عورتوں پر تشدد-آخر کب تک ؟-مہ ناز رحمن

آج صبح ایک خبر نظر سے گزری کہ ٹوبہ ٹیک سنگھ میں سمندری روڈ پر واقع ایک ریستوراں میں کام کرنے والی دو لڑکیوں کو چھٹی کے بعد گھر جاتے ہوئے اس لئے فائرنگ کر کے قتل کر دیاگیا کہ انہوں نے دو لڑکوں کی دوستی کی پیشکش  کو ٹھکرا دیا تھا۔اس طرح کی خبریں جب بھی میری نظر سے گزرتی ہیں تو میں سوچتی ہوں کہ لڑکیاں تو اپنے گھر والوں کی کفالت کے لئے گھر سے باہر نکلتی ہیں،اپنے بوڑھے باپ کے کندھوں کا بوجھ ہلکا کرنے کے لئے باہر نکلتی ہیں لیکن کچھ لفنگے لڑکے مردانہ حاکمیت کے زعم میں رشتے سے انکار یا دوستی کی پیشکش مسترد کئے جانے کو اپنی توہین سمجھتے ہیں۔ان کی جھوٹی انا
یہ توہین برداشت نہیں کر سکتی اور کبھی وہ اس کا بدلہ لڑکی کے چہرے پر تیزاب پھینک کر اور کبھی گولیاں چلا کر لیتے ہیں۔

اسی طرح 2018میں فیصل آباد میں ایک بس ہوسٹس کو اسی کمپنی کے سکیورٹی گارڈ نے رشتہ قبول نہ کرنے پر قتل کر دیا تھا۔یہ لڑکی اپنے گھرانے کی واحد کفیل تھی۔

قتل کرنے اور تیزاب پھینکنے کے علاوہ تشدد کی ایک اور بدترین شکل ریپ ہے۔فروری 2023میں وہاڑی میں ایک سیکورٹی گارڈ نے مسافروں کے اتر جانے کے بعد چلتی بس میں بندوق کے زور پر بس ہوسٹس کو ریپ کیا تھا۔بس ڈرائیور بھی اس واقعے میں گارڈ کے ساتھ ملوث پایا گیا تھا۔لڑکی نے وہاڑی پہنچنے پر 15پر پولیس کو اطلاع دی تھی۔پولیس نے کیس درج کر کے ملزم کو گرفتار کر لیا تھااور سماجی تنظیموں اور خواتین نے اس واقعے کے خلاف مظاہرہ کیا
تھا۔

پاکستان کے قبائلی علاقوں میں آج بھی عورتوں کو باہر نکل کر کام کرنے کی اجازت نہیں۔لڑکیوں کے گھر سے باہر کام کرنے کو ایک ایسا جرم سمجھا جاتا ہے جس کی سزا موت ہے۔فروری 2021میں شمالی وزیرستان میں چار خواتین ڈیولپمنٹ ورکرز کو قتل کر دیا گیا۔شمالی وزیرستان تحریک طالبان پاکستان کا گڑھ رہا ہے۔ان کے زیر اثر علاقوں میں عورتوں کی نقل و حرکت پر سخت پابندی تھی۔این جی اوز کی ترقیاتی سرگرمیوں کو ممنوع قرار دے دیا گیا تھا۔
ستمبر 2020میں بلوچستان میں ایک خاتون صحافی کو اس کے گھر میں قتل کر دیا گیا۔اقوام متحدہ کے دفتر برائے منشیات و جرائم کی تحقیق کے مطابق دنیا بھر میں ہر سال پچاس ہزار عورتیں اپنے شوہر، باپ، بھائی یا دیگر قریبی رشتہ داروں کے ہاتھوں قتل ہوتی ہیں۔اس میں ترقی یافتہ اور ترقی پذیر،غریب اور امیر ہر طرح کے ممالک شامل ہیں۔عورتوں کی ہلاکت کے واقعات کے پیچھے پدرسری نظام،سماجی و اقتصادی عدم مساوات اور فرسودہ رسوم و رواج
ہوتے ہیں۔
جولائی 2021میں جب عینی بلیدی کو اس کے شوہر نے حیدرآباد میں قتل کیا تھا,تو سندھ کی مشہور دانشور اور ایکٹوسٹ امر سندھو نے لکھا تھا،”ایک نظر اپنی شادی شدہ بیٹیوں کی زندگی پہ ڈالیں کہ کہیں وہ شوہر کے نام پر قاتل کے گھر رہنے پر تو مجبور نہیں ہیں۔عینی تیس سال کی پڑھی لکھی لڑکی تھی۔اس نے ایم بی اے کیا تھا۔شادی والدین نے کرائی تھی اور گذشتہ دس سالوں میں شوہر مسلسل اسے جسمانی تشدد کا نشانہ بناتا رہا تھا۔وہ میکے جاتی تو اس کو واپس بھیج دیا جاتا کہ ”گھر بنائے رکھو“۔وہ اسی جہنم میں زندگی گزارتی رہی یہاں تک کہ اک روز قتل ہو گئی۔سجاد ظہیر سولنگی کے بقول”عورت کے
کمزور ہونے کی ایک وجہ ہمارے سرمایہ دارانہ اور جاگیردارانہ نظام کا جبر ہے۔اس نظام کی وجہ سے خواتین جبر کا شکار بنتی ہیں۔“

خواتین پر ظلم و ستم اور تشدد اس مردانہ حاکمیت والے معاشرے میں مرد اور عورت کے درمیان طاقت اور اختیارات کی غیر مساوی تقسیم کی وجہ سے ہوتا ہے۔ہم یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ ہم پہلے انسان ہیں اور اس کے بعد مرد یا عورت یاکوئی اور صنفی شناخت رکھتے ہیں۔جسمانی طور پر مختلف ہونے سے ایک صنف کو دوسری صنف پر برتری حاصل نہیں ہو جاتی۔

صنفی انصاف کے حصول کے لئے عورتوں سے نفرت یا اسے حقیر سمجھنے کی روش کو ختم کرنا ہو گا۔تب ہی عورتیں ظلم و تشدد سے نجات پائیں گی۔
کنسرن ورلڈ وائیڈ کی تحقیق کے مطابق عورتوں پر ظلم اور تشدد کے پانچ بنیادی اسباب ہیں:٭ مضر صنفی دقیانوسی تصورات اور پدرشاہی نظام کی جکڑ بندی٭تنازعات، بحران اور گھر بدری٭غربت اور دیگر اقتصادی مشکلات٭قانونی تحفظ کا فقدان٭ناکافی سیاسی نمائندگی۔
عورتوں اور بچوں پر تشدد صرف پاکستان میں نہیں دنیا بھر میں ہوتا
ہے۔آسٹریلیا کی حکومت نے اس تشدد کو ختم نہیں تو کم کرنے کے لئے باقاعدہ ایک قومی منصوبہ تیار کیا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ عورتوں پر تشدد کے اسباب کے حوالے سے بہت سے غلط مفروضے پائے جاتے ہیں۔مثلاََ
٭مرد اپنے غصے اور جنسی اشتہا پر قابو نہیں پا سکتے
٭الکوحل کا استعمال مردوں کو تشدد پر آمادہ کرتا ہے۔
٭عورتیں جب چاہیں،تشدد کرنے والے شوہروں سے پیچھا چھڑا سکتی ہیں۔
٭بیویاں بھی شوہروں پر ظلم کرتی ہیں۔
ظاہر ہے یہ باتیں درست نہیں۔تحقیق نے ثابت کیا ہے کہ عورتوں پر تشدد کے
اہم اسباب درج ذیل ہیں:
٭عورتوں اور مردوں کے درمیان اختیارات اور وسائل کی نامنصفانہ تقسیم
٭صنفی کرداروں اور شناختوں پر سختی سے کاربند رہنا یعنی مردانگی اور
نسائیت کے مروج اور قدیم معیارات کی پابندی کرنا۔
افراد، تنظیمیں یا کمیونٹیاں تشدد کے بارے میں جو رد عمل ظاہر کرتے ہیں،اس کا انحصار ان رویوں پر ہے جو تشدد کو برداشت کرنا اوراس پر پردہ ڈالنا سکھاتے ہیں۔

julia rana solicitors

تحقیق کے مطابق تشدد کی حمایت کرنے والے رویوں کی پانچ بنیادی اقسام ہیں۔ان میں مندرجہ ذیل روئیے شامل ہیں:
٭ایسا رویہ جو کسی نہ کسی صورت میں خواتین کے خلاف تشدد کو درست یا قابل قبول قرار دیتا ہے۔اس کی بنیاد یہ سوچ ہے کہ مرد کو عورت پر تشدد کرنے کا حق حاصل ہے۔
٭تشدد کی ذمہ داری خارجی عوامل پر ڈال دینا کہ مرد کیا کرتا، بے چارہ
ذہنی دباؤ کا شکار تھا یا غصہ یا جنسی اشتہا نے اسے ہاتھ اٹھانے پر
مجبور کر دیا۔
٭تشدد کے اثرات اور نتائج کو گھٹا کر پیش کرنا یعنی تشدد کے نتائج اتنے سنگین نہیں تھے کہ عورت یا برادری یا سرکاری اداروں کو کسی کارروائی کی ضرورت پیش آتی۔
٭تشدد کو کم اہم یا معمولی مسئلہ سمجھنا یا کچھ رویوں کو تشدد ماننے سے
انکار کرنا، اس کے وقوع کا انکار کرناجیسے روئیے تشدد کو قابل قبول بناتے ہیں۔
٭مجرم کی بجائے متاثرہ فریق کو مورد الزام ٹہرانا یعنی عورت نے ہی ایسا کچھ کیا ہو گا جو مرد نے اسے مارا یا ریپ کیا۔(Vic Health)
عورتوں پر تشدد کے خاتمے کے لئے ہمیں سماجی روئیے تبدیل کرنا ہوں گے اور عورت اور مرد کو مساوی انسان سمجھنا ہو گا۔

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply