مغل شہنشاہ اکبر اعظم کا دور، جسے عہدِ دانش بھی کہا جاتا ہے، محض فتوحات کا عہد نہیں تھا بلکہ علم، فن، اور فکری ارتقاء کا سنہری باب تھا۔ اس دور کی پہچان اکبر کے نو رتن تھے، جن میں سے ایک درخشاں ستارہ بیربل تھا، جس کا اصل نام مہیش داس تھا۔ بیربل کی حاضر دماغی، شگفتہ مزاجی، اور زبان و بیان کی مہارت نے اسے اکبر کے خاص مشیروں میں شامل کر دیا۔ اس کے لطیفے اور فکری چالاکیاں صرف تفریح کا سامان نہیں تھیں، بلکہ ان میں اخلاقی درس، نفسیاتی گہرائی، اور معاشرتی اصلاح کا پیغام بھی پوشیدہ ہوتا تھا۔
بیربل کی ذہانت اور برجستہ جوابات کی ایک مثال وہ واقعہ ہے جب بادشاہ نے درباریوں سے پوچھا کہ دنیا میں سب سے بڑی چیز کیا ہے؟سب نے مختلف جوابات دیے، مگر بیربل نے جواب دیا “بھوک، کیونکہ وہ بادشاہ کو بھی فقیر بنا دیتی ہے۔” یہ جواب عقل و وجدان کا بہترین امتزاج تھا۔
آج کے دور میں، جب ہمارے سیاستدان معاشی بحرانوں اور عوام کی مشکلات سے بظاہر ناواقف دکھائی دیتے ہیں، تو بیربل کا یہ جواب ایک آئینہ دکھاتا ہے۔ کیا آج کوئی ایسا سیاستدان ہے جو بھوک کی حقیقت کو اتنی سچائی سے بیان کر سکے؟ یا وہ صرف اعداد و شمار کے گورکھ دھندے میں الجھے رہیں گے؟
اکبر کے نو رتن میں بیربل ذہانت و ظرافت کا بادشاہ، تان سین موسیقی کی دنیا کا درخشاں ستارہ، راجہ ٹوڈرمل مالیاتی وزیر، فاضل فیضی جوعلم و ادب میں اپنی مثال آپ تھا۔ ابوالفضل ایک عظیم مئورخ اور بہترین مشیر، مان سنگھ اکبر اعظم کا فوجی کمانڈر، عبدالرحیم خانِ خاناں ایک شاعر اور ادیب، فخرالدین ایک دانا طبیب، اور مولانا مبارک جو کہ ایک جید عالم دین تھے وہ شامل تھے۔ یہ تمام افراد اپنے اپنے شعبے میں یکتا تھے اور اکبر نے ان کی صلاحیتوں کو سراہتے ہوئے انہیں اپنے دربار کا حصہ بنایا۔ اس سے اکبر کی وسیع النظری اور صحیح صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کی خواہش ظاہر ہوتی ہے۔
آج کی سیاست کا اگر جائزہ لیا جائے تو ہمیں ایسی متنوع اور اہل ٹیموں کا فقدان نظر آتا ہے۔ جہاں اکبر نے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے ذہین افراد کو اکٹھا کیا، وہیں آج کی بیشتر حکومتیں اپنے حامیوں اور رشتہ داروں پر ہی انحصار کرتی ہیں۔ جب ایک مالیاتی بحران آتا ہے تو کیا ہمارے پاس راجہ ٹوڈرمل جیسا مالیاتی نظام کا ماہر موجود ہوتا ہے، یا ہم صرف قرضوں پر گزارہ کرتے ہیں؟ جب عوام کو طبی امداد کی ضرورت ہوتی ہے، تو کیا فخرالدین جیسا زیرک طبیب ہماری رہنمائی کرتا ہے، یا ہسپتالوں میں سہولیات کا فقدان ہوتا ہے؟ بیربل کی عوامی حکمت اور سچائی کا عکس آج کی سیاست میں ڈھونڈنا شاید ایک خواب ہے۔
بیربل ایک ہندو تھا، لیکن اکبر نے اسے اہم ترین عہدہ دیا، جو اس دور میں سیکولر سوچ کی علامت تھا۔ بیربل اکثر بادشاہ کو عوام کی حالت سے آگاہ کرتا اور ان کے حق میں بات کرتا۔ درباری سازشوں کو مزاح اور تمثیل کے ذریعے بے نقاب کرتا۔
آج جب سیاست میں مذہبی تفریق اور سازشیں عروج پر ہیں، تو بیربل کا کردار ہمیں ایک روشن راہ دکھاتا ہے۔ کیا آج کا کوئی وزیر اعظم یا صدر کسی ایسے شخص کو اعلیٰ عہدہ دے سکتا ہے جو اس کے سیاسی یا مذہبی نظریات سے مختلف ہو، لیکن عوام میں مقبول ہو اور ان کی آواز بن سکے؟ افسوس کہ آج کی سیاست میں ایسے عوامی نمائندوں کی آواز کو دبا دیا جاتا ہے جو سچائی اور عوام کی فلاح کی بات کریں۔
اگر آج کوئی بیربل جیسا عوامی ترجمان موجود ہوتا، تو وہ شاید کسی میٹنگ میں کھڑے ہو کر مہنگائی سے تنگ آئے عوام کا حال بیان کرتا، یا پھر کسی مزاحیہ انداز میں وزراء کی نااہلی کو بے نقاب کرتا۔ شاید وہ ایک لطیفہ سناتا جس میں پٹرول کی قیمتوں پر طنز ہوتا، یا بجلی کے بلوں پر حکومتی خاموشی کو ہدف بناتا۔
ہر تاریخی شخصیت کی طرح بیربل کی شخصیت بھی مکمل فرشتہ صفت نہ تھی۔ بعض مؤرخین کے مطابق بیربل بعض اوقات درباری سازشوں کا حصہ بھی بنا۔ اس کی بعض چالاکیوں کو آج کے تناظر میں چاپلوسی یا موقع پرستی قرار دیا جا سکتا ہے۔ یہ بات آج کی سیاست میں بھی واضح طور پر نظر آتی ہے۔ ہمارے سیاستدان بھی کبھی مفاد پرستی کا شکار ہوتے ہیں، کبھی چاپلوسی کے ہتھکنڈے استعمال کرتے ہیں، اور کبھی سازشوں کا حصہ بنتے ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انسانی فطرت میں یہ خوبیاں اور خامیاں ہمیشہ سے موجود رہی ہیں۔
بیربل کی موت ایک فوجی مہم میں ہوئی، جب وہ شمال مغربی علاقوں کی جانب روانہ ہوا اور باغیوں کے ہاتھوں مارا گیا۔ اکبر اس کی موت پر اشکبار ہوا اور ایک مدت تک اداس رہا۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ذہانت، زبان، اور محبت ہو یا سیاست، ہر ایک کی ایک قیمت ہوتی ہے۔ آج کی لیڈرشپ میں کیا ایسے قائدین ہیں جو اپنے مشیروں کی موت پر واقعی غمگین ہوں، یا ان کی قربانیوں کو فراموش کر دیں؟ کیا آج بھی ایسی عوامی محبت پائی جاتی ہے جو کسی لیڈر کی موت پر آنسو بہائے؟

بیربل ایک ایسا کردار تھا جس نے تاریخ میں اپنے ذہن و زبان سے جگہ بنائی، اور آج بھی اس کے قصے بچوں سے لے کر بزرگوں تک سنائے جاتے ہیں۔ وہ نہ صرف ایک ذہین مشیر بلکہ ہندوستانی تہذیب کا نمائندہ تھا، جو علم، رواداری، اور مزاح کے حسین امتزاج سے نئی راہیں روشن کرتا رہا۔ اگر آج کی سیاست اور قیادت بیربل کی عقل، عوام سے محبت، اور سچائی کا عشرِ عشیر بھی اپنا لے، تو ہمارا معاشرہ حقیقی ترقی کی طرف گامزن ہو سکتا ہے۔کاش آج کی سیاست میں بیربل جیسی کوئی شخصیت پیدا ہو جو سچ بولے اور عوام کی آواز بنے۔
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں