• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • چین–آسیان تجارتی ہم آہنگی: طاقت کے محور بدلتے رجحانات /ابو ہشام

چین–آسیان تجارتی ہم آہنگی: طاقت کے محور بدلتے رجحانات /ابو ہشام

یہ کوئی عام تجارتی معاہدہ نہیں۔ جب چین اور جنوب مشرقی ایشیا کے دس ممالک صرف تین ماہ میں دو سو چونتیس ارب ڈالر کی تجارت کر لیتے ہیں، تو سوال صرف معیشت کا نہیں رہتا — سوال یہ ہوتا ہے کہ کیا دنیا میں طاقت کا توازن بدل رہا ہے؟ اور اگر بدل رہا ہے تو یہ تبدیلی مغربی بالادستی کو چیلنج کرتے ہوئے سامنے آ رہی ہے۔ اب تجارت صرف خرید و فروخت نہیں رہی۔ جب آسیان ممالک خاموشی سے ڈالر کو پیچھے رکھ کر مقامی کرنسیوں میں معاہدے کرتے ہیں، اور اقوامِ متحدہ میں بھی اب اس کرنسی میں تجارت ہو رہی ہے، تو یہ محض اقتصادی عمل نہیں رہتا — یہ عالمی مالیاتی طاقت کی بساط پر ایک خاموش چال بن جاتا ہے۔ جنوب مشرقی ایشیا کی بندرگاہوں سے جب چین کا اثر دور تک پھیلتا ہے، تو امریکہ کی پریشانی اور بھارت کی بے بسی ایک ہی منظرنامے میں دکھائی دیتی ہے۔

یہی وہ بنیادی سوال ہے جس کا جواب ہمیں چین اور آسیان کی نئی تجارتی شراکت داری میں ملتا ہے۔ یہ معاہدہ محض شماریاتی کامیابی نہیں بلکہ خطے کے جغرافیائی، عسکری اور سفارتی توازن میں ایک زیرِ سطح زلزلے کا پیش خیمہ ہے۔ چین نے پچھلی دو دہائیوں میں بحری سطح پر جس ترتیب سے بندرگاہوں پر اپنی گرفت مضبوط کی ہے، اسے بین الاقوامی تجزیاتی لغت میں “String of Pearls” یعنی “موتیوں کی لڑی” کہا جاتا ہے۔ یہ لڑی گوادر، ہمبنٹوٹا، چٹاگانگ، کیاؤکفیو اور دیگر ساحلی ٹھکانوں سے جڑتی ہے۔ چین کا بحری بیڑا اب سمندر پر ایسے چھایا ہوا ہے جیسے بادل ساون کے مہینے میں سورج کو ڈھانپ لیتے ہیں۔ امریکہ کی ’نیوی بلیو‘ ماند پڑتی دکھائی دیتی ہے، اور انڈیا ابھی اپنی کشتی چپو سے پار لگا رہا ہے۔ اس کے مقابل بھارت نے “Diamond Necklace” یعنی “ہیروں کی مالا” کے ذریعے انڈمان و نکو بار، دقم، ماریشس اور دیگر مقامات پر دفاعی حلقہ ترتیب دیا ہے، جسے امریکہ، فرانس اور آسٹریلیا کی حمایت حاصل ہے۔

مگر طاقت کے پیمانے صرف عسکری موجودگی سے نہیں بنتے۔ سپلائی چین، کرنسی، اور تجارتی راستے اب اتنے ہی مؤثر ہتھیار ہیں جتنی پرانی دنیا میں توپ و تفنگ ہوا کرتے تھے۔ تصور کیجیے کہ جاپان سے روانہ ہونے والا ایک الیکٹرانک پرزہ، جو پہلے امریکی سرزمین پر پہنچتا تھا، اب براہِ راست ویتنام یا ملیشیا میں اسمبل ہو رہا ہے۔ یا چین میں تیار ہونے والی دوائیں تھائی لینڈ اور لاوس کے اسپتالوں تک پہنچ رہی ہیں — بغیر کسی مغربی تجارتی مرکز سے گزرے۔ 2023 اور 2024 کے دوران امریکہ نے چین پر درآمدی ٹیرف میں بے تحاشا اضافہ کیا، بعض اشیاء پر 145 فیصد تک کی شرح نافذ ہوئی۔ لیکن جولائی 2025 میں ایک عبوری تجارتی سہولت کے تحت ٹیرف کی سطح 30 فیصد تک لائی گئی، جبکہ چین نے جوابی کارروائی 10 فیصد تک محدود رکھی۔ اس سے یہ واضح ہوا کہ امریکہ کے لیے بھی اب عالمی سپلائی چین کو مکمل کنٹرول کرنا ممکن نہیں رہا۔

یہ وہ مقام ہے جہاں ایک نئی مالیاتی حکمتِ عملی سامنے آتی ہے۔ کئی آسیان ممالک نے چین سے اپنے معاہدے ڈالر کے بجائے مقامی کرنسی میں طے کیے ہیں، اور اقوامِ متحدہ میں بھی اب اس کرنسی میں تجارت ہو رہی ہے۔ یہ عالمی مالیاتی نظام کی ازسرِنو تشکیل کا ابتدائی مرحلہ ہو سکتا ہے۔ ڈالر کی اجارہ داری کو چیلنج کرنے کی یہ حکمتِ عملی خاموش ہے، مگر مربوط۔ مثال کے طور پر انڈونیشیا اور چین کے درمیان کوئلے کی تجارت اب انہی نئے اصولوں کے تحت ہو رہی ہے، جو اس رجحان کی واضح علامت ہے کہ اب معاشی معاملات مغرب کی مالیاتی حدود سے نکل کر ایشیائی تال میں ڈھل رہے ہیں۔

ایشیائی ترقیاتی بینک کے سینئر معیشت دان رچرڈ بولٹ لکھتے ہیں:
“چین اور آسیان کی یہ نئی معاشی صف بندی محض منڈیوں کے بارے میں نہیں، بلکہ یہ اس امر کی غمازی کرتی ہے کہ ترقی پذیر دنیا اب اپنی معاشی خودمختاری کے لیے بلاکوں کی محتاج نہیں رہی۔”

چین نے آسیان کے ساتھ ہونے والے معاہدوں میں محض اقتصادی مفاد کو پیشِ نظر نہیں رکھا، بلکہ ماحولیاتی معیار، سبز توانائی، کاربن اخراج میں کمی اور صنعتی خودکفالت جیسے نکات کو بھی شامل کیا ہے۔ ثقافتی، تعلیمی اور سیاحتی میدانوں میں بھی چین کی نرم طاقت دھیرے دھیرے آسیان کے شہروں میں اپنے قدم جما رہی ہے۔ آسیان اور چین کا تعلق اب خشک اعداد و شمار کا باب نہیں رہا، بلکہ دو تہذیبوں کے دریا ایک دوسرے میں آنکھیں ڈال کر بہنے لگے ہیں۔

julia rana solicitors london

اب سوال یہ ہے کہ کیا امریکہ، بھارت اور ان کے اتحادی اس شراکت داری کو محض معاشی تبدیلی سمجھ کر نظرانداز کر سکتے ہیں؟ یا یہ سمجھنے پر مجبور ہوں گے کہ مشرقی ایشیا میں طاقت کی نئی ترتیب اب جنگوں سے نہیں، بلکہ معاہدوں، کرنسی، اور کوریڈورز سے طے ہو رہی ہے؟ گویا معیشت کا یہ نیا رقص، جغرافیہ کی پرانی دھُن پر ہو رہا ہے۔
یہی وہ لمحہ ہے جسے تاریخ “خاموش انقلابات” کا نام دیتی ہے۔ دنیا اب روایتی بلاکوں کی طرف پلٹتی دکھائی نہیں دیتی، بلکہ اقتصادی قوس و قزح کے تلے عالمی ہنر مندی جنم لے رہی ہے۔
اور یہاں طاقت کی تعریف دھمکیوں سے نہیں، بازاروں کی روشنی سے ہو رہی ہے۔

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply