احساس اور خود دریافتی کا یہ سفر کئی نوجوانوں کی طرح میرے لیے بھی ایک پیچیدہ اور گہری تلاش کا حصہ رہا۔
میں نے اپنی جوانی اُن تصورات کے ساتھ گزاری جو مجھے “مہذب”، “پروگریسو” اور “ماڈرن ” بناتے تھے۔مائیکل جیکسن، میڈونا، Schiller، Haddaway، Coldplay، Backstreet Boys، اور Celine Dion کی موسیقی،Zara، H&M، Mango، Don Carlos، Gucciجیسے برانڈز، اور “The Fault in Our Stars”، “Titanic”، “The Notebook” جیسی فلمیں ۔۔ یہ سب میری شناخت کا حصہ بن چکے تھے۔
اردو ادب، مقامی ثقافت، مادری زبان ، ان سب کے ساتھ “کم تری ” کا احساس جڑا ہوا تھا ۔مگر اندر کہیں ایک خلا تھا۔ جتنا بھی polished یہ سب تھا، ایک اجنبیت سے بھرا ہوا تھا۔ ایک احساس تھا،میں سب کچھ تھی۔۔ مگر خود نہ تھی۔
پھر ایک وقت آیا جب میں مذہب کی طرف مائل ہوئی۔اسلام میرے لیے صرف عبادت نہیں بلکہ شناخت کا نیا دروازہ بن گیا۔میں نے پردہ اپنایا، فلمیں چھوڑ دیں، موسیقی سے دور ہو گئی، اور ہر وہ چیز ترک کرنے کی کوشش کی جو “غیر اسلامی” سمجھی جاتی تھی۔مجھے لگا شاید یہی راستہ میری اصل پہچان کی طرف لے جائے گا۔مگر یہ بھی ایک دوسرا دھوکہ تھا۔مجھے ایک ایسے سانچے میں ڈھالا جا رہا تھا جہاں میں فٹ نہیں آ رہی تھی۔میری روح، میری ذات، میری اندرونی آواز یہاں بھی کہیں موجود نہ تھی۔
موسیقی حرام تھی، لیکن نصرت فتح علی خان کی کوئی قوالی، عابدہ پروین کی کوئی دھمال، یا غلام علی کی کوئی غزل میرے اندر ایک ایسا طوفان برپا کر دیتی تھی جو نہ صرف میرے جذبوں کو جھنجھوڑتا تھا بلکہ مجھے خود سے بھی روبرو کر دیتا تھا۔ اے آر رحمان اور ندیم شرون کی دھنیں مجھے وقت، زبان، اور جسم کی قید سے نکال کر کسی اور ہی جہان میں بہا لے جاتی تھیں۔
کیونکہ وہ میری اپنی ذاتی گہرائی سے ہم آہنگ ہوتا تھا۔
ایک عام، “پاپولر” ادب کا کردار ۔۔چاہے وہ کوئی عام شہری ہو یا کسی کہانی کا سادہ دیہاتی،مجھے زیادہ اچھے سے represent کرتا تھا۔
احمد فراز، فیض، ساحر لدھیانوی، یا امرتا پریتم کی نظمیں، ان کے الفاظ میرے ان کہے جذبات کے بہتر ترجمان تھے۔بلھے شاہ، وارث شاہ، بابا فرید ۔۔۔یہ صوفی بزرگ شاعر مجھے میری پہچان سے، میرے گرد و نواح سے، اور ان رشتوں سے جوڑتے تھے جنہیں میں نے کبھی سمجھا ہی نہیں تھا۔
ایک مقامی فلم، ایک دیسی کردار، یا جذبات سے لبریز کوئی منظر مجھ سے ایسے جُڑ جاتا جیسے برسوں پرانی کوئی یاد۔
ریشنل مغربی پلاٹ سے زیادہ، ایک جذباتی لوکل سین مجھے زیادہ deeply متاثر کرتا تھا۔
وقت کے ساتھ یہ احساس گہرا ہوتا گیا،
کہ جو میں ہوں، وہ میں بیان نہیں کر سکتی،
اور جو میں نہیں ہوں، وہ مجھے مسلسل دکھانا پڑتا ہے۔
یہ دوہری زندگی، یہ تضاد، یہ کشمکش،ایک اذیت ناک سفر تھا جس نے مجھے سوچنے ، غور و فکر کرنے پر مجبور کیا ۔
اور پھر یہ حقیقت وا ہوئی کہ یہ صرف ذاتی مسئلہ نہیں تھا بلکہ ایک اجتماعی نفسیاتی زخم تھا، جو نوآبادیاتی وراثت کی دین ہے۔ہمیں سکھایا گیا تھا کہ ہماری زبان، ثقافت، لباس، یہاں تک کہ خواب بھی “کم تر” ہیں۔ہمیں ایک ایسی شناخت دی گئی جو باہر سے چمکتی ہے، مگر اندر سے خالی ہے۔
مسئلہ یہ نہیں کہ ہمیں کوئی غیر ملکی گانا یا فلم اچھی لگتی ہے۔مسئلہ تب بنتا ہے جب ہمیں سکھایا جاتا ہے کہ صرف یہی سب اعلیٰ ہے۔اور جو مقامی ہے، دیسی ہے، وہ جاہلانہ، پرانا، یا گھٹیا ہے۔یہی وہ binary ہے جو نوآبادیاتی نظام کی پیداوار ہے،superior vs inferior، global vs local، modern vs traditionalجو ہمیں اپنی جڑوں سے کاٹ کر ایک imported identity پہننے پر مجبور کرتی ہے۔
نوآبادیاتی سماج میں درجہ بندی واضح ہے:
ہائی کلچر / لو کلچر، ہائی ٹیسٹ / لو ٹیسٹ، superior lifestyle / inferior lifestyle۔
نوآبادیاتی سماج میں شناخت بھی ایک status symbol ہے۔
جو کچھ دیسی، مقامی یا “low class” لگے ۔۔ وہ چھپانے کے قابل بن جاتا ہے۔
ہر postcolonial نوجوان اسی کشمکش میں جیتا ہے:
اپنے آپ کو بدلنے کی جدوجہد، اپنی زبان، رہن سہن، لہجے، اور موسیقی تک کو “جدید” بنانے کی کوشش۔۔وہ اپنی زبان بدلتا ہے، اپنی فلمیں چھوڑتا ہے، اپنے لہجے کو چپ کراتا ہے، اپنی موسیقی دباتا ہے۔وہ مسلسل اپنی اصل سے کٹنے کی کوشش کرتا ہے۔تاکہ اس privileged, urban,, global cosmopolitan layer کا حصہ بن سکے، جو اب صرف معاشی ہی نہیں، ثقافتی طور پر بھی بالادستhegemonic سمجھی جاتی ہے۔
میں یہ نہیں کہتی کہ ہمیں ماضی میں لوٹ جانا ہے، یا ہر وہ چیز رد کر دینی ہے جو باہر سے آئی ہے یا ماڈرن ہے۔میں کہتی ہوں اگر ہم اپنی تہذیبی یادداشت سے مکمل طور پر کٹ جائیں، تو ہم صرف خالی برتن بن کر رہ جاتے ہیں۔جنہیں کوئی بھی طاقت اپنی مرضی سے بھر سکتی ہے۔
یہی تو نوآبادیاتی منصوبہ تھا
یادداشت کو مٹا دو۔۔ اور ایک نئی شناخت تھوپ دو۔
اب میں اُس اندر کی آواز کو سننے کی کوشش کر رہی ہوں۔
اپنی زمین، اپنی زبان، اپنی موسیقی، اپنی کہانیوں سے جُڑنے کی جدوجہد کر رہی ہوں۔
کیونکہ اگر ہمیں یہ معلوم نہ ہو کہ ہم کہاں سے آئے ہیں، تو ہم کبھی یہ نہیں جان سکتے کہ ہمیں کہاں جانا ہے۔
اب وہ سب کچھ جو “دیس کا” ہے، میری دھڑکنوں سے جُڑنے لگا ہے۔
وہ موسیقی، وہ گیت، وہ کہانیاں… جنہیں کبھی میں نے کمتر سمجھا، اب لگتا ہے وہی میری اصل ہیں۔
مجھے لگتا ہے، میں اب خود کو “میگی” ” جولیٹ ” یا “روز” میں نہیں دیکھتی۔۔میں سسی ہوں، ہیر ہوں، سوہنی ہوں، وہ لڑکیاں جنہوں نے اپنی زمین سے جُڑے رہ کر، خود سے سچا رہ کر، محبت کرنا سیکھا۔میری پہچان نہ کسی برانڈ سے ہے، نہ کسی “image” سے۔
میری پہچان ان چیزوں سے ہے جو میرے اندر تھیں، مگر میں نے سننے میں دیر کر دی۔
اور اب جب میں اپنی زبان بولتی ہوں، اپنی مٹی کے گیت سنتی ہوں،
تو لگتا ہے جیسے میں پہلی بار “خود” سے ملی ہوں۔
ہمارا اصل کہیں باہر نہیں ہوتا، وہ تو ہمارے اندر ہی ہوتا ہے۔
بس ہم کبھی اُسے سننے کی کوشش ہی نہیں کرتے۔
Facebook Comments


بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں