شاہد خٹک تمھارا خدا ہی حافظ ہے۔۔۔۔اے وسیم خٹک

جب الیکشن ہوتے ہیں اور امیدوار کی  جیب میں ساڑھے سات سو روپے ہوتے ہیں اور وہ ملک کا سب سے گھٹیا موبائل کیو موبائل فون کا استعمال کرتا ہے ـ پھر الیکشن کمپین کے دوران عمران خان اپنے امیدوار کو نہ پہچانتے ہوئے ایک تھپڑ جڑ دیتے ہیں اور یہ تھپڑ پورے لواغر میں گونجتا ہے اور یہی تھپڑ لوگوں کا خلوص اور غریبی ایک بندے کو ایوان اقتدار تک پہنچادیتی ہے ـ اور جب الیکشن میں 78ہزار کا ریکارڈ ووٹ اسے مل جاتا ہے جس میں 50ہزار کے قریب ووٹ اُسے ایک حلقے اور باقی ووٹ دو حلقوں سے ملتا ہے ـ تو لازمی بات ہے اور نمک حلالی بھی یہی ہے کہ اس علاقے کا زیادہ حق ادا کیا جائے جس علاقے سے محبت زیادہ ملی ہو مگر جب جھکاؤ دوسری جانب ہوجاتا ہے تو علاقے کے لوگوں کا حق بنتا ہے کہ وہ آگے آکر تھپڑ رسید کریں جس کی گونج دنیا میں سنائی دے ـ۔۔۔ ہم بات کر رہے ہیں کرک کے موجودہ ضلع کرک کے ایم این اے شاہد خٹک کے حوالے سے ـ جس نے الیکشن کے چھ مہینوں کے بعد ہی کیو موبائیل سے آئی فون اور پیدل اور رکشوں سے ویگو تک کا سفر طے کر لیا ہے ـ، جس کو اپنی تعلیم پر زعم ہے کہ میں پی ایچ ڈی سکالرہوں ـ جس کا وہ وقتا ً فوقتاً  ذکر کرتے رہتے ہیں ـ کہ مجھے کیا ضرورت تھی کہ اس گند میں آتا مجھے عوام کی فکر کھائے جارہی تھی مجھے جاب مل جاتی جس سے میں زندگی گزر بسر کرتا مگر میں عوام کی خاطر عمران خان کا ساتھی بن گیا۔۔

ـ موصوف کو ہم یہ بتانا چاہتے ہیں کہ اس وقت پاکستان میں پانچ سو سے زیادہ پی ایچ ڈی ہولڈرز بیروزگار ہیں ـ بنی گالا کے سامنے شاید  آپ نے  ان کا احتجاج نہیں دیکھا ، ـآپ یہاں نہ ہوتے تو آپ بھی بے روزگار ہوتے اور عمران خان کے جلسوں میں لڈیاں ڈالتے یا خٹک ڈانس کرتے۔ دوسری بات پوسٹ ڈاکٹریٹ والوں کو میں جانتا ہوں جو نوکریوں کے لئے نئے  پاکستان میں پھر رہے ہیں ـ تو آپ یہ اپنی تعلیم کا راگ نہ الاپیں ـ تو ہی بہتر ہے کیونکہ کرک میں تعلیم کی شرح بہت زیادہ ہے اور پی ایچ ڈی ڈاکٹر ہونا کرک میں   معمولی بات ہے ۔ـ لہذا اس سے عوام کو جھانسے میں نہ پھنسائیں ، ـ شاہد خٹک صاحب  آپ ایم این اے ناصر خان کو جانتے ہونگے جو آپ سے پہلے ایم این اے تھاـ وہ کہاں ہے  آپ کو پتہ ہے؟ آپ گل صاحب خان کو بھی جانتے ہونگے ـ وہ اس وقت کہاں پائے جاتے ہیں ـ آپ میاں نثار گل کو بھی جانتے ہونگے جو اس دفعہ دھاندلی سے آگے ہوئے ہیں ـ یہ سب  آپ کی طرح تحصیل بانڈہ داودشاہ سے جیت کر  گئے تھے ـ ان کو ہم نے بہت مشورے دئیے تھے مگر وہ اقتدار کے نشے میں گم ہوگئے تھےـ  آج یہ گم گشتہ ہوگئے ہیں ـ ناصر خان ٹیری ﮐﮯ ﺭﮨﺎﺋﺸﯽ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻣﯿﮟ ﺷﺎﯾﺪ ﮨﯽ  ﭘﻨﺪﺭﮦ ﺑﯿﺲ ﺑﺎﺭ ﮨﯽ ﺍﭘﻨﮯ ﺁﺑﺎﺋﯽ ﮔﺎﺅﮞ ﺁﺋﮯ ﮨﻮﮞ ﮔﮯ ﺍﻭﺭ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺍﻟﯿﮑﺸﻦ ﮐﮯ ﺩﻧﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﺳﮯ ﻣﻠﮯ ﮨﻮﮞ ﮔﮯ ﮨﻢ ﻧﮯﺍﻟﯿﮑﺸﻦ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﻧﺎﺻﺮ ﺧﺎﻥ ﮐﻮ ﺍﯾﮏ ﮐﺎﻟﻢ ﮐﮯ ﺫﺭﯾﻌﮯ ﺧﻮﺵﺧﺒﺮﯼ ﺩﯼ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﻧﺎﺻﺮ ﺧﺎﻥ ﺻﺎﺣﺐ ﺍﻧﺘﺨﺎﺑﺎﺕ ﻣﯿﮟ ﺁﭖ ﮐﯽﮐﺎﻣﯿﺎﺑﯽ ﯾﻘﯿﻨﯽ ﮨﮯ ﻣﮕﺮ ﺁﭖ ﮐﻮ ﮐﺎﻣﯿﺎﺏ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﮔﺎﺅﮞ ﺍﻭﺭ ﻋﻼﻗﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﮐﺎﻡ ﮐﺮﻧﺎ ﮨﻮﮔﺎ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺍﺑﮭﯽ ﺗﮏ ﺗﺤﺼﯿﻞ ﺑﺎﻧﮉﮦ ﺩﺍﺅﺷﺎﮦ ﮐﺎ ﺍﺳﺘﺤﺼﺎﻝ ﮨﻮﺍﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﮐﺴﯽ ﻧﮯ ﺑﮭﯽ ﺍﺱ ﻋﻼﻗﮯﻣﯿﮟ ﺗﺮﻗﯽ ﮐﮯ ﮐﺎﻡ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺌﮯ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﻭﮦ ﮐﺮﮎ ﺳﮯ ﺗﻌﻠﻖ ﺭﮐﮭﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﭖ ﭼﻮﻧﮑﮧ ﺍﺱ ﻋﻼﻗﮯ ﺳﮯ ﺗﻌﻠﻖ ﺭﮐﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﻟﮩﺬﺍ آﭖ  ﮐﮯ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﺩﺭﺩ  ﮨﻮﮔﺎ  آﭖ ﻋﻼﻗﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﻧﺮﻡﮔﻮﺷﮧ ﺭﮐﮭﯿﮟ ﮔﮯ ﮐﺮﮎ ﮐﮯ ﺍﯾﻢ ﺍﯾﻦ ﺍﮮ ﺍﻭﺭ ﺍﯾﻢ ﭘﯽ ﺍﮮ ﺗﺤﺼﯿﻞ ﺑﺎﻧﮉﮦ ﺩﺍﺅﺩﺷﺎﮦ ﮐﯽ ﺟﺎﻧﺐ ﺑﺎﻟﮑﻞ ﻧﻈﺮ ﮨﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮈﺍﻟﺘﮯ ﺁﻧﺎ ﺗﻮ ﺩﻭﺭ ﮐﯽ ﺑﺎﺕ ﮨﮯ ، ﮨﻤﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﺳﮯ ﯾﮩﯽ ﺑﺎﺗﯿﮟ ﺳﻨﻨﮯ ﮐﻮ ﻣﻞ
ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯿﮟ ﮐﮧ ﻧﺎﺻﺮ ﺧﺎﻥ ﻧﮯ ﺑﮭﯽ ﮐﺒﮭﯽ ﮔﺎﺅﮞ ﻣﯿﮟ ﻭﻗﺖﻧﮩﯿﮟ ﮔﺰﺍﺭﺍ ﯾﮧ ﺑﮭﯽ ﮔﺎﺅﮞ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﺋﯿﮟ ﮔﮯ ﯾﮧ ﺑﮭﯽ ﺧﺮﺑﻮﺯﮮﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﺭﻧﮓ ﺑﺪﻝ ﻟﯿﮟ ﮔﮯ ﮨﻤﯿﮟ ﺑﮩﺖ ﻣﺎﻥ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺗﺒﺪﯾﻠﯽ  ﮐﮯ ﻧﺎﻡ ﭘﺮ ﻣﻨﺘﺨﺐ ﮨﻮﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺍﯾﻢ ﺍﯾﻦ ﺍﮮ ﻧﺎﺻﺮ ﺧﺎﻥ ﺍﯾﺴﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﯾﮟ ﮔﮯ ﺍﺳﮯ ﮔﺎﺅﮞ ﺍﻭﺭ ﻣﻠﺤﻘﮧ ﻋﻼﻗﻮﮞ ﮐﮯ ﻣﺴﺎﺋﻞ ﮐﺎ ﺑﺨﻮﺑﯽ ﭘﺘﮧ ﮨﮯ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺍﺳﮯ ﭘﯽ ﭨﯽ ﺁﺋﯽ ﮐﮯ ﮐﺎﺭﮐﻨﺎﻥ ﻧﮯ ﻣﺴﺎﺋﻞ ﺳﺎﺭﮮ ﺑﺘﺎﺩﯾﺌﮯ ﺗﮭﮯ ﻣﮕﺮ ﺍﯾﺴﺎ ﮐﭽﮫ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺍ ، ﮨﻤﺎﺭﮮ ﺍﯾﻢ ﺍﯾﻦ ﺍﮮ ﻧﺎﺻﺮ ﻻﭘﺘﮧ ﮨﻮﮔﺌﮯ ﮔﺎﺅﮞ ﺍﻭﺭ ﻋﻼﻗﮯ ﮐﮯ ﻣﺴﺎﺋﻞ ﺟﻮﮞ ﮐﮯ ﺗﻮﮞ پڑے رہے پھر ﻟﻮﮒ ﺍﺱ  کی   ﺷﮑﻞ ﮐﻮ ﺗﺮﺱ ﮔﺌﮯ اس کے بعد لوگ ﮔﻞﺻﺎﺣﺐ ﺧﺎﻥ ﮐﯽ ﺟﺎﻧﺐ ﻣﺘﻮﺟﮧ ﮨﻮﮔﺌﮯ ﻣﮕﺮ وہ بھی طوطا چشم نکلا ـ اس کے بعد باری اب آپ کی ہے ـ آپ نے آتے ہی تحصیل بانٍڈہ داودشاہ کے گورنمنٹ سکولوں کو کھنڈر بنادیاـ ساری فی میل اساتذہ کا اپنے علاقے میں تبادلہ کرادیاـ اور یہاں کے سکولوں میں پوسٹ خالی کروادی، ـ جہاں شاید ہی تقرری ہو ـ کیونکہ تجربہ کار اساتذہ تو  آپ لے کر گئے ـ جونئیر کے ہاتھوں میں تعلیم سونپ  دی  ہے ـ ﻋﻮﺍﻡ ﮔﯿﺲ ﭘﺮﯾﺸﺮ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﺳﮍﮐﻮﮞ ﭘﺮ ﺁﮔﺌﮯ ہیں ﺍﻥ ﮐﻮ ﺩﻭﺑﺎﺭﮦ ﭘﺮﺍﻧﮯ ﺩﻭﺭ ﻣﯿﮟ
ﺩﮬﮑﯿﻞ ﺩﯾﺎ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ ﺟﻮ ﻟﮑﮍﯾﺎﮞ ﺟﻼﻧﮯ ﭘﺮ ﻣﺠﺒﻮﺭ ﮨﻮﮔﺌﮯ ﮨﯿﮟ ﮔﯿﺲ ﺟﻮ ﮐﮧ ﻋﻼﻗﮯ ﮐﯽ ﭘﯿﺪﻭﺍﺭ ﮨﮯ ﯾﮩﺎﮞ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﺍﻧﺪﺍﺯﮮ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﯾﻮﻣﯿﮧ ﺍﯾﮏ ﺍﺭﺏ ﭘﭽﺎﺱ ﮐﺮﻭﮌ ﺭﻭﭘﮯ ﺣﮑﻮﻣﺖ ﮐﻮ ﻣﻞ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺳﺎﻻﻧﮧ ﺭﺍﺋﻠﭩﯽ ﮐﯽ ﻣﺪ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺍﺭﺏ ﺑﯿﺲ ﮐﺮﻭﮌ ﺭﻭﭘﮯ ﺿﻠﻊ ﮐﺮﮎ ﮐﮯ ﺣﺼﮯ ﻣﯿﮟ ﺁﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ ﺟﺒﮑﮧ ﺑﻮﻧﺲ ﻓﻨﮉ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻋﻼﻭﮦ ﮨﮯ ﻣﮕﺮ ﺑﺪﻗﺴﻤﺘﯽ ﺳﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﺑﮭﯽ ﺭﻗﻢ ﺍﺱ ﻋﻼﻗﮯ ﭘﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﻟﮕﯽ ﮔﺰﺷﺘﮧ ﺩﺱ ﺳﺎﻟﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺿﻠﻊ ﮐﺮﮎ ﮐﮯ ﺣﺼﮯ ﻣﯿﮟ ﺑﯿﺲ ﺍﺭﺏ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺭﻭﭘﮯ ﺁﺋﮯ ﻣﮕﺮ ﯾﮧ ﻓﻨﮉ ﮐﮩﺎﮞ ﺧﺮﭺ ﮨﻮﺍ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﻣﻌﻠﻮﻣﺎﺕ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﯿﮟ ﻋﻼﻗﮯﮐﺎ ﺍﯾﻢ ﺍﯾﻦ ﺍﮮ ﺭﺍﺋﻠﭩﯽ ﮐﺎ ﺍﻧﭽﺎﺭﺝ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ،شاہد خٹک ﺻﺎﺣﺐ ﮔﯿﺲ ﮐﮯ ﻣﺴﺌﻠﮯ ﺳﮯ ﺁﭖ ﺑﺎﺧﺒﺮ ﮨﯿﮟﺁﭖ ﺗﮏ ﺭﺳﺎﺋﯽ ﺑﮭﯽ ﮐﯽ ﮔﺌﯽ ﮨﮯ ﻣﮕﺮ ﺁﭖ ﮐﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﺟﻮﺍﺏ  ﻧﮩﯿﮟ ﺁﯾﺎ ۔ﻋﻼﻗﮯ ﮐﮯ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﮐﻮﺷﺶ ﮐﯽ ﻣﻮﻝ ﮐﻤﭙﻨﯽ ﺳﮯ ﺍﻟﺠﮫ ﮔﺌﮯ  ﺳﯽ ﺍﯾﻦ ﺟﯽ ﭘﯽ ﺍﯾﻞ ﺳﮯ ﮔﮭﺘﻢ ﮔﺘﮭﺎﮨﻮﮔﺌﮯ۔پھرﮐﮩﺎ ﮔﯿﺎ ﮐﮧ ﻣﺴﺌﻠﮧ ﺣﻞہوﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ ﺍﻭﺭ ﮔﯿﺲ ﮐﺎ ﭘﺮﯾﺸﺮ ﭨﮭﯿﮏ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ ﻣﮕﺮ ﻣﻮﻝﮐﻤﭙﻨﯽ ﮐﯽ ﮨﭧ ﺩﮬﺮﻣﯽ ﺍﺑﮭﯽ ﺗﮏ ﺟﺎﺭﯼ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﮔﯿﺲ ﮐﺎﭘﺮﯾﺸﺮ ﮐﻢ ﺳﮯ ﮐﻢ ﮨﻮﺗﺎ ﺟﺎ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ ﻋﻼﻗﮯ ﮐﮯ ﻋﻮﺍﻡ ﭘﺮﯾﺸﺎﻧﯽ ﮐﮯ ﻋﺎﻟﻢ ﻣﯿﮟ ﺍﻧﺘﮩﺎﺋﯽ ﻗﺪﻡ ﺍﭨﮭﺎﻧﮯ ﭘﺮ ﻣﺠﺒﻮﺭ ﮨﯿﮟ ـ اپ نے ایک ٹی وی پروگرام میں ٹیری میں دو لیڈی ڈاکٹرز کی بات کی تھی وہاں تو ایک ہی میل ڈاکٹر کام کررہا ہے ـ فی میل ڈاکٹر تو ہے ہی نہیں جبکہ او جی ڈی سی ایل کی جانب سے دئیے گئے ایمبولینس بھی آپ کرک لے کر چلے گئے حالانکہ او جی ڈی سی ایل گیس کے حوالے سے کام کرتی ہے اور یہ گیس تحصیل بانڈہ داودشاہ کی پیدوار ہے ـ ایمبولینس کرک کیوں گئیں ـ؟ زرعی ادارے میں کرک اور تخت نصرتی کے بندوں کی تعیناتی کیوں کی گئی کیونکہ جس بندے کو  آپ نے بھرتی کیا ہے وہ آپ کا رشتہ دار ہے؟ تو تبدیلی کہاں ہے ـ؟ کرک گرگری روڈ پر  آپ کی نظر نہیں جاتی ؟ نری پنوس روڈ کے بارے میں  آپ کو پتہ نہیں ہے؟ باقی اپنے گاؤں سے چوکارہ تک اور دیگر تین سڑکیں  آپ اپنے فنڈ سے تعمیر کرانے کا اعلان کرتے ہیں ـ تحصیل بانڈہ داودشاہ کے لئے  آپ نے کیا کیا؟ ذرا بتا دیں ـ ہماری عوام نے ناصر خان کے بعد  آپ کو اس لئے بھاری مینڈیٹ سے پاس کرایا تھا کہ  آپ کی وجہ سے ﺗﺤﺼﯿﻞ ﺑﺎﻧﮉﮦﺩﺍﺅﺩﺷﺎﮦ ﮐﯽ ﻗﺴﻤﺖ ﺟﺎﮒ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﯽ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺗﺒﺪﯾﻠﯽ ﮐﮯ ﻧﺎﻡ ﭘﺮ ﻭﻭﭦ ﻣﻼ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺗﺒﺪﯾﻠﯽ ﺷﺎﯾﺪ ﺍﺳﮯ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ کہ سارا فنڈ دوسری  تحصیلوں میں استعمال کیا جارہا ہے ـ شاہد خٹک ﺻﺎﺣﺐ ﮐﯿﺎ ﯾﮩﯽ ﺗﺒﺪﯾﻠﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﮐﯿﺎ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ  آﭖ ﮐﻮ ﻋﻮﺍﻡﻧﮯ ﻣﻨﺘﺨﺐ ﮐﯿﺎ ﺗﮭﺎ ؟ اگر یہی روش رہی تو وہ دن دور نہیں جب تحصیل بانڈہ داؤدشاہ کے عوام آپ کا گریبان پکڑیں گے ، ـ اور پھر ناصرخان اور گل صاحب خان کی طرح  آپ بھی خود کو کوستے رہیں گے ــ لہذا ذرا اپنے ویگو اور آئی فون کے ساتھ اس تحصیل کی سڑکوں اور ہسپتالوں کا دورہ کرکے عوام کو مطمئن کرلیں  ـ ورنہ ــ پھر  آپ کا خدا ہی حافظ ہے۔ ـ

اے ۔وسیم خٹک
اے ۔وسیم خٹک
پشاور کا صحافی، میڈیا ٹیچر

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *