مغربی تناظر میں تربیت کا تصور : ایک جائزہ (2)-وحید مراد

تربیت محض نظم و ضبط یا بچوں میں خاندانی اقدار کی منتقلی کا عمل نہیں بلکہ یہ انسانی شخصیت کی تکمیل کا ایک ہمہ گیر سفر ہے۔ اگر تعلیم کو ایک مضبوط درخت مانا جائے تو تربیت اس کی جڑ ہے جواسے زمین سے جوڑے رکھتی ہے۔ اسلامی فکر میں تربیت ایک جامع عمل ہے جو روحانی، اخلاقی، فکری، نفسیاتی اور سماجی ترقی کابیک وقت احاطہ کرتا ہے۔ مگر جب ہم مغربی معاشروں اور ان کے تعلیمی و فلسفیانہ نظریات کی روشنی میں تربیت کا تصور تلاش کرتے ہیں تو ہمیں ایسا کوئی مکمل یا ہم پلہ نظام کم ہی نظر آتا ہے جو اسلامی تربیت کے ہم معنی ہو۔
تاریخی طور پر یورپ، خصوصاً مسیحی تہذیب میں تعلیم اور اخلاق ساتھ ساتھ چلے۔ قرونِ وسطیٰ میں کلیسا اخلاقی اصولوں کا نگران تھا۔ مگر روشن خیالی (Enlightenment)کے بعد، تعلیم رفتہ رفتہ سیکولر ہوگئی۔ ریاست نے مذہب سے لاتعلقی اختیار کی اور فرد کی خود مختاری کو محور بنا لیا۔ نتیجتاً، تعلیم قدر سے خالی (value neutral) ہوگئی اور اخلاقی تربیت تعلیمی اداروں سے نکل کر والدین، مذہبی اداروں یا خود فرد کی ذاتی کوشش تک محدود ہو گئی۔
آج مغرب کے سیکولر معاشروں میں اساتذہ کو کسی مخصوص اخلاقی یا روحانی پیغام کی تبلیغ سے روکا جاتا ہے۔ اسکولز کا دائرہ کار سوشل اسکلز، بنیادی معلومات اور شہری آداب تک محدود ہے۔ کردار سازی، روحانی تربیت یا نظریاتی تشخص کی تعلیم ایک نجی معاملہ تصور کی جاتی ہے جسے ریاست اپنے دائرے سے باہر رکھتی ہے۔ مذہبی ادارے اگرچہ موجود ہیں مگر ان کا اثر تیزی سے کم ہوتا جا رہا ہے اور نوجوان نسل پر میڈیا اور صارفیت کا غلبہ زیادہ نمایاں ہے۔
یہ تمام تبدیلیاں اس بنیادی تصور پر مبنی ہیں کہ انسان اپنی اخلاقی سمت خود طے کرے، اسے معاشرہ یا مذہب متعین نہ کرے۔ یہ نظریہ آزاد خیالی اور انفرادی خودمختاری پر مبنی ہے لیکن یہ اسلامی تربیت کے اس نظریے سے یکسر مختلف ہے جس میں استاد، والدین، معاشرہ اور ریاست سب کردار ادا کرتے ہیں اور ایک اعلیٰ اخلاقی و روحانی مقصد کی جانب فرد کو رہنمائی دیتے ہیں۔
تاہم مغربی فکری دنیا میں کچھ آوازیں ایسی بھی ہیں جو اس خلا کو محسوس کرتی ہیں اور ایسی تعلیم کی وکالت کرتی ہیں جس میں تربیت بھی شامل ہو۔اگرچہ مغرب میں “تربیت” جیسی جامع اور ہمہ گیر اصطلاح براہِ راست مستعمل نہیں تاہم ان کے متعدد تعلیمی نظریات جیسے ہولسٹک ایجوکیشن، اخلاقی تعلیم، کردار سازی، اور تجرباتی تعلیم (experiential learning) اسلامی تربیت کے کئی بنیادی عناصر سے مماثلت رکھتے ہیں۔ یوں کہا جا سکتا ہے کہ مغربی ماہرینِ تعلیم نے بھی تربیت کے مفہوم پر بالواسطہ طور پر کام کیا ہے اگرچہ وہ مختلف ناموں اور فکری سانچوں میں سامنے آیا ہے۔یہاں کچھ مغربی ماہرین اور ان کے نظریات پیش کیے جا رہے ہیں جوتربیت جیسے مفہوم سے ہم آہنگ ہیں۔
جان ڈیوئی(John Dewey) تعلیم کو جمہوریت، شعور اور کردار سازی کا ذریعہ سمجھتے تھے۔ ان کے نزدیک تعلیم ایک زندہ عمل ہے جو تجربے اور معاشرتی شعور سے جُڑا ہے۔ انہوں نے تعلیم کو ایسا معاشرتی عمل قرار دیا جو انسان کے پورے وجود کو نکھارتا ہے ۔ یہ تصور تعلیم،تربیت کے بہت قریب ہےمگر اس میں روحانی یا صوفیانہ تربیت شامل نہیں ۔
ماریا مونٹیسوری (Maria Montessori) بچوں کی فطری و جذباتی نشوونما، خود اعتمادی اور شخصیت سازی کو بنیادی اہمیت دیتی ہیں۔ لیف ویگوٹسکی (Lev Vygotsky) نے سیکھنے کو ایک سماجی و اخلاقی تعامل قرار دیا جس میں استاد ایک رہنما ہوتا ہے جو بچے کو اگلی سطح تک پہنچنے میں مدد دیتا ہے، یہی تو تربیت کا جوہر ہے۔پالو فریرے (Paulo Freire) نے تعلیم کو “آزادی کا عمل” قرار دیا جس میں طالبعلم اپنی شناخت، سماجی انصاف اور ذمے داری کو شعوری طور پر سیکھتا ہے۔ اس عمل میں تعلیم کو ظلم سے نجات، شعور کی بیداری اور انسانی وقار کا ذریعہ بنایا جاتا ہے۔
لارنس کولبرگ (Lawrence Kohlberg) نے اخلاقی ترقی کے مراحل کو بیان کیا جس سے واضح ہوتا ہے کہ انسان کس طرح ضمیر، انصاف اور اصولوں کا شعور حاصل کرتا ہے۔کارل راجرز (Carl Rogers)نے فرد کی شخصیت کے باطنی ارتقا پر زور دیا ۔سیکھنے کو صرف معلوماتی نہیں بلکہ وجودی (experiential) عمل کہا جس میں جذبات، عزتِ نفس اور ذاتی ارتقا شامل ہو۔ یہ تعلیم کا ایسا تصور ہےجس میں استاد و طالب علم کے درمیان اعتماد، عزت، اور ذاتی نشوونما کی بنیاد پر سیکھنے کا ماحول پیدا کیا جاتا ہے ۔
اس کے علاوہ، ژاں ژاک روسو، ایرک ایریکسن، ژاں پیاجے، مارٹھا نوسبام، سی ایس لیوس اور میکنٹائر جیسے مفکرین نے بھی شخصیت، اخلاق اور جذباتی توازن پر توجہ دی۔ بچے کی فطری معصومیت کو محفوظ رکھنے اور سوسائٹی کے منفی اثرات سے بچانے کی بات کی۔ یہ سب نظریات اگرچہ مکمل طور پر اسلامی تربیت کے ہم معنی نہیں لیکن ان میں ایسے عناصر ضرور موجود ہیں جو تربیت کے دائرے میں آتے ہیں جیسے اخلاقی شعور، شخصیت کی تعمیر، ہمدردی، سماجی ذمہ داری اور فکری آزادی۔
مغربی معاشروں کی آزادی، سائنسی ترقی، انسانی حقوق اور فکری وسعت قابل قدر ہے لیکن یہ احساس بھی جنم لیتا ہے کہ روحانی مرکز، اخلاقی ہم آہنگی اور کردار سازی کی ایک کمی یہاں پائی جاتی ہے۔ ایک ایسی تعلیم جو محض “کیا پڑھنا ہے” تک محدود ہو وہ کبھی یہ نہیں بتا پاتی کہ “کیوں پڑھنا ہے” اور “کس مقصد تک پہنچنا ہے”۔ یہی سوالات اصل تربیت سے جُڑے ہیں۔
تربیت کسی مخصوص مذہب یا تہذیب کی میراث نہیں بلکہ انسان کی فطری ضرورت ہے ۔ تربیت وہ روشنی ہے جو علم کو عمل اور معلومات کو بصیرت میں بدل دیتی ہے۔ اگر آج کی دنیا اس روشنی سے خالی ہوتی جا رہی ہے تو یہ ہماری سب سے بڑی تعلیمی، اخلاقی اور تہذیبی ناکامی ہے۔
جاری ہے/  تیسری قسط: اسلامی نظریہ تربیت و شخصیت سازی۔

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply