مدرسے کی مار، موت کی سزا/ڈاکٹر نوید خالد تارڑ

یہ رنگ کسی میک اپ کے نشان نہیں ، ایک چودہ سالہ بچے کے جسم میں جمے ہوئے خون کے دھبے ہیں۔ ان دھبوں کی تکلیف سے مر جانے والے ایک چودہ سالہ بچے کے جسم پہ بنے نشان ہیں۔

یہ دھبے جانتے ہیں کیسے بنتے ہیں؟
جب کوئی انتہائی زوردار طریقے سے کسی کے جسم پہ چوٹ پہنچاتا ہے تو وہاں موجود خون کی چھوٹی چھوٹی نالیاں پھٹ کر باریک سا نشان چھوڑ جاتی ہیں۔ جب کوئی مارتا رہتا ہے تو بہت سے باریک نشان بنتے چلے جاتے ہیں۔

کیا آپ اس بچے کا بدن دیکھ کر محسوس کر سکتے ہیں اس کی کمر پہ ایسے کتنے باریک نشانوں نے مل کر ایسا نقشہ بنایا ہو گا؟ کیا آپ سوچ سکتے ہیں اس بچے کو کتنا مارا گیا ہو گا؟ کتنے زور سے مارا گیا ہو گا؟

یہ بچہ کوئی مجرم نہیں تھا ، اس نے کوئی گناہ نہیں کیا تھا ، اسے مارنے والے کوئی دشمن نہیں تھے ، ڈاکو نہیں تھے۔ یہ چودہ سالہ بچہ مدرسے میں پڑھتا تھا اور اسے مارنے والے اس کے اپنے استاد تھے۔ سننے میں آ رہا ہے کہ بچے نے مدرسے میں پڑھنے سے انکار کیا تھا ، معلوم نہیں حقیقت کیا ہے لیکن بچے نے جو بھی کیا ہو ان درندوں کو یہ حق کس نے دیا کہ اس معصوم کے بدن کو اتنی بیدردی سے تکلیف پہنچائیں۔

یار بچے تو سانجھے ہوتے ہیں۔ ہم تو کسی بچے کو روتا دیکھیں تو اپنے پرائے کی تفریق کیے بغیر اس کی تکلیف دور کرنے کو دل کرتا ہے۔ کوئی کسی بچے کو اتنی بیدردی سے کیسے مار سکتا ہے کہ بچے کے بدن پہ ایسے نشان بن جائیں۔ عجیب بے یقینی ہے کہ ہمارے معاشرے میں ایسے بے حس لوگ بھی بستے ہیں۔

بتا رہے ہیں کہ ایک استاد نے نہیں مارا ، کئی اساتذہ نے باری باری مارا۔ بچہ روتا رہا ، تڑپتا رہا ، پانی مانگتا رہا اور وہ کمینے اپنی طاقت اس پہ آزماتے رہے۔ پورا زور لگا کر اس بچے کے بدن پہ ضربیں لگاتے رہے۔ ان اساتذہ کو شرم بھی نہیں آئی ؟

یہ کیسے ننگِ انسانیت ہیں کہ بچے کو تکلیف دے کر خوش ہوتے رہے۔ اور تکلیف بھی ایسی شدید ۔۔۔۔
بچے کو مارتے رہے ، مارتے رہے ، ڈنڈوں سے ، سوٹوں سے، یہاں تک کہ وہ بچہ تڑپ تڑپ کر وہیں مر گیا۔ اس بچے کا قصور کیا تھا ؟ پڑھنے کے لیے مدرسے میں آنا؟ آپ نے اس بچے کو اتنی بڑی سزا کیسے دے دی، اس بچے کو ایسی تکلیف دینے پہ کیسے راضی ہو گئے۔ آپ نے کتنی دیر ظلم کیا ہو گا کہ وہ بچہ تکلیف سے تڑپ تڑپ کر مر گیا۔ سوچ کر بدن میں جھرجھی آ جاتی ہے لیکن ان ظالموں کو ذرا بھی شرم نہیں آئی ، ذرا سا احساس بھی نہیں ہوا۔

یہ ظلم کرنے والوں کو تو عبرت کا نشان بنانا چاہیے ، اور یہ سب عوام کو دکھانا چاہیے تاکہ ان جیسے باقی درندوں کو ہوش آئے۔ میں تو کہتا ہوں ان مجرموں کو پکڑ کر ایسی ہی سزا دی جائے۔ ان کے بدن پہ بھی ایسے ہی نشان چھاپے جائیں۔ ان کو بھی پتا تو چلے تکلیف کیا ہوتی ہے، رونا پیٹنا کیسا ہوتا ہے۔ تڑپ تڑپ کر پانی مانگنا اور مانگتے مانگتے مر جانا کیسا ہوتا ہے۔

سننے میں آ رہا ہے ابھی تک اس بچے کے والدین کا بھی پتا نہیں چل سکا۔ کیسے بے حس والدین ہوں گے جو اپنے بچے کی خبر ہی نہیں رکھتے۔ میں تو کہتا ہوں اتنے کم عمر بچوں کو رہائشی سکولوں یا مدرسوں میں بھیجنے والے والدین پہ بھی مقدمہ ہونا چاہیے۔ ظالمو اپنے پاس رکھ کر پال نہیں سکتے ، بچوں کا خیال نہیں رکھ سکتے، ان کی حفاظت نہیں کر سکتے تو انھیں پیدا ہی کیوں کرتے ہو۔

ذرا اس بچے کا بدن دیکھیں اور بس اس تکلیف کو محسوس کرنے کی کوشش کریں ، جس سے وہ بیچارہ گزرا ہو گا۔ اگر آپ ذرا سا بھی محسوس کر سکیں تو آپ کا من تکلیف سے بھر جائے گا، ہاتھ لرز جائیں گے ، آنکھیں بھیگ جائیں گی۔

Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply