• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • مردہ شیروں کا ماتم اور زندہ کتوں کا جشن/محمد عامر حسینی

مردہ شیروں کا ماتم اور زندہ کتوں کا جشن/محمد عامر حسینی

یہاں — اس سرزمین پر جسے آپ پاکستان کہتے ہیں — سچ بولنے کی قیمت صرف ایک نظریہ نہیں، بلکہ ایک فزیکل حقیقت ہے۔ یہ قیمت آپ کی زبان، آپ کا جسم، آپ کا نام، آپ کی قبر — سب کچھ ہو سکتی ہے۔ یہاں وہی زندہ رہتا ہے جو جھوٹ بولتا ہے، اور جو سچ بولے، وہ یا تو “گم” ہو جاتا ہے، یا پھر ایسا خاموش ہو جاتا ہے کہ خود کو بھی سن نہیں پاتا۔
ایک سوال، جو مجھے خود سے کرنا پڑا، وہی سوال ہے جو میرے قاری کو بھی چبھنا چاہیے: “کیا واقعی یہاں کوئی ایسا دانشور بچا ہے جو ریاستی بیانیے کو للکارتا ہو؟”
سچ تو یہ ہے کہ ایسی ہمت کا مظاہرہ کرنے والے انگلیوں پر گنے جا سکتے ہیں۔ اور جو ایسا کرتے ہیں، وہ “دانشور” نہیں رہتے — وہ “مسئلہ” بن جاتے ہیں۔ وہ وہ آوازیں ہیں جنھیں خاموش کرنے کے لیے صرف سنسر کافی نہیں، انہیں لاپتہ کرنا پڑتا ہے، یا پھر نشان عبرت بنا دینا پڑتا ہے۔
ڈاکٹر اشتیاق احمد — ایک مؤرخ؟ نہیں، خطرہ۔ کیونکہ اُس نے تاریخ کو ریاست کے جبر سے چھیننے کی کوشش کی۔ اُس نے “پنجاب کا بٹوارہ” لکھا، اُس نے جناح کو زمین پر اتارا، اُس نے کمیونسٹ پارٹی کے چہرے پر موجود “نظریاتی تقدیس” کا میک اپ اتارا۔ اُس نے بتایا کہ مسلم لیگ کا نعرہ، کمیونسٹوں کی خاموش ہاں، اور کانگریس کی اقلیت پسندی — سب نے مل کر ایک “قوم” گھڑی، اور پھر اُسے کاٹ دیا۔
اور یہی ریاست کے لیے ناقابلِ معافی جرم ہے: نظریے کی تاریخ کو جھوٹ کہہ دینا۔
پاکستان میں “مشکوک” ہونا ایک اعزاز ہے۔ یہ اُس لمحے کا دوسرا نام ہے جب آپ سوچنے لگیں۔ بلوچ دانشور — بزنجو، دشتیاری، شاہ محمد مری — وہ سب جو ریاست کی “الحاقی” کہانی کو افسانہ کہتے ہیں، وہ سب “مشکوک” کہلائے۔ ان کی زبان، ان کے قلم، ان کی شناخت — سب پر سوالیہ نشان لگا دیا گیا۔ اور پھر اُنہیں وہ سزا ملی جو ہر غیرمتفق کو ملتی ہے: تنہائی، تضحیک، یا گمشدگی۔
اور اگر سندھی ہوں؟
تو یہ جرم دوہرا ہے۔
ہدایت لوہار — ایک استاد، ایک باپ، ایک “مجرم”۔ کیونکہ اُس نے سکھایا۔ کیونکہ اُس نے بیٹیوں کو جینے کا حق دیا۔
سزا؟
پہلے غائب، پھر واپس، پھر مارا گیا۔ اور عدالت؟
خاموش۔
ریاست؟
مطمئن۔
سگانِ دانش؟
مصروف “قومی سلامتی” پر لیکچر دینے میں۔
اس منظرنامے میں “ڈاکٹر مہ رنگ بلوچ” ایک anomaly نہیں، ایک احتجاج ہے۔ وہ ایک عورت ہے — اور عورت جب سوچتی ہے تو ریاست کو خوف آتا ہے۔ جب وہ بولتی ہے تو درباری کتوں کی بھونک میں شدت آ جاتی ہے۔ “لانگو؟ وہ تو شودر ہے”، “ایم بی بی ایس؟ ریاست نے دیا تھا”، “عورت؟ فاحشہ ہو گی” — یہ سارے جملے ریاست کے فکری خوف کا اظہار ہیں۔ وہ ایک ایسی دانشور ہے جسے دانشور ماننے سے انکار کر کے ہی ریاست اپنا بیانیہ بچا سکتی ہے۔
اور یہ بیانیہ؟
یہ صرف جھوٹ نہیں، بلکہ ایک ہتھیار ہے۔
یہ کہتا ہے کہ بلوچ ترقی کر رہا ہے۔
یہ کہتا ہے کہ لاشیں جو ملتی ہیں، وہ دہشت گردوں کی ہیں۔
یہ کہتا ہے کہ عورت اگر بولے، تو یا وہ فاحشہ ہے یا پراکسی۔
لیکن اصل پراکسی وہ ہے جو عسکری وردی میں غزل لکھتا ہے، وہ کالم نویس ہے جو بریفنگ میں رٹا رٹایا نکتہ دہراتا ہے، وہ استاد ہے جو نصاب میں صرف اطاعت پڑھاتا ہے، وہ مفکر ہے جو فکر نہیں، خوف بانٹتا ہے۔
یہ وہی زندہ کتے ہیں جن کی برتری سارتر نے مردہ شیروں پر تسلیم کی — بطور irony۔
کیونکہ سچ یہ ہے کہ مردہ شیر مرتے نہیں۔
وہ مٹی میں تحلیل ہو کر آنے والی نسلوں کے ضمیر میں سانس لیتے ہیں۔
فیض، سبط حسن، حبیب جالب — زندہ نہیں، مگر اُن کے الفاظ ہمارے سماج کی کھوپڑیوں میں ارتعاش پیدا کرتے ہیں۔
ان کا نام لینا مشکوک عمل ہے — جیسے سارتر کا نام لینا آج کے فرانس میں “ادبی خودکشی” ہے۔
بلوچ عورتیں جو آج سڑکوں پر ہیں، وہ صرف لاپتا افراد کی تلاش میں نہیں، وہ اجتماعی دانش کی تلاش میں ہیں۔ وہ بتا رہی ہیں کہ زندہ رہنے کا مطلب کیا ہے۔
وہ ثابت کر رہی ہیں کہ دانش کا تعلق ادارے سے نہیں، ضمیر سے ہوتا ہے۔
اگر آج کوئی مجھ سے پوچھے کہ پاکستان کے سارتر کون ہیں؟
تو میرا جواب ہوگا: وہ بلوچ لڑکیاں جو سچ بولتی ہیں۔
وہ علی وزیر، جو قید سے نظریہ نکالتا ہے۔
وہ احسان علی، جو گلگت کی برف میں آگ بن کر روشن ہوتا ہے۔
اور پاکستان کی مجموعی دانش؟
وہ تماشائی ہے۔
وہ زندہ ہے — لیکن صرف اس لیے کہ اُس نے مرنے کی ہمت نہیں کی۔
یہی سارتر کا اصل سوال تھا:
کیا تم اپنی خاموشی سے ریاست کے ساتھ ہو؟ یا اپنی شکست سے انسان کے ساتھ؟
نوٹ:
یہ تحریر کسی مخصوص شخص یا نظریے کی تائید نہیں بلکہ اس زہرخند خاموشی کے خلاف ہے جو زندہ کتوں کو وفادار اور مردہ شیروں کو دشمن بناتی ہے۔ یہ ایک یادداشت ہے اُن کے لیے جو ابھی سوچتے ہیں — اور اُن کے لیے بھی جو بھول چکے ہیں کہ سوچنا خود ایک بغاوت ہے۔

Facebook Comments

عامر حسینی
عامر حسینی قلم کو علم بنا کر قافلہ حسینیت کا حصہ ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply