سائنس ہی کیوں؟۔ایمان خان

کچھ دوست اکثر سوال اٹھاتے ہیں کہ سائنس ہی کیوں؟ اعتراض کرتے ہیں کہ سائنس کو ہی کیوں معتبر مانتی ہیں۔ سائنس کو ہی کیوں فوقیت دیتی ہیں۔ عقائد کی بجائے سائنس کو ہی کیوں حقیقت اور درست تسلیم کرتی ہیں۔ ہو سکتا ہے یہ سوالات اور بھی بہت سے لوگوں سے ہوتے ہوں اور ا ن کے پاس  جواب بھی ہوں۔ ہمارے پاس بھی ان سوالات کے جواب میں چند وجوہات ہیں جس کو ہم نے ضروری سمجھا کہ بیان کیا جائے۔

سب سے پہلے تو یہ کہ بہت کچھ ایسا ہے جو سائنس نہیں سمجھ سکتی۔ بہت سے اسرار ایسے ہیں جو ابھی تک حل نہیں ہو سکے۔ اربوں نوری سالوں کی مسافت پر پھیلی دس یا پندرہ ارب سال پرانی کائنات میں یہ صورتحال ہو سکتا ہے ہمیشہ قائم رہے اور ہمیں مستقل طور پر حیرتوں کا سامنا رہے۔ پھر بھی کچھ جعلی لوگ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ سائنسدانوں کو یقین ہے جو کچھ بھی وہ دریافت کرتے ہیں وہی کچھ ہے جو موجود ہے۔

یہ ممکن ہے کہ سائنس روحانی وجدان کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیں کیونکہ اس کی کوئی شہادت نہیں ہے لیکن یہ بات یقینی ہے کہ فطرت کے بارے میں انکا علم بھی مکمل نہیں ہے۔

سائنس علم کے حصول کا مکمل اور قطعی وسیلہ بھی نہیں ہے لیکن یہی سب سے بہتر طریقہ کار ہے۔ اس اعتبار سے سائنس خاصی جمہوریت پسند واقع ہوئی ہے۔ اپنے طور پر سائنس انسانی افعال کا راستہ متعین نہیں کرتی لیکن متبادل عمل سے پیدا ہونے والے ممکنہ نتائج سے ضرور آگاہ کر دیتی ہے۔

سائنسی طرزِ فکر بیک وقت تخیلاتی بھی ہے اور پابند بھی۔ یہی اس کی کامیابی کی  اصل وجہ ہے۔ سائنس ہمیں دعوت دیتی ہے کہ حقائق اکھٹے کرو چاہے وہ ہمارے تعصبات سے کتنے ہی مختلف ہوں۔ یہ ہمیں مشورہ دیتی ہے کہ متبادل تصورات کو جاننے کی کوشش کرو اور پھر دیکھو ان میں کون سے زیادہ بہتر انداز میں ان جمع شدہ حقائق کی بنیاد پر ثابت ہوتے ہیں۔ یہ ہمیں تجویز کرتی ہے کہ ایک توازن قائم کیا جائے۔ نئے نظریات کو آنے دیا جائے چاہے وہ کتنے ہی بدعتی ہوں اور ہر شے کی کڑے معیارات پر پرکھ کی جائے چاہے وہ کوئی ایک نظریہ ہو یا روایتی دانش۔ کچھ ایسا طرزِ فکر جمہوریت بھی عام کرنے کی خواہاں ہے تاکہ تبدیلی لائی جا سکے۔

سائنس کی کامیابی کی وجوہات میں سے ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اس میں اغلاط کو درست کرنے کا ایک خودکار نظام موجود ہے۔ ہو سکتا ہے کہ کوئی کہے کہ یہ غُلو کی حد تک کی   گئی تعریف ہو گی لیکن میرے نزدیک جب بھی ہم خود پر تنقید کرتے یا حقیقی دنیا کے معیارات پر اپنے نظریات کی پرکھ کرتے ہیں تو دراصل ہم سائنس سائنس کھیل رہے ہوتے ہیں لیکن جب ہم خود پرستی کا شکار ہوتے ہیں اور خود کو تنقید سے بالاتر تصور کر لیتے ہیں اور جب ہم توقعات اور حقائق کو باہم گڈ مڈ کر لیتے ہیں تو ہم جعلی سائنس اور توہم پرستی کی طرف مائل ہو جاتے ہیں۔

عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ ہر انسان اپنے فہم، عقل اور شعور کے مطابق یہ فیصلہ کرتا ہے کہ کسی چیز کو صحیح ماننا ہے یا غلط۔ اسلئے ہمیں بھی اپنے عقل اور فہم کے مطابق جو حقیقت اور درست لگتا ہے وہی تسلیم کرتے ہیں۔ البتہ یہ دعویٰ بالکل نہیں کرتے کہ ہم ہی عقلِ کُل ہے اور صرف ہم ہی صحیح ہو سکتے ہیں۔ کسی چیز کو صحیح اور غلط ماننے کا جو حق آپ کو حاصل ہے وہی حق ہمیں بھی حاصل ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *