ایک لاش، ایک سوال/زبیر اسلم بلوچ

وہ بچہ جس کے ہاتھوں میں کھلونے ہونے چاہئیں  تھے، آج وہ خود ٹکڑوں میں بکھرا ہوا ملا۔
ایک دہائی سے کم عمر،نو برس کا معصوم صفیان جو کراچی سے محض اپنے نانا کی شفقت پانے مانسہرہ آیا تھا۔مگر اسے کیا خبر تھی کہ یہ سفر اسے محبت کی چھاؤں سے اٹھا کر درندگی کے اندھیرے غار میں پھینک دے گا۔

گھر کے صحن میں کھیلتا بچہ، آنگن میں ہنستی آوازیں، نرم مٹی میں پڑے اس کے قدموں کے نشان،اور اچانک ایک آواز “آؤ سفیان، میں تمہیں کتا دکھاتا ہوں”وہ مسکرایا، لپکا، اور اسی لمحے ایک معصوم ہنسی ہمیشہ کے لیے خاموش ہوگئی۔

جب وہ واپس آیا، تو جسم تھا، مگر مکمل نہیں۔کفن میں لپٹی لاش ایسی تھی گویا کسی درزی نے پرانی چادر کے ٹکڑے جوڑ دیے ہوں۔سینے پر سلائی کے دھاگے،جیسے کسی قصائی نے ضمیر کی چپ میں جسم کا حلیہ بگاڑ کر اسے واپس کرنے کی ناکام کوشش کی ہو۔لیکن’ سر’ وہ تاحال لاپتہ ہے،یا مل چکا ہے؟اس سے کیا فرق پڑتا ہے؟جیسے ہماری غیرت، ہمارا نظام، اور ہمارا انصاف بھی لاپتہ ہو چکا ہے۔

یہ لاش ایک بچہ نہیں، ایک سوال ہے، جو ہمارے در و دیوار پر نقش ہے۔یہ چیخ ہے، جو سماعتوں سے ٹکرا کر لوٹتی ہے،یہ زخم ہے، جو خبر بن کر ہضم ہو جاتا ہے۔اور یہ جنازہ نہیں ، یہ معاشرےکا ضمیر ہے، جو خاموش دفن ہوا۔ہم نے صفیان کو دفن نہیں کیا، ہم نے اپنی بزدلی، اپنی غفلت، اور اپنے نظام کی ناکامی کو زمین کے حوالے کیا ہے۔

یہ پہلا واقعہ نہیں۔یاد ہے زینب؟یاد ہے فرشتہ؟اَن گِنت چہرے، جن کے نام تک ہم نے یاد رکھنا چھوڑ دیے۔جیسے ظلم کی گرد ہمارے حافظے کو دھندلا چکی ہے۔ایک خبر آتی ہے، ہم کچھ لمحے سہم جاتے ہیں، سوشل میڈیا پر چند جملے لکھتے ہیں۔پھر اگلے دن زندگی معمول پر آ جاتی ہے ،جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو،جیسے ہم پتھر کے زمانے کے پتھر دل انسان ہوں۔

صفیان اس گھناؤنے جرم کا شکار ہوا کیونکہ ہم نے اپنے بچوں کو کبھی یہ سکھایا ہی نہیں کہ خطرہ کیسا ہوتا ہے؟ہم نے انہیں ہنسی سکھائی، مگر ہوشیاری نہیں,ہم نے انہیں دعائیں سکھائیں، مگر دنیا کے بھیڑیے نہ دکھائے۔ہم نے تربیت کو محض تعلیم سمجھا،اور یہی ہماری سب سے بڑی بھول تھی۔یہ سماج ایک جنگل بن چکا ہے،جہاں ہر دروازے کے پیچھے انسان نہیں، درندے بستے ہیں،جو تمہارے بھروسے کی کھال اوڑھ کر،تمہارے بچوں کی ہنسی کو چھین لیتے ہیں۔اور تمہیں خبر تک نہیں ہوتی۔

صفیان کا مجرم کوئی جانور نہیں،بلکہ وہی پڑوسی تھا، جس کے سلام میں مٹھاس تھی،جس کے ہنر میں اعتماد تھا، اور جس کے چہرے پر انسانیت کا نقاب تھا۔

ہمارا المیہ یہی ہے کہ ہم وحشیوں کو پہچان نہیں سکتے،کیونکہ ہم نے انسانوں کو صرف لباس، زبان اور قبیلے سے ناپنا سیکھا ہے،کردار اور نیت سے نہیں۔

عدالتوں میں کیسز پڑے رہتے ہیں، جیسے انصاف ایک گھسا پٹا سکہ ہو جسے کوئی دکاندار قبول نہ کرتا ہو۔ایف آئی آر فائل ہوتی ہے، تفتیشی افسر بدلتے ہیں،گواہ خاموش ہو جاتے ہیں،اور پھر ثبوت ناکافی کہہ کر وہی درندہ آزاد گھومتا ہے۔ریاست تماشائی بنی رہتی ہے،جیسے سفیان کی لاش، اس کے لیے کوئی واقعہ نہیں، ایک عددی اضافہ ہو۔

سفیان کا قاتل پولیس مقابلے میں مارا گیا۔لیکن کیا اس کی موت سے سفیان کے ٹکڑوں میں بٹے لاشے کو انصاف مل گیا۔اس ماں کا کیا؟ جس نے کئی مشکلات کا سامنا کرکے اپنے جسم اور اپنی روح کو چھلنی کر کے سفیان کی دس سال پرورش کی۔اس کی محبت کا کیا جو اس نے اپنے بچے پر نچھاور کی۔اس کے خوابوں کا کیا جو اس نے سفیان کیلئے دیکھے۔کیا اس سب کا مول صرف سفیان کے قاتل کی لاش ہے؟

اورہمارا معاشرہ وہ تو اس سے بھی زیادہ ظالم ہے۔وہ صرف تب جاگتا ہے، جب خبر سنسنی خیز ہو،ورنہ وہی تماش بین ہجوم، جو محض افسوس کرکے اگلے سانحے کی تلاش میں مصروف رہتا ہے۔
ہم نے خود اپنے بچوں کو بے لباس کیا ہے، شعور کی قینچی سے۔۔
ہم نے خود ان کے گرد حفاظتی حصار نہیں کھینچا،ہم نے خود دروازے کھلے چھوڑے، اور آنکھیں بند کرلیں۔

اب وقت آ گیا ہے کہ ہم آنکھیں کھولیں۔اب صرف افسوس یامذمت سے کچھ نہیں ہوگا۔اب قانون کو خواب سے جگانا پڑے گا اور بتانا پڑے گا کہ ان مجرموں کے لیے سرعام سزائیں مقرر کی جائیں،ایسی سزائیں جو عبرت کا نشان ہوں۔ہر اسکول، مدرسے، اور ادارے میں بچوں کو محفوظ رہنے کی تربیت دی جائے۔والدین کو سکھایا جائے کہ بچوں سے دوستی کیسے کی جاتی ہے ؟کیونکہ وہ ان سے ہر بات صرف تب کریں گے، جب انہیں سننے والا کوئی ہوگا۔ہمیں اب اپنی دیواروں پر گھنٹیاں لٹکانے کی نہیں،دل و دماغ کے دروازے کھولنے کی ضرورت ہے۔

julia rana solicitors london

بچوں کو معصوم مت سمجھو، انہیں شعور دو،انہیں اندھا بھروسہ نہ سکھاؤ، انہیں احتیاط سکھاؤ۔یاد رکھو!آج صفیان گیا ہے،کل وہ تمھارا بچہ ہو سکتا ہے۔پھر نہ کہنا کہ کسی نے خبردار نہیں کیا۔کیونکہ اس وقت تک شاید تمھارے آنگن میں بھی صرف ایک لاش پڑی ہو ۔اور سر کہیں نہ ہو۔

Facebook Comments

زبیر اسلم بلوچ
تعارف : زبیر اسلم بلوچ اپنی طرز کے منفرد دانشور اور ادیب ہیں۔زبیر اسلم کا رضوان ظفر گورمانی کا رشتہ ایسے ہی ہے جیسے انعام رانا اور سیدی مہدی بخاری کا۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply