• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • پاکستان میں معذوری کی وجوہات اور ان کا تدارک: ایک تفصیلی تجزیہ/ڈاکٹر مسلم یوسفزئی

پاکستان میں معذوری کی وجوہات اور ان کا تدارک: ایک تفصیلی تجزیہ/ڈاکٹر مسلم یوسفزئی

پاکستان میں معذوری ایک سنگین سماجی مسئلہ ہے جس کا سامنا لاکھوں پاکستانی شہریوں کو روزمرہ زندگی میں کرنا پڑتا ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق، پاکستان کی تقریباً 12 سے 15 فیصد آبادی کسی نہ کسی قسم کی معذوری کا شکار ہے۔ یہ ایک تشویشناک صورتحال ہے جس کے پیچھے متعدد معاشرتی، اقتصادی اور صحت سے متعلقہ عوامل کارفرما ہیں۔ معذوری نہ صرف متاثرہ فرد بلکہ اس کے خاندان اور پورے معاشرے پر گہرے منفی اثرات مرتب کرتی ہے۔ اس مسئلے کے حل کے لیے سب سے پہلے ہمیں معذوری کی بنیادی وجوہات کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔

پیدائشی معذوریاں: جینیاتی اور غذائی عوامل
پیدائشی معذوریوں میں سب سے اہم وجہ پاکستان میں رائج خاندانی شادیوں کا رواج ہے۔ ملک کے دیہی اور شہری علاقوں میں کزن میرجز (خاندان میں شادیاں) کا تناسب تقریباً 60 فیصد تک ہے۔ یہ روایت نسل در نسل چلی آ رہی ہے جس کے نتیجے میں کئی جینیاتی بیماریاں ایک نسل سے دوسری نسل میں منتقل ہوتی رہی ہیں۔ تھیلیسیمیا، ہیموفیلیا، ڈاؤن سنڈروم، اور کلیفٹ لیپ اینڈ پلیٹ جیسی پیدائشی معذوریاں اسی رواج کا شاخسانہ ہیں۔
حاملہ خواتین میں غذائی قلت بھی پیدائشی معذوری کی ایک بڑی وجہ ہے۔ پاکستان کی 44 فیصد خواتان خون کی کمی کا شکار ہیں جبکہ 50 فیصد سے زائد حاملہ خواتین میں فولک ایسڈ اور دیگر ضروری غذائی اجزاء کی شدید کمی پائی جاتی ہے۔ یہ تمام عوامل جنین کی نشوونما پر منفی اثرات مرتب کرتے ہیں۔ خاص طور پر حمل کے پہلے تین ماہ میں اگر ماں کو مناسب غذائیت نہ ملے تو بچے میں دماغی اور جسمانی معذوری کے امکانات کئی گنا بڑھ جاتے ہیں۔

حادثات اور زخمی ہونے کے واقعات
پاکستان میں حادثاتی معذوریوں کی شرح بھی انتہائی تشویشناک ہے۔ سڑک حادثات اس سلسلے میں سب سے نمایاں ہیں۔ ملک بھر میں روزانہ اوسطاً 35 افراد ٹریفک حادثات میں ہلاک ہوتے ہیں جبکہ سینکڑوں زخمی ہوتے ہیں۔ ان زخمیوں میں سے تقریباً 20 فیصد کو مستقل معذوری کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ غیر معیاری گاڑیوں، ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی، اور ڈرائیوروں کی بے احتیاطی اس کی بنیادی وجوہات ہیں۔
صنعتی حادثات بھی معذوری کی ایک بڑی وجہ ہیں۔ پاکستان میں خصوصاً تعمیراتی صنعت اور کان کنی کے شعبوں میں حفاظتی انتظامات کا شدید فقدان ہے۔ محنت کشوں کو اکثر بنیادی حفاظتی سامان تک میسر نہیں ہوتا، جس کے نتیجے میں ہر سال ہزاروں مزدور مستقل معذور ہو جاتے ہیں۔ گھریلو حادثات جیسے بجلی کے جھٹکے، جل جانے کے واقعات، یا زہریلے مادوں کے استعمال سے بھی معذوری کے کئی کیسز رپورٹ ہوتے ہیں۔

بیماریوں سے متعلقہ معذوریاں
پولیو اگرچہ اب تقریباً ختم ہو چکا ہے، لیکن پاکستان کے بعض پسماندہ علاقوں میں اب بھی پولیو کے کیسز سامنے آتے رہتے ہیں۔ یہ بیماری نہ صرف بچوں کو معذور بناتی ہے بلکہ ان کے خاندانوں پر بھی معاشی بوجھ ڈالتی ہے۔ ذیابیطس، جو پاکستان میں تیزی سے پھیل رہی ہے، بینائی کی خرابی اور دیگر معذوریوں کا باعث بن سکتی ہے۔ دل کے دورے اور فالج بھی معذوری کی اہم وجوہات ہیں جو اکثر مریضوں کو جزوی یا مکمل معذور بنا دیتے ہیں۔

غربت اور معذوری کا چکر
غربت اور معذوری کا ایک گہرا تعلق ہے۔ غربت معذوری کی وجہ بھی بنتی ہے اور نتیجہ بھی۔ غریب خاندانوں میں صحت کی سہولیات تک رسائی نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے۔ مناسب علاج معالجے کی عدم دستیابی معمولی بیماریوں کو بھی سنگین معذوری میں بدل دیتی ہے۔ دوسری طرف، معذور افراد کو روزگار کے مواقع نہ ملنے کی وجہ سے وہ مزید غربت کا شکار ہو جاتے ہیں۔ یہ ایک ایسا چکر ہے جس سے نکلنا معذور افراد کے لیے انتہائی مشکل ہوتا ہے۔

قدرتی آفات اور معذوری
پاکستان میں قدرتی آفات بھی معذوری کی ایک اہم وجہ ہیں۔ 2005 کے کشمیر زلزلے کے بعد ہزاروں افراد معذور ہو گئے تھے۔ 2010 کے سیلاب نے بھی لاکھوں افراد کو متاثر کیا تھا جن میں سے بہت سے لوگ مختلف قسم کی معذوریوں کا شکار ہو گئے۔ یہ قدرتی آفات نہ صرف جانی نقصان کا باعث بنتی ہیں بلکہ بہت سے لوگوں کو مستقل معذوری کی طرف دھکیل دیتی ہیں۔

julia rana solicitors

معذوری کی روک تھام کے لیے تجاویز
1. عوامی آگاہی مہمات: خاندانی شادیوں کے خطرات، حفاظتی تدابیر، اور بیماریوں سے بچاؤ کے طریقوں کے بارے میں عوام کو آگاہ کرنا ضروری ہے۔ میڈیا اور تعلیمی اداروں کو اس سلسلے میں اہم کردار ادا کرنا چاہیے۔
2. صحت کی بنیادی سہولیات: صحت کی بنیادی سہولیات کو ہر علاقے میں دستیاب کرانا چاہیے۔ خاص طور پر دیہی علاقوں میں ماں اور بچے کی صحت کے مراکز قائم کرنے کی اشد ضرورت ہے۔
3. حادثات سے بچاؤ: ٹریفک قوانین پر سختی سے عمل درآمد کروانا ہوگا۔ صنعتی اور تعمیراتی شعبوں میں حفاظتی قوانین کو مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔
4. معذور افراد کے لیے سہولیات: معذور افراد کے لیے تعلیمی اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے سے نہ صرف ان کی زندگی بہتر ہوگی بلکہ معاشرے کو بھی فائدہ ہوگا۔ سرکاری اور پرائیویٹ اداروں کو معذور افراد کے لیے مخصوص کوٹہ مختص کرنا چاہیے۔
5. حکومتی پالیسیاں: حکومت کو معذور افراد کے حقوق کے تحفظ کے لیے موثر پالیسیاں بنانی چاہئیں۔ معذور افراد کی بحالی کے مراکز کو مزید بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔
نتیجہ:
معذوری کوئی انتخاب نہیں ہے، لیکن معذور افراد کے ساتھ ہمارا رویہ ہمارا اخلاقی امتحان ہے۔ پاکستان میں معذوری کی شرح کو کم کرنے کے لیے ہمیں اجتماعی کوششوں کی ضرورت ہے۔ حکومت، سماجی اداروں، اور عام شہریوں کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ یاد رکھیں، ایک معذور فرد بھی ہمارے معاشرے کا اہم حصہ ہے اور اسے بھی وہ تمام حقوق حاصل ہونے چاہئیں جو ایک عام شہری کو حاصل ہیں۔ صرف اسی طرح ہم ایک صحت مند اور متوازن معاشرہ تشکیل دے سکتے ہیں۔

Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply