البینزم ایک جینیاتی حالت ہے جو جلد، بالوں اور آنکھوں میں رنگدات (میلانن) کی کمی کا باعث بنتی ہے۔ یہ بیماری دنیا بھر میں ہر نسلی گروہ کے افراد کو متاثر کر سکتی ہے، تاہم افریقی ممالک میں اس کی شرح نسبتاً زیادہ پائی جاتی ہے۔ پاکستان میں بھی البینزم کے شکار افراد کی ایک خاصی تعداد موجود ہے جنہیں نہ صرف طبی مسائل بلکہ معاشرتی امتیاز کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔
البینزم کی مختلف اقسام ہیں جن میں اوکیولر البینزم (صرف آنکھوں کو متاثر کرنا) اور اوکیولوکیوٹینیس البینزم (جلد، بال اور آنکھوں کو متاثر کرنا) شامل ہیں۔ یہ حالت جینز میں موجود خرابی کی وجہ سے ہوتی ہے جو میلانن کی پیداوار کو کنٹرول کرتے ہیں۔ میلانن نہ صرف ہمارے جسم کا رنگ متعین کرتا ہے بلکہ یہ سورج کی مضر شعاعوں سے بھی حفاظت کرتا ہے۔
البینزم کی سب سے واضح علامات میں انتہائی سفید یا ہلکے رنگ کی جلد، سفید یا سنہری بال، اور ہلکے رنگ کی آنکھیں شامل ہیں۔ آنکھوں کے مسائل جیسے بینائی کی کمزوری، نور کا خوف (فوٹو فوبیا)، آنکھوں کا غیر ارادی طور پر ہلنا (نسٹگمس) اور بھینگا پن (اسٹرابسمس) عام ہوتے ہیں۔ ان مریضوں کی جلد سورج کی روشنی کے لیے انتہائی حساس ہوتی ہے جس کی وجہ سے جلدی سرطان کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
اس حالت کی تشخیص عام طور پر پیدائش کے وقت یا ابتدائی بچپن میں ہی ہو جاتی ہے۔ آنکھوں کے مکمل معائنے اور جینیاتی ٹیسٹنگ کے ذریعے اس کی تصدیق کی جا سکتی ہے۔ اگرچہ البینزم کا کوئی مکمل علاج موجود نہیں، لیکن مناسب دیکھ بھال اور احتیاطی تدابیر سے متاثرہ افراد ایک بہتر زندگی گزار سکتے ہیں۔
آنکھوں کے مسائل کے لیے معالج چشم خصوصی عینکوں، بصری معاون آلات اور بعض صورتوں میں سرجری کی سفارش کر سکتا ہے۔ جلد کی حفاظت کے لیے ہمیشہ اعلیٰ معیار کے سن اسکرین کا استعمال ضروری ہے۔ ڈاکٹرز سفید جلد والے کپڑے پہننے، ٹوپی استعمال کرنے اور دوپہر کے وقت سورج سے بچنے کا مشورہ دیتے ہیں۔ باقاعدہ طور پر جلد کا معائنہ کروانا چاہیے تاکہ جلد کے سرطان کی بروقت تشخیص ہو سکے۔
معاشرتی طور پر البینزم کے شکار افراد کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ کئی معاشروں میں انہیں بدشگونی کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ بعض علاقوں میں ان کے بارے میں غلط عقائد پائے جاتے ہیں جن کی وجہ سے انہیں سماجی بائیکاٹ کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ پاکستان میں بھی ایسے افراد کو تعلیم اور روزگار کے حصول میں مشکلات پیش آتی ہیں۔
حالیہ برسوں میں البینزم کے بارے میں آگاہی بڑھانے کی کوششیں جاری ہیں۔ عالمی سطح پر ہر سال 13 جون کو البینزم سے آگاہی کا دن منایا جاتا ہے۔ پاکستان میں بھی مختلف تنظیمیں اس سلسلے میں کام کر رہی ہیں۔ میڈیا کو چاہیے کہ وہ اس موضوع پر مثبت مواد پیش کرے اور معاشرے میں موجود غلط فہمیوں کو دور کرنے میں مدد کرے۔
تعلیمی اداروں کو چاہیے کہ وہ البینزم کے شکار طلباء کی خصوصی ضروریات کا خیال رکھیں۔ کلاس روم میں روشنی کو کنٹرول کرنا، بڑے پرنٹ کی کتابیں مہیا کرنا اور خصوصی تعلیمی آلات کی فراہمی ان طلباء کی تعلیمی کامیابی میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
حکومتی سطح پر البینزم کے شکار افراد کے لیے خصوصی پالیسیز بنانے کی ضرورت ہے۔ صحت کی سہولیات تک رسائی کو آسان بنایا جائے، روزگار کے مواقع پیدا کیے جائیں اور انہیں معاشرے کا ایک فعال رکن بننے کا موقع دیا جائے۔
خاندانوں کو چاہیے کہ وہ البینزم کے شکار افراد کے ساتھ مکمل تعاون کریں۔ انہیں یہ احساس دلائیں کہ وہ معاشرے کے دیگر افراد کی طرح مکمل صلاحیتوں کے مالک ہیں۔ ان کی خود اعتمادی کو بڑھانے کے لیے مثبت رویہ اپنایا جائے۔
آخر میں یہ کہنا مناسب ہوگا کہ البینزم کوئی بیماری نہیں بلکہ ایک جینیاتی کیفیت ہے۔ مناسب دیکھ بھال اور معاشرتی تعاون سے البینزم کے شکار افراد بھرپور اور کامیاب زندگی گزار سکتے ہیں۔ ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ ہم ایسے افراد کے ساتھ ہمدردی کا رویہ اپنائیں اور انہیں معاشرے میں مکمل طور پر ضم ہونے کا موقع دیں۔
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں