کسی ایسے شخص کا تصور کیجئے جو ذہین ہے، پر اعتماد ہے اور قابلیت سے بھرپور ہے، لوگ اس شخص کا عظیم مستقبل دیکھتے ہیں، ایسا شخص محفل کی جان ہو سکتا ہے، انسانی معاملات کی باریکیوں کو بخوبی سمجھتا ہے مگر وہ کسی ایسے کام میں کامیاب نہیں ہو سکتا جس کام کے کرنے سے اسے آفاقی راحت نصیب نہ ہو، اس کی خواہش ہے کہ زندگی کا ہر باب اس قدر روشن اور رنگین ہوکہ عوام الناس عش عش کر اٹھیں ، بالکل ایسے جیسے کسی افسانے میں ہوتا ہے۔ وہ چونکہ غیر معمولی ذہانت کا حامل ہے اس لئے تمام زمینی و سطحی مشاغل اور زمہ داریوں کو وہ پیٹھ پیچھے ڈالتا جاتا ہے کہ یہ ” بیہودگیاں” اس کے شایانِ شان نہیں، نتیجے میں کئی سال گزرنے کے بعد بھی وہ اسی مقام پہ ٹھہرا رہتا ہے جہاں سے خواب دیکھنا شروع کئے تھے ، تمام قابلیتیں گویا ہوا میں معلق ہیں۔
کارل یونگ نے انسانی شخصیت کے اس آرکیٹائپ کو دائمی بچے کا نام دیا ہے، لاطینی زبان میں اس کیلئے puer aeternus کی اصطلاح استعمال ہوتی ہے۔
کارل یونگ کی نفسیات کا مثبت پہلو یہ ہے کہ فرد خود کو اس میں بخوبی پہچان لیتا ہے اور زیر لب مسکراتا ہے، لیکن ان کی نفسیات کا منفی پہلو یہ ہے کہ فرد جان نہیں پاتا کہ خود کو پہچاننے کے بعد اب آگے کرنا کیا ہے ۔
دائمی بچہ اپنی شخصیت میں نہایت پرکشش ہے، حتیٰ کہ اس کی عیاری میں بھی ایسی بچگانہ معصومیت پائی جاتی ہے کہ لوگ بخوشی اس کے دھوکے میں آنا پسند کرتے ہیں، اس کی تقریر و خاموشی، دونوں برابر متاثر کن ہیں ۔ بلا کا ذہین ہونے کی وجہ سے وہ پہلی ہی ملاقات میں سامنے والا کا دل موہ لیتا ہے۔ اس کی قابلیت ، اس کا پوٹینشل ہر ادا سے ایسے چھلک رہا ہوتا ہے کہ دیکھنے والے کو یقین ہوتا ہے کہ ایک دن یہ شخص بہت بڑا آدمی بنے گا۔
ایسا شخص کسی بھی ایسے کام میں ہاتھ نہیں ڈالے گا جو عام ہو، جسے ہر کوئی کر سکتا ہو یا کرنا چاہتا ہو، روٹین سے اسے چڑ ہے، سطحیت اس کا فشار خون بلند کرتی ہے، عامی پیشے اور عوامی مشاغل کو وہ اپنے ذہن کی توہین سمجھتا ہے۔
اس آرکیٹائپ ، دائمی بچے، کا کوئی بھی سوال بے معنی نہیں ہوتا، وہ آپ کو باتوں میں لگا کر بات کہ تہہ تک یوں پہنچے گا کہ آپ کے رونگٹے کھڑے ہو سکتے ہیں۔ مگر دوسری طرف یہی دائمی بچہ اپنی ذات کو لے کر جیسے کسی گہرے پانی میں کھڑا ہو، اسے کچھ دکھائی نہیں دیتا، ذہن پر دھند چھائی ہے، گویا کہ وہ نیم بیہوش ہے۔ وہ کسی بھی کام کو منطقی انجام تک نہیں پہنچا پاتا، جس مقام پر اسے بوریت محسوس ہوئی، وہ اسی مقام سے پیچھے کو پلٹ جائے گا۔ اس کا مقصد عظیم ترین کارنامہ یا تخلیق سر انجام دینا ہے، اس سے کم پر وہ راضی نہیں۔
واقعہ یہ ہے کہ ایسا فرد نہایت اچھے مقاصد کیلئے بہترین آئیڈیاز اور بڑے خواب لے کر نکلتا ہے، لیکن جونہی وہ دنیا کی بھدی حقیقت سے ٹکراتا ہے تو فوراً مایوس ہوتے ہوئے کوشش ترک کر دیتا ہے ، اس کیلئے عظمت اہم ہے چاہے یہ عظمت تخیلاتی ہی کیوں نہ ہو، اگر حقیقت کسی طور اس کی متعین کردہ عظمت پہ پورا نہیں اتر رہی تو وہ ایسی حقیقت کو جوتے کی نوک پہ رکھے گا، اور یہ رویہ نقصان دہ اس لئے ہے کہ نچلی سیڑھی کو ٹھکرا کر فرد کیونکر بلند سیڑھی پر پہنچ سکتا ہے. دائمی بچہ مگر بلند تر سیڑھی سے نیچے کسی زینے کا خواہشمند نہیں ۔
اس کے تخیل میں مستقبل ایسا رنگین اور عظیم ہے کہ خدا کی پناہ، مگر اس مستقبل کو پانے کیلئے حال کی جس سطحیت سے گزرنا ہے، یہ شخص ایسی سطحیت کو اپنانے کیلئے تیار نہیں، اس کے ذہن میں کوئی عظیم تخلیق، کوئی بڑا آئیڈیا گردش کر رہا ہوگا، لیکن اس عظیم تخلیق کو عملی جامہ پہنانے کیلئے جونہی وہ کوئی اقدام اٹھائے گا، اسے محسوس ہوگا کہ یہ تمام اقدام اس عظیم تخلیقی خواب کا فقط عکس ہیں، سایہ ہیں، اس سے زیادہ کچھ نہیں، دل برداشتہ ہوکر وہ تمام ایسے اقدام سے نظر پھیرتے ہوئے واپس اس عظیم تخلیق کے خیال میں گم ہو رہے گا جہاں یہ تخلیق اپنی تمام تر عظمتوں کے ساتھ موجود ہے۔
انسانی تعلقات میں بھی یہ دائمی بچہ مستقل مزاج اس لئے نہیں کہ کوئی بھی اس کی ان توقعات پہ پوار نہیں اتر رہا جو توقعات اپنے دوست/ ہمسفر کیلئے اس نے اپنے ذہن میں پال رکھی ہیں ، انسان اب چونکہ خطاؤں اور کمزوریوں سے مبرّا نہیں تو دائمی بچہ کسی ایک پر ٹکنے کی بجائے نئے تعلقات استوار کرتا چلا جاتا ہے کہ شاید کہیں وہ دیوی/دیوتا مل جائے جس کی تصویر اس نے اپنے خیالوں میں سجا رکھی ہے، کاملیت اس کی منزل ہے مگر وہ کاملیت کو پانے کیلئے کسی سطحیت، کسی معمول، کسی روٹین اور کسی بوریت سے گزرنے کو تیار نہیں کہ یہ تمام خرافات اس کے معیار کی توہین ہیں ۔
ایسا نہیں کہ دائمی بچہ کوئی بڑی منزل، کوئی کامیابی نہیں پا سکتا، وہ گاہے بہت بڑی تخلیقی چھلانگ لگا کر دنیا کو حیران کر سکتا ہے، لیکن اس کیلئے اس کے پاس کسی غیر معمولی محرک کا ہونا ضروری ہے، ایسا محرک جو اسے تمام دنیا سے بے خبر کر دے ، ایسی جنونیت جو کسی بیرونی دباؤ کے تابع نہ ہو ۔ عظمت کا خبط اگر کسی بڑے محرک کے زیرِ اثر ہوتو پھر ایسے فرد کو روکنا ممکن نہیں ، اپنی تخیلاتی عظمت اور کاملیت کو حقیقی روپ دینے میں وہ دن رات ایک کر دے گا، لیکن بدقسمتی سے ایسا محرک بہت کم دیکھنے کو ملتا ہے۔
دائمی بچہ کسی stem cell کے جیسا ہے جو کچھ بھی بن سکتا ہے اگر حالات موافق ہوں تو، لیکن اس کا سب سے بڑا خوف یہ ہے کہ کسی ایک سمت کا انتخاب اس کے سامنے باقی ماندہ ممکنات کے دروازے بند کر دے گا، وہ جانتا ہے کہ اس کے اندر پوٹینشل اس قدر وسیع ہے کہ اگر حالات و واقعات اس کے حق میں ہوں تو وہ بیک وقت دانشور، سائنسدان ، دولتمند ، شاعر، ادیب اور سماجی و سیاسی علوم کا ماہر بن سکتا ہے، کسی ایک کا انتخاب کرنے سے وہ اپنے اندر موجود پوٹینشل کو محدود نہیں کرنا چاہتا۔ دوسری طرف شروعات بھی چونکہ چھوٹے قدم یعنی سطحیت سے کرنی ہے اور یہ اس پہ رضامند نہیں تو نتیجے میں تمام پوٹینشل اور تمام ٹیلینٹ بس ہوا میں تحلیل ہو جاتا ہے، اور یہی اس دائمی بچے کا سب سے بڑا خوف ہے ۔ اسی لئے وہ زندگی میں کبھی مطمئن اور خوش نہیں رہ پاتا کہ اپنے اندر موجود قابلیت کے دس دروازوں میں سے وہ کسی ایک کا انتخاب کرنے پر متفق نہیں کہ باقی نو ضائع جائیں گے، وہ بیک وقت ان تمام دروازوں سے گزرنا چاہتا ہے کہ یہی عظمت ہی اس کی اصل منزل ہے، لیکن اکثر اوقات وہ انتخاب کے تردد اور خوف میں کسی ایک میں سے بھی نہیں گزر پاتا۔
تصور کیجئے کہ کسی ایئر پورٹ پر سو ہوائی جہاز کھڑے ہیں، ان میں سے ہر ایک جہاز کی اپنی ایک منزل ہے جس کی طرف اسے روانہ ہونا ہے۔ عام آدمی اپنے جہاز کا انتخاب کرتے ہوئے اس میں جا بیٹھے گا اور کچھ ہی دیر میں جہاز ایئر پورٹ سے اپنی منزل کی طرف روانہ ہو جائے گا، لیکن دائمی بچے کی پریشانی یہ ہے کہ اگر وہ کسی ایک جہاز میں بیٹھتا ہے تو باقی ننانوے جہاز اس کی نظروں سے اوجھل ہو جائیں گے اور یہ چیز اسے منظور نہیں، اسے بیک وقت سو کے سو جہاز آنکھوں کے سامنے چاہئیں اور اسے اپنی منزل پر بھی پہنچنا ہے، انتخاب کا یہی تردد اور خوف اسے سالہا سال اسی ایئرپورٹ پہ بھٹکائے رکھے گا اور ممکن ہے کہ وہ کبھی بھی اپنی منزل تک نہ پہنچ پائے ۔
اب ایک طرف چونکہ زندگی کا حقہ پانی بھی چلانا ہے اور دوسری طرف دائمی بچہ بھی ضد پہ اڑا ہے تو پھر فطرت اس دائمی بچے کو دھکے دیتے ہوئے کسی دروازے کی طرف لے جاتی ہے، کسی جہاز میں بٹھا دیتی ہے، اور بدقسمتی سے فطرت ایسے شخص کو ہمیشہ بدترین دروازے سے گزارے گی اور بدترین جہاز میں بٹھائے گی، یہاں سے فرد کا اضطراب بڑھتا ہے کہ وہ ناپسندیدہ ترین شعبے/پیشے میں آن ٹپکا، حقیقت کا یہ بھیانک روپ ایسا خوفناک ہے کہ فرد کو زندہ رہنے کیلئے واپس خیالوں کی دنیا میں بسیرا ڈالنا پڑتا ہے جہاں اس کی تخیلاتی عظمتیں اس کے دلاسے کو موجود ہیں، اور یوں اسی دائرے پہ زندگی گھومنا شروع ہو جاتی ہے ۔فرد کا ضمیر زندہ ہوتو وہ اس دوزخ میں خاموشی سے کڑھتا رہے گا، اگر ضمیر کمزور ہے تو پھر سماج کو الزام دیا جائے گا کہ وہ میرے جیسے جینیئس کو نہ سمجھ پایا، اقارب کو لعن طعن کی جائے گی کہ اگر وہ مناسب وقت پہ مناسب مدد کر دیتے تو آج خاکسار قبیلے کی آنکھ کا تارا ہوتا۔
بات طویل ہوگئی، بتانا یہ تھا کہ ہمیشہ سطحیت سے شروعات کریں ، چھوٹے قدم سے آغاز کریں، مائیکل انجیلا نے کہا تھا کہ شاہکار معمولی چیز نہیں لیکن معمولی چیزیں ہی مل کر شاہکار بناتی ہیں۔ یا تو پھر کوئی ایسا محرک ڈھونڈیں کہ جو اس قدر طاقتور ہوکہ تمام سطحی خرافات کو روندتے ہوئے آپ کو عظمتوں تک لے جائے، ایسا محرک اگرچہ ڈھونڈھنے سے کبھی نہیں ملتا، وہ یا تو ہوتا ہے یا پھر نہیں ہوتا ۔
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں