نماز کا موضوع انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ نماز اللہ سے تعلق قائم کرنے اور جسمانی صدقے کا نام ہے۔ نماز ایک عملی طریقہ ہے جس سے ہم اللہ کی طرف رجوع کرتے ہیں۔
نماز اسلام کے بنیادی عقائد میں سے ایک ہے۔ کلمہ اسلام کا زبان سے اقرار کرنا ہے، جبکہ نماز اسلام کو عملی طور پر اقرار کرنا ہے۔ عاجزی کا طریقہ اور تکبیر کا توڑ یقیناً نماز ہے۔ نماز اللہ کی واحدانیت کے اقرار کا بہترین ذریعہ ہے۔
نماز کی تاریخ
نماز صرف امت مسلمہ پر ہی فرض نہیں ہے بلکہ اور بھی امتوں پر فرض تھی۔
مثلاً:
1. حضرت ابراہیم علیہ السلام
“اے میرے رب! مجھے اور میری اولاد کو نماز قائم کرنے والا بنا۔”
سورۃ ابراہیم – آیت 40
2. حضرت اسماعیل علیہ السلام
“اور وہ اپنے گھر والوں کو نماز اور زکوٰۃ کا حکم دیتے تھے۔”
سورۃ مریم – آیت 55
3. حضرت موسیٰ علیہ السلام
“میں ہی اللہ ہوں۔۔ پس میری عبادت کر اور میری یاد کے لیے نماز قائم کر۔”
سورۃ طٰہٰ – آیت 14
4. حضرت عیسیٰ علیہ السلام
“اور (اللہ نے) مجھے جب تک میں زندہ ہوں، نماز اور زکوٰۃ کی وصیت کی۔”
سورۃ مریم – آیت 31
مگر ان کے نماز ادا کرنے کا طریقہ، وقت اور تعداد ہم سے مختلف تھی۔
حضرت موسیٰ اور ان کی قوم پر تین مرتبہ – صبح، دوپہر اور شام – نماز ادا کرنے کا حکم دیا گیا۔
حضرت عیسیٰ اور ان کی قوم کو بھی تین مرتبہ نماز ادا کرنے کا حکم دیا گیا۔ مگر رومی اثرات نے نماز کے طریقے اور دعاؤں کو بدل دیا۔
ان کے علاوہ حضرت ابراہیم، اسماعیل، نوح اور دیگر کی قوموں پر بھی نماز فرض تھی، مگر کن اوقات پر، یہ واضح نہیں۔
اگر بات کریں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کی، تو مشہور واقعہ معراج ہے۔ جب آپ پر 50 نمازیں فرض ہوئیں، مگر رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سفارش کی بدولت آخر میں 5 نمازیں فرض ہوئیں:
فجر، ظہر، عصر، مغرب اور عشاء۔
نماز کی اہمیت
1. “دین کا سارا معاملہ اسلام ہے، اس کا ستون نماز ہے، اور اس کی چوٹی اللہ کے راستے میں جہاد ہے۔”
کتاب: سنن الترمذی، حدیث نمبر: 2616
2. “قیامت کے دن سب سے پہلا حساب بندے کے اعمال میں سے نماز کا ہوگا…”
کتاب: سنن ابو داود، حدیث نمبر: 864
3. “آدمی اور کفر و شرک کے درمیان فرق نماز چھوڑنے کا ہے۔”
کتاب: صحیح مسلم، حدیث نمبر: 82
4. “ایک نماز سے دوسری نماز تک کے گناہوں کا کفارہ ہے، جب تک کبیرہ گناہوں سے بچا جائے۔”
کتاب: صحیح مسلم، حدیث نمبر: 233
5. “جنت کی کنجی نماز ہے۔”
کتاب: مسند احمد، حدیث نمبر: 12708
6. “جو نماز کی حفاظت کرے گا، وہ اس کے لیے قیامت کے دن نور، دلیل اور نجات کا ذریعہ ہوگی…”
کتاب: مسند احمد، حدیث نمبر: 6680
7. “جس کی نماز نہیں، اس کا کوئی دین نہیں؛ اور جس کا وضو نہیں، اس کی نماز نہیں۔”
کتاب: دارقطنی، بیہقی (متعدد روایات؛ معروف)
8. “جس نے عصر کی نماز چھوڑ دی، گویا اس کا سارا عمل ضائع ہو گیا۔”
کتاب: صحیح بخاری، حدیث نمبر: 553
1. سورۃ البقرہ – آیت 43
“اور نماز قائم کرو، زکوٰۃ دو، اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرو۔”
2. سورۃ طٰہٰ – آیت 14
“بے شک میں ہی اللہ ہوں، میرے سوا کوئی معبود نہیں، پس میری عبادت کرو، اور میری یاد کے لیے نماز قائم کرو۔”
3. سورۃ المؤمنون – آیت 1–2
“یقیناً کامیاب ہو گئے ایمان والے، جو اپنی نمازوں میں خشوع (دلجمعی) اختیار کرتے ہیں۔”
4. سورۃ العنکبوت – آیت 45
“بے شک نماز بے حیائی اور برائی سے روکتی ہے، اور یقیناً اللہ کا ذکر سب سے بڑی چیز ہے۔”
تین واقعات:
1. کربلا:
اسلام کی تاریخ کا سب سے بڑا واقعہ جہاں حضرت حسین علیہ السلام نے نماز کے دوران شہادت حاصل کی۔ آپ ظلم کے خلاف کھڑے رہے اور رب کی رضا میں راضی رہے۔ نیز امت کو پیغام دیا کہ حالات چاہے جیسے بھی ہوں، نماز کی پابندی لازم ہے۔
2. حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا قتل:
آپ کو نماز فجر کے دوران شہید کیا گیا۔ جب آپ کو خنجر لگا تو آپ بے ہوش ہو گئے، اور جب ہوش آیا تو فرمایا:
“کیا لوگوں نے نماز پڑھ لی؟”
جس سے نماز کی اہمیت واضح ہوتی ہے۔
3. اصحاب کہف:
یہ وہ نوجوان تھے جو نماز اور دعا کی خاطر غار میں چھپ گئے، اور رب کی عبادت و شرک سے بچنے کو ترجیح دی۔
نماز کی ادائیگی اور پابندی، عملی طور پر مسلمان ہونے کا پختہ ثبوت ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی مصروفیات – جو کہ دراصل دنیا کی طلب کی ہوس ہیں – میں سے چند لمحات نکالیں، اور اللہ کے حضور جھک جائیں تاکہ آخرت، یعنی حقیقی سفر، کو آسان بنا سکیں۔
اللہ ہمیں نماز ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین۔
Facebook Comments


بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں