• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • نکولائی چرنی شیفسکی : انقلابی جمہوریت پسندی کا استعارہ (بالشویک انقلاب میں ادب کا کردار) ۔۔چوتھا حصہ/مشتاق علی شان

نکولائی چرنی شیفسکی : انقلابی جمہوریت پسندی کا استعارہ (بالشویک انقلاب میں ادب کا کردار) ۔۔چوتھا حصہ/مشتاق علی شان

پوشکن ، ہرتسن اور بیلنسکی کے بعد روس کے جس ممتاز انقلابی ادیب اور دانشور نے کئی ایک نسلوں کی ذہنی آبیاری کی ، زار شاہی کے بدترین مظالم سہے لیکن اپنے فکروفن اور محنت کار عوام سے مضبوط تعلق اور ان کی زندگیوں میں حقیقی تبدیلی کے آدرش پر آنچ نہیں آنے دی وہ نکولائی چرنی شیفسکیNikolay Chernyshevsky (1828-1889)ہے ۔ کثیر الجہات شخصیت کا مالک چرنی شیفسکی بیک وقت ایک ماہر معاشیات،ماہرِ لسانیات ، تاریخ دان، فلسفی ، مصنف ونقاد اور زبردست انقلابی مفکر ومساعی پسند تھا ۔انیسویں صدی میں روسی ادیبوں ،دانشوروں کے انقلابی قبیلے کے سرخیل ، نکولائی چرنی شیفسکی نے سراتوف کے ایک پادری گھرانے میں جنم لیا۔ اس انقلابی جمہوریت پسند،ممتاز دانشور، ادیب، نقاد اور روسی سوشل ڈیموکریسی کے پیش رونے ابتدا میں مذہبی تعلیم حاصل کی لیکن اس کے کاندھے تا دیر صلیب کا بوجھ نہ اٹھا پائے ۔وہ چالیس کی دہائی میں یورپ میں ہونے والے انقلابی واقعات سے متاثرہوکر زار روس کا تختہ الٹنے کی خواہشمند انقلابی قوتوں کا حصہ بن گیا ۔وہ فرانس کے یوٹوپیائی سوشلسٹ فلاسفر چارلس فورئیر کی سماجی انصاف پر مبنی تعلیمات کا پرجوش حامی تھا۔ بعد میں معروف جرمن فلاسفر ہیگل اور فیور باخ کے مطالعے سے اس کا ذہنی افق مزید روشن ہوا ۔وہ اشتراکیت کا زبردست حامی مادیت پسند فیلسوف تھا جو یہ سمجھتا تھا کہ سماجی تبدیلی پر امن ذرائع سے ممکن نہیں اور محنت کار عوام کو صرف انقلاب ہی غلامی کی زنجیروں سے آزادی دلا سکتا ہے۔وہ کارگاہ حیات میں عام لوگوں کو اولیت دینے کا قائل تھا اور ان کے لیے سوشلزم کو نا صرف مفید بلکہ ناگزیر سمجھتا تھا۔ چرنی شیفسکی کا تخصص جو اسے دیگر یوٹوپیائی سوشلسٹوں سے ممتاز کرتا ہے وہ اس کا یہ علمی تجزیہ تھا جس کے بموجب سوشلزم کا قیام اس لیے ناگزیر ٹھہرتا ہے کہ یہ سماجی پیداوار کی فطرت کے مطابق ہے ۔ خود چرنی شیفسکی کے لفظوں میں ”اگر پیداواری عمل کی خصوصیت بدل جائے تو پھر محنت کی خاصیت بھی بدل جاتی ہے اور نتیجتاََ محنت کے مستقل کے بارے میں خوفزدہ ہونے کی کوئی وجہ نہیں ۔ اس کی بہتری کی ناگزیریت خود پیداواری عمل کی نشوونما میں پہلے ہی موجود ہوتی ہے۔“ (1)
چرنی شیفسکی نے 1853میں اعلیٰ ڈگری کے حصول کے لیے ”سچائی کے ساتھ فن کا جمالیاتی رشتہ “The Aesthetic Relations of Art to Realityکے عنوان سے مقالہ تحریر کیا ۔وہ پہلا شخص تھا جس نے فن کے مادی نقطہ نظر کے لیے دلائل پیش کرتے ہوئے کہاکہ ”فن برائے فن ہمارے عہد میں ایسا ہی عجیب وغریب ہے ،جیسے کہا جائے زر برائے زر،سائنس برائے سائنس وغیرہ ،اگر انسان معطل ہو کر نہ بیٹھ جائے تو تمام انسانی سرگرمیاں انسانیت کی خدمت کرتی ہیں۔ زر اس لیے ہوتا ہے کہ انسان اس سے مستفید ہو سکے ۔سائنس اس لیے ہے کہ انسان کی رہنمائی کرے ۔فن کو بھی کسی مفید مقصد کے لیے ہونا چاہیے نہ کہ محض لطف اندوزی کے لیے۔“(2) چرنی شیفسکی27سال کی عمر میں ادب و فن کے حوالے سے اس آفاقی سچائی تک پہنچاکہ ” ادب کو نہ صرف زندگی کی ترجمانی کرنی چاہیے بلکہ اسے زندگی کے بارے میں ایک نصابی کتاب بھی ہونا چاہیے ۔ اور فن کا وظیفہ محض منظر نگاری ہی نہیں بلکہ حقیقت نگاری بھی ہے لوگوں کی زندگی کے دکھ درد کو ظاہر کرتے ہوئے فن معاشرے پر تنقید کا وظیفہ بھی سرانجام دیتا ہے ۔“(3) بیلنسکی کے بعد چرنی شیفسکی نے بھی ادب کے متعلق حد درجہ ترقی پسند خیالات کا اظہار کیا ۔اس کے بقول ” ادیب اور آرٹسٹ کی دلی آرزو ہونا چاہیے کہ زندگی کے مسائل کو سمجھے
اور سمجھائے اور اپنے فن کے ذریعے لوگوں کو بہتر زندگی کا گرویدہ کرے ۔وہ تصانیف کوئی قدر نہیں رکھتی جن میں سیاسی، معاشرتی اور اخلاقی اصلاح مضمر نہ ہو ۔“ (4)
چرنی شفیسکی روس کے تبدیلی پسند اور زار مخالف حلقوں کے مقبول رسالے ”ہم عصر“ کے نظریاتی اساتذہ میں سے ایک تھا جس پر بعد میں پابندی عائدکی گئی۔ اس نے1850 اور60کی دہائی میں ”اجتماعی ملکیت کے خلاف فلسفیانہ تعصب کا انتقاد“،”جولائی کی بادشاہت“،” سرمایہ اورمحنت“،” زمین کی ملکیت“ اور” بغیر پتے کے خطوط“ جیسی تحریرو ں کے ذریعے سیاسی جہد کاروں میں جدوجہد کا حوصلہ اور کسانوں میں طبقاتی شعور بیدارکیااور انھیں رعیتی غلامی اور زار شاہی کے جبر کے خلاف جدوجہد کے لیے تیار کیا ۔ کارل مارکس نے اس کے متعلق کہا تھا کہ” چرنی شیفسکی نے بورژوا نظام کو بڑی خوبی سے بے نقاب کیا ہے۔ اس نے روس کے کسانوں کی جدوجہد کو انقلاب کے لئے ایک نیک فال قرار دیا تھا۔ اس کی ہمدردیاں دنیا بھرکے کچلے ہوئے عوام کے ساتھ تھیں۔ اس نے 1857 کی جنگ آزادی(ہندوستان) اور انگریزوں کے خلاف چینیوں کی مسلح جدوجہد کی حمایت کی تھی۔“(5)
1861میں چرنی شیفسکی نے نکولس دوبرولیوبوف(1836-1861)کے ساتھ مل کرکسانوں کی ایک بڑی خفیہ انقلابی تنظیم Zembya Volya(زمین اور آزادی) کی
بنیاد رکھی۔دوبرولیوبوف بھی چرنی شیفسکی کی طرح ایک عظیم انقلابی جمہوریت پسند اور مادیت پسند مفکر تھا جس نے روسی ادبی تنقید نگاری کی بھی بنیاد رکھی۔ ہرتسن ،بیلنسکی اورچرنی شیفسکی کی طرح دوبرولیوبوف بھی انقلابی سوشل ڈیمو کریسی کا پیش رو کہلاتا ہے ۔ملک گیر کسا ن تحریک منظم کرنے کے لیے بنائی گئی اس تنظیم کو زار شاہی نے اپنے لیے ایک بڑاخطرہ محسوس کیا ۔ چرنی شیفسکی اور اس کے ساتھیوں نے 1861میں زار کی طرف سے ”زرعی اصلاحات اورغلامی کے خاتمے “ کی نام نہاد اصلاحات کو بھی ہدفِ تنقید بنایا ۔ اسی ابتدائی سال میں تنظیم کو دو بڑے جھٹکے چرنی شیفسکی کی گرفتاری اور دوبرولیوبوف کی وفات کی شکل میں برداشت کرنے پڑے ۔چرنی شیفسکی کو7سال کی سزائے قید بامشقت سنا ئی گئی ۔سینٹ پیٹر اور پال کے قلعوں کے زمانہ اسیری میں اس نے اپنا معرکہ آرا ءناول ” کیا کِیا جائے ؟“ تحریر کیا۔ یہ روس کا پہلا ناول تھا جس میں محنت کار عوام کی نجات کی جدوجہد کرنے اور اس راہ میں کٹھن آزمائشوں کے لیے تیار ”راخمیتوف‘‘نامی انقلابی کردار کی عکاسی کی گئی تھی ۔ترگنیف کے نہلسٹ کردار بازاروف کے مقابل چرنی شیفسکی کا راخمیتوف شکستوں کی بجائے فتوحات اور قنوطیت کی بجائے رجائیت پسندی کا استعارہ ہے ۔یہ ا ن ”نئے لوگوں “ میں سے ایک ہے جو انقلابی مقصد کے حصول کے لیے زندگی کا عیش وآرام تیاگ کر جدوجہد کا سرفروشانہ راستہ اختیار کرتے ہیں ۔اس ناول کے ذریعے چرنی شیفسکی نے اپنے انقلابی نظریات روس کی کئی ایک نسلوں کو منتقل کیے جن کی جدوجہد کا محور ومرکز
غلامی،جاگیرداری اور مطلق العنان بادشاہت کا خاتمہ تھا۔
چرنی شیفسکی صرف روس کے جاگیردارانہ نظام کو ختم کرنے کا ہی متمنی نہیں تھا بلکہ اس کی مساوات کا دائرہ مساواتِ مرد وزن تک پر محیط تھا ۔اس نے اپنے ناول ” کیا کیا جائے ؟“ میں عورتوں کے جو کردار پیش کیے ہیں وہ اس امر پر دلالت کرتے ہیں کہ وہ عورت کی نجات کے اولین روسی پرچارکوں میں سے ایک تھا ۔اس نے روسی شعرا،ادبا اور دانشوروں کو عورتوں کی نجات کے ترقی پسند اور انقلابی نظریات کی جانب متوجہ کیا۔جاوید اختر اس سلسلے میں رقمطراز ہیں کہ ” چرنی شیفسکی کا ناول ”کیا کیا جائے؟“ سماجی تبدیلی کے خاکے ،ویرا پاولوونا ، لوپوکوف اور کرسانوف کے درمیان محبت کا سہہ تکونی سلسلہ ،حقیقت نگاری ،”نئے لوگوں“ کے نظریے اور اچھوتی کردار نگاری کی وجہ سے نوجوان طالب علموں کی بائبل اور سوشلزم کی دستاویز کے طور پر مقبول عام ہوا ۔اس لیے تاریخ ِ ادب میں اس کو اس قدر اہمیت حاصل نہیں ہوئی ہے جس قدر روسی حقیقت پسندی اور انقلابی سیاسی جدوجہد کے ارتقا میں اس کو مقام حاصل ہوا ہے۔ اس ناول میں لوگ مل جل کر رہتے ہیں اور ”نئے لوگوں “ کے طور پر ہر چیز کو ایک دوسرے کے ساتھ مل بانٹ کر استعمال کرتے ہیں ۔اس میں معاصر روسی معاشرے کی سرمایہ دارانہ ملکیتی اقدار کی نفی ،جنسی منافقت اور عورت کی غلامی کی مکمل تردید پائی جاتی ہے ۔“ (6)
1868میں جب چرنی شیفسکی نے اپنی سزا کی مدت پوری کی تو اسے مزید 12سال کی سزا سناتے ہوئے سائبیریابھیج دیا گیا ۔اس نے اپنی زندگی کے تقریباََ 22سال روسی جیلوں اور جلاوطنی میں گزارے جس میں’جرچنسک“ کے کانوں میں سالہا سال پولیس کی نگرانی میں سخت جسمانی مشقت بھی شامل تھی۔ان سخت ماہ وسال میں بھی وہ نہ صرف لکھنے، پڑھنے بلکہ اپنی کچھ تحریریں خفیہ طور پر باہر بھیجنے میں کامیاب رہا ۔وہ روس کا واحد ادیب تھا جس کی صرف تحریروں ہی نہیں بلکہ خود اس کا نام لینے تک پر پابندی عائدتھی۔ اس کی قید وبند کی صعوبتوں سے بھری زندگی کے بارے میں کارل مارکس نے ایک بار زار روس پر طنز کرتے ہوئے کہا تھا کہ “چرنی شیفسکی کو اس کی گراں قدر علمی خدمات کے صلے میں قید اور جلاوطنی ہی ملی۔“(7)
عظیم اکتوبر انقلاب کا بانی کامریڈ لینن بھی چرنی شیفسکی کا زبردست مداح تھا اوراس کے ناول سے متاثر ہو کر ہی انھوں نے 1903میں لکھی جانے والی اپنی معرکہ آرا کتاب کے لیے” کیاکِیا جائے،؟ “ کا عنوان منتخب کیا۔ لینن نے روس کے اس گراں قدر انقلابی ادیب کے بارے میں لکھا کہ ”چرنی شیفسکی کسان انقلاب برپا کرنے اور پرانے حاکموں کاتختہ الٹنے کے لیے عوامی جدوجہد کے تصور کی وکالت کرتے ہوئے ایک انقلابی تاثر پیش کرنے کی اہلیت رکھتا تھا ۔ساراروس اس کی توانا اپیلوں کو غور سے سن رہا تھا جو سنسر شدہ مضامین کے ذریعے بھی حقیقی انقلابیوں کو تربیت دینے کے قابل تھیں۔“ لینن کے بقول ” اس کی انقلابی جمہوریت پسندی اس کے مادیت کے فلسفے پر استوار ہوئی ،جو رجعت پسندی اورلبرل ازم کے خلاف جدوجہد کے دوران ترقی پا گئی تھی ۔بلاشبہ وہ وہ روس کا واحد لکھاری ہے جو 1850سے لے کر 1888تک ایک وابستہ وپیوستہ فلسفیانہ مادیت کی سطح برقرار رکھنے کے قابل تھا اور جس نے مثبتیوں، ماخسٹوں، کانٹ کے جدت پسندمریدوں اور دوسرے فاطر العقل خانہ خرابوں کو بھگا دیا۔“ (8)
چرنی شیفسکی کی مادیت پسندی کے حوالے سے علی عباس جلالپوری نے لکھا کہ ”بحیثیت ایک مادیت مادیت کے اس نے کانٹ کی مثالیت پر کڑی تنقید کی ، اس کا عقیدہ تھا کہ انسان اپنے اپنے حواس ِ خمسہ کے واسطے سے معروضی عالم کا جو علم حاصل کرتا ہے وہی یقینی ہے۔اس نے عمل کو نظریے کی صداقت کی کسوٹی قرار دیا ہے اور کہا کہ جو علم یا نظریہ عمل کے معیار پر پورا نہ اترے وہ قابل ِ لحاظ نہیں ہوتا ۔۔۔۔۔نظریے اور عمل کے بارے میں اس کا نقطہ ءنظر جدلیاتی تھا۔اس کا یہ خیال بھی قابلِ قدر ہے کہ تاریخ عوام بناتے ہیں لہذا عوام کے مفادات کو اولیت دینا ضروری ہے ۔کارل مارکس نے چرنی شیفسکی کی گراں قدر دین کا اعتراف کیا ہے۔“(9)
اپنی وفات سے ایک سال قبل1888میں اس نے بورژوا نظریہ دان مالتھس کے نام نہاد ” نظریہ آبادی“ کے رد میں ”زندگی کے لیے جدوجہد کے نظریے“ کی ابتدا “ نامی مقالہ لکھا۔ چرنی شیفسکی نے زندگی کا طویل عرصہ سائبیریا کی جلاوطنی ، بدترین قلعوں کی اسیری اور معدنی کانوں میں محنت کے ستم جھیلتے گزارا۔اس کی رہائی سے قبل زار شاہی اس کی ”طبعی “ موت کا بندوبست کر چکی تھی ۔روس کے سرد ترین مقامات پر جسمانی مشقتوں نے اس کی صحت بر باد کر دی تو پھر اس کی جسمانی تباہی کے آخری اقدام کے طور پر روس کے سب سے گرم مقام آستراخان روانہ کر دیا گیا جہاں اس نے اپنی قید اور جسمانی مشقت کے مزید پانچ سال گزارے۔یہیں مدتوں بعد چرنی شیفسکی کی برسوں بعد اپنی بیوی اولگا سوکراتوونا اوراپنے بیٹوں ساشا اور میشا سے ملاقات ہوئی جو اس کی گرفتاری اورقید کے وقت چھوٹے بچے اور اب نوجوان تھے۔چرنی شیفسکی کو 1889کے وسط میں کہیں جا کر اپنے آبائی وطن جانے کی اجازت اس حال میں ملی کہ اب وہ دمِ واپسیں پر تھا ۔
اپنے وطن پہنچنے کے محض چار ماہ بعد 17اکتوبر1889کو ساراتوف میں اس عبقری دانشور اور بے نظیر سیاسی مساعی پسند نے وفات پائی تو اس کے جنازے کا جلوس پولیس کی کڑی نگرانی میں گورستاں کی جانب لے جایا گیا کہ مرض الموت میں مبتلا زار شاہی اس کی لاش تک سے خوفزدہ تھی ۔ برسوں بعد بھی زار شاہی روس میں اس کا نام لینے پر پابندی عائد رہی ۔فریڈرک اینگلز نے اس کی سرفروشانہ زندگی اور محنت کار عوام سے کمٹمنٹ پر زبردست خراج پیش کرتے ہوئے اس کی موت کو زار روس کاکاندھوں پر شرمندگی کا ناقابل معافی داغ قرار دیا تھا. (10)چرنی شیفسکی اپنی آخری سانسوں تک روس میں زار شاہی کی شکست اور انقلاب کی کامیابی کے لیے پُر امید رہا۔اس کی موت کے 28سال بعدروسی محنت کشوں اور کسانوں کا وہ انقلاب برپا ہوا جس کا وہ متمنی تھا۔ اس کے انقلابی وطن اور اس کے سپوتوں نے کریملن ماسکو میں آزادی کے اس جانباز استاد کی یادگار قائم کی ۔سوویت یونین نے چرنی شیفسکی کو روس کی تاریخ میں اس کے منصب ، اس کے نام اور کام کو وہ جائز مقام بخشا جس کا وہ بجا طور پر حقدار تھا ۔

حوالہ جات:
(1) لپشینا ۔والووائے، عشاق کے قافلے ، ترجمہ ڈاکٹر شاہ محمد مری ،شاد پبلی کیشنز کوئٹہ ، 2006،ص:258
(2) اختر ،جاوید ،لینن اور جمالیات، اشاعت2013،غزنوی پبلشرز کوئٹہ،ص؛245
(3) ایضاََ
(4)محمدمجیب ، ،روسی ادب ، حصہ اول،، مکتبہ جامعہ لمیٹیڈ ،نئی دہلی،ص؛21
(5) علی عباس جلالپوری ، تاریخ کا نیا موڑ ،تخلیقات ،لاہور، 2013،ص:68
(6) اختر ،جاوید ،لینن اور جمالیات، اشاعت2013،غزنوی پبلشرز کوئٹہ،ص؛245
(7) نیکلای چرنیشفسکی، از ویکی پدیا، دانشنامہ آزاد
(8) لپشینا ۔والووائے، عشاق کے قافلے ، ترجمہ ڈاکٹر شاہ محمد مری ،شاد پبلی کیشنز کوئٹہ ، 2006،ص:258
(9) علی عباس جلالپوری ، تاریخ کا نیا موڑ ،تخلیقات ،لاہور، 2013،ص:42,43
(10) نیکلای چرنیشفسکی، از ویکی پدیا، دانشنامہ آزاد

مشتاق علی شان
مشتاق علی شان
کامریڈ مشتاق علی شان مارکس کی ان تعلیمات کو بھولے نہیں جو آج بھی پسماندہ طبقات کیلیے باعث نجات ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *