سوات میں معصوم بچے پر قاری صاحب نے اس قدر تشدد کیا کہ وہ جان کی بازی ہار گیا۔ یہ ظلم کی ایسی شکل ہے جس کے بارے میں ہمارے معاشرے میں بہت کم بات کی جاتی ہے۔ عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ قاری صاحبان کو مارنے اور تشدد کرنے کا اختیار حاصل ہے اور یہ مار پیٹ بچوں کے لیے مفید ہے۔ جبکہ جدید تحقیقات اس کے خلاف بتاتی ہیں۔ بچوں پر مسلسل تشدد بچوں کی ذہنی اور نفسیاتی صحت پر بہت برا اور گہرا اثر ڈالتی ہیں جس کی وجہ سے بچے باغی ہو جاتے ہیں اور بسا اوقات ایک ایسے ٹراما شکار ہو جاتے ہیں کہ زندگی بھر اس عذاب سے نکل نہیں سکتے۔
اور دوسری وجہ یہ ہے کہ قاری صاحبان عموماً تربیت سے عاری ہوتے ہیں۔ انہیں یہ تک معلوم نہیں ہوتا کہ بچوں کو کس طریقے سے پڑھایا جاتا ہے ۔ انہیں صرف ایک زبان آتی ہے وہ ہے “ڈنڈے کی زبان”۔ ایسے مدارس کے مہتممین کو بھی سزا ہونی چاہیے جو ایسے قاریوں کی تربیت کا انتظام نہیں کر سکتے۔
کافی عرصے سے یہ بات نوٹ کر رہا ہوں کہ ایسے قراء جو مار پیٹ اور تشدد کرتے ہیں معاشرے میں ان کی وقعت نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے، زمانے کی تلخیوں کا شکار ہوتے ہیں اور زندگی بھر مالی آسودگی سے بھی محروم ہوتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ لوگ رحم دل نہیں ہوتے، تشدد کرتے ہیں اور معصوم بچوں کو ظلم و جبر کا نشانہ بناتے ہیں۔ آسودگی ، خوشحالی اور فراوانی اسی کو حاصل ہوتی ہے جو رحیم و شفیق ہوتا ہے۔
رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
ارحمو من فی الارض یرحمکم من فی السماء
“تم اہلِ زمین پر رحم کرو آسمان والا تم پر رحم کرے گا”
اس حدیثِ مبارکہ کو دیکھیں تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ اسی پر رحم کرتے ہیں جو دوسرے لوگوں پر رحم کرے۔
اسی طرح کتب احادیث میں ایک واقعہ منقول ہے کہ اقرع بن حابس رضی اللّٰہ عنہ رسول اللہ ﷺ کے پاس بیٹھے تھے اور رسول اللہ ﷺ حسن و حسین رضوان اللہ علیہم اجمعین کو پیار کر رہے تھے۔ انہیں چومتے اور بوسہ دیتے۔ صحابی رسول نے سوال کیا کہ “یا رسول اللہ! کیا آپ بچوں کو پیار کرتے ہیں ؟”
آپ ﷺ نے جواب دیا “ہاں”
انہوں نے کہا : “یا رسول اللّٰہ! میرے دس بچے ہیں اور آج تک میں نے ان میں کسی کو بوسہ نہیں دیا”
آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
“من لا یَرحم ولا یُرحم”
“جو رحم نہیں کرتا اس پر رحم بھی نہیں کیا جاتا ”
اس حدیثِ مبارکہ میں واضح پر طور پر بچوں کے ساتھ پیار کرنے کا ذکر ہے۔ اور پھر رحم کا تذکرہ بھی اسی کے ساتھ ہے۔
جو سب سے اہم بات سمجھنے کی ہے کہ صحابی نے صرف اتنا کہا کہ میں نے تو کبھی اپنے بچوں کو بوسہ نہیں دیا تو آپ نے فرمایا کہ “جو رحم نہیں کرتا تو اس پر بھی رحم نہیں کیا جاتا”۔ اور جو ظالم معصوم بچوں پر ظلم کرتے ہیں ، ان پر تشدد کرتے ہیں یا انہیں سزائیں دیتے ہیں ایسے لوگوں کے ساتھ اللّٰہ تعالیٰ کیا سلوک کرتا ہو گا؟

اسی لیے ایسے ظالم و جابر قاری صاحبان زندگی بھر مصائب کا شکار رہتے ہیں ، تکالیف اور حادثات ان کے درپے ہوتے ہیں۔ آسودگی و خوشحالی ان کے قریب بھی نہیں آتی۔ کیوں کہ ان کے ہاتھ میں ظلم کا ڈنڈا ہوتا ہے جو معصوم بچوں کی پیٹھ پر برستا رہتا ہے۔ پھر قدرت کے انتقام کا ڈنڈا زندگی بھر ان کے پیچھے پیچھے ہوتا ہے۔
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں