ہم فلمیں کیوں دیکھتے ہیں؟۔۔۔رمضان شاہ

ہم سب جانتے ہیں کہ آرٹ ایک تجربہ ہے اور ہر انسان چاہتا ہے کہ وہ یہ تجربہ عملی طور پہ محسوس کرے تاکہ وہ اس عمل سے کچھ حاصل کر سکے ، متاثر ہو سکے اور کر سکے۔

ایک فلم بہت سی آرٹ کی قسموں جیسے بصیرت، آواز، کارکردگی کے مظاہرہ کا مرکب ہوتی ہے تو بیک وقت آپ کا دماغ ناگزیر طور پر بہت سی آرٹ کی قِسموں کو اپنے اندر جذب اور محسوس کر رہا ہوتا ہے۔

فلمیں  آپ کو براہ راست اسکرین پر موجود حرفوں اور کرداروں سے منسلک کریں گی اور آہستہ آہستہ آپ کو اپنی دنیا میں کھینچنے کی کوشش کریں گی ۔ ایک فلم کو دیکھنے کے دوران آپ کے خامہ و خیال میں بہت سی چیزیں بیک وقت چل رہی ہوتی ہیں جن میں سے کوئی تو آپکے ارادہ و اختیار میں ہونگی اور کچھ اُس ماحول کی پیدائش۔

2010 میں کسی شمارے میں بریٹ میکریکن نے لکھا تھا کہ ہم سب اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ ہم فلموں کے ذریعے خیالی طور پہ راہِ  فرار چاہتے ہیں – اوریہ بات اپنی جگہ اہمیت کی حامل ہے لیکن یہ محسوسات سادہ تخیل سے کہیں زیادہ ہیں، فلم ہمیں ایسی جگہوں پر لے جاتی ہے ، جنہیں ہم نے کبھی دیکھا، نہ سوچا اور ان لوگوں سے تعارف کرواتی ہے جو ہم سے بہت مختلف اور انجان ہوتے ہیں۔
فلم ہمیں وسیع پیمانے پر ایک کھڑکی پیش کرتی ہے اور ہمارے نقطہ نظر کو وسیع اور نئے عجائبات کو دیکھنے کے لیے ہماری آنکھیں کھولتی ہے-

اس “ونڈو” یعنی کھڑکی کی سنیما کے لحاظ سے بہت سی اشکال اور اقسام ہیں۔
میرے پسندیدہ فلم کے نظریات دانوں میں سے ایک، اندرے بازین نے اکثر سینماٹک “شاٹ” کو ایک فریم ورک ونڈو کے طور پہ دیکھا جو صرف نظر سے باہر کی وسیع حقیقت کے بارے اشارہ کرتی ہے،جبکہ دیگر نظریات نے فریمڈ شاٹ کو ایسی چیز کے طور پر دیکھا جو محدودیت کو ظاہر کرتے ہیں (یعنی جو شاٹ کے اندر ہے بس وہی حقیقت ہے۔
بازین نے اپنے اس نظریے کو ایسے بیان کیا کہ فلمی تصویر کو جب ہم سکرین سے باہر دیکھتے یا اسکا مشاہدہ کرتے ہیں تو وہ کائنات کی وسعت اور طوالت کا بیان دیتی ہے۔
میرے پسندیدہ فلم تھیوریسٹس میں سے ایک اور سائےفرائیڈ نے اس بات سے اتفاق کیا کہ فلم کی تصویر فطری طور پر غیر منطقی ، مبہم اور “اوپن” ہے – یہ حقیقت کا ایک ٹکڑا ہے جس کا کوئی خاتمہ نہیں-
آرٹ ایک کھڑکی ہے۔

اس کھڑکی کے نظریے کے بارے میں سی ایس لیوس کا خیال تھا کہ یہ ہمارے لیے انجانی دنیا کا ایک راستہ ہے ،وہ اپنے تجزیے میں لکھتے ہیں کہ ہم خود سے زیادہ ہونا چاہتے ہیں خود کو نمایاں اور اہم محسوس کرانا چاہتے ہیں ،ہم میں سے ہر کوئی قدرتی طور پہ دنیا کو اپنی مخصوص طرزِ  فکر اور نظر سے دیکھتا ہے اس لیے ہم دوسری آنکھوں سے دیکھنا چاہتے ہیں، دیگر تصورات کے ساتھ تصور کرنا چاہتے ہیں، دوسرے دلوں کی دھڑکنوں کے ساتھ دھڑکنا چاہتے ہیں اس لیے ہم اور کھڑکیوں کا مطالبہ کرتے ہیں”۔

لیکن سنیما صرف ونڈو سے کہیں زیادہ ہے،یہ ایک محدب عدسہ (magnifying glass) بھی ہے،یہ ہر طرح کی حقیقت پر ہماری توجہ مرکوز کرتی ہے جس کی بنا پہ ہمارے سامنے اس حقیقت کی نئی شکلیں سامنے آتی ہیں جو ہمارے تئیں عظمت اور تجسس سے بھرپور ہوتی ہیں ۔

فلم کے ابتدائی دنوں سے، اس کی اصل پہ فلسفیانہ اور تنقیدی تحریریں موجود ہیں، لیکن 1960 ء کے آخر میں اور 1970 کی  دہائیوں میں، اس نے ایک اکادمیہ کا درجہ اختیار کر لیا – ایک نئی گفتگو اور ادب کی شاخ ہونے کی وجہ سے ، فلم نے اپنے  نظریات کے لیے مضامین دیگر شعبوں جیسے ادب، نفسیات اور صنف کی تعلیمات سے اخذ کیے اور انہیں فلموں پر لاگو کیا۔

اب تک کے سب سے زیادہ مشہور اور دلچسپ نظریات جو فلم کے نظریہ کی مختصر تاریخ بیان کرتے ہیں وہ مندرجہ ذیل ہیں۔۔
‌ میز کے نیچے بم
‌ نظریاتی کوڈ
‌ جمالیاتی فرق کی خلاف ورزی

چلیں نظریاتی کوڈز پر گفتگو کرتے ہیں۔
فرانسیسی ماہر لسانیات رولنڈ بارتھس نے اپنےایک مضمون میں کہا ہے کہ فلمی لکھائی دھاگے کی گیند کی  مانند ہے جو خود کو ظاہر کرنا چاہتی ہے ،ایک بار ایسا ہو جائے تو یہ اپنی اصلی حالت سے یکسر مختلف نظر آۓ گی اس کے علاوہ، انہوں نے کہا تھا کہ تمام گیندیں ایک جیسی نہیں ہوتیں،چند کے دھاگے کھلے ہوۓ ہوتے ہیں، مطلب یہ ہے کہ وہ کئی طریقوں سے کھل سکتے ہیں اور کچھ “بند” ہوتے ہیں، جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ صرف ایک ہی طریقے سے کھولے جا سکتے ہیں، یہ فلموں کی طرح ہے، کچھ کثیر معنوں میں سمجھیں جاتی ہیں، جبکہ دوسروں کو صرف ایک ہی طریقے سے سمجھا جا سکتا ہے۔

یہ بات اب ہمیں فلموں کو سمجھنے کے پانچ بیانیوں کی طرف لے کر جاتی ہے اور اسکو دو مثالوں سے سمجھا جا سکتا ہے۔ ایک انکو رنگیں لینز کے طور پر دیکھیں اور دوسرا مختلف لوگ بات کررہے ہیں۔
کسی چیز کو دیکھنے کے لیے لینز کا استعمال آپ کا نظریہ اس چیز کے حوالے سے بدلتا ہے لیکن وہ چیز اصل میں وہی رہتی ہے – دوسری مثال یہ ہے کہ تصور کریں کہ پانچ مختلف لوگ آپ کے ساتھ ایک ہی وقت میں بات کر رہے ہیں، نظریاتی کوڈ آپ کو ایک وقت میں بولنے والےصرف ایک شخص کو سننے کی اجازت دیتا ہے۔

وہ پانچ بیانیے یا کوڈز Hermeneutic, Proairetic, Semantic, Symbolic, and Cultural
ہیں۔۔۔
ہرمینوٹک کوڈ ایک فلم میں پوشیدہ معنی تلاش کرنا ہے اور کسی بھی پراسراریت  یا راز کو حل کرنے کی کوشش کا عمل ہے ۔
Proairetic
صرف فلم دیکھنا اور ہر عمل کو اسی وقت اسی موقع  پہ جج کرنا ہے۔
سیمنٹک کوڈ کی وضاحت کرنا مشکل ہے کیونکہ Barthes تعریف نہیں دیتا، لیکن اس میں “سیمز،” شامل ہے جو چیزوں کو منسلک کرتا ہے، مثال کے طور پر، “جان امیر ہے اور تیزی سے گاڑی چلانا پسند کرتا ہے،” تو ایسے کہا جاسکتا ہے کہ “جان فیراری چلاتا ہے” ۔۔سیمبولک یا علامتی کوڈ ایک فلم میں علامات کی تلاش کرنا ہے۔مثال کے طور پر، ایک بوڑھا آدمی اور ایک جوان بنچ پر بیٹھے ہیں، درمیان کی جگہ زندگی کی نمائندگی کر سکتی ہے۔۔
آخر میں کلچرل یا ثقافتی کوڈ ہے، جس میں فلم سے باہر کسی بھی چیز کے حوالہ جات کو پڑھنا ہے جیسے ثقافت، سائنس اور تاریخ۔۔
گرچہ فلموں کو سمجھنا بھی ہماری زندگی کی طرح مشکل اور کٹھن عمل ہے لیکن یقین رکھیے کہ یہ بھی زندگی کی طرح ہمیں جینے، محسوس، سمجھنے اور سیکھنے کا موقع  فراہم کرتی ہیں۔

Avatar
رمضان شاہ
اپنا تعارف کیا کروں ، ہاں ایک شعر لکھا تھا وہ ہی تعارف سمجھ لیں الفاظ چیختے ہیں کبھی بند لبوں سے بھی , شدّت جنون کی آنکھیں گواہ ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *