ابھی ایک ویڈیو نظر سے گزری جس میں ایک لڑکی جھیل کے خوبصورت مناظر کے بیچ رقص کر رہی ہے۔ یہ ویڈیو غالباً رتی گلی جھیل کنارے فلمائی گئی ہے. رتی گلی کا موسم خوشگوار، فضا رومانوی تھی جسے وہ لڑکی اپنے انداز میں اس لمحے کو celebrate کر رہی ہے۔ لیکن کچھ لوگوں کو یہ برداشت نہیں ہوا۔ ان کے جذبات مجروح ہو گئے اور کمزور ایمان ڈگمگانے لگا تو اُنہوں نے وہی پرانا بیانیہ شروع کر دیا یہ بے حیائی ہے، ثقافت برباد ہو رہی ہے، یہ نیلم ویلی نہیں، پیرس سمجھ رہی ہے وغیرہ وغیرہ۔
پہلی بات تو یہ سمجھ لیں کہ لباس کسی فرد کی ذاتی چوائس ہے۔ وہ کیا پہنتا ہے، کس انداز میں خود کو express کرتا ہے، یہ اُس کا بنیادی حق ہے۔ رتی گلی کوئی دربار یا مزار نہیں، یہ ایک public tourist spot ہے۔ لوگ وہاں relax کرنے، enjoy کرنے، اور زندگی کے چند لمحے فطرت کے حسن میں گزارنے آتے ہیں۔ اگر کوئی وہاں dance کرتا ہے، گاتا ہے یا کھل کر جیتا ہے تو یہ نہ آپ کے گھر کا آنگن ہے اور نہ آپ کی وراثتی زمین کہ آپ یوں اپنے اخروٹی دماغ کا خناس نکال رہے ہیں.
اب آتے ہیں اُن self-proclaimed اخلاق کے ٹھیکیداروں کی طرف جو social media پر یہ ویڈیو شیئر کر کے ساتھ لکھ رہے تھے بے حیائی پھیلائی جا رہی ہے، یہ ہماری نسل کو خراب کر رہی ہے یا یہ غیر اخلاقی لباس ہے.
تو محترم، اگر کسی لڑکی کے دو فٹے کم کپڑے پہننے سے آپ کا ایمان ڈگمگا جاتا ہے، تو مسئلہ کپڑوں میں نہیں، آپ کی نگاہ میں ہے۔ آپ جنسی طور پر اتنے Desperate ہو چکے ہیں کہ کسی بھی عورت کو ایک انسان سمجھنے کے بجائے Sex Object سمجھتے ہیں جس کے مختصر کپڑے دیکھتے ہی آپ کے جنسی ہوس آگ پکڑ جاتی ہے.
آپ کا ایمان اتنا کمزور ہے کہ چار دن کے لیے آنے والا کوئی tourist آپ کی بیس پچیس سالہ تربیت پر موت کر چلا جاتا ہے کہ آپ کے بچے آپ کے حیا کے پڑھائے گئے سبق بھول جاتے ہیں؟ تو معذرت کے ساتھ، آپ کو introspection کی ضرورت ہے۔
Check your own parenting, اپنی اقدار، اپنی سوچ۔
Culture تب ہی خراب ہوتا ہے جب ہم دوسروں کے choices پر اپنی گھٹیا سوچ تھوپنے لگتے ہیں۔
رہی بات ہمارے علاقے کی ثقافت کی، تو سیاح ثقافت لے کر نہیں آتے، وہ یادیں لے جاتے ہیں۔ اگر وہ دو دن fashionably dressed ہوتے ہیں تو اُس سے اگر آپ کے بچے confuse ہو جاتے ہیں تو آپ کے گھر کا نظام سوالیہ نشان ہے، نہ کہ اُن سیاحوں کا وجود۔
نیلم ویلی جیسے علاقے پاکستان کا فخر ہیں، لیکن ایسے narrow-minded posts اور memes ان علاقوں کو بدنام کرتے ہیں، ترقی نہیں دیتے۔ اگر ہمیں اپنی ثقافت کو دنیا کے سامنے proudly پیش کرنا ہے، تو پہلے ہمیں اپنے دماغ کو اپڈیٹ کرنا ہوگا ورنہ یہ mini-mindedness آپ کے social media feed تک تو چل جائے گی، دنیا میں آپ کی کوئی credibility نہیں بنے گی۔

تو پلیز، اپنی sexual frustration، judgmental attitude اور moral policing کو تھوڑا hold پر رکھیں۔ Let people breathe. Let them live.
Live and let live simple as that.
اور آخری بات اس رقص کرنے والی خاتون کے لیے، آپ جیو ہزاروں سال خوش رہو اور بار بار نیلم آتی رہو…
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں