جنابِ یونس ایمرےؒ کے ہاں حاضری نہایت پُرکیف رہی۔ جنگل میں منگل کا سماں تھا۔ دل کی ویرانی یہاں خوب بہل گئی۔ ایسے معلوم ہو رہا تھا جیسے ہم سات سو برس قبل جناب یونس ایمرےؒ سے بنفسِ نفیس ملاقات کی غرض سے حاضر ہو رہے ہیں۔ یہ بھی عجب لوگ ہیں، دنیا سے اٹھتے ہیں تو دل میں آن بستے ہیں۔ فنا کے دیس سے ہجرت کرنے والے بقا میں آن بستے ہیں۔ دل کی دنیا بقا کی دنیا ہے ۔ یوں بھی ہجرت صرف اللہ اور رسولؐ کی خاطر ہوتی ہے، کسی معاشی اور معاشرتی بہتری کے لیے نہیں ہوتی۔ انکا وجود، روح اور نفس تینوں مہاجر ہوتے ہیں۔ مہاجرت میں مشاہدت لازم ہے۔ اللہ اور رسولؐ کے لیے کی گئی ہجرت نئے مناظر، نئے افراد اور ایک نیا مابعد سامنے لے کر آتی ہے۔ اس باب میں سب سے پہلی ہجرت تو اپنی خواہش سے دستبرداری ہے۔ اپنی رضا سے برضا و رغبت دستبردار ہونے والا اپنے رب کی رضا کا مشاہدہ کرتا ہے۔ وہ دیکھتا ہے کہ جو میں دیکھتا ہوں، وہ درست نہیں، بلکہ جو وہ دکھاتا ہے، وہی درست حقیقت ہے۔ انسان جو کچھ بھی اپنی خواہش کے زیرِ اثر دیکھتا ہے، وہ ایک سحر ہے ۔ ظن و گمان ہے ۔ اور ظن کبھی حقیقت کا متبادل نہیں ہوتا۔ ہماری خواہش ہمارے لیے طلسم تراشتی ہے اور ہم ہیں کہ اس طلسم کدے کو حقیقت سمجھ کر اس میں بسر کرنے لگتے ہیں۔ خواہش کے طلسم کدے سے نجات لازم ہے۔ خواہش سے کامل نجات کوئی مردِ کامل ہی عطا کرتا ہے۔ انسان خود سے اپنی خواہش سے نجات حاصل نہیں کر سکتا۔ خود ساختہ کوششوں سے نجات نہیں ملتی۔ نجات کے لیے کوئی نجات دہندہ چاہیے۔
یونس ایمرےؒ خوش نصیب ٹھہرے کہ انہیں شیخ تاپدوک ایمرےؒ مل گئے، جو ان کے حق میں پیرِ کامل ثابت ہوئے۔ لوگ اکثر پوچھتے ہیں کہ پیرِ کامل کی پہچان کیا ہے ۔ دراصل بات پیرِ کامل کی نہیں، مریدِ کامل کی ہوتی ہے۔ مرید کامل ہو تو بات بن جاتی ہے۔ کامل مرید پتھر سے بھی چشمہ نکال کر لے آتا ہے۔ باالفاظِ دیگر یہ اپنا ہی ذوقِ دروں ہے جو جنوں کی راہ دکھاتا ہے۔ خرد کی گتھیاں سلجھانے والے صاحبِ جنوں ہونے کی دعا کرتے پائے گئے ہیں۔ بہرطور شیخ تابدوک ایمرے شیخِ کامل تھے یا جنابِ یونس مریدِ کامل ۔ کمال یہ ہوا کہ رانجھا رانجھا کردی نی میں آپے رانجھا ہوئی کے مصداق جنابِ یونس اپنی شیخ کی نسبت سے ایمرے ہی کہلائے۔ دوئی کا ختم ہو جانا ہی وحدتِ فکر و عمل کی معراجِ کمال ہے۔
جنابِ یونس ایمرےؒ کی شخصیت پر ترکیہ کے سرکاری ٹی وی نے ایک سیریز بھی بنائی تھی، مختلف زبانوں میں ڈبنگ ہوئی اور یہ ریڈیائی سلسلہ بہت مقبول ہوا تھا۔ پی ٹی وی نے بھی اردو ڈبنگ کے ساتھ اسے یہاں نشر کیا تھا۔ چند دوستوں نے اسے دیکھنے کی بھرپور سفارش کی، لیکن میرا خیال اس طرف مائل نہ ہوا۔ خیال یہی تھا کہ اصل کی نقل دیکھنے کا کیا فائدہ۔ ہم جو کچھ اس ڈرامے میں دیکھیں گے، وہ جناب یونس ایمرے کا خیال نہیں بلکہ ڈرامہ سیریز کے رائٹر اور ڈائریکٹر کا تخیل ہو گا۔ یوں اپنے شعور کو نقل کا عادی کیوں بنایا جائے۔ البتہ یہ ضرور ہوا کہ جنابِ یونس ایمرےؒ کے ہاں حاضری کے بعد جب چناکلے دوبارہ لوٹے تو بیٹے سے کہا کہ ہمیں وہ ڈرامہ لگا کر دو۔ اس نے پہلے تو انگریزی سب ٹائٹل کے ساتھ لگا کر دیا، لطف نہ آیا۔ انگریزی میں اتنی گہرائی نہیں کہ وہ روحانیت سے لبریز جملے کو اسی لطف کے ساتھ منتقل کر دے۔ ہم کھانے کی میز پر روزانہ دن میں تین مرتبہ صبح دوپہر شام یہ ڈرامہ لگا کر بیٹھ جاتے۔ بیٹا جب ترکی کا ترجمہ کرتا تو وہ انگریزی سب ٹائٹل سے بہت بہتر ہوتا۔ اس لیے چند ایک قسطوں کے بعد ہم اردو ڈبنگ پر آ گئے۔ اس شخصیت سے دل چسپی نے ہمیں درجن بھر قسطیں لگاتار دیکھنے پر مجبور کر دیا۔ یوں محسوس ہواجیسے رائٹر اور ڈائریکٹر دونوں پر جناب یونس ایمرے کا روحانی تصرف ہے۔
ہمارے ہاں یہی ’’راہِ عشق‘‘ دیکھنے والے حضرت یونس ایمرےؒ سے متعارف ہوئے۔ شائد اب وقت آ گیا ہے کہ روحانی پیغام بھی ہر سطح پر اور ہر میڈیم پر نشر ہو۔ یاد آیا، ارطغرل غازی کی سیریز میں حضرت ابنِ عربیؒ کا کردار شامل تھا۔ ایک پروگرام میں اس کے ڈائریکٹر نے بتایا کہ اسے حضرت ابنِ عربیؒ کی زیارت ہوئی تھی۔ لگتا ہے کہ روحانی شخصیات اب جدید ٹیکنالوجی پر بھی متصرف ہو رہی ہیں۔ ترکی میں قیام کے دوران وقت وافر تھا، اس ڈرامہ سیریز نے دل تو بہلائے رکھا، لیکن نقصان یہ ہوا کہ لکھنے پڑھنے کا جو سامان اور پروگرام ہم ساتھ لے کر گئے تھے، وہ دھرے کا دھرا رہ گیا۔ خیال یہ تھا کہ وہاں فرصت ملے گی تو چند ایک نامکمل کام مکمل کر لیں گے ۔ لیکن بسا آرزو کہ خاک شد۔ ڈیجیٹل میڈیا کے بارے میں کہتے ہیں کہ وقت بچاتا ہے، فاصلے سمیٹتا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ وقت برباد کرتا ہے اور فاصلے بڑھا دیتا ہے۔ بہرطور توبہ کا راستہ ہر وقت کھلا ہے۔ توبہ حال کو بحال کر دیتی ہے، لیکن برباد شدہ وقت بھی لوٹاتی ہے یا نہیں ۔ یہ معلوم نہیں ۔
Facebook Comments


بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں