لیاری کی مخدوش عمارتیں/مہ ناز رحمن

جولائی میں لیاری میں ایک مخدوش عمارت کے گرنے اور اس کے نتیجے میں ستائیس لوگوں کی ہلاکت نے کراچی کی سول سوسائٹی میں تشویش کی لہر دوڑا دی اور حکومت نے مخدوش عمارتوں کو گرانے کا سلسلہ شروع کر دیا۔سول سوسائٹی اس مسئلے کو دو طرح سے دیکھتی ہے۔

۱: خالی کرائے جانے والی عمارتوں کے رہائشیوں کے لئےحکومت کیا کر رہی ہے۔

julia rana solicitors

دوسرے، ان میں سے بہت سی عمارتیں تاریخی عمارتیں ہیں جو قومی ورثہ ہیں، کیا ان کی بحالی اور حفاظت حکومت کی ذمہ داری نہیں ہے۔
اس مسئلے کا حل تلاش کرنے کے لئے ماجدہ رضوی(ریٹائرڈ جسٹس)اور میں نے عوام دوست آرکیٹیکٹ یاسمین لاری سے  ملاقات کی۔انہوں نے مندرجہ بالا دونوں مسئلوں کا حل بتایا۔ایک تو یہ کہ حکومت یاسمین کے ماڈل کو اپناتے ہوئے کمیونٹی کو انتہائی سستے داموں مکانات بنا کے دے سکتی ہے۔اور جہاں تک
تاریخی عمارتوں کی بحالی اور قومی ورثے کی حفاظت کا معاملہ ہے تو یہ بھی کوئی مشکل کام نہیں۔سارے رہائشیوں کے بے دخل کرنے کی ضرورت نہیں، کچھ کو عارضی طور پر کہیں منتقل کر کے مرمت کا کام کیا جا سکتا ہے۔ان پرانی عمارتوں کی دیواریں اور بنیادیں بہت مضبوط ہیں،صرف چھت اور فرش کی مرمت کی ضرورت ہے۔تا کہ ان عمارتوں کو مضبوط اور مستحکم بنایا جا سکے۔اس کے لئے ان عمارتوں کی اسٹڈی اور سروے ضروری ہے۔
سندھ کلچرل ہیریٹیج تحفظ ایکٹ 1994 سندھ اسمبلی نے صوبہ  سندھ میں واقع قدیم مقامات اور اشیا کی تعمیر و تاریخ،آثار قدیمہ، فنی، نسلی، بشری، اور قومی اہمیت کے حامل ہونے کی بنا پر ان کے تحفظ کے لئے منظور کیا۔یہ ایک قانونی فریم ورک فراہم کرتا ہے جس کے تحت ثقافتی ورثے کے مقامات اور اشیا کو محفوظ رکھنے کے لئے اقدامات کئے جاتے ہیں۔اس قانون کے ساتھ بننے والی کمیٹی نے ایسی عمارتوں کو نوٹیفائی کیا تھا۔مگر اب اسی کمیٹی کے کچھ ارکان ان کو ڈی نوٹیفائی کرنا چاہتے ہیں۔
دنیا بھر میں اس وصول کو تسلیم کیا جاتا ہے کہ جو چیز تمہارے پاس موجود ہے،اسے سنبھالنے کی کوشش کرو۔کراچی میں صدر، نیپئیر روڈ اور لیاری میں تاریخی اہمیت کی حامل ایسی بہت سی عمارتیں ہیں۔ان میں سے کچھ انیسویں صدی اور کچھ بیسویں صدی کے اوائل میں تعمیر ہوئی تھیں۔ہمیں انہیں بچانے کی کوشش کرنی چاہئیے۔قانون کے تحت جو عمارتیں نوٹیفائی ہو گئی تھیں، وہ بچی رہیں۔یاسمین لاری قانون بننے کے تین سال بعد ہی اس کمیٹی سے نکل گئی
تھیں کیونکہ کمیٹی نے غیر قانونی تعمیر اتی کاموں کی اجازت دینا شروع کر دی تھی۔عمارتوں کو پہلے اندر سے کھوکھلا کر کے گراتے ہیں،پھر تعمیر کی اجازت مانگتے ہیں۔اور ملٹی اسٹوری عمارتیں تعمیر کرتے ہیں۔حالانکہ ان تاریخی عمارتوں کو آسانی سے بحال کیا جا سکتا ہے۔ساری عمارتوں کو خالی کرانے کی بھی ضرورت نہیں ہے، آپ حصوں میں بھی یہ کام کر سکتے ہیں۔
یاسمین لاری نے مکلی میں پندرہویں صدی کی عمارتوں کو بچایا ہے۔ان کے بقول تاریخی عمارتوں کو ٹھیک کرنا بہت آسان ہے کیونکہ یہ بہت مضبوط بنی ہوتی ہیں۔
یاسمین لاری نے اپنے پیسوں سے کراچی میں جو پہلی ماحول دوست گلی بنائی تھی، اسے کے ایم سی نے توڑ دیا تھا۔بعد میں اس گلی کو کھول دیا گیا اور دو تین ہفتے ہوئے وہ یاسمین کو واپس مل گئی ہے۔یاسمین 2001میں یونیسکو کی شہروں کے حوالے سے ایڈوائزر رہی ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ ماحولیاتی تبدیلی کے میدان جنگ میں شہر صف اول میں کھڑے ہیں۔آبادی بڑھ رہی ہے، غربت میں اضافہ ہو رہا ہے۔فزیکل اور سوشل انفرا اسٹرکچر موجود نہیں ہے۔پچاس فی صد
لوگ کچی آبادیوں میں رہتے ہیں۔آبادی میں اضافہ کو روکنا ہے تو مردوں پر کام کریں، مردوں کو ٹارگٹ کریں۔کمیونٹیوں میں کام کرنے والوں کو معلوماتی مواد اور پوسٹرز دیں تا کہ وہ آگے پھیلا سکیں۔
یاسمین خیراتی ماڈل کو مسترد کرتی ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ اب اوپر سے نیچے والی اپروچ نہیں چلے گی۔ہمیں اپنے دیسی ماہرین کو سامنے لانا ہو گا۔مقامی لوگوں کو تربیت دینا ہو گی۔تا کہ وہ لوگوں میں آگاہی پھیلائیں۔
صاف پانی کی فراہمی ہمارا بنیادی مسئلہ ہے۔اس کے لئے ہمیں دیسی طریقے ڈھونڈنے پڑیں گے۔بدیسی ماڈل نہیں چلیں گے۔کراچی کی آبادی 25ملین ہے۔سمندر میں پانی پھینکنے کی بجائے اسے سنبھالیں۔یاسمین نے کراچی کی پہلی ماحول دوست گلی ٹیرا کوٹا سے بنائی ہے۔وہ کنکریٹ کے استعمال کے خلاف ہیں۔کھارادر میں وزیر مینشن کے قریب انہوں نے ایک پرانی عمارت کو ٹھیک
کرایا۔
کراچی میں عورتوں کے باہر نکل کر بیٹھنے کی جگہ نہیں ہے، وہ چوبیس گھنٹے ڈربہ نما فلیٹوں میں بند رہتی ہیں۔انہی کے لئے یاسمین ماحول دوست جگہیں بنانا چاہتی ہیں۔انہوں نے گلاس ٹاور کے پیچھے ایک لائبریری بھی بنائی ہے۔جہاں کچی آبادی کے بچے آ کر بیٹھتے ہیں۔ان کی بنائی ہوئی گلیاں بچوں کے لئے آرٹ اسٹوڈیو کا کام کرتی ہیں۔اس کام میں PSOنے ان کی مدد کی ہے۔یونیسکو نے انہیں ’غریبوں میں سے غریب ترین کی آرکیٹیکٹ‘ کا خطاب دیا ہے۔وہ کمیونٹی کی عورتوں کے ساتھ مل کے کام کرتی ہیں۔ انہوں نے ان کے لئے ماحول دوست چولہے بنانے بھی سکھائے ہیں۔ایک چولہے کی مالیت صرف تین ہزار روپے ہے اور کمیونٹی کی عورتیں اب تک دس لاکھ چولہے بنا چکی ہیں۔یاسمین ان عورتوں کو لندن بھی لے کر گئیں اور قطر بھی بھیجا جہاں انہوں نے اپنے کام کی نمائش کی۔
2022کے سیلاب کے بعد یاسمین نے کمیونٹیوں کو بانسوں کی مدد سے مکانوں کا ڈھانچہ کھڑا کر کے دیا۔ساڑھے پانچ ہزار بیت ا لخلا بنا کے دئیے۔ہینڈ پمپ بھی دیا جاتاہے۔کمیونٹی بانس کے فریم کی مدد سے جب بارہ گھر بنا لیتی ہے،تو سولر پینل لگوا دیا جاتا ہے۔ایسے گاؤں غربت سے نکلنے کی سیڑھی ہیں۔یہاں مرغیاں پال کر انڈے بھی حاصل کئے جا سکتے ہیں اور سبزیاں بھی لگائی جا سکتی ہیں۔اللہ پاکستان میں یاسمین جیسے غریب پرور لوگوں کی تعداد میں اضافہ کرے تا کہ پاکستان ترقی کی شاہرہ پر گامزن ہو سکے۔

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply