غزہ میں بھوک کے اس انداز سے پیدا ہونے والا درد نسلوں کے لیے ہے ، جو ان کی ذاتی اور اجتماعی یادداشت میں واضح ہے۔ بھوک بھی جسم کو پریشان کرتی ہے، خاص طور پر چھوٹے بچوں میں یہاں تک کہ وہ بچے جو شدید غذائی قلت سے بچ جاتے ہیں وہ عمر بھر جسمانی اور علمی نقصان کا شکار ہو سکتے ہیں۔ جن لوگوں نے دہائیوں سے قحط کا مطالعہ کیا ہے، وہ آنے والے سماجی خاتمے کی خوفناک علامات کو سمجھتے ہیں، جب معاشرے کو ایک دوسرے کے ساتھ باندھنے والے بندھن ٹوٹ جاتے ہیں۔ اس وقت یہ وہ لمحہ ہے جب اموات کی شرح آسمان کو چھوتی ہے، اور معاشرے کے تانے بانے کو ٹھیک کرنا انتہائی مشکل ہو جاتا ہے۔ یہ ٹوٹ پھوٹ انتشار، تصادم، جرم، اور انتہائی مایوسی کی کیفیت کا آغاز کرتی ہے جو دہشت گردی کی نئی لہر کو بھی جنم دے سکتی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ غزہ اب اس مقام کی طرف بڑھ رہا ہے۔
یہ ایک ایسی آفت ہے جو طویل عرصے سے منڈلا رہی ہے، اور بہت سے لوگ پہلے ہی پیش گوئی کر چکے ہیں۔ قحط یقینی طور پر وقت لیتا ہے، اور حکام صرف حادثاتی طور پر لوگوں کو بھوکا نہیں مار سکتے۔ مارچ سنہء 2024 سے، بین الاقوامی اداروں نے بارہا خبردار کیا تھا کہ غزہ قحط کے دہانے پر ہے۔ اسی ہفتے، اقوام متحدہ کے حمایت یافتہ گروپ نے ایک نیا انتباہ جاری کیا کہ
“قحط کی بدترین صورت حال پہلے ہی سامنے آ رہی ہے۔”
تجربہ کار انسانی ہمدردی کے ماہرین اب بھی غزہ کو دہانے سے پیچھے ہٹا سکتے ہیں، اگر انہیں موقع دیا جائے۔ تاہم، کئی مہینوں سے اســرائیل نے غـزہ میں امداد کے بہاؤ کو محدود کر رکھا ہے، جس سے بھوک کے بحران میں اضافہ ہو رہا ہے جو کہ دن بدن بگڑتا جا رہا ہے، جب اســرائیل نے گزشتہ مئی میں پابندیوں میں جزوی طور پر نرمی کی تو اس نے امداد کی تقسیم کا ایک نیا نظام چلانا شروع کیا، جسے اســرائیل اور امریکہ کی حمایت حاصل ہے اور غـزہ ہیومینٹیرین فاؤنڈیشن کے نام سے ایک پرائیویٹ گروپ چلاتا ہے، جس نے بڑی حد تک روایتی امدادی ایجنسیوں کو مفلوج کردیا۔ اس نظام نے زمینی صورتحال کو مکمل طور پر نظر انداز کر دیا، اس بارے میں سوالات اٹھائے کہ آیا اســرائیل جان بوجھ کر غزہ کی پٹی میں قحط پیدا کر رہا ہے۔
یہاں یہ بات واضح رہے کہ ورلڈ فوڈ پروگرام کی طرف سے فراہم کی جانے والی امداد کئی معیار کے اعتبار سے ناکافی ہے۔ غذائیت کے ماہرین کے مطابق تنظیم کی جانب سے فراہم کیے جانے والے فوڈ ایڈ بکس غیر متوازن اور انسانی نیوٹریشن سے محروم ہیں، اور ان میں بھوک سے مرنے والی آبادی بالخصوص بچوں کے لیے ضروری غذائی اجزا کی کمی ہے۔ غذائیت کا شکار بچے کو خصوصی غذا کی ضرورت ہوتی ہے، یا فارمولہ دودھ وغیرہ، یا ان جیسے Plumpy’nut، مونگ کئی غذائی پروڈکٹس، ورلڈ فوڈ پروگرام کی طرف سے فراہم کردہ پاستا یا دال نہیں، جو اس وقت بہرحال صرف ساری بھوک مٹانے کے لئے ہیں، یہاں تک کہ اگر انسانی امداد کی تنظیم غزہ میں کافی امداد فراہم کرتی ہے، تو یہ اس بات کی ضمانت نہیں دیتا کہ وہ ضرورت مندوں تک پہنچ جائے گی، کیونکہ اس تنظیم نے پہلے اقوام متحدہ اور اس سے منسلک ایجنسیوں کے زیر انتظام 400 امدادی مراکز کو تبدیل کر دیا ہے جہاں سے زیادہ تر لوگ رہتے ہیں، صرف چار فیڈنگ سٹیشنوں کے ساتھ۔ حالیہ ہوا کے قطروں نے زمین پر صورتحال کو کم کرنے کے لیے بہت کم کام کیا ہے: امداد کی مقدار انتہائی کم ہے، اور اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کوئی طریقہ کار نہیں ہے کہ یہ غزہ کی آبادی کے سب سے زیادہ کمزور طبقات تک پہنچے۔
مئی میں اقوام متحدہ نے ایک تجویز پیش کی تھی، جس میں امداد کی تقسیم کے لیے تحفظات قائم کیے گئے ہوں گے، بشمول QR کوڈ بوجھ لے جانے والے سیل بند ٹرکوں کا استعمال، ہر کراسنگ پر اقوام متحدہ کے مانیٹر، پہلے سے منظور شدہ راستوں پر GPS سے ٹریک کیے گئے ٹرک، اور امداد وصول کرنے والوں کا وقتاً فوقتاً آڈٹ وغیرہ۔
آج ہم غزہ میں جو کچھ دیکھ رہے ہیں، مایوس لوگوں کو غنڈوں اور ھماس کے ارکان کی طرف سے ان کے راشن کے ساتھ، بلیک مارکیٹ میں فروخت کیا جا رہا ہے، پاکستان میں جتنے بھی لوگ جو انفرادی طور پر چندے جمع کرکے فلسطین کے اطرافی ملکوں میں پہنچا کر وہاں پر کیٹرنگ والوں سے اپنے ناموں کے پرنٹ کروا کر کیمپوں میں روٹیاں بانٹتے نظر آرہے ہیں ان میں سے کوئی بھی غزہ تک نہیں پہنچ رہا، یہ سب لوگ ایسا کیوں کر رہے ہیں یہ لوگ ہی جواب دہ ہوں گے، مگر خدارا ان لوگوں کو امداد مت دیجیے، یہ سب جھوٹ بول رہے ہیں کہ ان کے والنٹیئر داخل غزہ موجود ہیں، ایسا ممکن ہی نہیں ہے پھر بھی لوگ ان بے وقوفوں کے ہاتھ یا ہماری ان جماعتوں کے خدماتی ٹولوں کے ساتھ جو روزانہ تشہیر کر رہے ہیں وہ کبھی اردن جہاز پہنچا کر وہاں کے کیمپوں میں کھانا بانٹ کر اپنی تشہیر کرتے ہیں۔ یقین کریں پاکستان سے غزہ میں ایک آنے کی ،ایک روٹی کی، حتی کہ ایک نوالے کے امداد نہیں پہنچ پائی اور نہ ہی پہنچ سکتی ہے۔
یہ سچ ہے کہ اس قحط کی ذمہ داری اس وقت اســرائیل کے اپنے انتظامات کا ایک متوقع نتیجہ ہے۔ فطری طور پر جب قحط میں سماجی نظام تباہ ہو جاتا ہے، تو بھوک سے مرنے والے آخری لوگ ہتھیاروں کے ساتھ ہوتے ہیں۔ یہ ناقابل معافی ہے کہ ہم اس مقام تک پہنچے ہیں۔ دنیا میں اور بھی قحط کے ایسے واقعات ہیں، جو اپنی شدت اور ہولناکی میں غزہ کے قحط کی طرف ہونگے، مگر غزہ کے اندر، اس کے برعکس، اقوام متحدہ اور دیگر تجربہ کار امدادی ادارے تیار کھڑے ہیں، وسائل، مہارتوں اور ضروری انسانی امداد فراہم کرنے کے لیے ثابت شدہ منصوبوں سے لیس ہیں۔ مگر اســرائیل کی مرضی کے بغیر یہ ناممکن ہے، اگر اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو آج رات یہ فیصلہ کر لیں کہ غزہ کا ہر فلسطینی بچہ کل بہترین ناشتہ کرے تو بلاشبہ ایسا ممکن ہو گا۔ وہاں اتنی امداد موجود ہے، اسلئے کم ازکم ان پاکستان میں چندے مانگنے والوں سے اجتناب کریں یہ سب مصر کے اطراف میں کیمپوں کی ویڈیوز جسے غزہ ظاہر کیا جاتا ہے اور کیٹرنگ والوں سے اپنے ناموں کے پرنٹ کروا کے چند بوریوں کی روٹیاں کیمپوں میں بانٹ رہے ہیں جو غزہ میں نہیں ہیں اور اس سب پریکٹس کا مقصد اپ سے چندے لینا ہے
بہرحال غزہ میں قحط کے خاتمے کے لیے اسرائیل کو انسانی امداد کے کارکنوں کو اپنا کام کرنے کی اجازت دینی ہوگی۔ اس میں بھی شک نہیں ہے کہ ہمارے دیسی پاکستانی ہر بات میں کبھی مغرب کو اور کبھی عرب ممالک کو کون طعن کرتے ہیں ، حالانکہ آج تک عرب ریاستوں نے ہی فلسطین کو سنبھالا ہوا اور اس وقت بھی بیرون غزل جتنی دنیا کی بہترین امداد موجود ہے وہ خلیجی ریاستوں کی مہیا کردہ ہی ہے، اچھی بات یہ ہے کہ اس وقت مغرب میں ان حالات کو دیکھ کر جس طرح کی عوامی تحریک چل رہی ہیں، شائد یہ عوامی مظاہرے اســرائیل پر وہ پریشر بنا سکیں کہ تاخیر کے بغیر اقوام متحدہ کے امدادی قافلوں کی نقل و حرکت میں سہولت فراہم کرنے پر آمادہ کرلیا جائے۔ مغربی دنیا کو اس سارے معاملے میں کردار ادا کرنا ضروری ہے کہ وہ آزاد اداروں کی میں مدد کریں، تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ امداد سب سے زیادہ ضرورت مندوں تک پہنچے۔ اور اسے غزہ کے ہسپتالوں کو موت کے دہانے پر غذائی قلت کے شکار بچوں کے لیے انتہائی نگہداشت کے یونٹ قائم کرنے میں مدد کرنی چاہیے۔
درحقیقت اس وقت مغربی ممالک بشمول اســرائیل اور عالمی برادری کے پاس امداد فراہم کرنے کا سنہری موقع ہے جس سے لاکھوں لوگوں کی جانیں بچ سکتی ہیں۔ ہم مرنے والے بچوں کی قبروں کو گننے، اسے قحط یا یہاں تک کہ نسل کشی قرار دینے کا انتظار نہیں کر سکتے
اور صرف اتنا کہہ سکتے ہیں، ” ایسا موقع دوبارہ کبھی نہیں ملے گا۔
نوٹ :
1- یہ مضمون برطانوی ماہر بشریات، قحط کے ماہر، اور ورلڈ پیس فاؤنڈیشن کے) ایگزیکٹو ڈائریکٹر۔) الیکس ڈی وال کی تحریر کی معلومات سے مستعار لے کر لکھا گیا ہے, جو نیویارک ٹائمز سروس میں شائع ہوا ہے۔ یہ امداد کا معاملہ اتنا آسان نہیں ہے، جہاں اقوام متحدہ اور پوری دنیا کی انسانی حقوق کی تنظیمیں بے بس ہو رہے ہیں وہاں گلی محلوں میں اور سوشل میڈیا پر چندہ کرنے والے آپ سے جب پیسے لے کر وہاں پہنچانے کا دعوی کرتے ہیں تو آپ خود سوچیں کہ یہ کیسے سچ ہو سکتا ہے؟
2- اس وقت پوری مغربی دنیا میں غزہ کے مظلوموں کے حق میں مظاہرے ہو رہے ہیں۔ اس میں جو تصاویر کی ہیں وہ میں نے Maaz Bin Mahmood کی وال سے لی ہیں جو شائد آسٹریلیا کے آج کے مظاہروں کی تصاویر ہیں ویسے تو پوری دنیا میں اس وقت مظاہرے ہو رہے ہیں۔
لیکن جو بے وقوف یہ سمجھتے ہیں کہ عرب ملکوں میں ایسا کچھ نہیں ہو رہا تو ہر عرب ملک زمانوں سے فلسطین اور غزہ کے لیے نہ صرف آواز اٹھا رہے ہیں بلکہ امداد بھی دے رہے ہیں، ایسی ہر وال اور پوسٹ کا بائیکاٹ کریں جو جذباتی تقریر لکھ کر برا بھلا کہہ کر آخر میں آپ سے چندے مانگ رہے ہیں، جو غزہ کے نام پر پاکستان سے ایک آنہ بھی غزہ کے لوگوں تک نہیں پہنچ رہا، نہ پہنچا ہے، نہ ہی ان لوگوں سے پہنچ پائے گا اس لیے ان لٹیروں سے اپنے آپ کو محفوظ رکھیں۔ یہ بھکاری مصر کے اطراف کے بھکاریوں کے ساتھ مل کر کاروبار کررہے ہیں۔
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں