وہ بیٹیاں جنہیں جینے کی اجازت نہ ملی /حسنین نثار

مکہ مکرمہ وہ مقدس سرزمین ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے گھر کے لیے منتخب کیا، لیکن یہ بھی ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ یہی سرزمین کبھی جہالت، ظلم، اور اندھی رسومات کا گڑھ تھی۔ اسلام سے پہلے کا زمانہ جسے زمانۂ جاہلیت کہا جاتا ہے، وہاں انسانیت کے ماتھے پر سیاہ دھبے کی طرح کچھ ایسے مظالم تھے جو آج سن کر بھی دل دہلا دیتے ہیں۔ انہی مظالم میں ایک ہولناک رسم یہ بھی تھی کہ بیٹیوں کو زندہ دفن کر دیا جاتا تھا۔ یہ ظلم محض ایک خاندانی “غیرت” کے نام پر کیا جاتا، تاکہ قبیلے پر کوئی کلنک نہ لگے۔ بیٹی کی پیدائش کو شرمندگی، کمزوری اور ذلت کا باعث سمجھا جاتا تھا۔ جیسے ہی کسی گھر میں لڑکی کی ولادت ہوتی، باپ کا چہرہ سیاہ پڑ جاتا، اور وہ اس معصوم جان کو مٹی کے حوالے کرنے کا منصوبہ بنانے لگتا۔

یہ عمل صرف ایک فرد یا قبیلے تک محدود نہیں تھا، بلکہ ایک رواج کی حیثیت رکھتا تھا۔ بعض والدین اپنی نومولود بیٹیوں کو چپکے سے لے جا کر سنسان وادیوں یا ریت کے ٹیلوں میں گڑھا کھود کر زندہ دفنا دیتے۔ کچھ بیٹیوں کو چند سال تک پالا جاتا، اور جب وہ تھوڑی بڑی ہوتیں تو کسی بہانے سے صحرا میں لے جا کر مٹی کے نیچے دبا دیا جاتا۔ آج بھی مکہ کے اطراف میں وہ وادیاں اور ریت کے وہ ٹیلے موجود ہیں جہاں یہ سنگ دل رسم دہرائی جاتی تھی۔ یہ مقام انسانی تاریخ کی شرمندگی ہے، اور اسلامی تعلیمات کی روشنی میں یہی وہ مقام ہے جسے بعد ازاں رحمتِ دو جہاں ﷺ نے امن و محبت، اور عورت کو عزت و مقام دے کر بدل ڈالا۔

قرآن مجید میں اس ظلم کا ذکر کچھ اس طرح کیا گیا: “اور جب زندہ دفن کی گئی لڑکی سے پوچھا جائے گا کہ کس گناہ پر اسے مارا گیا؟” (سورہ التکویر: 8-9)۔ یہ آیات قیامت کے دن کی منظر کشی کرتی ہیں، لیکن اس میں دنیا والوں کے لیے بھی ایک گہرا پیغام ہے کہ اللہ تعالیٰ اس ظلم کو کیسے دیکھتا ہے۔ اسلام نے عورت کو ذلت سے نکال کر ماں، بہن، بیٹی اور بیوی کے مقدس رشتوں میں تبدیل کیا۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: “جس شخص کے ہاں بیٹیاں ہوں اور وہ ان کے ساتھ حسن سلوک کرے، وہ اس کے لیے جہنم سے بچاؤ کا ذریعہ بنیں گی۔”

مکہ مکرمہ میں آج بھی وہ وادیاں موجود ہیں جنہیں بعض مؤرخین اور مقامی بوڑھے لوگ جانتے ہیں۔ ان میں سب سے مشہور مقام “وادی ظُلم” یا “وادیِ موءودات” کے نام سے جانا جاتا ہے، جو شہر کے اطراف میں ایک غیر آباد علاقے میں واقع ہے۔ یہاں کی ریت، یہاں کی زمین اور یہاں کی ہوا شاید آج بھی اس بے آواز چیخ کو محسوس کرتی ہے جو ان معصوم بچیوں کے گلے میں گھٹ کر رہ گئی تھی۔ کوئی تختی، کوئی علامت وہاں موجود نہیں، لیکن تاریخ کے صفحات اور بعض مقامی روایات ان مقامات کو یاد رکھے ہوئے ہیں۔

جب ایک مسلمان مکہ جاتا ہے، تو وہ کعبہ کا طواف کرتا ہے، صفا و مروہ کی سعی کرتا ہے، اور اپنے گناہوں کی معافی مانگتا ہے، مگر اسے چاہیے کہ وہ ان وادیوں کو بھی یاد کرے، جو انسانیت کے زوال کا گواہ بنی تھیں۔ یہ مقام ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ اسلام نے کن جہالتوں کو مٹایا، اور کس قدر عظیم پیغام لے کر آیا۔ آج ہم جس دین پر فخر کرتے ہیں، وہ کسی فلسفے یا قوت کے زور پر نہیں پھیلا بلکہ وہ ایک انقلاب تھا جو مکہ کی اسی زمین پر عورت کی عظمت، انسان کی عزت، اور ظالم کے مقابلے پر مظلوم کی حمایت کے لیے آیا۔

julia rana solicitors london

زندہ دفن ہونے والی بیٹیاں صرف جسمانی طور پر ہی نہیں، بلکہ معاشرتی نفرت، حقارت اور ناانصافی کے نیچے بھی دفن ہوتی ہیں۔ آج اگرچہ وہ رسم مٹ چکی ہے، مگر سوال یہ ہے: کیا آج بھی ہم کسی بیٹی کو تعلیم، وراثت، یا محبت سے محروم رکھ کر کسی اور شکل میں زندہ دفن نہیں کر رہے؟ مکہ کے وہ ویران گوشے ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتے ہیں کہ اگر اسلام نہ آتا، تو شاید یہ دنیا آج بھی اندھیروں میں بھٹک رہی ہوتی۔ اس زمین کے ہر ذرّے کو سلام جس نے وہ صدا سنی، جس نے بیٹی کو دفن ہوتے دیکھا، اور پھر وہ لمحہ بھی دیکھا جب خاتم النبیین ﷺ نے فرمایا: “بیٹی، جنت کا دروازہ ہے۔”

Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply