بحریہ ٹاؤن پاکستان میں جدید رہائش، سہولیات اور خوبصورت طرزِ زندگی کی ایک علامت۔ بلند و بالا عمارتیں، صاف ستھری سڑکیں، وسیع پارکس، جدید کلب، اور مصنوعی جھیلیں۔ یہ سب کچھ ایک ایسی تصویر پیش کرتے ہیں جسے اکثر “پاکستان کا یورپ” قرار دیا جاتا ہے۔ لیکن اس خوبصورتی کے پردے کے پیچھے ایک ایسی حقیقت چھپی ہے جو تلخ بھی ہے اور تکلیف دہ بھی۔یہ ایک ایسا منصوبہ ہے جس کی بنیاد ان زمینوں پر رکھی گئی جو برسوں سے مقامی ہاریوں، کسانوں اور عام شہریوں کی ملکیت تھیں۔ رپورٹس اور متاثرین کے بیانات کے مطابق، کئی جگہوں پر زمینوں کو زبردستی یا فریب کے ذریعے حاصل کیا گیا۔ قدرتی نالے، زرعی زمینیں، اور گاؤں کے گاؤں ترقی کے نام پر صفحۂ ہستی سے مٹا دیے گئے، تاکہ ایک مخصوص طبقے کے لیے مصنوعی جنت تیار کی جا سکے۔ بحریہ ٹاؤن کراچی کے حوالے سے سپریم کورٹ نے واضح حد مقرر کی تھی کہ یہ منصوبہ صرف 16,896 ایکڑ زمین تک محدود رہے گا۔ مگر دسمبر 2018 کی ایک رپورٹ کے مطابق، یہ حد عبور کرتے ہوئے بحریہ ٹاؤن 25,601 ایکڑ زمین پر پھیل چکا تھا، جس میں ضلع ملیر کی 23,936 اور ضلع جام شورو کی 1,665 ایکڑ زمین شامل تھی۔ تازہ ترین عدالتی اور تحقیقاتی رپورٹس کے مطابق، اب بھی بحریہ ٹاؤن کے پاس 19,931.63 ایکڑ زمین موجود ہے، جو طے شدہ حد سے تقریباً 3,000 ایکڑ زائد ہے۔ ان غیر قانونی توسیعات کے خلاف سپریم کورٹ اور نیب کی کارروائیاں جاری ہیں۔ سرکاری زمین کی غیر قانونی الاٹمنٹ، تجاوزات، اور مالی بے ضابطگیوں پر متعدد تحقیقات اور مقدمات زیرِ التوا ہیں۔ آج صورتحال یہ ہے کہ بحریہ ٹاؤن میں مکان خریدنے والے ہزاروں افراد شدید غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں۔ کئی بینک فنانسنگ سے انکار کر چکے ہیں، منصوبے عدالتی گرفت میں آ چکے ہیں، اور قانونی پیچیدگیاں سرمایہ کاروں کے لیے پریشانی کا باعث بن رہی ہیں۔ ایسے میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا وہ ترقی، جو بے دخلی، محرومی اور ناانصافی پر مبنی ہو، واقعی پائیدار ہو سکتی ہے؟ ملک ریاض، جو بحریہ ٹاؤن کے بانی ہیں، نے حالیہ بیانات میں اعتراف کیا ہے کہ حکومتی اداروں کی کارروائیوں، اکاؤنٹس کی منجمدی، گاڑیوں کی ضبطگی اور گرفتاریوں کے باعث بحریہ ٹاؤن کی سروسز معطل ہونے کے قریب ہیں۔ ان کے بقول، “بحریہ ٹاؤن کا آپریشن مفلوج ہوچکا ہے”، جو ہزاروں ملازمین، رہائشیوں اور سرمایہ کاروں کے لیے ایک سنگین بحران کی شکل اختیار کر چکا ہے۔یہ صورتحال اس بڑی حقیقت کو اجاگر کرتی ہے کہ جب ترقی کا ماڈل صرف اشرافیہ کے فائدے اور قانون کی دھجیاں اڑاتے ہوئے بنایا جائے، تو وہ بالآخر خود اپنی بنیاد کھو بیٹھتا ہے۔ وہ نظام جو عام شہری کے حق کو نظرانداز کرے، نہ تو قابلِ تحسین ہوتا ہے اور نہ ہی دیرپا۔ اب وقت آ چکا ہے کہ ہم بطور معاشرہ ترقی اور انصاف کے درمیان توازن پیدا کریں۔ ترقی صرف تب خوشحال ہوتی ہے جب وہ سب کے لیے ہو — نہ کہ چند طاقتوروں کے لیے، باقی سب کی قیمت پر۔
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں