کیا تعلیم کا مقصد روشنی ہے یا اندھیروں کا تسلسل؟
کیا امتحانی نظام کا معیار شفافیت ہے یا صریح ناانصافی؟
یہ سوال آج پنجاب بھر کے ہزاروں نرسنگ کے طلبہ و طالبات پوچھ رہے ہیں جن کے خواب، محنت، اور مستقبل کو “پالیسی تبدیلی” کے نام پر کچل دیا گیا ہے۔
یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز لاہور کی جانب سے 24 جولائی 2025 کو جاری کیے گئے بی ایس نرسنگ سیکنڈ سمیسٹر سیشن 2024-27 کے نتائج نے ہزاروں نرسنگ طلبہ و طالبات کو نہ صرف شدید ذہنی صدمے سے دوچار کیا بلکہ ان کے مستقبل پر ایک سیاہ دھبہ بھی لگا دیا۔ ان طلبہ کے تحریری امتحانات 17 فروری سے 27 فروری 2025 تک منعقد ہوئے، اور اس کے بعد ایک ہفتے کی چھٹی کے بعد عملی امتحانات لیے گئے۔ امتحانات کے وقت تک یونیورسٹی کی آفیشل پالیسی یہی تھی کہ پاسنگ مارکس 50 فیصد ہوں گے، اور طلبہ اسی شرح کے مطابق تیاری کرتے رہے۔ لیکن پانچ جون 2025 کو اچانک ایک نوٹیفکیشن جاری ہوا جس کے تحت پاسنگ مارکس کو بڑھا کر 60 فیصد کر دیا گیا۔ یہی نیا معیار، نتائج تیار کرتے وقت لاگو کر دیا گیا، گویا نئی پالیسی کو ماضی پر نافذ کیا گیا۔
یہ فیصلہ نہ صرف اصولِ انصاف کے منافی ہے، بلکہ تعلیم جیسے مقدس شعبے کی ساکھ پر کاری ضرب بھی ہے۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے کسی طالبعلم کو پیپر دینے کے بعد بتایا جائے کہ سوالنامہ بدل چکا ہے۔ ایسا اقدام کسی جمہوری یا مہذب تعلیمی نظام میں قابل قبول نہیں ہو سکتا۔ صرف پنجاب ہی نہیں، ملک بھر کے نرسنگ کے طلبہ و طالبات اس غیر منصفانہ اقدام سے شدید متاثر ہوئے ہیں۔ 6200 میں سے صرف 2000 طلبہ کامیاب قرار دیے گئے، اور باقی یا تو فیل ہو گئے یا انہیں probation کی سولی پر لٹکا دیا گیا۔
یہ تعداد صرف گنتی کا کھیل نہیں، یہ 4200 نوجوان ذہنوں کے ٹوٹے خواب، بکھری امنگیں، اور مایوس چہرے ہیں۔ یہ وہ بچے ہیں جنہوں نے معاشی تنگدستی، سماجی دباؤ، اور تعلیمی مشکلات کے باوجود اپنے والدین کے سہارے نرسنگ جیسے عظیم پیشے کو اپنایا۔ یہ وہ طالبعلم ہیں جو کل ہمارے ہسپتالوں میں مریضوں کی جان بچائیں گے، ہماری ماؤں، بہنوں، بچوں کی تیمارداری کریں گے، لیکن آج انہی کے ساتھ ایسا سلوک روا رکھا جا رہا ہے گویا وہ مجرم ہوں۔
تعلیم کوئی تجارتی معاہدہ نہیں، یہ ایک سماجی، اخلاقی، اور انسانی فریضہ ہے۔ دنیا کی تمام عظیم قوموں نے تعلیم کی بنیاد پر ترقی کی ہے، اور تعلیم کو انصاف سے جوڑ کر ہی ایک پائیدار معاشرہ تشکیل دیا ہے۔ علامہ اقبال نے کہا تھا:
“تعلیم کے بغیر ترقی ممکن نہیں، اور تعلیم اگر انصاف سے محروم ہو تو وہ صرف غلامی پیدا کرتی ہے۔”
یو ایچ ایس کی اس پالیسی تبدیلی نے ثابت کیا کہ ہمارا تعلیمی نظام انصاف سے خالی ہوتا جا رہا ہے۔ بین الاقوامی سطح پر نرسنگ جیسے پروگراموں میں تعلیم، تربیت اور رہنمائی کے ساتھ ساتھ طلبہ کے لیے معاون پالیسیاں بنائی جاتی ہیں۔ وہاں اگر کوئی طالبعلم پیچھے رہ جائے تو اس کے لیے اصلاحی اقدامات کیے جاتے ہیں، نہ کہ اسے نظام سے نکال باہر کیا جاتا ہے۔ وہاں پالیسی میں تبدیلی ہو بھی تو اس کا اطلاق آئندہ سیشنز سے کیا جاتا ہے، تاکہ موجودہ طلبہ متاثر نہ ہوں۔
ہمارے یہاں طلبہ کو سزا دی گئی، بغیر کسی جرم کے، صرف اس لیے کہ پالیسی سازوں نے ایک دن اپنی میز پر بیٹھ کر فیصلہ کر لیا۔ ایسے فیصلے صرف نمبر نہیں، نسلیں برباد کرتے ہیں۔
طلبہ کا مطالبہ جائز ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ ان کے نتائج 50 فیصد والی پالیسی کے تحت جاری کیے جائیں۔ یہ کوئی رعایت نہیں، ان کا بنیادی حق ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ ڈراپ آؤٹ کی ظالمانہ پالیسی ختم کی جائے، کیونکہ ہر طالبعلم کو غلطی کے بعد سدھارنے کا موقع ملنا چاہیے، نہ کہ ایک غلط فیصلے پر ہمیشہ کے لیے دروازے بند کر دیے جائیں۔
یہ وقت ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف، جو خود میڈیکل کی طالبہ رہی ہیں اور خواتین کے حقوق کی داعی ہیں، اس سنگین معاملے میں ذاتی دلچسپی لیں۔ وہ جانتی ہیں کہ ایک بچی کو نرسنگ کی تعلیم دلوانے کے لیے ایک پاکستانی متوسط طبقے کے والدین کتنی قربانیاں دیتے ہیں۔ یہ ان بچوں کی آزمائش کا وقت ہے، اور یہ حکومتِ پنجاب کا امتحان ہے۔
آج اگر ان بچوں کو انصاف نہ ملا، تو کل کوئی بھی تعلیم پر اعتماد نہیں کرے گا۔ تعلیم وہ شمع ہے جو قوموں کو روشن کرتی ہے، اور اگر اس شمع پر بےحسی کا اندھیرا چھا گیا، تو یہ پورا نظام بجھ جائے گا۔
ہمیں ان طلبہ کے ساتھ کھڑا ہونا ہوگا، ان کے حق میں آواز بلند کرنی ہوگی۔ یہ ہمارے معاشرے کے اصل ہیرو ہیں۔ اگر آج ان کی آواز نہ سنی گئی، تو کل یہ خاموشی ہمارے اپنے بچوں کا مقدر بن جائے گی۔
انصاف صرف عدالتوں میں نہیں، تعلیمی اداروں میں بھی ہونا چاہیے۔ اور جہاں تعلیم اور انصاف اکٹھے ہو جائیں، وہیں سے ایک باوقار قوم کی بنیاد اٹھتی ہے۔
آج یہ بیٹیاں انصاف کے لیے سراپا احتجاج ہیں تو ان کی زبان بندی کی کوشش کی جا رہی ہے جبکہ اک سپلی کی وجہ سے پورا کیرئیر ختم ہونے پہ آ جائے تو بندہ احتجاج نہ کرے تو اور کیا کرے ؟؟
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں