راستہ جو اپنایا نہیں ، خواب جو دیکھا نہیں ۔۔نذر محمد چوہان

رابرٹ فروسٹ ایک بہت مشہور امریکی لکھاری اور شاعر رہا ۔ اس نے ۱۹۱۵ میں ایک نظم the road not taken کے نام سے لکھی جو ۱۹۱۶میں پبلش ہوئی ۔ وہ نظم آج تک ادب کی دنیا میں موضوع بحث ہے ۔ کچھ لوگ اسے سمجھتے ہیں کے یہ فروسٹ کی طرف سے پچھتاوا تھا اور اس کااپنا بیانیہ ہے اس ہار کا ۔ لیکن زیادہ تر لوگ جن میں خود میں بھی شامل ہوں ، اسے اس کے برعکس سمجھتے ہیں ۔ میرے نزدیک یہ دراصل وہ راستہ ہے جو انسانی روح اور مقدر نے ترتیب دیا اور دوسرا راستہ وہ ہے جو تقلیدی قوتوں نے کنڑول کی خاطر نہ صرف تجویز کیا بلکہ ہم پر زبردستی ٹھونسا۔ ہم بھیڑ بکریوں کی طرح قدرت کے راستے کو چھوڑ کر غلاموں کی طرح تقلیدی کا راستہ اختیار کیے ہوئے ہیں ۔
–  ایک اور آج کل کے وقت کی مشہور امریکی لکھاری لیزلی جیمیسن نے امریکی جریدے دی پیرس ریویو میں رابرٹ فروسٹ کے اسی نظریے کو اپنے والدین کی کہانی کے ساتھ بہت خوبصورت طریقے سے جوڑا ہے ۔
لیزلی کی والدہ کا سابقہ شوہر پیٹر ایک انقلابی زہن کا شخص ہوتا ہے ۔ دونوں ایک دوسرے سے بہت پیار کرتے ہیں اور لیزلی کے نزدیک ایک جیسی values شئیر کرتے ہیں ۔ دونوں ہی اسکول ، کالج کے وقت سے انسانی تنظیموں کے رکن ہوتے ہیں اور کافی ساری تحریکوں کا بھی حصہ بنتے ہیں ۔ شادی کو ابھی دو سال ہی ہوتے ہیں کے لیزلی کی والدہ کو ایک اسٹینفورڈ کا بزنس اسٹدیز کا پروفیسر ملتا ہے ، جس سے لیزلی کی والدہ پیٹر کو چھوڑ کر شادی کا فیصلہ کرتی ہے ۔ پیٹر اس پر کتاب لکھتا ہے جو parting of the ways کے عنوان سے ہوتی ہے ، جسے لیزلی اس سے پڑھنے کے لیے رابطہ کرتی ہے اور پیٹر مان جاتا ہے ۔ پیٹر بھی ایک اور جگہ شادی کر لیتا ہے اور اس شادی سے اس کا ایک عدد بچہ ہوتا ہے ۔
لیزلی کا شوق اپنی والدہ اور پیٹر کو اس معاملہ میں سمجھنے کا پیدا ہوتا ہے اور وہ دونوں کو ان کے اس کالج میں بھی لاتی ہے جہاں وہ دونوں اکٹھے پڑھتے تھے ۔ پرانی یادیں تازہ ہوتی ہیں ۔ باربار پیٹر یہی کہتا ہے کے وہ ابھی بھی وہیں کھڑا ہے جہاں پہلے دن تھا ۔ جب ایک دفعہ لیزلی کی والدہ نے پیٹر کو اپنے خاوند سے ملوایا تو پیٹر نے زہن میں سوچا کے اس میں کیا کمی ہے مقابلہ اس کے ؟
what do I have that he doesn’t have ? Peter wonders , the answer was conviction ; fidelity to the set of values Peter and my mom had shared۔
پیٹر ابھی بھی انقلابی ، ابھی بھی نیٹو انڈینز کے حقوق کے لیے جنگ میں مصروف ۔ ابھی بھی صرف اتنا کماتا  ہے جو ٹیکس سے نیچے والی حد مقرر ہے۔ پیٹر سمجھتا ہے کہ  ٹیکس دراصل حکمرانوں کی دوسرے ملکوں کے ساتھ جنگوں میں صرف ہوتا ہے ۔ جب لیزلی پیٹر اور اپنی والدہ کو کالج لا رہی ہوتی ہے اس دن بھی پیٹر ایک کرنل سے تیل کی پائپ لائین انڈین ریزرویشن سے لے جانے پر لڑ رہا ہوتا ہے اور کرنل اسے جیل بھیجنے کی دھمکی دیتا ہے ۔ ابھی بھی اس کے ہاتھ میں دو جھنڈے ہوتے ہیں ، ایک peace flag اور دوسرا earth flag ۔ لیزلی کو اپنی والدہ کا ان اصولوں سے منحرف ہونا یا ان values کو چھوڑنا بہت بُرا لگتا ہے ۔ والدہ کو پیٹر سے علیحدگی نے سوائے اسٹیٹس کے کچھ نہیں دیا اور وہ ساری چیزیں بقول کینڈل جس نے بدھ والے دن خودکشی کی محض کاغذ پر ہیں وہ کسی طرح انسان کو مطمئن نہیں رکھتیں ۔
یہ کہانی دراصل ہم سب کی ہے ۔ کل ایک پاکستان سے بہت قابل لڑکی یہ کہہ رہی تھی کہ  وہ سی ایس ایس کرنا چاہتی ہے ۔ مجھے بہت دُکھ ہو رہا تھا کہ  ہمیں کس طرف لگا دیا گیا ہے ؟ یا سی ایس ایس کرو یا پھر لُوٹ مار اور فراڈ ۔ جس خاتون نے میرے گھر پر قبضہ کیا ہوا ہے وہ سی ایس ایس اور پی سی ایس میں متعدد بار appear ہونے کے باوجود فیل ہو گئی ۔ فیل ہونے کے بعد اس نے یہ منشور بنا لیا کہ  اگر سرکاری افسری نہیں مل سکی لُوٹ مار کرنے کے لیے تو کیوں نہ سرکار کے ساتھ ملکر لوگوں کی جائیدادیں ہتھیائی جائیں اور پاکستان سے اچھا ملک تو ہے ہی کوئی  نہیں اس کام کے لیے جہاں نہ قانون ، نہ اخلاقیات اور نہ ہی کسی قسم کی شرم و حیا ۔
بہت افسوس ہوتا ہے یہ سب کچھ دیکھ کر کے اس وقت کہاں کھڑی ہے ہماری مادر پدر آزاد نوجوان نسل ؟ نہ وہ مائیں رہیں جو سچائی ، اخلاقیات اور روحانیت کا درس دے سکتیں اور نہ وہ باپ جو ان کے منہ میں حلال کا لقمہ ڈال سکتے ۔ میں نے کل ایک پاکستانی لڑکے سے پوچھا معاشرے میں values کیا ہوتی ہیں ؟ اس نے فورا جواب دیا ، سر ڈالر کی ؟ میرا باپ ہمیشہ اُٹھتے بیٹھتے حلال کی کمائی  کا تذکرہ کرتا اور ماں چٹی ان پڑھ ہونے کے باوجود اخلاقیات پر زور دیتی ۔ ایک دن ملازم نے اپنے بیٹے سے ملوایا اور بتایا کے اس نے ۱۶ جماعتیں پاس کر کیں ہیں ، والدہ نے فورا کہا “اوہ کوئی  عقل وی آئی  ؟” لیزلی نے بہت خوب کہا کے اس کی والدہ کو پی ایچ ڈی خاوند مل گیا اور فخر سے اکثر کہہ جاتی کہ  اس کی دو پی ایچ ڈی ہیں حالانکہ ایک ہی تھی ۔ اور خود بھی آخر کار نیوٹریشن میں پی ایچ ڈی کر لی لیکن اُن values کا پاس نہیں رکھ سکی جو اس کا سابقہ بظاہر ان پڑھ شوہر رکھنے میں کامیاب ہو گیا ۔
ہمارا اس دنیا میں آنے کا مقصد نہ پی ایچ ڈی کرنا تھا اور نہ سی ایس ایس ، یہ دونوں means تو ہو سکتے ہیں ان پیار اور محبت والی اخلاقی قدروں تک جانے کے لیے لیکن منزل نہیں ۔ بہت دکھ ہوتا ہے ، یہاں امریکہ میں اس پر بہت شدید بحث چھڑی ہوئی  ہے خاص طور پر ٹرمپ کے آنے کے بعد ۔ ہر جگہ جمہوریت انہی قدروں کے نہ ہونے کی وجہ سے پٹ رہی ہے ۔
] رابرٹ فروسٹ ٹھیک کہتا تھا
two roads diverged in a wood, and I –
I took the one less traveled by ..
اور اپنی والدہ اور پیٹر کی شادی ختم ہونے پر لیزلی کا کہنا کہ ؛
The end of marriage was just the beginning of their story ..
ہم سب کسی نہ کسی طرح betray کر رہے ہیں بچپن اور جوانی کی وہ شئیرڈ ویلیوز کو جن پر یہ سارا کائنات کا وجود کھڑا ہے ۔ ہم سب غلط راہ پر ہیں اور مزید حماقت یہ کے چلی جا رہے ہیں یہ کہہ کر کے “کیونکہ سب اُسی راستے پر ہیں” پیٹر آج بھی اوریگون کے جنگل میں رہتا ہے ، اپنے ہاتھوں میں peace flag اور ارتھ فلیگ تھامے ، بہت مطمئن اور بہت خوش ۔ وہ جیت گیا لیزلی کی والدہ پی ایچ ڈی کر کے بھی ہار گئی  ۔
بہت خوش رہیں ۔ اپنی زندگیوں کا مقصد تلاش کرنے کی کوشش کریں ، وہی آپ کا اپنا راستہ ہے اور آپ نے خود تلاش کرنا ہے ۔ خیال رہے ، وقت بہت کم ہے ، کہیں آپ کو بھی کونڈیل کی طرح خود کشی نہ کرنی پڑے ۔ اللہ آپ سب کا حامی و ناصر ۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *