آزادی ایک بہت بڑی نعمت ہے جس کی صحیح معنوں میں قدر وہی جان سکتا ہے جو غلامی کی زنجیروں میں جھکڑا ہو۔ آزادی کوئی پلیٹ میں رکھ کر پیش نہیں کرتا بلکہ اس کے لیے ان گنت قربانیاں دینی پڑتی ہیں۔ پاکستان بھی ایسی ہی عظیم اور ان گنت قربانیوں کی بنیادوں پر کھڑا ہے‘ اس کی بنیادوں میں نہ جانے کتنے شہداء کا خون ہے‘ کئی بچھڑے ہوئے خاندانوں کے آنسو ہیں‘ عصمت دری کی دردناک کہانیاں ہیں جنہیں سن کر رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں‘ اس ملک کی خاطر اپنے مکانات و زمینیں و جائیدادیں چھوڑنے والوں کے پہاڑ جتنے حوصلے ہیں۔ کانگریسی لیڈران کی ملی بھگت‘ سازشوں و مکاّریوں کی بدولت مسلمانانِ برصغیر کو ایک لٹا پٹا‘ تراشا ہوا خطّہ ملا لیکن جیسا بھی ملا‘ قدرتی وسائل سے مالا مال ہے۔
بحیثیت قوم یہ ہماری نالائقی ہے کہ ہم آج بھی کشکول لیے پھر رہے ہیں۔ یہاں گلیشیئر ہیں‘ بلند و بالا پہاڑ ہیں‘ خوبصورت وادیاں و بہتے دریا ہیں لیکن سیاحت نہ ہونے کے برابر‘ سونے جیسی مٹی و دنیا کا سب سے بڑا نہری نظام لیکن زرعی پیداوار میں خود کفالت نہیں‘ ناقص منصوبہ بندی و حکومتی عدم دلچسپی کی بدولت زرخیز زمینیں پتھر میں تبدیل کی جا رہی ہیں‘ ساری دنیا عمودی رہائشوں کی طرف گامزن ہیں جبکہ ہم افقی رخ‘ صحرا و میدان و خشک پہاڑ ہیں جو معدنیات کا خزانہ ہیں لیکن وہاں خوشحالی کی بجائے صوبائیت پروان چڑھ رہی ہے۔ شاید ہی کوئی ایسا ملک ہو جہاں پانی کے ذخائر صوبائیت کی بھینٹ چڑھ گئے ہوں اور ہم سمندر میں پانی ضائع کرنے کے بعد دس ماہ پانی کی کمی کا رونا روتے رہتے ہیں۔بدقسمتی سے اس قوم کو کوئی عظیم لیڈر میّسر نہیں آ سکا اور شروع سے لے کر اب تک قیادت کا بحران ایک مسئلہ ہے۔ محلاتی سازشوں نے اسے ابتداء سے ہی غلط شاہراہ پر موڑ دیا جو آج تک اپنی درست شاہراہ پر واپس نہیں آ سکا۔ ایسے لگتا ہے کہ جیسے ریورس گئیر لگا ہوا ہے۔
؎ منیر اس ملک پر آسیب کا سایہ ہے یا کیا ہے
کہ حرکت تیز تر ہے اور سفر آہستہ آہستہ۔ (منیر نیازی)
صدّیق سالک صاحب نے آج سے کئی دہائیاں پہلے اپنی کتاب ”تادمِ تحریر“ میں ہمارے واپنے پیارے ملک کی ایکسرے رپورٹ جاری کی تھی۔ حیرانی اس بات کی ہے کہ انہیں ایکسرے پلانٹ لگانے کی اجازت مل گئی۔ کئی دہائیاں بعد یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ وہ ایکسرے رپورٹ کیسی تھی۔
”ہر ملک کی طرح اسلامی جمہوریہ پاکستان کی اپنی تاریخ اور اپنا جغرافیہ ہے لیکن اس کی دو خصوصیتیں اسے دوسرے ملکوں سے ممیّز کرتی ہیں‘ ایک یہ کہ باقی ملکوں کے صرف جغرافیے میں نشیب و فراز پائے جاتے ہیں جبکہ اس کی تاریخ بھی نشیب و فراز سے مالا مال ہے۔ دوسری خوبی یہ ہے کہ یہاں کی تاریخ میں جغرافیے کا مزہ ملتا ہے اور جغرافیہ میں تاریخ کا لطف آتا ہے۔ مثلاََ اس کی تاریخ میں غلطیوں کے بڑے بڑے پہاڑ‘ امن و امان کے چھوٹے چھوٹے جزیرے‘ قیادت کے وسیع ریگستان اور بحرانوں کے گہرے بحیرے پائے جاتے ہیں۔ اور اس کے جغرافیہ میں تاریخی تاریخیں ملتی ہیں ایک تاریخ وہ تھی جب قیامِ پاکستان سے پہلے اس کا مجوّزہ جغرافیہ کچھ اور تھا‘ پھر چودہ اگست کا تاریخی دن آیا تو اس نوزائیدہ مملکت کو ذرا مختلف قسم کا جغرافیہ ورثے میں ملا۔
جغرافیہ کی متلون مزاجی کا اثر آبادی پر بھی پڑا جو وقتاََ فوقتاََ جمع تفریق ہوتی رہی۔ اس نے سات کروڑ افراد سے آغاز کیا‘ لیکن دیسی کھاد اور ولائتی گولیوں کے زور پر جلد ہی تیرہ کروڑ تک پہنچ گئی‘ ہم نے آبادی کے اس روز افزوں رجحان کو روکنے کے لئے تمام روائتی طریقے آزما لئے لیکن اس کے آگے بند نہ باندھ سکے‘ بالآخر 1971میں تنگ آ کر اس کی آدھی آبادی یکمشت تفریق کر ڈالی اور برما کے قریب آدھا جغرافیہ‘ آدھی آبادی اور پوری قومی حمیّت چھوڑ کر یہاں مقیم ہو گئے‘ ان کامیابیوں کا سہرا کس کس کے سر ہے؟ زبان نہ کھولئے اس میں کچھ پردہ نشینوں کے بھی نام آتے ہیں۔
پاکستان کو اپنی مختصر تاریخ میں بڑے بڑے سیاسی لیڈر نصیب ہوئے جن میں سے بعض لیڈران کو اپنی دیانتداری سے زیادہ اپنی سیاسی بصیرت پر ناز تھا لیکن سیاسی بصیرت میں اس رہنما کا کوئی جواب نہیں جس نے اس ملک کا نام تجویز کیا تھا۔ جس طرح بعض رجائیت پسند جوڑے منگنی کے فوراً بعد اپنے ہونے والے بچے کا نام سوچ لیتے ہیں اسی طرح انہوں نے بھی قوم کا اشتیاق دیکھتے ہوئے پاکستان کے قیام سے پہلے ہی اس کا نام رکھ دیا تھا لیکن اس کے اجزائے ترکیبی میں جان بوجھ کر بنگال شامل نہ کیا کیونکہ ان کی دوررس نگاہیں دیکھ رہی تھیں کہ ایک نہ ایک دن یہ بازو ٹوٹ گرے گا جس سے اثاثوں کی تقسیم کے ساتھ مملکت کے نام کی تقسیم کا مطالبہ بھی کھڑا ہو سکتا ہے“۔(جاری ہے)

(تادمِ تحریر از صدیق سالک سے ماخوذ)
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں