الوداع، تیمور حسن تیمور/آغر ندیم سحرؔ

تیمور حسن تیمور کی ناگہانی موت نے ادبی دنیا کو انتہائی دکھی کر دیا ہے، اس جیسی شاندار زندگی تو لاکھوں آنکھوں والے بھی نہیں گزار سکتے، وہ بصارت سے محروم تھا مگر اس نے اس محرومی کو اپنی کمزوری نہیں، طاقت بنایا، اس نے دوستوں سے کبھی اس چیز کا ڈسکائونٹ نہ لیا کہ وہ بصارت سے محروم ہے اور اسے “سپیشل ٹریٹ”کیا جائے، اس نے دنیا کو بتایا کہ اگر آپ میں ہمت اور لگن ہے تو دنیا کا کوئی کام بھی ناممکن نہیں ہے۔

ایم اے اردو کیا، اوپن میرٹ پر لیکچرار بھرتی ہوا، پی ایچ ڈی کی اور شکیب جلالی پر تحقیقی مقالہ لکھ کر ڈاکٹریٹ کی ڈگری پائی، اس سارے سفر میں تیمور حسن تیمور نہ ڈگمگایا اور نہ ہی اس کی ہمت ٹوٹی، مسلسل چلتا رہا، اپنا راستہ بناتا رہا، دنیا کو تسخیر کرتا رہا، تازہ شعر کہتا رہا ہے اور دنیا بھر میں اپنی شاعری کی بنیاد پر عزت کمائی، یہ تھا ہمارا محبوب دوست تیمور حسن تیمور۔

شادی کے بعد زندگی اس کے لیے آسان ہوگئی تھی، شریک حیات نے اپنی آنکھوں سے دنیا دکھائی، ہر دکھ سکھ میں تیمور کے ساتھ کھڑی رہیں، دھوپ چھائوں میں تیمور کا سہارا بنی۔ تیمور اکثر کہا کرتا تھا کہ میری وائف میرا حوصلہ اور ہمت ہیں، انھوں نے مجھے کسی مقام پر تنہا نہیں ہونے دیا، تہذیب یافتہ خاندانوں کی بیٹیاں ایسی ہی ہوتی ہیں، جیسے ہماری بھابھی ہیں۔ تیمور کا دوسرا بیٹا پیدا ہوا تو دوستوں کوفون کرکے کہا کہ “دیکھو! اب میری دونوں آنکھیں مکمل ہوگئی ہیں، اب میں دنیا کو بہتر دیکھ سکتا ہوں”۔ شاید اسی زمانے میں ہی تیمور نے یہ اشعار کہے تھے۔

میرے بیٹے میں تمہیں دوست سمجھنے لگا ہوں
تم بڑے ہو کہ مجھے دنیا دکھانا مرے دوست

دیکھ سکتا بھی نہیں مجھ کو ضرورت بھی نہیں
میری تصویر مگر اس کو دکھانا مرے دوست

میں نے تیمور کے ساتھ بہت سے سفر کیے مگر 2015ء کا کراچی کا سفر بہت یادگار تھا، ہم دونوں دوستوں نے یہ سفر ٹرین کے ذریعے کرنے کا ارادہ کیا اور پھر یہ سفر کتنا شاندار ہوگا، آپ خود سوچ لیں۔ تمام راستے تیمور کی بذلہ سنجی، جگت بازی، لطیفہ گوئی، شاعری، قہقہوں سے لطف اندوز ہوتا رہا، اسے تنگ کرنے میں بہت مزا آتا تھا کیوں کہ جب اسے کسی بات پر اختلاف ہوتا تو وہ کھلی گالی دیتا مگر ساتھ ہی کچھ دیر بعد “لو یو”کہ دیتا۔

ہم دوست جانتے ہیں کہ “لو یو” تیمور کا تکیہ کلام تھا، وہ جب لڑائی جھگڑا کرکے تھک جاتا تو خود ہی راضی ہو جاتا، پیارسے گلے لگاتا اور آگے چل پڑتا، یہی نشانی ہوتی ہے شفاف دل آدمی کی۔ جن دوستوں نے اردو دنیا دیکھی ہے، وہ خوب جانتے ہوں گے کہ ہمارے ہاں منافقت اور چور بازاری کس قدر عروج ہر ہے، وہ دوست جو ایک محفل میں آپ کو غالب سے بڑا شاعر کہتے ہیں، اگلی ہی کسی محفل میں وہ آپ کی ٹانگیں کھینچ رہے ہوتے ہیں۔

تیمور تلخ ضرور تھا مگر منافق نہیں تھا، وہ جھگڑا کر لیتا تھا مگر دوستوں کی غیبت نہیں کرتا تھا، وہ اندر اور باہر سے صاف شفاف تھا اور اس بات کی تصدیق پوری ادبی دنیا کرتی ہے۔ تیمور کبھی مشاعروں کی سیاست کا حصہ نہیں رہا، ہمیشہ سربلند رکھا اور یہی وجہ ہے کہ اللہ نے اسے سینکڑوں شاندار اشعار دیے تھے، اس کی شاعری میں برکت کی سب سے بنیادی وجہ اس کا خلوص تھا۔ تیمور کے جنازے میں شریک ہر شخص اس بات کی گواہی دے رہاتھا کہ ایک باہمت اور مخلص شخص رخصت ہوا، ایسا شخص جس نے دوسروں کے لیے ہمیشہ آسانیاں پیدا کیں، کبھی کسی سے ناراض بھی ہوا تو دھوکا نہیں تھا، تکلیف نہیں دی، ناراضی میں بھی دوستوں کا بھرم رکھا۔

2012ء میں منڈی بہاء الدین میں پہلی اردو کانفرنس کا منصوبہ بنایا تو بردار عفیف طہٰ نے ڈاکٹر تیمور سے تعارف کروایا، وہ تعارف اور شناسائی اب دوستی اور محبت میں بدل چکی تھی، اب وہ میرا غٖم شناس بھی تھا اور ہم راز بھی۔ میرے لاہور میں آنے کے بعد میرے لیے شیلٹر کا کام کیا، ادبی دنیا میں میرا سہارا بنا، مجھے متعارف کروایا، مجھے اس چیز کا احساس دلایا کہ میں اکیلا نہیں ہوں، کوئی ہے جو میرے لیے سوچتا ہے، دعا کرتا ہے، ہمت بندھاتا ہے، پیار کرتا ہے۔

مجھے تیمور سے ملنے والے پیار اور اعتماد نے بہت حوصلہ دیا، میں وقت کے ساتھ ساتھ اس کا بے تکلف دوست بن گیا تھا، وہ عمر اور تجربے میں مجھ سے کہیں بڑا تھا مگر سچ پوچھیں تو جب ہم گپ شپ لگا رہے ہوتے، کبھی احساس نہ ہوتا کہ میں اس سے چھوٹا ہوں، میں بھی تیمور کی طرح اسے جگتیں لگاتا اور پھر ہم مل کر قہقہہ لگاتے۔ سیاسی طور پر تیمور ہمیشہ میرے مخالف سمت رہا، ہم جب سیاست پر بحث کرتے تو خوب جنگ ہوتی، دونوں ایک دوسرے کے سامنے دلائل کے انبار لگا دیتے، جیت بہرحال تیمور کی ہوتی تھی کیوں کہ اس کو غصہ دلا کر میں خاموش ہو جاتا تھا، وہ بولتا رہتا اور خود ہی تھک کر خاموش ہو جاتا۔

julia rana solicitors london

آج جب تیمور دنیا سے چلا گیا، مجھے یہ اقرار کرنے میں کوئی عار نہیں کہ اس نے دوستوں سے جس طرح ٹوٹ کر محبت کی، ایسا فی زمانہ بہت کم دیکھا گیا، وہ دوستوں پر واقعی جان چھڑکتا تھا، ان کی خوشی میں خوش اور ان کے دکھ میں دکھی ہونا والا دوست تھا۔ تیمور جس محفل میں بھی ہوتا، مرکزِ نگاہ ہوتا، جب وہ “فل فارم” میں ہوتا تو خود کو جگتیں لگاتا اور خود پر لگنے والی جگتوں کو انجوائے کرتا، حاضر دماغ اتنا تھا کہ کوئی اس سے بچ نہیں سکتا تھا، ہر جگت اور جملے کامنہ توڑ جواب دیتا۔ اس کا قہقہہ محفل میں موسیقی کا کام کرتا تھا، اس کا دبنگ لہجہ مشاعروں میں بھی چلتا اور محافل میں بھی، وہ ہوتا تو پھر وہی ہوتا اور ہم سب سامع ہوتے۔

Facebook Comments

آغر ندیم سحر
تعارف آغر ندیم سحر کا تعلق منڈی بہاءالدین سے ہے۔گزشتہ پندرہ سال سے شعبہ صحافت کے ساتھ وابستہ ہیں۔آپ مختلف قومی اخبارات و جرائد میں مختلف عہدوں پر فائز رہے۔گزشتہ تین سال سے روزنامہ نئی بات کے ساتھ بطور کالم نگار وابستہ ہیں۔گورنمنٹ کینٹ کالج فار بوائز،لاہور کینٹ میں بطور استاد شعبہ اردو اپنی خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔اس سے قبل بھی کئی اہم ترین تعلیمی اداروں میں بطور استاد اہنی خدمات سرانجام دیتے رہے۔معروف علمی دانش گاہ اورینٹل کالج پنجاب یونیورسٹی لاہور سے اردو ادبیات میں ایم اے جبکہ گورنمنٹ کالج و یونیورسٹی لاہور سے اردو ادبیات میں ایم فل ادبیات کی ڈگری حاصل کی۔۔2012 میں آپ کا پہلا شعری مجموعہ لوح_ادراک شائع ہوا جبکہ 2013 میں ایک کہانیوں کا انتخاب چھپا۔2017 میں آپ کی مزاحمتی شاعری پر آسیہ جبیں نامی طالبہ نے یونیورسٹی آف لاہور نے ایم فل اردو کا تحقیقی مقالہ لکھا۔۔پندرہ قومی و بین الاقوامی اردو کانفرنسوں میں بطور مندوب شرکت کی اور اپنے تحقیق مقالہ جات پیش کیے۔ملک بھر کی ادبی تنظیموں کی طرف سے پچاس سے زائد علمی و ادبی ایوارڈز حاصل کیے۔2017 میں آپ کو"برین آف منڈی بہاؤالدین"کا ایوارڈ بھی دیا گیا جبکہ اس سے قبل 2012 میں آپ کو مضمون نگاری میں وزارتی ایوارڈ بھی دیا جا چکا ہے۔۔۔آپ مکالمہ کے ساتھ بطور کالم نگار وابستہ ہو گئے ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply