مکالمہ ، کلام ، کالم ، کلمات اور تکلم ۔۔۔محمد خان چوہدری

مکالمہ کی پیدائش ہمارے سامنے ہوئی ، لائلپور بلکہ سمندری کے رانا انعام کے شکم سے، آپ حیران مت ہوں راجپوت کا دماغ اور پیٹ متصل ہوتے ہیں، بھوکا ہو تو مغز خراب ! سیر شکم ہو تو ذہن خراب ! تا آنکہ  چالیس سال کا ہو جائے اس کے عقل و دانش کے ایپس فعال نہیں  ہوتے، مکالمہ جمتے ہی چُنگیاں کیسے لینے لگا، بھئی کچھ حساس اداروں، نہیں۔ ۔لوگوں نے اسے گود لیا، ہم قسم دے سکتے ہیں اسکی پیدائش، کان میں  اذان ، گھُٹی دینے ، نام رکھنے ، یا نائی  والی کسی بھی کارگزاری میں ہمارا کوئی  ذمہ نہیں  تھا، ہم تو برادری طور شامل ہوئے۔

یقین کریں یہ ہماری پیٹھ پیچھے تناور درخت بنا اور دیگر نیٹ ورکس پہ  چھا گیا۔۔ٹیم اچھی ہو، ارادہ بلند ہو، نیت راس ہو، بندہ ادب و آداب سے معاملہ کرے تو شہرت راتوں رات  حاصل ہو جاتی ہے۔لکھنے والے سب بڑے حساس مزاج ہوتے ہیں، انعام، اور مکالمہ کی ساری ٹیم بالخصوص اسما مغل بہت محتاط اور نفیس اخلاق کی  مالک ہیں، متنوع مضامین کی ترتیب ، ایڈیٹنگ، پبلش کرنے   کی مہارت قابل قدر ہے۔اضافی خوبی یہ بھی ہے کہ کہانی، افسانہ، انشائیہ، کالم ، داستان، کسی بھی صنف کے باکرہ ہونے پر اصرار نہیں  ہوتا۔۔۔لیکن ہر تحریر کو نومولود کی طرح ، نہلا کے سجا کے ، قارئین کو پیش کیا جاتا ہے۔

ہم اپنے مقبوضہ راجپوتی بزرگانہ شرف کے ساتھ سالگرہ کی مبارک کے ساتھ دعاؤں کا تحفہ اور محبتوں کا ہدیہ پیش کرتے ہیں، ظاہر ہے یہ تحریر مکالمہ ٹیم کے ساتھ ان کے لکھاری ، معاونین، رفیق اور رقیب بھی پڑھیں گے ۔اس اضافت کے ساتھ، مدیر اور مؤلف دائی، زچہ اور بچہ نہیں ہوتے، بلکہ قلمکار اور پیشکار ہوتے ہیں، جو یہاں اکثر دیگر سائیٹس پر دِکھتے ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *