گزشتہ دنوں دہلی یونیورسٹی نے گریجویشن کی سطح پر تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کے لیے ایک نہایت متنازع کورس متعارف کروایا ہے، جو مذہبی فاصلے کم کرنے کے بجائے ان میں مزید اضافے کا باعث بن سکتا ہے۔ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ بھارت کی عہدِ وسطیٰ کی تاریخ میں سکھ برادری کی قربانیوں کو یاد رکھنا اور نئی نسلوں کو اس سے واقف کرانا ضروری ہے۔ اسی مقصد کے تحت ایک اختیاری کورس کو ۵ جولائی کو منعقدہ اکیڈمک کونسل کی میٹنگ میں منظوری دی گئی، جسے یونیورسٹی کے سینٹر فار انڈیپنڈنس اینڈ پارٹیشن اسٹڈیز نے پیش کیا تھا۔ اگرچہ دائیں بازو کی لابی نے اس کورس کی حمایت کی ہے اور اس کی افادیت پر زور دیا ہے، لیکن غیر جانب دار مورخین اور سیکولر نظریات رکھنے والے طلبہ و دانشوروں کا کہنا ہے کہ اس کورس کی آڑ میں سکھ سیاسی رہنماؤں اور مغلوں کے درمیان بعض اوقات رونما ہونے والے تاریخی سیاسی اختلافات کو سکھ برادری اور ملتِ اسلامیہ کے درمیان موجود مشترکہ و امتزاجی ثقافت کو نظرانداز کرتے ہوئے ایک فرقہ وارانہ رنگ میں پیش کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
دہلی یونیورسٹی میں جو کچھ ہو رہا ہے، وہ ملک کی موجودہ سیاست سے الگ نہیں ہے۔ کئی محاذوں پر دائیں بازو کی سیاسی جماعتیں تاریخ کے بھگواکرن میں مصروف ہیں۔ جہاں ایک طرف اسکولی نصابی کتابیں تبدیل کی جا رہی ہیں، وہیں کالجوں اور یونیورسٹیوں میں ایسے کورس متعارف کروائے جا رہے ہیں جن کا مقصد ایک مخصوص ثقافت کو سب پر مسلط کرنا ہے۔ اس سمت میں یونیورسٹیوں کا کردار تیزی سے بدلا جا رہا ہے، اور پروفیسر کے عہدوں کے لیے امیدواروں کی تعلیمی قابلیت کو نظرانداز کر کے ایسے نااہل افراد کو تدریس کی ذمہ داری سونپی جا رہی ہے، جن کا شوق پڑھنے لکھنے کے بجائے ایک مخصوص پارٹی کا پرچم آنکھ بند کرکے اٹھانے میں ہے۔ ایک جمہوری ملک میں سیاسی شعور رکھنا بلاشبہ قابلِ قدر بات ہے، اور ہر فرد کو کسی سیاسی جماعت کی حمایت کا حق حاصل ہے، مگر جب سیاسی مفاد کو مدنظر رکھ کر تعلیمی اداروں میں اساتذہ کی تقرری کی جائے اور تاریخ کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی جائے، تو یہ معاشرے کو کشیدگی اور انتشار کی آگ میں دھکیل سکتا ہے۔
دائیں بازو کی یہ بھی کوشش ہے کہ تاریخ کے ان پہلوؤں کو اجاگر کیا جائے، جہاں مذہبی اختلافات نمایاں ہوئے تھے۔ ایک غیر جانب دار مورخ کبھی یہ نہیں کہہ سکتا کہ ماضی مکمل طور پر درست تھا یا وہاں دودھ کی ندیاں بہتی تھیں۔ حقیقت یہ ہے کہ سماج اور ملت کو کنٹرول کرنے کی خاطر سیاسی جنگیں ہمیشہ جاری رہیں اور مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے حکمرانوں کے درمیان خونریزی بھی ہوئی، مگر اس سے بڑی سچائی یہ ہے کہ عام عوام نے کبھی حکمران کے مذہبی تشخص کو بنیاد بنا کر باہمی رشتے کشیدہ نہیں کیے۔ رعایا جانتی تھی کہ حکمران چاہے کسی بھی مذہب سے ہو، محصول کی وصولی میں وہ کسی قسم کی نرمی نہیں برتے گا۔ یہی وجہ تھی کہ ایک ہندو راجا کے دور میں ہندو کسان اتنا ہی استحصال کا شکار ہوتا تھا جتنا کہ کسی مسلم بادشاہ کے عہد میں مسلم کاشتکار۔ اسی طرح، ہندو راجاؤں کے درباروں میں مسلم درباری ہوتے تھے اور مسلم بادشاہوں کے درباروں میں بے شمار ہندو عہدیدار کام کرتے تھے۔ مگر دائیں بازو کی فرقہ وارانہ سوچ نے حکمرانوں کے مابین ہونے والی سیاسی کشمکش کو ہندو بمقابلہ مسلمان یا سکھ بمقابلہ مسلمان کے بیچ جنگ کا رنگ دے دیا ہے۔ ان کی تنگ نظری کا عالم یہ ہے کہ ہندو راجا کے دور میں انہیں نہ ظلم نظر آتا ہے، نہ ذات پات، نہ تفریق اور نہ طبقاتی کشمکش، مگر مسلم حکمرانی کو وہ غیر مسلموں کے لیے ظلم و ستم کا زمانہ ثابت کرنے میں کوئی جھجک محسوس نہیں کرتے۔
بلاشبہ سکھوں اور مغلوں کے درمیان کئی مرتبہ جنگیں ہوئیں، لیکن ان تاریخی حقائق کو نظرانداز کر دیا جاتا ہے جہاں مسلم حکمرانوں اور سکھ لیڈروں کے درمیان خوشگوار تعلقات بھی قائم تھے۔ اسلام اور سکھ مت کے درمیان نہ صرف ہم آہنگی موجود رہی ہے بلکہ گرو نانک کی تعلیمات پر اسلام کے اثرات بھی نمایاں ہیں۔ سکھ اور مسلم ثقافتوں نے ایک دوسرے کو متاثر کیا ہے اور ان کے درمیان اختلافات سے زیادہ اتفاق موجود رہا ہے۔ دونوں مذاہب مساوات کے داعی ہیں اور ذات پات کی بنیاد پر کسی امتیاز کو تسلیم نہیں کرتے۔ ان کے صوفیاء اور گرو انسانیت، بھائی چارے اور رواداری کا پیغام دیتے ہیں، اور ان کی بنیادی تعلیمات میں گہری مماثلت پائی جاتی ہے۔ مگر دائیں بازو کا مقصد صرف اور صرف سماج میں تفریق پیدا کرنا اور مذہبی دوریاں بڑھا کر سیاسی فائدہ حاصل کرنا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کہیں وہ مسلم بنام سکھ کی سیاست کھیل رہے ہیں، تو کہیں دلت بمقابلہ مسلمان کی۔ آدی واسی علاقوں میں مسلمانوں کو دشمن کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے، اور ماضی میں آدی واسی سرداروں اور مسلم حکمرانوں کے درمیان ہونے والے چند جھگڑوں کو بڑھا چڑھا کر، رائی کا پربت بنا کر پیش کیا جا رہا ہے۔ حال ہی میں اختتام پذیر جھارکھنڈ ریاستی انتخابات کے دوران یہ پروپیگنڈا زور و شور سے کیا گیا کہ آدی واسی خواتین سے شادی کے بہانے بنگلہ دیشی درانداز ان کی زمینوں پر قبضہ کر رہے ہیں اور پورے علاقے کی ڈیموگرافی کو بدل رہے ہیں۔ مگر جب انتخابات کے نتائج سامنے آئے تو آدی واسیوں نے بڑی سیاسی سوجھ بوجھ کا مظاہرہ کیا اور یہ ثابت کر دیا کہ آدی واسیوں اور مسلمانوں کے درمیان صدیوں پرانا رشتہ ہے، جسے وقتی سیاسی مفادات کی نذر نہیں کیا جا سکتا۔ یہی رویہ دلتوں کے ساتھ بھی اپنایا جا رہا ہے۔ دلت رہنماؤں کو مسلم حکمرانوں کے خلاف صف آرا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور ان دونوں طبقات کے درمیان تعلقات کو زہر آلود کیا جا رہا ہے۔ علاقائی تاریخ کو اہمیت دینے کے بہانے غیر مسلم علاقائی راجاؤں کو مسلم حکمرانوں، خصوصاً مغلوں کے خلاف کھڑا کیا جا رہا ہے، اور حکومت دانستہ طور پر ایسی سیمینارز اور کتابوں کی اشاعت کی سرپرستی کر رہی ہے جو مسلم حکمرانوں، بالخصوص مغل بادشاہوں کو منفی اور ظالم کرداروں میں پیش کرتی ہیں۔
اقتدار پر قابض دائیں بازو کی لابی یہ سمجھنے سے قاصر ہے کہ ملک کی سالمیت میں سماجی ہم آہنگی ایک بنیادی اور فیصلہ کن کردار ادا کرتی ہے۔ ایک مضبوط جمہوریت کی بنیاد اسی پر ہے کہ نئی نسلوں کو تاریخ سے متعلق درست، متوازن اور غیر جانب دار معلومات فراہم کی جائیں۔ تاریخ نویسی کا درست طریقہ یہی ہے کہ کسی دور کے سیاسی حالات کا تجزیہ کرتے وقت سماجی اور اقتصادی پہلوؤں کو بھی برابر اہمیت دی جائے۔ راجاؤں اور بادشاہوں کے درمیان اقتدار کی کشمکش کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ ان کی پالیسیوں کا غیر جانب دار انداز میں جائزہ لیا جائے، نہ کہ ان کی مذہبی شناخت کو بنیاد بنا کر ان کا تاریخی کردار متعین کیا جائے۔ حکمرانوں کو صرف ان کے مذہب کی بنیاد پر جانچنا فرقہ وارانہ تاریخ نگاری ہے، جو علم و تحقیق کے بنیادی اصولوں سے انحراف ہے۔ سکھ کمیونٹی کی تاریخ کو نصاب میں شامل کیا جانا یقیناً ایک خوش آئند قدم ہے، تاہم اس کے لیے ضروری ہے کہ نصاب کو وسیع تر تناظر میں ترتیب دیا جائے، جہاں سماجی، تہذیبی اور اقتصادی پہلوؤں کو مساوی اہمیت حاصل ہو۔ لیکن دہلی یونیورسٹی کے حالیہ کورس کو دیکھ کر یہ تاثر ابھرتا ہے کہ وہ سکھوں اور مسلم حکمرانوں کے درمیان رونما ہونے والی چند سیاسی کشمکشوں کو ہی سکھ تاریخ کا مرکزی حوالہ بنا کر پیش کرنا چاہتی ہے، جو نہ صرف علمی تنگ نظری کی عکاسی کرتا ہے بلکہ ملک کی سماجی ہم آہنگی اور سالمیت کے بھی منافی ہے۔
Facebook Comments


بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں