اپنے بچوں کو بھیڑیوں سے بچائیں /عبدالستار

بچی گلی میں کھیل رہی تھی کہ ایک ہوس کا مارا اس کے ساتھ بوس وکنار کرتا ہے اور پتلی گلی سے نکل لیتا ہے ، وہ بدبخت کیا جانے کہ اس کی اس نجس حرکت کا ننھی بچی کی نفسیات پر کیا اثر پڑے گا ؟
اس کی روح پر ایک ایسا گھاؤ لگ چکا ہے جس کی ٹیسیں وہ عمر بھر محسوس کرتی رہے گی ۔
وہ دانشمندان اخلاق کہاں ہیں جن کا یہ ماننا ہے کہ خواتین کے بےڈھنگے   لباس کی وجہ سے مردوں کے عضوِ تناسل میں تناؤ   پیدا ہونے لگتا ہے ، پوچھنا تھا کہ اس ننھی سی بچی نے کون سا سیکسی لباس زیب تن کیا ہوا تھا ، وہ معصوم تو ابھی جنسی فہم سے ہی بےنیاز تھی ۔
اس کے معصوم دماغ پر تو ابھی کدورت ، نفرت یا کسی انکل کی نجس حرکت کی کوئی شبیہ تک نہیں ابھری تھی ، اسے تو شبہ بھی نہیں تھا کہ اس کے معصوم سے جسم کو دیکھ کر بھی کوئی بہک سکتا ہے ۔
وہ کتنا نجس انسان ہوگا جس کی ایک ننھی سی بچی کو دیکھ کر جنسی ہوس بیدار ہوگئی ، اس طرح کے جنسی و نفسیاتی مریض نجانے کہاں کہاں دبکے بیٹھے ہوں کون جانے ؟
اس ننھی سی عمر میں مرد کے جس مکروہ رویے سے اس کا پالا پڑا ہے وہ تو ساری زندگی انسانوں کے سائے سے بھی خوف کھائے گی ، اسے کیا خبر تھی کہ انسانی رویے اس قدر مکروہ اور نجس بھی ہوسکتے ہیں کہ ایک معصوم بھی محفوظ نہ رہ سکے ؟
ابھی تو ننھی زینب کو نہیں بھول پائے ، 5 سالہ ننھی سی بچی جسے ایک شیطان نے اپنی ہوس کا نشانہ بنانے کے بعد ابدی نیند سلا دیا تھا ، نجانے کتنے ننھے اور ننھیاں آئے روز شیطانی ہوس کا شکار ہوتی ہیں اور ان کا شکار کرنے والے بھی ان کے قریبی رشتے دار ہی ہوتے ہیں جن پر شک کرنے سے پہلے کئی بار سوچنا پڑتا ہے ، اس میں زیادہ تر قصور ان والدین کا ہوتا ہے جو اپنے بچوں کو گڈ ٹچ اور بیڈ ٹچ کے متعلق آگاہی نہیں دیتے ۔
جب بچوں کو گھر سے اور اپنے والدین سے آگاہی ملے گی تو وہ کوئی لائحہ عمل اختیار کر سکیں گے ، جابجا جنسی شکاری مختلف رشتوں کے روپ میں موجود ہوتے ہیں ان کے جنسی حربوں سے بچانا والدین کا اولین فریضہ ہوتا ہے ۔
یہ جنسی شکاری استاد ، ڈاکٹر ، مولوی ، پیر ، چاچو یا ماموں کے روپ میں بھی ہوسکتے ہیں اس کے علاوہ کسی بھی معتبر رشتے میں چھپے ہوسکتے ہیں ، بچوں کو گائیڈ کرنا ضروری ہے کہ کوئی بھی محترم رشتہ تمہارے وجود کو پامال نہیں کرسکتا ، اگر تمہارے پرائیویٹ پارٹس کو تمہارے حقیقی والدین نہیں چھو سکتے تو باقی رشتوں کی بھلا کیا اہمیت ہوسکتی ہے ؟
تمہارا وجود تمہاری وراثت ہے جسے تمہاری منشاء کے بغیر کوئی نہیں چھو سکتا ، کوئی کسی بھی انکل کے بھیس میں تمہیں چھونے کی کوشش کرتا ہے تو آواز بلند کرنا تم پر لازم ہے ۔
بچوں کو عمر کے حساب سے جنسی تعلیم دینے کا اولین فریضہ والدین کا ہوتا ہے ، اپنے بچوں کو کہیں بھی چھوڑتے وقت ان پر نظر لازمی رکھیں ، اس ہوس زدہ سماج میں اب کوئی بھی محفوظ نہیں رہا ، سرراہ کوئی کسی بھی لبھادے میں اپنی جنسی ہوس پوری کرے اور چلتا بنے کون جانے ؟
کیمرے کی آنکھ بھی بڑے کمال کی چیز ہے ، اتنا لوگ خدائی یقین سے خوفزدہ نہیں ہوتے جتنا کیمرے کی آنکھ سے ڈرتے ہیں ، اس ڈیجیٹل آنکھ نے بڑے بڑے پارساؤں کے مقدس لبادے الٹ دیے ہیں ، قصور والے واقعے کو بھی کیمرے کی آنکھ نے امانتاً محفوظ کر لیا تھا اور اب یہ کیمرہ مدارس یا دیگر مقدس جگہوں کے راز بھی فاش کر رہا ہے ۔

Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply