کو کو کو رینا کا راز۔۔۔ثنااللہ خان احسن

میرے خیالوں پہ چھائی ہے اک صورت متوالی سی
نازک سی شرمیلی سی معصوم سی بھولی بھالی سی
رہتی ہے وہ دور کہیں اتا پتا معلوم نہیں۔۔۔۔۔
‎کو کو کو رینا کو کو کو رینا۔۔۔۔

یہ گیت پچھلے پچاس سالوں سے نسل در نسل ہمیں محظوظ کر رہا ہے اور آج بھی اس کی مقبولیت   کم نہیں ہوئی۔ اس کے بہت سے ری مکس بھی بنے اور بے شمار گلوکاروں نے اس پر طبع آزمائی بھی کی۔ اس کو ایک ٹیلی فلم کے لئے دوبارہ فواد خان اور امینہ پر فلمایا بھی گیا۔ پاکستان کی فلمی تاریخ کے اس مشہور ترین گیت کو جو کہ 1966 میں بننے والی فلم ارمان کے لئے احمد رشدی نے گایا، وحید مراد پر فلمایا گیا اور سہیل رعنا نے اس کی  موسیقی ترتیب دی۔ میں بچپن سے اس گیت کو بڑے شوق سے سنتا تھا اور اکثر سوچا کرتا تھا کہ اس گیت کے بولوں کے پیچھے کیا راز ہے؟
گو کہ اس گیت کی دھن سہیل رعنا نے 1966میں  ترتیب دی تھی لیکن اس سے ٹھیک دس سال پہلے 1956 میں ایک معروف امریکی گلوکار جو ٹرنر جو بگ جو کے نام سے مشہور تھے نے کورین کورینا
Corine Corina
نامی گیت اسی دھن پر گایا تھا جو اب بھی آپ یو ٹیوب پر
Corine Corina Big Joe Turner
ٹائپ کر کے سرچ کرسکتے ہیں۔ تو یقیناًاس گیت کے ابتدائی الفاظ سے ملتے جلتے بولوں سے متاثر ہوکر سہیل رعنا صاحب نے یہ دھن ترتیب دی ہوگی۔ سہیل رعنا صاحب ایک عرصے تک   بچوں کی موسیقی کا پروگرام بھی کرتے رہے ہیں۔
اب تو عرصہ ہوا سہیل رعنا صاحب کینیڈا میں مقیم ہیں۔ اس میں کوئی  شک نہیں کہ سن ساٹھ اور ستر کی دہائی میں رعنا صاحب نے پاکستانی فلموں کو ایسے ایسے گیت‎دیے کہ جن کی دھن اور موسیقی آج بھی دل کے تار چھیڑ دیتی ہےاور انسان اپنے ماضی میں پہنچ جاتا ہے۔بچپن میں ریڈیو پر صبح گیارہ بجے سے بارہ بجے کے فرمائشی پروگرام یا پھر شام چار بجے کے پروگرام میں یہ گیت اکثر گونجا کرتا تھا ۔ صبح گیارہ بجے جو گھر کی رونق ہوتی ہے، جھاڑو پونچھا صفائی ستھرائی، کھانا پکانے کی تیاریاں یا کچن سے چولہے پر چڑھی ہانڈی کی خوشبو، صحن یا برآمدے میں کھیلتے شور مچاتے چھوٹے بہن بھائی اور اس سب کے ساتھ بجتا یہ گیت۔۔۔ اب جب بھی سنو ایک دم وہ سارا ماحول اور وقت اپنے پورے سحر میں ایسا جکڑ لیتا ہے کہ جیسے بس سمجھیے وہی وقت پھر لوٹ آیا ہے۔بچپن بیتا جوانی آئی۔ مجھے آرٹ  سکول جوائن کرنے کا موقع ملا جہاں سے میں نے اشتہارات کی ہدایتکاری کی تعلیم حاصل کی۔ وقت پر لگا کر اڑتا رہا لیکن اس گانے کے بول میرے کانوں میں گونجتے رہے کہ کوکو کورینا کون ہے؟ آخر شاعر نے ان عجیب و غریب مگر توجہ مبذول کرنے والے الفاظ کے پیچھے کیا پیغام دیا ہے؟ آخر شاعر نے رو رو روزینا یا گو گو گورینا وغیرہ جیسے الفاظ کیوں استعمال نہیں کیے؟

‎اتفاقاًاسی دوران مجھے میڈیا میں برانڈڈ  مصنوعات کی اشتہاری مہم اور مواقع کی تفصیل پر ایک پروجیکٹ ملا۔ اسی سلسلے میں یو ٹیوب پر کچھ میڈیا اشتہارات سے متعلق کچھ کلپس دیکھ رہا تھا کہ اچانک کوکو کورینا بھی سامنے آگیا۔ وہی گیت جو پچھلے پچیس سال سے مجھےایک سحر اور سسپنس میں مبتلا کیے ہوئے تھا۔کوکوکا رینا اپنی نارمل رفتار سے چل رہا تھا،۔ گاہے گاہے کلپ بفرنگ کے لئے تھم جاتی اور وڈیو کے کچھ فریمز اسکرین پر ٹھہر جاتے تھے۔ ایسا ہی ایک سین جب کچھ دیر کے لئے اسکرین پر جما جس میں وحید مراد ڈرم کی بیٹ پر ڈانس، تالیاں اور شرارتی حرکات کر رہے تھے، کولڈ ڈرنک کی بوتلیں پورے ہال میں گردش کر رہی تھیں، ویٹر ٹرے پر مشروب کی بوتلیں سرو کر رہے تھے اور کچھ معمولی شکل و صورت یا مضحکہ خیز شکلوں کی خواتین و ایکسٹرا گرلز ٹیڈی لباس پہنے موسیقی کی دھن پر مٹک رہی تھیں۔۔۔لیکن ٹھہرئیے۔۔۔ کیا میں نے کولڈ ڈرنکس کا ذکر بھی کیا تھا؟ جی ہاں ۔اس وقت اس فریم کو دیکھ کر اچانک مجھ پر انکشاف ہوا کہ پورے سیٹ پر کوکا کولا کی بوتلیں مہمانوں میں تقسیم کی جا رہی تھیں بلکہ سیٹ پر جگہ جگہ کوک کی بوتلوں کی برانڈنگ بھی کی گئی تھی۔ ايك جگہ کوک كی قد آدم بوتل سجائی گئی تھی۔۔ دیواروں پر کوک کے پوسٹر بھی لگے تھے۔اب میں اس گیت کے صحیح الفاظ سن سکتا تھا۔۔ کوک کوک کوک رینا۔۔۔
‎کوئی شک نہیں کہ یہ پاکستانی   فلمی تاریخ کا پہلا برانڈڈ گیت تھا جس میں کسی پروڈکٹ کی اشتہار بازی کی گئی تھی۔اب مجھے یہ علم نہیں کہ شاعر سے کوک کے الفاظ گیت میں استعمال کرنے کی فرمائش کی گئی تھی یا یہ محض ایک اتفاق تھا لیکن یہ تمام سیٹ اور گیت ، احمد رشدی کی آواز، چاکلیٹی ہیرو وحید مراد کی شرارت بھری مستیاں اور نرالے کی مزاحیہ حرکات ، جگہ جگہ کوک کی بوتلوں کی موجودگی اور برانڈنگ نےمل کر اس گانے کو کوک کا اشتہار بنا دیا ہے جو کہ فلم بینوں کے لاشعور میں کوک کو ایک مزیدار اور مسرت بھرے مشروب کی حیثیت سے محفوظ کر گیا۔
‎تو بالآخر یہ راز جو بچپن سے مجھے کوکو رینا کے بارے میں ایک تجسس میں مبتلا کیے ہوئے تھا مجھ پر افشا ہو گیا۔ بلا شبہ یہ کوک والوں کی ایک کامیاب کوشش تھی جسے فلم کے ہدایتکار، گیت کے شاعر، موسیقار اور اداکاروں نے ایک لازوال گیت بھی بنا دیا اور عوام میں کوک کا تعارف بھی انتہائی دلچسپ انداز سے کروادیا گیا۔۔
‎کوک کوک کوک رینا ۔۔ کوک کوک کوک رینا۔۔۔

‎آپ بھی گائیے۔۔۔۔ کوک کوک کوکورین

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *