ایک منتشر قاری کا افسانے سے استغراقی مکالمہ/راشد سعیدی

پروشاسی، کروفر، فروشاسی”: ناصر عباس نیر کا چشم کشا افسانوی متن:
بعض اوقات دورانِ قرات ، فکشن کے قاری کے سامنے کچھ تحریریں آ جاتی ہیں جو محض کہانی نہیں ہوتیں بلکہ اس کے لیے فکری سنگ میل بن جاتی ہیں۔ یہ وہ تخلیقات ہوتی ہیں جو قاری کے ذہن کو نئے راستے دکھاتی ہیں اور شعور کی گرہوں کو سلجھاتی ہیں۔ ایسی ہی ایک تحریر ڈاکٹر ناصر عباس نیر کا افسانہ “پروشاسی، کروفر، فروشاسی” ہے، جسے پڑھ کر میر ا سابقہ ایک گہرے فکری تحیر اور ذاتی پسندیدگی کے انوکھے امتزاج سے ہوا۔ یہ صرف حروف کا مجموعہ نہیں، بلکہ “ایک طلسماتی سفر ہے جو قاری کو معنی کی تہہ در تہہ گہرائیوں اور طاقت کے مراکز کی نقاب کشائی کی طرف لے جاتا ہے۔”اچھا ادب قاری کو بے چین کرتا ہے، اسے سوال پوچھنے پر مجبور کرتا ہے۔ اس افسانے کا عنوان ہی میرے لیے ایک دعوت ِ فکر و تشکیک تھا، ایک ایسا نام جو کسی لغت میں نہیں ملتا، کسی معلوم تاریخ کا حصہ نہیں، پھر بھی اپنی موجودگی کا ایک مضبوط احساس دلاتا ہے۔ یہی تحیر کہانی کے اختتام تک نہ صرف برقرار رہتا ہے بلکہ ایک گہری فکری حیرت میں بدل جاتا ہے، جب قاری کہانی کے اندر چھپی سچائیوں اور سوالوں سے روبرو ہوتا ہے۔ یہ افسانہ، بلاشبہ، ناصر عباس نیر کی افسانوی عظمت اور علمیاتی بصیرت کا بہترین نمونہ ہے۔
یہ افسانہ اس سوال سے شروع ہوتا ہے کہ “پروشاسی” کیا ہے؟ ایک نام جو کسی لغت میں نہیں ملتا، کسی تاریخ کا حصہ نہیں، پھر بھی موجود ہے۔ اور یہیں سے ناصر عباس نیر قاری کو ایک فکری بھول بھلیاں میں لے جاتے ہیں جہاں وہ معنی کی تلاش میں بھٹکتا ہے۔ کیا معنی کوئی طے شدہ حقیقت ہیں؟ کیا وہ کاغذ پر لکھے حروف میں قید ہوتے ہیں؟ یا وہ قاری کے سینے میں، اس کے لمس میں زندہ رہتے ہیں؟ یہ سوال کہ “کیا کاغذ زیادہ معتبر ہے یا سینہ؟” اور پھر اس کا یہ جواب کہ “جب باتیں لمس کی صورت محفوظ ہوں تو وہ شک اور موت سے محفوظ ہو جاتی ہیں” – یہ محض ایک جملہ نہیں، یہ ایک فکری انکشاف ہے؛ جو یہ بتاتا ہے کہ حقیقی علم، حقیقی سچائی، وہ نہیں جو ہم پر مسلط کی جائے، بلکہ وہ ہے جو ہمارے وجود کا حصہ بن جائے، ہماری روح میں سرایت کر جائے۔ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ بڑی سے بڑی آمریت بھی اس علم کو نہیں مٹا سکتی جو سینوں میں بس جائے، کیونکہ سینے میں کاغذ سے زیادہ گہری لکھت نقش ہو سکتی ہیں۔ یہ افسانہ سوچنے پر مجبور کیا کہ ہماری اپنی زندگیوں میں بھی کتنی ہی سچائیاں ہیں جو الفاظ میں بیان نہیں ہو سکتیں، وہ محض احساسات، لمحات اور لمس بن کر ہماری ذات کا حصہ بن جاتی ہیں۔
افسانے میں پروشاسی کے بعد “کروفر” اور پھر “فروشاسی” جیسے ناموں کا ظہور، جو بظاہر الگ لگتے ہیں مگر ایک دوسرے سے جڑے ہوئے محسوس ہوتے ہیں، یہ معنی کی کثیرالجہتی اور ابہام کی جمالیات کا بہترین مظہر ہے۔ یہ اسلوبیاتی سیمابیت ہی ہے جو قاری کو ایک معنی پر ٹھہرنے نہیں دیتی، بلکہ اسے بار بار متن کی طرف لوٹنے، نئے سرے سے سوچنے اور نئی تعبیرات تلاش کرنے پر اکساتی ہے۔ یہ کہانی اپنی ساخت میں اتنی metafictional ہے کہ راوی اپنی تلاش اور کہانی کو آگے بڑھانے کے لیے اپنے “اندازوں” کا ذکر کرتا ہے! یہ تکنیک اس بات کا شعور دلاتی ہے کہ جو کچھ ہم پڑھ رہے ہیں وہ ایک تشکیل کردہ حقیقت ہے، اور اس کی حقیقت اس کے متن کے اندر ہی موجود ہے، باہر نہیں۔ یہ فنکارانہ چمتکار ناصر عباس نیر کے قلم کو اردو فکشن میں ایک منفرد مقام عطا کرتا ہے اور یہ کہانی محض کہانی نہیں رہتی بلکہ کہانی کے اندر کہانی، اور کہانی پر انتقاد بن جاتی ہے، ایک ایسا آئینہ جو اپنی ذات کی عکاسی بھی کر رہا ہو۔
اس افسانے کا ایک اور چشم کشا پہلو طاقت اور جبر کی پیچیدہ حرکیات کو بے نقاب کرنا ہے۔ پروشاسی کی کتابوں کا جلایا جانا اور پھر اس کے ذکر پر مبنی ہر کتاب کا ممنوع قرار پانا، یہ کسی بھی آمرانہ نظام کی بھیانک تصویر ہے جو نہ صرف جسموں پر حکمرانی کرتا ہے بلکہ ذہنوں، فکروں اور سچائیوں کو بھی اپنی مرضی کے مطابق ڈھالنا چاہتا ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ علم اور سچائی پر پابندی کس طرح لگائی جاتی ہے اور کس طرح تاریخ کو مسخ کیا جاتا ہے۔لیکن اس سے بھی زیادہ عبرتناک صورت حال فروشاسی کے کردار میں نظر آتی ہے۔ بادشاہ اسے لکھنے سے نہیں روکتا، “جاؤ لکھو، میں تمہیں نہیں روکوں گا” – لیکن اگلا جملہ ایک زہریلا خنجر ہے: “لیکن تم جو کچھ لکھو گے، وہ لوگوں تک نہیں پہنچ پائے گا، اور ہر سال کے آخر میں تم اسے خود اپنے ہاتھوں سے جلاؤ گے!” تصور کیجیے، ایک فنکار کے لیے اس سے بڑا عذاب کیا ہو سکتا ہے کہ وہ تخلیق تو کرے مگر اس کی تخلیق ابلاغ کی روشنی نہ دیکھ پائے، وہ اپنے فن کا خود قاتل بنے! یہ نفسیاتی جبر کی وہ خوفناک شکل ہے جہاں آزادی کا فریب دے کر روح کو تار تار کر دیا جاتا ہے۔ ناصر عباس نیر نے یہاں طاقت کے اس پیچیدہ میکانزم کو اجاگر کیا ہے جو انسان کو ظاہری آزادی دے کر اس کے اندر ایک مستقل کسک اور روحانی اذیت پیدا کر دیتا ہے۔ یہ محض سنسر شپ نہیں، یہ روح کو مسخ کرنے کی کوشش ہے۔ مجھے اس حصے کو پڑھتے ہوئے اندر ہی اندر ایک بے چینی سی محسوس ہوئی کہ ہماری دنیا میں کتنے ہی قلم ایسے ہیں جن کو لکھنے کی آزادی تو ہے مگر ان کے ابلاغ پر قدغن لگا دی جاتی ہے، اور وہ اپنے ہی الفاظ کی قبریں کھودنے پر مجبور ہیں۔
افسانے کا اختتامی حصہ، جسارت عالی خاں کا “عجب رقعہ” اور زہرہ پر مقیم شخص کا بیانیہ، انسانی وجود کے ازلی کرب، ہجرت کے دکھ اور جڑوں کی تلاش کی ایک کائناتی تمثیل ہے۔ یہ شخص جنت جیسی مثالی جگہ پر پہنچ کر بھی بے چین ہے، وہاں اسے حور و غلمان کی نہیں بلکہ اپنی ماں کی گود، بچپن کے کچے گھر، اور آم کے درختوں کی آرزو ہے۔ “کوکھ، ذہن سے بڑی ہوتی ہے” کا جملہ، جو اس افسانے کی جان ہے، ایک ایسا فکری بھونچال ہے جو صدیوں کے فلسفے کو ایک لمحے میں چیلنج کرتا ہے۔ یہ جملہ عقل اور منطق پر جذبوں، رشتوں اور بنیادی انسانی فطرت کی برتری کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ ہمارے وجود کی گہری سچائیوں کو بیان کرتا ہے کہ انسان کی اصل پہچان اس کی جڑوں، اس کے جذباتی تعلقات اور اس کی یادوں میں پنہاں ہے۔ یہ کردار ایک “کائناتی مہاجر” ہے جو کہیں بھی مکمل طور پر ٹھہر نہیں سکتا، کیونکہ اس کی روح اپنی اصل تلاش کر رہی ہے۔ داروغے کا یہ تلخ تبصرہ کہ “آل آدم جہاں جاتی ہے، وہیں اس کا جی نہیں لگتا۔ رہتی ایک جگہ ہے، خواب دوسری جگہ کے دیکھتی ہے” – انسانی فطرت کی ازلی بے چینی، عدم اطمینان اور اپنے آپ سے فرار کی خواہش کا بہترین عکاس ہے۔ اس نے مجھے اپنے اندر جھانکنے اور یہ پوچھنے پر مجبور کیا کہ کیا میں بھی اسی طرح کسی ایسی جنت کا خواب دیکھ رہا ہوں جو درحقیقت میرے اندر موجود میری اپنی جڑوں میں پیوست ہے؟
ناصر عباس نیر نے اس افسانے کے ذریعے یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ نہ صرف اردو کے ایک بہترین نقاد ہیں بلکہ ایک غیر معمولی افسانہ نگار بھی ہیں۔ ان کا قلم صرف کہانی نہیں بنتا بلکہ علمیاتی (epistemological) اور سماجی شعور پیدا کرنے کا ذریعہ ہے۔ وہ قارئین کو محض تفریح نہیں دیتے بلکہ انہیں طاقت کے مراکز پر سوال اٹھانے اور سچائی کی مختلف پرتوں کو سمجھنے پر مجبور کرتے ہیں۔ یہ افسانہ جدیدیت اور مابعد جدیدیت کے فکری بیانیوں کو اس طرح جذب کرتا ہے کہ وہ اردو قاری کے لیے اجنبی نہیں رہتے بلکہ اس کے اپنے تجربے کا حصہ بن جاتے ہیں۔ان کا اسلوب عالمانہ ہے مگر بوجھل نہیں۔ ہر لفظ سوچا سمجھا، ہر جملہ فکری گہرائی کا حامل۔ وہ اپنی تحریر میں ایک ایسی تجریدی فضا قائم کرتے ہیں جو قاری کو اس کی اپنی دنیا سے ماورا لے جاتی ہے، جہاں وہ علامتوں، استعاروں اور فلسفیانہ خیالات کے سمندر میں غوطہ زن ہوتا ہے۔ نیر صاحب کی عظمت اس بات میں ہے کہ وہ اتنے پیچیدہ نظریات کو ایک کہانی کی شکل میں اس طرح پیش کرتے ہیں کہ وہ ہر سطح کے قاری کے لیے قابلِ فہم اور دلچسپ ہو جاتے ہیں۔ ان کی یہ تحریر مجھے یہ احساس دلاتی ہے کہ اچھا ادب صرف جمالیاتی حظ نہیں دیتا بلکہ وہ ذہن کے دریچے کھولتا ہے، سوچ کو نئی سمت دیتا ہے اور ہمیں اپنے اردگرد کی دنیا کو ایک نئے تناظر سے دیکھنے پر اکساتا ہے۔ یعنی حقیقی ادب ایک ایسی آواز ہوتی ہے جو جبر کے سامنے سر نہیں جھکانا نہیں بلکہ سوال اٹھانا سکھاتی ہے۔

julia rana solicitors

بشکریہ فیس بک وال

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply