(جان ہولٹ کی کتاب How Children Fail کے تناظر میں)
ہم نے پچھلے ہفتے جان ہولٹ کی شخصیت اور کتاب کا ایک مختصر تعارف پیش کیا۔
جان ہولٹ چونکہ ایک اسکول ٹیچر تھے اور پڑھانے کے دوران انہوں نے بچوں کے سیکھنے کے عمل پر گہرائی سے سوچا، انہی مشاہدات کو انہوں نے اپنی ڈائری میں محفوظ کیا، اور بعد ازاں یہی مشاہدات دنیا کے سامنے ایک
کتاب کی شکل میں آئے۔
شروع میں بہت سے بچے بڑی دلچسپی اور تجسس کے ساتھ اسکول میں داخل ہوتے ہیں۔ ان کے اندر جاننے، سیکھنے اور دریافت کرنے کی ایک فطری لگن ہوتی ہے۔
لیکن وقت گزرنے کے ساتھ یہی بچے تین مختلف گروہوں میں بٹ جاتے ہیں:
1. وہ بچے جو اسکول کو خیر باد کہہ دیتے ہیں ۔
یہ وہ بچے ہوتے ہیں جن کی فطری سیکھنے کی خواہش، نظامِ تعلیم کی سختی، بےرخی اور غلطی پر شرمندہ کرنے کے رویے کی نذر ہو جاتی ہے۔
یہ بچے یا تو اسکول کو چھوڑ دیتے ہیں یا غیر حاضری کا سہارا لے کر خود کو “ناکام” ہونے سے بچاتے ہیں۔
2. وہ بچے جو جسمانی طور پر اسکول میں موجود رہتے ہیں، لیکن ذہنی طور پر غائب ہوتے ہیں —
یہ بچے نہ سوال کرتے ہیں، نہ دھیان دیتے ہیں، نہ شوق سے کچھ سیکھتے ہیں۔
وہ دن پورا کرتے ہیں، وقت گزارتے ہیں، مگر اندر سے سیکھنے کی جو چنگاری وہ لے کر آئے تھے، وہ بجھ چکی ہوتی ہے۔
3. اور پھر وہ بچے جو “اچھے طالب علم” کہلاتے ہیں ۔
یہ وہ بچے ہیں جو نظام کے مطالبات کو سمجھ لیتے ہیں۔
انہیں معلوم ہوتا ہے کہ “درست جواب” یاد کرنا ہے، استاد کو خوش رکھنا ہے، اور نمبروں میں اچھا دکھائی دینا ہے۔
لیکن جان ہولٹ کے مطابق، یہ بچے بھی درحقیقت بہت کم ہی سیکھتے ہیں۔ وہ رٹ کر، اندازے لگا کر، یا اشارے پڑھ کر کامیاب نظر آتے ہیں، مگر ان کے ذہنوں میں مفہوم، دلیل، اور گہرائی نہیں ہوتی۔
یہ نظام دراصل کامیابی کی ایسی تعریف پیدا کرتا ہے، جس میں سیکھنے کی کوئی جگہ نہیں ہوتی۔
غلطی کرنا جرم بن جاتا ہے، سوال کرنا بدتمیزی سمجھا جاتا ہے، اور رٹے کو سمجھ سے بہتر سمجھا جاتا ہے۔
جان ہولٹ کہتے ہیں کہ:
“ہم نے سیکھنے کو بچوں کے لیے ایسا خوفناک تجربہ بنا دیا ہے کہ ان کی ساری توجہ سیکھنے کے بجائے اس بات پر ہوتی ہے کہ کہیں وہ غلط نہ ہو جائیں۔”
پہلا باب: حکمتِ عملی (Strategy)
جب غلطی کو سیکھنے کا ایک لازمی حصہ ماننے کے بجائے جرم سمجھا جائے،
جب غلط جواب دینے پر بچوں کو سزا دی جائے، شرمندہ کیا جائے، یا ان کا مذاق اُڑایا جائے ، تو بچے وہاں اپنے حساب سے حکمت عملی بناتے ہیں، کہ ہم نے کیسے کلاس روم کا ماحول خوشگوار رکھنا ہے ۔
تو وہاں سیکھنے، سوچنے، اور تجربہ کرنے کا عمل رک جاتا ہے۔

ایسے ماحول میں بچہ یہ سیکھتا ہے کہ اصل مقصد “سمجھنا” نہیں، بلکہ “غلطی سے بچنا” ہے۔
لہٰذا وہ درست جواب یاد کر لیتا ہے، تاکہ نہ شرمندہ ہونا پڑے، نہ سزا ملے، اور استاد کی تعریف بھی حاصل ہو جائے۔
لیکن اس دوران:
بچے نے کیا واقعی کچھ سیکھا؟
کیا اس کے ذہن میں کوئی نیا سوال پیدا ہوا؟
کیا اس کی سوچ میں گہرائی یا وسعت آئی؟
نہ اسکول کے نظام کو اس سے کوئی غرض ہے، نہ ہی زیادہ تر اساتذہ کو۔
کیونکہ ان کے نزدیک “اچھا طالب علم” وہی ہے جو بغیر سوال کیے، صحیح جواب دے دے — چاہے وہ رٹا ہوا ہو یا سمجھا ہوا نہ ہو۔
ہولٹ جب ایک کلاس روم میں بچوں کی حرکات و سکنات کو باریک بینی سے دیکھتا ہے تو وہ ایک اہم نتیجے پر پہنچتا ہے:
اگر ہم چاہتے ہیں کہ بچے واقعی کچھ سیکھیں — تو ہمیں بس اتنا کرنا ہے کہ انہیں سیکھنے سے نہ روکیں۔
یعنی:
سوال کرنے کو علم کی کمی کی علامت نہ سمجھا جائے، بلکہ جستجو کی علامت سمجھا جائے۔
غلطی کرنے کو جرم نہ بنایا جائے، بلکہ اسے سیکھنے کے سفر کا لازمی حصہ مانا جائے۔
بچے کو اس کوشش سے آزاد کیا جائے کہ وہ ہر وقت صرف استاد کی خوشنودی حاصل کرنے میں لگا رہے۔
کیونکہ جب بچہ ہر بات میں استاد کی تائید، تعریف، یا اجازت کا منتظر ہوتا ہے، تو وہ اپنے ذہن کا دروازہ بند کر دیتا ہے۔
ایسا بچہ نیا سوچنے کے بجائے درست نظر آنے کی کوشش کرتا ہے۔
جان ہولٹ کہتے ہیں کہ:
م”ہم بچوں کو سکھا نہیں رہے، ہم انہیں صرف یہ سکھا رہے ہیں کہ وہ کیسے ہمارے سامنے ‘صحیح’ لگیں۔”
جارج ہے
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں