موٹر وے پر ایمرجنسی میں صرف خدا کو پکاریں/قاسم یعقوب

یہ سمجھ سے بالاتر ہے کہ ہم واقعی اپنے ملک کو بہتر بنانا بھی چاہتے ہیں یا نہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے کچھ بڑی طاقتوں کا مفاد ہی اس میں ہے کہ ملک کو بدستور اسی حالت میں رہنے دیا جائے۔
ایک واقعہ سنیں اور غور کریں کہ ہم سب کس طرح ایک دوسرے کو لوٹ رہے ہیں اور اس سے بڑھ کر یہ کہ ایک دوسرے کو لٹتے دیکھنے کی ایک عجیب لذت میں مبتلا ہیں۔

کل میں اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ ایک ایمرجنسی میں اسلام آباد سے سرگودھا کی جانب روانہ ہوا۔ موٹر وے پر سفر جاری تھا کہ چکری کے قیام و طعام پر مختصر قیام کیا۔ وہاں سے کھانے پینے کی چند اشیاخریدیں اور واپسی پر سامنے موجود ٹائر شاپ دیکھ کر ٹائروں کی ہوا چیک کروانے رُک گیا۔
ابھی ہوا بھرائی کے لیے رُکا ہی تھا کہ ایک دبلا پتلا سا شخص نہایت مشکوک نظروں سے گاڑی کا جائزہ لینے لگا۔ اس نے ٹائروں کو ہاتھ لگایا اور ہوا بھرنے کے دوران یکایک کہنے لگا کہ ایک اگلا ٹائر پنکچر لگتا ہے۔ میں حیران رہ گیا کہ ہوا کیا ہے۔ وہ شخص ٹائر کھولنے لگا اور پھرایک اور اعلان کرنے لگاکہ نوزل ٹوٹ چکی ہے۔ چوں کہ میرے ساتھ فیملی تھی اور مزید رِسک لینا مناسب نہ تھا، اس لیے ٹائر کی نوزل تبدیل کروانے پر آمادہ ہو گیا۔ اسی دوران اس نے ایک اور پنکچر کا دعویٰ کر دیا اور مجھے بتانے لگا کہ نوزل ۵۵۰ روپے اور پنکچر ۵۰۰ روپے کا ہوگا۔یوں صرف ہوا چیک کروانے کی خواہش مجھے ۱۰۵۰ روپے میں پڑی۔ میں حیران تھا کہ ایک پنکچر اور نوزل کی خرابی کے ساتھ اسلام آباد سے چکری تک کیسے آیا جا سکتا ہے؟

چند لمحوں بعد ایک اور بالکل ٹھیک حالت میں نظر آنے والی گاڑی رکی، مگر وہی ’’صاحبِ پنکچر‘‘ انھیں بھی بعینہٖ یہی مسائل بتا رہے تھے۔یعنی پہلے نوزل توڑی گئی پھر ایک نہیں دو پنکچر نکال دیے گئے۔ وہ شخص بھی میرے ساتھ کھڑا ہو گیا اور اس تماشے کو دیکھنے لگا۔ میں نے ہمت کی اور موٹر وے ہیلپ لائن 130 پر کال کی کہ یہاں دھوکہ دہی ہو رہی ہے، مداخلت کریں۔ مگر جواب ملا کہ یہ FWO کے دائرۂ اختیار میں آتا ہے، اُن سے 1313 پر رابطہ کریں۔ FWO والوں کو کال کی گئی تو انھوں نے دوبارہ موٹر وے ہیلپ لائن سے رجوع کرنے کا کہا۔بالآخر مدد کے لیے آنے کا وعدہ کر دیا گیا جو ایفا نہ ہو سکا۔ اس دوران پنکچر والے پورے اطمینان اور اعتماد کے ساتھ اپنا کام جاری رکھے ہوئے تھے۔
میں نے آخرکار رقم ادا کی اور آگے بڑھ گیا۔میں حیران ہوا کہ چند کلومیٹر کے فاصلے پر ہی موٹر وے پولیس کی گاڑی کھڑی تھی، مگر انھوں نے اتنی زحمت بھی نہ کی کہ پیچھے قیام و طعام پر جا کر صورت حال کا جائزہ لیا جائے۔

محسوس یہ ہوتا ہے کہ
1۔ یہ سب ایک منظم ملی بھگت کا حصّہ ہے۔ اگر روزانہ 100 سے زائد گاڑیاں اس پنکچر شاپ پر رُکیں تو یہ کمائی لاکھوں میں جا پہنچتی ہے اور مہینے میں کروڑوں تک۔
2۔ یقیناً اس میں کئی بڑے مگرمچھوں کا حصہ ہو سکتا ہے۔
3۔ وہاں موجود کاریگر بے حد اعتماد سے بھرے ہوئے تھے، جیسے انھیں معلوم ہو کہ اصل طاقت ان کے پیچھے کھڑی ہے۔جیسے انھیں یقین ہو کہ ہم جن کے کارندے ہیں وہ تم لوگوں سے بڑے ہیں۔
4۔ ایک گھنٹے بعد شکایت پر مجھے تحریری درخواست کے لیے کال موصول ہوئی اور چار گھنٹے بعد ایک اور کال آئی کہ CCTV میں کوئی واضح حرکت دکھائی نہیں دے رہی۔ میں نے طنزاً داد دی کہ نوزل توڑنے یا جعلی پنکچر لگانے جیسا باریک کام ظاہر ہے CCTV پر نظر نہیں آئے گا۔یہ کیسی بیوقوفی ہے کہ پنکچر لگانے کا اِن ڈور عمل بھی CCTV سے ڈھونڈا جا رہا ہے۔ دلچسپ بات یہ کہ سرگودھا پہنچنے تک وہی پنکچر دوبارہ کھل چکا تھا،یعنی خدا نے کسی بڑے حادثے سے بچا لیا۔

julia rana solicitors london

خدارا رحم کیجیے! موٹر وے پر ایمرجنسی ایک خوفناک تجربہ بن چکی ہے۔ موبائل ورکشاپ والے فراڈ، قیام و طعام پر ہوٹلوں کی دھوکہ دہی اب ایک معمول بن چکی ہے۔ لوگوں نے میرے سامنے درجنوں ایسے ہی واقعات سنائے۔ اگر آپ واقعی ملک کو چلانا چاہتے ہیں تو اس نظام کو بدلیں، اس سے نفرت پیدا ہوتی ہے۔اس طوفان کو روکیےجو سب کچھ بہانے کے در پے ہے۔

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply