوں  کو افروز احمد کے جیسے انجام کی دھمکیاں دیتاہے۔

اس ویڈیو کو دیکھ کر دردِ دل رکھنے والے ہر انسان کی روح کانپ جاتی ہے،ہر آنکھ اشک بار ہوتی ہے اورہر دل تڑپ اُٹھتاہے کہ کس طرح دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کی دعوے دار قوم( ہندوستان )میں درندہ صفت لوگ مسلمانوں کا قتل عام کرکے انسانیت کا سر شرم سے جھکا دیتے ہیں ۔المیہ یہ ہے کہ اس ذہنیت کے لوگوں کو سرکاری سرپرستی حاصل ہوتی ہے، قانون اُنہیں تحفظ فراہم کرتا ہے، تبھی شمبھو لال جیسے درندہ صفت سفاک لوگوں کو گرفتار نہیں کیا جاتا ہے اور نہ ہی اُن کو قانون کے تحت سخت سزا دی جاتی ہے ۔ پولیس اور انتظامیہ اس بھیڑیے کو دماغی مریض قرار دے کرپورے معاملے کو ہی گول کرنا چاہتے ہیں۔کشمیر میں ہونے والے معمولی واقعات پر چیخنے چلانے والے ہندوستانی میڈیا کو جیسے سانپ سونگھ گیا ہے، اُنہیں بھوانی جیسے لوگوں کی دہشت گردی نظر ہی نہیں آتی ہے بلکہ یہ میڈیا ایسے شیطان صفت لوگوں کو کور فراہم کرتا ہے۔وائے حسرت !

بھارت میں منظم طریقے سے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف سازشیں رچائی جا رہی ہیں۔ آئے روزکبھی سہ طلاق،کبھی گائے کی قربانی اور اب Love Jihad کے نام پر مسلمانوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ یہ کسی فرد کی ذاتی فکر و سوچ نہیں ہے بلکہ اس کے پیچھے ایک آر ایس ایس، بی جے پی اور اُن کے تحت کام کرنے والی پوری حکومتی مشینری کام کررہی ہے۔ایک منظم طریقے سے شدت پسندوں کومسلمانوں کے خلاف بھڑکایا جا رہا ہے اور وہ اسلام مخالف اداروں سے تربیت حاصل کر کے ایسے دلدوز اور انسانیت سوزافعال انجام دیتے ہیں۔ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ ان سارے گھناؤ نے افعال کے پیچھے منظم طاقتیں کام کرتی ہیں۔اِن طاقتوں کو حکومتی سرپرستی اور اعانتیں بھی حاصل ہیں، جبھی تو اِن کے خلاف کوئی کارروائی انجام نہیں دی جاتی اور ایسے واقعات کو روکنے کے لیے کوئی بھی لائحہ عمل مرتب نہیں کیا جاتا۔ یہاں تو دہشت گردی کوامن پسند مسلمانوں کی میراث سمجھا جا تا ہے اور کوئی غیر مسلم تخریبانہ اور دہشت گردانہ سرگرمیاں انجام دے   تو وہ دہشت گرد نہیں کہلاتا۔

گزشتہ برس عالمِ اسلام کے مایہ ناز  سکالر ڈاکٹر ذاکر نائیک کو ہندوستانی سرکار نے محض اس بات پر دہشت گرد قرار دیا کہ بنگلہ دیش میں ہوئے دہشت گردانہ حملے میں پکڑے گئے افراد ڈاکٹر ذاکر نائیک کی اسلامی ویڈیوز سے متاثر تھے۔ ڈاکٹر ذاکر نائیک  کو محض اسی بات پر ملک بدر ہونے پر مجبور کیا گیا اور گذشتہ ایک برس سے وہ مہاجر کی زندگی گزار رہے ہیں۔ لیکن راجستھان کے شمبھو بھوانی نامی اس دہشت گرد کی فیس بُک پروفائل دیکھ کر واضح ہو جاتا ہے کہ وہ کٹر مذہبی آدمی ہے اور بعض تصاویر میں وہ رام دیو کی ایجاد کردہ یوگا پریکٹس کو بھی عملاً کر  رہا ہے۔ بالفاظِ دیگر وہ رام دیو کے افکار و خیالات سے متاثر ہیں۔ تو کیا اِس مناسبت سے رام دیو پر مقدمہ دائر نہیں کر نا چاہیے کہ اُن کی یوگا پریکٹس سے لوگوں کو انتہا پسندی کی تعلیم ملتی ہے اور شمبھو بھوانی جیسے  لوگ بد ترین جرائم کا ارتکاب کرنے میں فخر محسوس کرتے ہیں؟ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہندوستان میں بڑھتی ہوئی  فرقہ واریت کے قلع قمع کے لیے اقدامات کیے جائیں۔وگرنہ غیر ممکن نہیں کہ فرقہ پرستی کی یہ آگ خود کو سیکولر کہنے والے ہندوستان کو لے ڈوبے گی۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *